نوجوانوں میں طاقت کےحصول کا منفی رجحان – طلحہ زبیر بن ضیاء

گورنمنٹ ڈگری کالج میں چھٹی ہوگئی تھی، اس لیے اس سٹاپ کافی طالب علم بس میں سوار ہوئے۔ دوران سفران کی گفتگو بھی ہوئی، جس کا لب لباب آپسی جھگڑے تنظیمی لڑائیاں اور چند لڑکیاں زیر بحث تھیں۔ جن میں ایک لڑکی کو نہایت موٹی سی گالی نکال کر کہا گیا کہ وہ کسی کے جھانسے میں نہیں آتی اور ساتھ ہی جو لفظ استعمال کیا گیا وہ کسی طوائف کے لیے بھی شاید استعمال ہوتا ہو۔ میں نے یہ جملہ اپنی ہر ممکن کوشش کے ساتھ تہذیب کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے لکھنے کی کوشش کی ہے ورنہ وہ الفاظ شاید دنیا کا کوئی بھی ادب سننے سے انکار کر دے جن الفاظ میں یہ گفتگو جاری تھی۔ ان علم حاصل کرتے ستاروں کی نظر میں اگر کوئی شریف لڑکی ان کی ہوس کی بھینٹ نہیں چڑھتی، اگر وہ اپنے گھر والوں کی عزت کو خاک میں نہیں ملاتی تو یہ ملک و ملت پر بوجھ اس ملک کے ماتھے پر کلنک اس پاکباز لڑکی کی عزت کو خاک میں ملانا اپنا فرض سمجھتے ہیں ؟

یہ نوجوان کو ن ہیں؟ کیوں ہر فساد لڑائی اور خواتین کو تنگ کرنے میں یہ سب سے آگے ہیں؟ وہ یہ سب کیوں کرتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں اتنا کچھ ہے مگر اشکوں کے سمندر میں سے چند آنسو ہی بہا سکوں گا۔ یہ ہمارے وہ نوجوان جو ہوش سنبھالتے ہی ہر طرف ایک شدید قسم کی جنگ دیکھتے ہیں، پینے کے پانی سے لیکر کھانے تک، ان کو ایک دوڑ، ایک تگ و دو نظر آتی ہے۔ یہ اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں۔ ماحول اور معاشرہ ان کا خوب برین واش کرتا ہے۔ والدین جو کہ جانتے ہی نہیں ہیں کہ ہر فرد ملت کے مقدر کا ستارہ ہے، ان کو پیسے کمانے سے فرصت ہی نہیں ہوتی۔ وہ کیا جانیں بچے کیا کر رہے ہیں؟ کبھی بات بڑھی تو باپ نے ماں کو گالیاں دیں اور اس پر الزام لگا دیا کہ اس نے بچوں کی یہ تربیت کی ہے؟ اور معاملہ ختم! باپ بے قصور، عورت ہمیشہ کی طرح بدترین مجرم اور قصہ ختم!

بلاشبہ انسان کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہوتی ہے۔ اگر اس کے پاس علم نہ ہو تو جہالت نسلوں میں سفر کرتی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہماری نسلیں جہالت کی پستیوں میں اوندھے منہ پڑی ہیں۔ یہ علم کسی ڈگری کا نام نہیں، نہ یہ کسی ڈگری سے آ سکتا ہے۔ بے شک عورت ایک نیچرل ٹیچر ہوتی ہے لیکن اس کو پاش کرنا بہت ضروری ہے اور یہ بہت آسان ہے۔ شادی سے پہلے شوہر بیوی کے اور بیوی شوہر کے حقوق کو جان لے تو بہت آسان ہے اور بچہ پیدا کرنے سے پہلے اولاد کے حقوق پڑھ لیے جائیں اور اولاد کو احسان جتائے بنا اس آہستہ آہستہ اس کو شروع سے ہی والدین کے حقوق پڑھا دیے جائیں تو بنا کسی قباحت کے یہ مرحلہ عبور ہو جاتا ہے، نہ کہ بچے کو ساری زندگی مار مار کر دو جملے سکھاؤ کہ میں نے تمہیں انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا اور یہ کہ مار کھائی ہے اس لیے کامیاب ہوگے!

مجھے نہیں معلوم کہ آپﷺ نے اپنی صاحبزادیوں یا اپنے نواسوں حضرت امام حسین اور حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کبھی ڈانٹا بھی ہو، یہاں تک کہ آپﷺ نے اپنے غلام کو بھی کبھی نہیں ڈانٹا۔ بہرحال، ماں کی درس گاہ سے نکل کر یہ بچہ سکول جاتا ہے جہاں استاد کے نام پر بے رحم انسان اور پڑھائی کے نام پر لا علاج مرض اس کی جان کے درپے ہوتا ہے اور اسی وقت اس کے اندر "ایگریشن" جنم لینا شروع کر دیتاہے/ یہ ایگریشن سکول کے آخر تک بڑھتا ہوا آخرکار ایک لاوا بن جاتا ہے اور کالج میں جاتے ہی ماں باپ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض نبھا دیا اور تب یہ لاوا پک کر کھولنا شروع ہو چکا ہوتا ہے اور اپنے آپ کو شدید غیر محفوظ بھی تصور کرنے لگتا ہے۔ اس کے دماغ میں دو باتیں ہوتی ہیں کہ یا تو میرے پاس کہیں سے طاقت آ جائے یا مجھے کوئی دوست ایسا مل جائے جس کے پاس طاقت ہو کیونکہ طاقت کا حصول ازل سے انسان کی فطرت میں لکھا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پولیٹیکل اسلام؛ کام کا اسلوب اور فکر معاش - ڈاکٹر حافظ اسامہ اکرم

دوسری جنگ عظیم کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی تھی کہ بہت سے ممالک جن میں جرمنی بھی شامل تھا، سپر پاورز اور ان کی پالیسیوں سے خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے تھے۔ پھر طاقت کے حصول کے لیے دنیا میں جو تباہی مچائی گئی، وہ رہتی دنیا تک جانی جائے گی۔ جب ایسے نوجوان غیر محفوظ تصور کرتے ہیں تو لاشعوری طور پر طاقت کا حصول چاہتے ہیں، ان میں سے جو کچھ بہادر، صحت مند اور تھوڑا بہت صحیح غلط کا فرق جانتے ہیں وہ مارشل آرٹس جوائن کر کر لیتے ہیں جس کا ان کو بے تحاشہ فائدہ بھی ہوتا ہے ان کا ایگریشن کنٹرول ہو جاتا ہے، غصہ کم ہو جاتا ہے، ان میں سیلف کانفیڈینس آجاتاہے اور اچھے سپوک پرسن بھی بن جاتے ہیں اور اگر استاد اچھا ہو تو یہ بہتری کی جانب بھی بڑھ سکتے ہیں لیکن بہت سے اساتذہ اس قابل انہیں ہوتے۔ وہ ان کومارشل آرٹس کی طاقت دینے کے بعد اس کا غلط استعمال بھی سکھانا شروع کر دیتے ہیں اور دوسری قسم جو نوجوان ذرا ڈرپوک قسم کے ہوتے ہیں، وہ سہارے ڈھونڈنا شروع کر دیتے ہیں اور و ہ سہارے کسی نہ کسی غنڈے کے ہوتے ہیں۔ ان گیدڑوں کے غول میں شامل ہو کر وہ نوجوان خود کو شیر سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ جوانی اس طرح گزار کر جب وہ آگے بڑھتے ہیں تو ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ کمائی کا ہوتا ہے۔ اپنی غنڈہ گردی کے سر پر وہ طالب علمی کے زمانے پر ادھر ادھرلڑائیاں کر کے جب وہ اس دہلیز پر قدم رکھتے ہیں تو قدم قدم پر ان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی بنا پر وہ کوئی شارٹ کٹ تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں جس کے لیے وہ اپنے دور ِجوانی کے کسی غنڈے سے ملتے ہیں جو ان کو اپنے پاس کام کرنے کی آفر دیتا ہے اور قوم کا ایک فرد کرائم کی دنیا میں قدم رکھ دیتا ہے۔

یہ مسائل ہیں تو ان کا حل کیا ہے؟ کس کی غفلت نے یہ نقصان کرا دیا کہ ایک مجرم پیدا ہو گیا؟ والدین اساتذہ یا معاشرہ؟

ایک اور مسئلہ ہمارے تعلیمی نظام کا ہے جو شروع دن سے بچے کو ڈرا کر رکھتا ہے، اس کو دبا کر رکھتا ہے، اس کو مارتا پیٹتا ہے۔ کیوں؟ کبھی اپنے روتے ہوئے بچے سے پوچھیے کیوں رو رہے ہو؟ اس کی سنیں نا کہ اس کو اٹھا کر سکول چھوڑ آئیں۔ اس سے بے شمار غلط عادات جنم لیں گی وہ جھوٹ بول کر چھٹی کرنے کی کوشش کرے گا اور آپ جانتے ہوں گے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے لیکن وہ نہیں جانتا ہو گا کہ آپ کو پتاہے۔ یہ اس کی پہلی کرپشن ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:   پولیٹیکل اسلام؛ کام کا اسلوب اور فکر معاش - ڈاکٹر حافظ اسامہ اکرم

بچے کو سکول بھیجیں، جہاں بچہ جانا چاہے۔ مانٹیسوری سکول اس کے لیے بہتر آپشن ہیں۔ اس سے اگلا مرحلہ جو درپیش ہوتا ہے کہ ہر بچے میں ایگریشن ہوتا ہے اس کو بچپن سے کنٹرول کرنے کے لیے مشکل گیم دیجیے۔ مانٹیسوری سکولز میں پڑھائی بے شک ہوتی ہے لیکن بے شمار سکولز اس بے حد ضروری چیز کو بھول جاتے ہیں کہ بچے کوصحت مند تفریح اور صحت مند غذا دینا ہے۔ پڑھائی تیسری چیز ہے بچے کو پھل اور سبزی کو مزیدار بنا کر کھلائیں۔ وہ خالی سبزی کو کبھی نہیں کھانا چاہے گا اور چکن سے جتنا دور رکھ سکتے ہیں، رکھیے اس کے لیے آپ خرگوش کا گوشت استعمال کر سکتے ہیں جو نہایت سستا بھی ہے اور صحت بخش بھی۔ کھیل میں گیمز اورکارٹون سے بچےکے ایگریشن میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے، اس کو صحت مند تفریح دیں فٹ بال، بیڈمنٹن، کرکٹ، اور باسکٹ بال نارمل بچوں کے لیے بہترین ہیں اور لیکن جن بچوں میں غصہ زیادہ ہوتا ہے، جو زیادہ روتے ہیں یا لڑاکو قسم کے ہوتے ہیں، یہ پیدائشی لیڈر ہوتے ہیں، ان کی قدر کریں ان کو مارشل آرٹس سکھائیں جو اس بچے کو بنا کسی لیکچر کے سیلف ڈسلپن، خود اعتمادی اوراپنی پہچان بنانے میں بہت مددگار ثابت ہوگی، اس کا کانفیڈینس لیول باقیوں کی نسبت ہائی ہو گا، اس سے اس کا غصہ، اس کا ایگریشن استعمال ہوگا اور وہ اس سے مستقل مزاجی سیکھے گا۔ اس کے لیے آپ کو استاد کا چناؤ کرنا ہوگا۔ مارشل آرٹس میں چند ایک استاد اچھے نہیں جو کہ دقیانوسی خیالات کے ہیں۔ باقی آپ کو بے شمار اچھے اساتذہ مل جائیں گے۔

اس کے علاوہ چند چیزوں کو مد نظر رکھنا مت بھولیں ، بچے کو خود چھوڑ کر آئیں، بڑابھائی یا والدین خود۔ اس سے ٹائم کا ضیاع بالکل نہیں ہوگا بلکہ بچہ کی آپ سے محبت بڑھے گی۔ کسی بھی ایسے استاد کے پاس جو کہ ڈسپلن کی پابندی جانتا ہو اور اس کے الفاظ کے چناؤ میں گالیوں کی ملاوٹ نہ ہو، جہاں بچوں اور بڑوں کی کلاسز الگ الگ ہوں اور یہ بہت ضروری ہے اگر وہاں بڑے بچے ہوں گے تو ان کی باتیں اور مذاق اور کلاس کے بعد کی وہ باتیں جو کہ استاد کے سامنے نہ ہوگی، وہ بچے پر اثر انداز ہوں گی۔ کبھی بھی اپنے بچے کو کسی دوسرے شہر کسی ٹورنامنٹ کے لیے مت بھیجیں۔ یہ نہایت خطرناک ہے، خود جائیں یا مت بھیجیں اور اساتذہ کو بھی چاہیے کہ چھوٹے بچوں کو سفر کے دوران بڑوں سے دور رکھیں۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں۔

آپ بچے کویہ سب دیں گے تو بچہ صرف آپ کو ہی نہیں معاشرے کو بھی اتنا کچھ دے کر جائے گا کہ معاشرہ بھی اس کو یاد رکھے گا۔ آپ کا دن میں دیا ہوا ایک گھنٹہ آپ کو بہترین اولاد دے سکتا ہے۔ ان سب کے بعد اپنے بچے کو کبھی کبھار کسی بھی ایسے استاد کے پاس بھیجنا شروع کریں جو معاشرے کی اونچ نیچ جانتا ہو جو بچے کے لیول پر جا کر اس کی سوچ کو سمجھ کر اس سے بات کرے اور اس کی بہترین تربیت بھی کرے۔ فیصل آباد اور لاہور والوں کے لیے تو میرے پاس نام موجود ہیں اور باقی شہروں میں بھی اچھے لوگ ہوں گے۔ یہ لوگ آسانی سے نہیں ملتے کیونکہ اقبال نے بھی کیا خوب کہا ہے کہ

اہل علم بہت ہیں اہل نظر کمیاب