من الظلمت الی النور - اُمِّ شافعہ

لیپ ٹاپ کھولے، کانوں میں ہیڈفون ٹھونسے کسی مقرر کا لیکچر سننا اس کا سب سے پسندیدہ مشغلہ تھا۔ اس وقت بھی رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ گھڑی کی سوئیاں خراماں خراماں اپنے مدار میں گھوم رہی تھیں۔ وہ مدار جو ان کا نصیب تھا کہ گھومتی رہیں اور لوگوں کو صحیح وقت بتاتی رہیں، جس کی رہنمائی میں وہ اپنی منزلوں تک پہنچنے کے اوقات متعین کرتے رہیں۔ اس نے یوٹیوب کھولا اور ہوم پیج کھول کر سرفنگ کرنا شروع کر دی۔ اپنے پسندیدہ مقرر کی نئے لیکچر والی وڈیو دیکھتے ہی خوش ہو گیا۔ جلدی سے وڈیو پہ کلک کر دیا۔ سکرین پہ چھوٹا سا گول گول چکر ہولے سے گھومنے لگا جو اس بات کا عندیہ تھا کہ اسے تھوڑا سا صبر کرنا ہو گا۔ اسے منی مائز کرتا وہ دوبارہ ہوم پیج پہ آیا۔ بے دلی سے نمودار ہونے والی وڈیوز کو آگے کرتا رہا کہ اچانک اس کا حرکت کرتا ہاتھ رک گیا۔ suggested وڈیوز میں ایسی وڈیو نمودار ہوئی جو "شیطان کا نوجوانوں کو تباہ و برباد کرنے" کا سب سے بڑا ذریعہ تھی۔ تجسس نے شوق کو ہوا دی۔ وڈیو کو کھولنے کے لیے بٹن پہ کلک کرنے لگا۔

اور جو اپنے رب سے ڈر گیا اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔ (55:46) کوئی اس کے اندر زور سے چیخا۔

کوئی بات نہیں، اللہ غفور و رحیم ہے، معاف کر دے گا۔ دیکھوں تو سہی ہے کیا؟ شیطان سے تسلی دی۔

قیامت کے روز کیا کرو گے جب آدم علیہ السلام سے لیکر آخری انسان تک موجود ہوں گے اور ان سب کے سامنے تمہارے اس گناہ کی وڈیو چلے گی؟ اس کے ضمیر نے اسے دوبارہ روکنا چاہا۔

اللہ ستار ہے، وہ تمہارے اکیلے میں کیے گئے گناہ چھپا لے گا۔ اب کی بار شیطان کی طرف سے آزمودہ پانسہ پھینکا گیا۔ کھولو اور دیکھو تو سہی۔

اللہ قہار بھی ہے، مت کھولو۔ ڈرایا گیا۔

ایک بار کی ہی تو بات ہے۔ شیطان نے دوبارہ تسلی دی۔

وڈیو کو اوپن کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ بٹن کلک کرتے کرتے رک گیا۔

آنکھیں بند کر کے ماتھے کو زور سے مسلنے لگا۔ ضمیر اور شیطان کی ملی جلی آوازیں اسے پریشان کرنے لگیں۔ کافی منٹ اسی کشمکش میں گزر گئے۔

ایک دفعہ، بس صرف ایک دفعہ۔ اس نے ضمیر کو مطمئن کر کے بٹن کو کلک کر دیا۔

نفس کی خواہش، جنت کی آرزو پہ بازی لے گئی۔


اب ہر دوسری رات بہت دیر تک لیپ ٹاپ کی سکرین کسی لالٹین کی طرح اس کے کمرے میں روشن رہتی۔ تجسس سے شروع ہونے والا سفر گناہ کی منزل تک پہنچ کر اختتام پذیر ہوا ۔ کمرے میں موجود گھڑی میں مقید وقت نے دیکھا کہ جس انسان کو اس کی قسم کھا کر کہا گیا کہ وہ خسارے میں ہے، مگر سوائے ان کے جنہوں نے نیک اعمال کیے۔ وہ انسان اپنی اصلی منزل سے چشم پوشی کرتا راہ سے بھٹک گیا تھا۔


ٹائر کے پنکچر ہوتے ہی اس کی موٹرسائیکل ناہموار سڑک پر ہچکولے کھانے لگی۔ بیزار منہ بناتے اس نے جلدی سے بریک لگائی اور اردگرد دیکھنے لگا۔ مدد کی سبیل نہ پا کر پاس بنی مسجد کی سیڑھیوں پہ جا بیٹھا۔ پنکچر ٹھیک کرنے والی دوکان کافی دور تھی۔ موبائل فون ملا کر دوست کو وہاں آنے کا کہا اور سگریٹ جلا کر اس کا دھواں ہوا میں چھوڑنے لگا۔ اس تاریک رات کے بعد اس کی زندگی کافی بدل گئی تھی۔ بہت سی عادات بد اپنانے کے ساتھ اس نے سگریٹ بھی پینا شروع کر دیا۔ صحت روز بروز گرنے لگی۔ وجود میں خوش اخلاقی کی جگہ چڑچڑاہٹ پاؤں پسارے بیٹھ گئی۔ قنوطیت نے سوچوں کے آس پاس ڈیرے جما لیے۔ بےچینی نے آنکھوں میں ٹھکانہ بنایا تو گھبراہٹ نے کسی بدروح کی طرح اس کے دل کو شکنجے میں لے لیا۔ دماغ میں ہر وقت عجیب و غریب خیالات گردش کرتے رہتے جنہیں اب اس نے جھٹکنا بند کر دیا تھا۔ ابھی بھی انہی خیالوں میں غلطاں تھا کہ تیز ہوا کے جھونکے نے اسے چونکا دیا۔ آسمان پہ بادلوں کا قافلہ، بارش کے قطروں کے ہمراہ پوری شان و شوکت سے آ رہا تھا۔ بیزاریت میں مزید اضافہ ہوا۔ سگریٹ بجھا کر سڑک پہ پھینک دیا۔ اٹھ کر چلنے لگا۔ منتظر نگاہیں دوست کی راہ تک رہی تھیں۔ تھوڑی دیر بعد ہی بارش کے قطرے قافلے سے جدا ہوتے زمین پہ گرنے لگے۔ جو چند لمحوں پہلے آسمان پہ تھے، اب زمین ان کا مقدر ٹھہری۔ وہ بھی آسمان پر تھا، گناہوں نے اسے پاتال میں لا پھینکا ۔ جب سے گناہ کا بھڑکتا شعلہ ہاتھ میں تھاما، نور کا الاؤ اس کے دل سے بجھا دیا گیا تھا۔ بارش آہستہ آہستہ تیز ہونے لگی۔ مسجد کی سیڑھیاں چڑھتا اندر کو پناہ لینے بھاگا۔ داخلی دروازے کی اوٹ میں چھپ کر خود کو بارش سے بچایا۔


آپ کو پتا ہے جب شیطان نے بڑے زعم سے اللہ سے کہا تھا کہ میں تیرے بندوں کو بہکاؤں گا۔ تو اللہ نے کتنے یقین سے کہا مگر سوائے ان کے جو میرے بندے ہوں گے۔ "میرے بندے" کیا آپ نے کبھی ان دو لفظوں پر غور کیا ہے؟ میرے بندے یعنی کہ اللہ کے بندے، عباد اللہ! اللہ بڑے فخر سے اسے کہہ رہا ہے کہ جو اس کے بندے ہوں گے، وہ اس کے لیے گناہوں کو چھوڑیں گے۔ وہ شیطان لعین کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے۔

مسجد کے اندر درس قرآن جاری تھا اور مدرس صاحب خطاب کر رہے تھے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی توجہ ان الفاظ پر مرکوز ہو گئی۔

اللہ کتنا غرور کرتا ہو گا نا اپنے ان بندوں پہ؟ جو خیر اور شر کے راستے کھلے پا کر خیر کو اپنا لیتے ہیں۔ جب شیطان تاویلیں پیش کرتا ہے بہکانے کے لیے تو وہ اللہ کو چن لیتے ہیں۔ یہ ایمان کا بلند ترین درجہ ہے۔ مگر وہ کیا کریں جو شر کو چن لیتے ہیں؟ امام صاحب کی آواز رندھ گئی۔ وہ اندر آ کر اب مسجد کے ستون سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو چکا تھا۔ یہ الفاظ سنتے ہی اس کالی رات کا سارا منظر اس کی نگاہوں کے سامنے لہرا گیا۔ اس نے بھی اس رات اپنے لیے شر کو چنا تھا۔

مگر وہ کیا کریں جو شر کو چن لیتے ہیں؟ وہ رنجیدہ آواز میں بار بار یہی جملہ بولتے جا رہے تھے۔ تھوڑا سنبھل کر گویا ہوئے۔ تو وہ لوگ سن لیں، اللہ نے توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا رکھا ہے۔ کیا میں آپ کو قرآن کی ایک آیت بتاؤں جو بہت حوصلہ افزاء ہے؟ وہ ستون سے ٹیک چھوڑ کر سیدھا کھڑا ہو گیا۔ باہر بارش کا شور ہنوز جاری تھا۔

غور سے سنو!

اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَن يُنِيبُ

"اللہ جسے چاہتا ہے اپنا کر لیتا ہے، اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اُسی کو دکھاتا ہے جو اُس کی طرف رجوع کرے"

اے وہ لوگو! جنہوں نے شر کو چن لیا۔ لا تقنطو من رحمت اللہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ وہ واپس بلا رہا ہے۔ دیکھو! وہ کیا کہتا ہے کہ وہ جسے چاہتا ہے اپنا کر لیتا ہے۔ تو کیا وہ تمہیں توبہ کی توفیق دے کر اپنے لیے چن نہیں رہا؟ کچھ لوگ ہیں جو اللہ کو چنتے ہیں اور تم توبہ کرنے والوں کو اللہ چنتا ہے۔ توبہ کرو! اس کی طرف جانے والا راستہ تمہیں بلا رہا ہے۔ وہ آیت میں واضح کہہ رہا ہے میری طرف آ کے تو دیکھ، راستہ نہ دکھا دوں تو کہنا… آنکھوں میں آنسوؤں کی آمیزش ہو چکی ہے،یہ امام صاحب کی لرزتی آواز واضح بتا رہی تھی۔

قرآن ایک معجزاتی کتاب ہے، بعض اوقات خاص حالات میں کچھ ایسی آیتیں ہماری نظروں، سماعتوں کے آرپار ہوتی ہیں کہ ہمیں ایسا لگتا ہے جیسے وہ ہمارے لیے ہی نازل ہوئی ہوں۔ جیسے اللہ ہم ہی سے مخاطب ہو۔ اسے بھی مسجد کے ستون کے پاس کھڑے اس وقت ایسا ہی لگا تھا۔ چہرے کو ہتھیلوں سے چھپاتا زارو قطار رو پڑا۔ تو کیا اللہ مجھے واپس اپنی طرف بلانا چاہتا ہے؟ اس نے خود سے سوال کیا۔ پر میں تو بہت ناپاک ہوں۔ اتنا عرصہ گناہ میں لت پت دن رات گزارے کہ اب خود سے بھی نفرت ہو گئی ہے۔ وہ اللہ مجھ سے کیسے محبت کر سکتا ہے۔ کیسے؟ اس کی ہچکیاں بندھ گئیں۔

فلاح پا گیا وہ شخص جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا اور پھر نماز پڑھی۔ امام صاحب نے سلسلہ کلام کو آگے بڑھاتے سورت الاعلیٰ کی آیت کی تلاوت کی۔ یقیناً آپ میں سے بہت سے لوگ سوچ رہے ہوں کہ اللہ نے انہیں کیوں چنا اپنے لیے؟ توبہ کے لیے؟ دنیا میں تو اتنے سارے لوگ ہیں۔

اس نے چونک کر سر اٹھایا۔ آج اسے ہر سوال کا جواب ملنے والا تھا۔ ایک بات یاد رکھیں دنیا میں ہر کسی کے پاس اللہ کی ہدایت ایک بار ضرور پہنچتی ہے۔ وہ کسی نہ کسی طریقے سے انسان کو اپنی طرف بلاتا ہے۔ اب انسان پر منحصر ہے کہ آگے بڑھ کر ہدایت کو چن لے یا پھر گمراہیوں میں پڑا رہے۔ کیا ابھی آپ نے یہ نہیں سنا "اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے" یہ توبہ تو ایک دروازہ ہے، جو اللہ آپ کے سامنے لاتا ہے۔ اب یہ آپ خود ہیں جس نے اس دروازے کو کھٹکھانا ہے، اللہ کی طرف رجوع کر کے۔ وہ آپ کی انگلی پکڑ کر خود آپ کو ہدایت کی راہ پر چلائے گا۔ یہ الفاظ نہیں، ہیرے تھے، جنہیں وہ مسجد کے فرش پہ بیٹھ کے اکٹھا کر رہا تھا اور اللہ اس کی آنکھوں سے بہتے ندامت کے آنسو سنبھال رہا تھا۔ توبہ کے دروازے کو کھٹکھٹانے میں اس نے تردّد سے کام نہ لیا، اور اللہ نے ہدایت کا دروازہ کھولنے میں دیر نہ لگائی۔ نور کا الاؤ پھر سے روشن کر دیا گیا۔ مسجد سے باہر نکلا۔ بادل و بارش گھن گرج کے ساتھ جا چکے تھے۔ سیڑھیوں سے اترتے اس نے اوپر آسمان کے پردے کے پیچھے موجود "اللہ" کو محبت بھری نظروں سے دیکھا۔ آنکھیں بند کیں اور زیرلب آہستہ سے " شکریہ" بول کر سیڑھیوں سےنیچے اتر گیا۔ چند لمحوں کے لیے مسجد میں پناہ لینے والے کو ہمیشہ کی امان دے دی گئی تھی۔


لیکن جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا، بےشک جنت ہی اس کا ٹھکانہ ہے۔

(القرآن79، 40:41)

ٹیگز
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com