قومی کردار سازی میں کھیلوں کی اہمیت - انعام حسن مقدم

پاکستان کی گلیوں کوچوں میں کھیلے جانے والے ماضی قریب کے چند مشہور ترین مقامی کھیلوں میں لوگوں کی دلچسپی میں خطرناک حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ تقریباً بیس تیس سال پہلے تک بھی بچوں بڑوں میں یہ کھیل بے حد مقبول ہوا کرتے تھے۔ یہ کمی صرف شہری علاقوں میں ہی نہیں بلکہ نیم شہری اور دیہی علاقوں میں بھی دیکھی گئی ہے۔

اوّل اِن کھیلوں پر کچھ خرچ نہ آتا تھا دوم اِن کھیلوں سے صحت مند مقابلے کا رجحان پیدا ہوتا تھا۔ یہی کھیل لوگوں میں میل جول، معاشرتی رکھ رکھاؤ، اخلاق اور اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کرتے تھے تو اضافی طور پر ذہنی و جسمانی ورزش کا باعث بن کر مجموعی طور پر صحت مند، توانا اور چاق و چو بند معاشرہ تخلیق کرنے میں بھی ممد و معاون ثابت ہوتے تھے۔ گو کہ روزانہ ہی یہ کھیل کھیلے جاتے تھے لیکن موسمِ سرما و گرما کی تعطیلات میں سب کی پسندیدہ مصروفیات میں شامِل ہوتے تھے۔ اِن کھیلوں میں رسہ کھنچائی (tug of war)، آنکھ مچولی، کنچے، پِٹو گرم، گِلّی ڈنڈا، کھو کھو، کوڑا جمال شاہی، چور پولیس، سُر پالا، ٹائر چلانا، سائیکل ریس، بوری ریس، دوڑ لگانا، لمبی چھلانگیں، جہاں کہیں کوئی صاف خالی پلاٹ یا کھیل کا میدان میسّر ہو وہاں کبڈی اور کشتی، نشانہ بازی، تیر کمان، غُلیل چلانا (گُلیل غُلیل کا غلط ہِجَّہ اور تلفظ ہے)، نیلا سمندر اور پہل دوج، ذہنی آزمائش پر مبنی کھیلوں میں نام چیز جگہ، بیت بازی، کسوٹی، معلوماتِ عامّہ (general knowledge)، اسکریبل (scrabble) وغیرہ شامل ہیں۔ مذکورہ بالا کچھ کھیل صرف لڑکے کھیلتے تھے اور کچھ لڑکیاں جب کہ چند ایک کھیل مشترکہ طور پر سب کے ہی پسندیدہ اور مقبول کھیل تھے۔

مُنصفانہ رویّہ، پیشہ ورانہ سخاوت، مد مقابل سے حُسنِ سلوک، جیت کے لیے فنی مہارت کا حصول، کامیاب نہ ہونے کی صورت میں دوسرے کی جیت کو تسلیم کرنا، یہ وہ صفات ہیں جو مستقل اور کوئی نہ کوئی کھیل یا گیم کھیلتے رہنے کے رجحان سے ہی انسان کے اندر پیدا ہوسکتی ہیں۔ اس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ دنیا میں بعض کھلاڑیوں کے منفی کرتوت اور قابلِ افسوس و شرمناک واقعات بھی مشہور ہیں لیکن واضح رہے کہ راقم کا زور ہی اِس بات پر ہے کہ بچپن و لڑکپن و جوانی میں کھیلے جانے والے پرانے و مقامی کھیل جو اب ترک کر دیے گئے ہیں یا تقریباً ختم ہو کر صرف آثار باقی رہ گئے ہیں اُن کھیلوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے نا کہ وہ کھیل جن پر اربوں روپے کا سٹہ ہوتا ہے۔

آج کل تو یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیز، بنک اور بڑے اداروں کے Human Resources Department یعنی شعبۂِ افرادی قوّت از خود یا بیرونی تربیت کنندگان (trainers) کے ذریعے اپنے ادروں میں یا پھر بیرونی فضا میں کھیل کود کے مختلف پروگرام اصلاحی، تربیتی اور شغل میلہ کے طور پر کرواتے ہیں اور ادارے کے افراد کی صلاحیتوں کو بڑھاتے ہیں کیونکہ مذکورہ بالا عملی صفات کسی کتاب کو یا تعلیمی نصاب کو رٹوانے یا یاد کروانے سے انسانی شخصیت میں پیدا نہیں ہو سکتیں۔ راقم الحروف بھی مختلف اداروں میں اس قسم کے اصلاحی و تربیتی کھیل کرواتا رہتا ہے اور از خود اس بات کا مشاہدہ کر چکا ہے کہ مذکورہ بالا اداروں کے نہ صرف جونیئر اسٹاف بلکہ سینیئر اسٹاف اور بالا انتظامیہ بھی دورانِ تربیت یا مختلف بیرونی تفریحی دوروں اور پکنک وغیرہ پر اِن کھیلوں کو نہ صرف یہ کہ بہت انجوائے کرتے ہیں بلکہ اِن کے فوائد و ثمرات کے بھی قائل ہیں۔

پاکستان کی تمام حکومتوں اور کھیل کے شعبہ جات کی غالب ترین توجہ صرف کرکٹ پر رہتی ہے جس میں اربوں روپے کے اشتہارات، کھربوں روپوں کے کھیل کے میدانوں میں ناجائز تجاوزات اور قبضہ کے ذریعے کمائی، اربوں روپے کے سٹّے کے ذریعے کمائی اور کروڑوں رپوں کے ناجائز دھندے ہیں۔ کرکٹ کی اِسی منفی کمرشلائزیشن نے قومی کھیل ہاکی اور تیسرے درجے پر ابھرتے ہوئے کھیل فٹ بال کے مستقبل کو پاکستان میں تا حال برباد کیا ہوا ہے۔ اسکواش کا مرثیہ الگ ہے لیکن فی الحال اِن کھیلوں کی بربادی و زبوں حالی اس مضمون کا موضوع نہیں ہے نہ ہی اِن کھیلوں نے قوم کی مجموعی کردار سازی میں کوئی مثبت کردار ادا کرنا ہے اس لیے واپس بات کرتے ہیں قدیم مقامی کھیلوں کی زبوں حالی اور حکومتی بے حسی کی۔

وفاقی وزارتِ امورِ نوجوانان کی شرمندہ کُن اور قابلِ ملامت کارکردگی تو ایک طرف رہی چاروں صوبوں میں بھی کھیل و امورِ نوجوانان کی کارکردگی ذلّت آمیز ہے۔ پنجاب میں تو پوری وزارت ہی "وزیر اعلیٰ پنجاب سپیشل سپورٹس کمیٹی" کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے باقی تینوں صوبوں، آزاد کشمیر، گلگت اور بلتستان میں بھی اِس شعبے کی کارکردگی تقریباً صفر ہے۔ حد تو یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کی زیرِ علمداری صوبۂِ خیبر پختونخواہ میں بھی کھیلوں کی صورتِ احوال انتہائی شرمندہ و تباہ کُن ہے جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ عمران خان صاحب کی اصل کمائی، شہرت اور عوام میں ابتدائی پذیرائی ہی کرکٹ کے کھیل کی وجہ سے ہے بعدہٗ ہسپتال کا چندہ بھی کرکٹ کی وجہ سے حاصل شدہ شہرتوں کے باعث جمع ہوا ہے۔ اِس امتیازی وصف اور کھیل سے نسبت و تعلق کے باوجود عمران خان صاحب یا پی ٹی آئی اس میدان میں کسی بھی طرح کی قابلِ فخر کارکردگی کو نہ تو منظرِ عام پر لا سکے ہیں نہ ہی اُن کے دعاویٰ ہائے کامیابیوں اور کامرانیوں کی کسی بھی فہرست میں "شعبۂِ کھیل" شامل ہے بلکہ اکثر میں ازراہِ تفنّنُِ طبع یہ بھی کہا کرتا ہوں کہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ پہلے "ورلڈ کپ کی فتح" اور "شوکت خانم ہسپتال" قومی اثاثے شمار ہوا کرتے تھے اور پوری قوم اِس پر فخر کرتی تھی لیکن اب نادان سیاسی و جذباتی کارکنان کی محدود و متعصب سوچ نے اِن کارناموں کو فقط ایک پارٹی اور ایک شخص تک محدود کر دیا ہے۔ اِس ناپسندیدہ سوچ کا معاشرے میں پروان چڑھنا بھی اُسی کوتاہی و غفلت کی وجہ سے ہے جس کا مقدمہ میں اِس مضمون میں پیش کرنے کی کوشش کررہا ہوں کہ مجموعی طور پر قوم کے اندر سے کھیلوں کا ذوق و شوق ختم ہوجانے کے وجہ سے معاشرے کے افراد میں سے بھی کھلاڑی کی مثبت اور اچھی کرداری خصوصیات مثلاً sportsmanship یا sportsman spirit یعنی خوش دلی، زندہ دلی اور خندہ پیشانی سے مد مقابل کی فتح کو تسلیم کر کے آئندہ کی تیاری کرنا جیسی صفات ہی ختم ہو گئی ہیں۔ رہا فاٹا اور پاٹا کے علاقوں کا معاملہ تو وہ بیچارے زندگی اور موت کے مسلط کردہ کھیل سے فارغ ہوں تو کسی اور طرف سوچیں۔

ایک کھلاڑی کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ، "کھیل کے میدان میں ناکام وہ نہیں ہوتا جو ہار جاتا ہے بلکہ ناکام وہ ہوتا ہے جو اپنی شکست کو تسلیم نہ کرے اور شکست کے اسباب کو سمجھنے کی بجائے بلند و بانگ شور شرابے کے ذریعے دوسرے لوگوں کو اپنی شکست کا ذمہ دار ٹہرائے۔" انگریزی میں ایسے کھلاڑی کے لیے "sore loser" کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کا فقدان، تعلیمی مراحل میں بین الاقوامی معیار سے پیچھے رہ جانا، ایک دوسرے پر عدم اعتماد، متفقہ کوششوں (Teamworks) میں ناکامی، ساتھیوں کی نفسیات جذبات اور احساسات کو نہ سمجھ پانا، تخلیقی بانجھ پَن، بے انتہا انفرادی و اجتماعی تشدّد، تنہائی پسندی، اذیت پسندی، دوسرے کی جیت یا ترقی کو قبول یا ہضم نہ کر پانا اور اِس جیسے بے شمار منفی اور نا پسندیدہ رویّے لوگوں میں اِسی سبب سے پیدا ہوتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں کھیل کود (sports activities) سے دور ہوتے ہیں اور دورانِ کھیل کود انسان جس کردار سازی اور نفسیاتی تزکیہ سے گزرتا ہے اُس کا اُنہیں کوئی تجربہ مشاہدہ یا علم ہی نہیں ہوتا۔

برسبیلِ تذکرہ یہاں یہ عرض کردینا بھی مناسب اور بر محل ہوگا کہ تقریباً تمام تعلیم یافتہ دنیا میں بشمول ہمارے پڑوسی تیسری دنیا کے اُبھرتے ہوئے ملک بھارت میں بھی کھیلوں کو انتہائی اہمیت دی جاتی ہے اور قوم کو مختلف قسم کے کھیل اور تفریحات میں مصروف رکھا جاتا ہے تا کہ وہ فارغ اور بیکار ہو کر اپنی "کچھ انوکھا کرنے کی صلاحیت" کو دہشت گردوں کے ہاتھوں میں دے کر "خود کش بمبار" نہ بنیں نہ ہی منفی سرگرمیوں میں مشغول ہوں۔

کھلاڑیانہ ذہن سازی کا ہی کرشمہ ہے کہ ساری پڑھی لکھی دنیا بشمول تیسری دنیا کے ملک بھارت میں خوش دلی کے ساتھ انتخابات کے نتائج کو تسلیم کر لیا جاتا ہے اور وہ فساد اور طوفانِ بے ہنگم برپا نہیں ہوتا جو ہمارے ملک و قوم کا طرَّۂِ امتیاز بن گیا ہے۔

ضرورت اِس امر کی ہے کہ سرکاری و نِجی اسکولوں، مدرسوں، کالجوں یہاں تک کہ جامعات میں بھی حُکماً اِن کھیلوں کا دوبارہ اجراء کیا جائے اور تمام طلباء کو بغیر کسی چھوٹ کے اُس کے اپنے اختیار پر کم از کم کسی ایک کھیل کو باقاعدہ کھیلنے کا پابند کیا جائے۔ کسی بھی ذِی شعور، صاحبِ علم و عقل اور فہم و ادراک یا سوجھ بوجھ رکھنے والے شخص سے اس کی مخالفت کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ چند منٹوں سے لیکر زیادہ سے زیادہ آدھے گھنٹے یا انتظامی وقت کو بھی مِلا لیا جائے تو یہ کھیل کود ایک گھنٹے کے اندر کھیلا جا سکتا ہے۔ اِس بات کو مذاق میں اڑا دینا یا نظر انداز کردینا کے مصنف بچپن اور لڑکپن کے کھیلوں کو اسکول کالج تو کُجا جامعات میں بھی پروان چڑھانے کا مشورہ دے رہا ہے حقیقت میں کھیلوں کے شخصی، جسمانی، ذہنی، سماجی اور معاشرتی فوائد سے ناواقفیت کی بنیاد پر تو ہو سکتا ہے لیکن اِس کی کوئی اور وجہ نہیں ہوسکتی۔

Comments

انعام حسن مقدم

انعام حسن مقدم

کراچی سے تعلق رکھنے والے انعام حسن مقدم مختلف مذاہب، اقوام اور سماجی طبقات کے باہمی تعلقات، رواداری اور عزت نفس کے احترام کا قائل ہیں۔ عرصہ 25 سال سے مختلف مقامی و کثیر القومی انشورنس کمپنیز اور بینکس سیلز، مینجمنٹ، آپریشنز، مارکیٹنگ اور دیگر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.