میں کیسا مسلمان ہوں؟ - عبدالباسط ذوالفقار

بابا پہلے کرایہ دو پھر بیٹھنا، رکشے والے نے کہا۔

ساتھ ہی چھ سات رکشے والے باباجی کے گرد اکٹھے ہوگئے۔

دے دوں گا، دے دوں گا! بابا جی نے انہیں اپنے گرد منڈلاتے دیکھا تو کہا۔

نا نا نا! پہلے کرایہ۔ بابا نے اپنا نحیف و نزار ہاتھ جیب میں ڈالا، کچھ ٹٹولا، کچھ ڈھونڈا، پھر ہاتھ نکال کر پھٹے ہوئے کوٹ کی دوسری جیب میں ڈال کر وہی عمل دہرایا۔ پھر ہاتھ نکال کر پیوند لگی قمیص میں ڈالا، کچھ ٹٹولا، بابا جی کا چہرہ ستا ہوا تھا، آنکھیں ڈوب رہی تھیں۔ ڈوب کر پھر طلوع ہو جاتیں تا کہ پھر ڈوب سکیں۔ ان کے چہرے کی جھریوں میں سینکڑوں کہانیاں تھیں۔

رکشے والے مشٹنڈے کھڑے مُس مُس کر رہے تھے۔ جیسے وہ بابا کے اس عمل سے لطف اندوز ہورہے ہوں۔ بابا کے جھریوں بھرے چہرے پر ایک مسکان ابھری، ایک سکون، ایک طمانیت کا احساس ابھرا، جیسے انہیں ان کی مطلوبہ چیز مل گئی ہو۔ انہوں نے جیب سے ہاتھ نکالا، چند سکے ہتھیلی پر چمک رہے تھے۔ انہوں نے لرزتے ہاتھوں سے وہ سکے رکشے والے کو دیے۔ رکشے والے نے لیے، گنے، پورے سات روپے تھے۔ ایک ایک روپے کی ریزگاری، گننے کے بعد اس نوجوان نے بابا کو کہا: اُتر، اُتر! پیسے پورے دے، یہ سات روپے ہیں،تین روپے کم ہیں۔ دس دے دس، نوٹ دے دس کا۔

بابا نے سکے اس سے واپس لیتے ہوئے لڑکھڑاتی آواز میں کہا: پتر! یہی ہیں۔

ہاں! ہاں! پورا دن جو مانگتا رہتا ہے، قبر میں لے کے جائے گا ساتھ؟ کہاں چھپائے رکھے ہیں؟ نکال نکال۔ اس رکشے والے نوجوان نے تمسخر اڑانے والے انداز سے ہاتھ سامنے کیا اور انگلیاں ہلاتے ہوئے کہا۔

بابا جی رکشے سے اترتے ہوئے کچھ بولے: پتر! پھر وہ رک گئے، جیسے مزید کہنے کی سکت نہ ہو، الفاظ حلق میں اٹک گئے ہوں، گلے میں کانٹے اور پھانس پھنسی ہو، جیسے وہ آبدیدہ نہ ہونے کی شدید کوشش میں ہوں۔ قریب کھڑی، مجھ سمیت دوسری سواریاں یوں ہی دیکھ رہی تھیں۔ جیسے انہیں کوئی سروکار نہ ہو کہ بابا رکشے سے اترتا ہے، بابا کے پاس کرائےکے لیے پیسے نہیں، یا کم ہیں، رکشے والا انہیں اتار رہا ہے، انہیں کیا؟ ان کی بلا سے اترے٬ مرے، روئے، گِرے، پیدل جائے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اسی اثناء قریب کی نالی صاف کرتا ایک جمعدار قریب آیا، اس کے ہاتھ میں بیلچا تھا، ہاتھ پھٹے ہوئے تھے، پاؤں پر لگے پلاسٹک کے بڑے بڑے جوتے مٹی سے اٹے تھے، پائنچے گیلے تھے۔ اس نے اپنا بیلچا اپنے ساتھ لگا کر کھڑا کیا۔ اپنی جیب سے دس کا نوٹ نکال کر رکشے والے کو "ایہہ لو" کہتے ہوئے دیا۔ بابا جی کو پیار سے رکشے میں بٹھایا اور چلا گیا۔ میں جوں کا توں گونگا٬ کھڑے کا کھڑا رہ گیا۔ بوڑھا جو اس اثنا خاموش بیٹھا، سب کے چہروں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر مسرت کی ایک رو دوڑ گئی تھی۔ایسے لگتا تھا جیسے سوکھے کھیت میں پانی آگیا ہو۔ پیشانی کی سلوٹیں الحمدللہ کا ورد کرتی ہوئی زبان حال سے جمعدار کا شکریہ ادا کررہی تھیں۔ جس کے اس عمل نے میری مسلمانی پر بڑا سا سوالیہ نشان لگا دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   اللہ سے دعائیں پوری کرانے کا یقینی نسخہ - مجیب الحق حقی

وہ وہی تھا جس سے ہم نفرت کرتے ہیں۔ جسے اپنے ساتھ کھانا نہیں کھلاتے، جسے دھتکار دیتے ہیں۔ جس کو دیکھ کر ہی ہماری تیوری چڑھ جاتی ہے۔ جسے دیکھ کر ہی ہم ناک پر ہاتھ رکھ دیتے ہیں۔ اونہہ! میں، میں مسلمان، وہ کرسچن، جمعدار، بھنگی! مجھے ضرور خود پر فخر ہے کہ میں مسلمان ہوں، آخری نبی ﷺ کا امّتی ہوں۔ مگر اندر سے کھوکھلا، اندر سے خالی، نام کا مسلمان، اسلام کی روح سے نابلد، ناواقف اور اس کی روح سے عاری مسلمان۔ وہ جسے میں خود سے کمتر، حقیر، کمزور سمجھتا ہوں۔ وہ اگرچہ عیسائی ہے، بھنگی ہے، مگر کردار میں مجھ سے اونچا ہے۔

مجھے میرے نبی ﷺ نے کیا سکھایا؟ کیا تعلیمات دیں؟ میں تو اسلام کی روح سے ہی ناآشنا ہوں۔ وہ غیر مسلم ہو کر مجھ سے کردار میں اونچا نکلا۔ میرے پیارے نبی ﷺ کی تعلیمات پر وہ عمل پیرا ہوا جو مسلم نہیں۔ میرے نبی ﷺ کا تو فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "جس نے میری مخلوق میں سےکسی ایسے کمزور کے ساتھ بھلائی کی، جس کا کفایت (کفالت) کرنے والا نہیں تھا، تو ایسے بندے کی کفایت و کفالت کا میں ذمہ دار ہوں۔" میں مسلمان ہوتے ہوئے ان کے لائے پیغام کو پس پشت ڈال رہا ہوں۔ وہ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے اصل مقصد سے ہی ناواقف ہوں۔ برگزیدہ اخلاق، اعلیٰ کردار سے مجسم سرچشمۂ ہدایت کا نام لیوا تو ہوں، فیض یافتہ نہیں۔

میں تو نام کا مسلمان ہوں۔ میں افتاں و خیزاں اس جمعدار کو دیکھتا رہا جو نالی سے کچرا اٹھا اٹھا کر اپنے ریڑھے میں ڈال رہا تھا۔ جس کے عمل نے مجھے عرقِ ندامت میں ڈبو دیا تھا۔ میں وہ جس کے دل میں "مَیں" کے احساس سے مسرت کا غیر معمولی ہیجان رہتا تھا وہ تو دراصل اندر سے انسان نہیں پتھر کی چٹان ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! حامد کمال الدین

میں کن اکھیوں سے اس جمعدار کو دیکھتا رہا جو بیلچے سے کرید کرید کر گند اٹھا کر پانی کے لیے راستہ بنا رہا تھا۔ مجھے لگا جیسے وہ بیلچا نالی میں نہیں میرے اندرونی وجود میں چلا رہا ہو اور کھرچ کھرچ کر کثافت کو دور کررہا ہو۔ مجھے لگ رہا تھا میں اوپر سے تو مسلمان ہوں مگر اندر سے ایک کثیف روح ہوں، غلیظ، آلودہ، گندا، جس کا اندر ناپاک ہے۔ جس کا تعلق اپنے نبی ﷺ سے فقط نام کا ہے۔ مجھے اپنا تعلق بھی کند، زنگ آلود دِکھ رہا تھا۔ جو اللہ کے نبی ﷺ کے اخلاق، اعمال، احکام، اس کی عظمت کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ بے جان مردہ…!

مجھے اس اعلیٰ کردار جمعدار پر رشک آنے لگا۔ دل چاہ رہا تھا کہ میں اسے پکڑ کر، اس کے ہاتھ چوم لوں۔ ایک انسان ہونے کے ناتے اس نے اعلیٰ کردار کا مظاہرہ کیا اور میں انسان تو انسان، ایک مسلمان ہونے کے ناطے بھی اپنے مسلمان بزرگ کی اعانت نہ کر سکا جو کہ میں کر سکتا تھا۔ میرے نبی ﷺ کے پاس تو کوئی بھی غریب آتا، یا کوئی بات کرنا چاہتا تو آپ راستے کے کنارے ہی کھڑے ہوجاتے، یا بیٹھ جاتے، اس کی بات پوری توجہ، اہتمام، انہماک سے سنتے، اس کی دل جوئی فرماتے۔ یہاں میرا عمل کیا تھا؟ زبانِ حال سے وہ بزرگ کیا کہہ رہے تھے؟پر میرا پتھریلا ضمیر تو انسان دوستی کی شبنم سے ہی ناآشنا ہے۔

میں بری طرح چرمرا گیا تھا۔ جمعدار اپنے کام میں مگن تھا، رکشہ چل پڑا، مگر اس کا وہ عمل میری آنکھوں کے پردے سے ہٹنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ میں باباجی کی ساتھ والی سیٹ پر شرمندہ شرمندہ بیٹھا تھا۔ آنکھیں ڈبڈبا گئیں تھیں۔ سر گھٹنوں میں دیے بیٹھا رہا تھا کہ اسٹاپ آگیا۔ باباجی اب بھی اپنی نشست پر بےفکر بیٹھے تھے۔ ان کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں۔ چہرے پر شکر کا بورڈ آویزاں تھا۔

میں اتر گیا، رکشا دور ہوتا گیا، یہاں تک کہ نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ وہ تو چلا گیا مگر مجھ میں چلنے کی ہمت نہ تھی۔ خود احتسابی کی کدالیں میرے اندر چلنا شروع ہوگئی تھیں اور وہ سوالیہ نشان، جو مجھ پر لگا تھا۔ ابل ابل کر، ابھر ابھر کر، آنکھوں کے سامنے لہرا رہا تھا اور بار بار دماغ کی تختی پر یہی سوال ابھر رہا تھا کہ میں کیسا مسلمان ہوں؟