خود کو ناقابل تسخیر بنالیں - محمّد احسان خان

ایک تیزی سے بہتی ہوئی نہر جو قرب و جوار کی بستیوں میں تباہی مچا رہی تھی۔ اہل بستی کو یقین ہوگیا اگر بہاؤ کا یہی حال رہا تو بہت جلد بستی نیست و نابود ہوجائے گی۔ اس مسئلے کا حل نکالنے کے لیے بستی کے تمام لوگ تین گروه میں تقسیم ہوگئے۔

پہلا گروہ وہ جس نے اپنے تمام تر اسباب پانی کے بھاؤ کو روکنے کے لیے صرف کردیے لیکن کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی کیونکہ مسئلہ یہ تھا کہ پانی کے بہاؤ کو ایک طرف سے روکا جاتا تو وو دوسری طرف سے راستہ بنا کر نکل آتا۔ دوسرا گروہ وہ تھا، جو اس بات پر مصر تھا کہ اس کا سر چشمہ تلاش کیا جائے تاکہ اسے بند کرنے سے اس نہر کا زور ٹوٹے۔ سر چشمہ مل گیا مگر ایک سوتا بند کیا جاتا تو دوسرے سوتے سے پانی خارج ہونے لگتا۔ دوسرے گروہ کے اس اقدام سے بھی بستی والوں کے گھر نہ بچ سکے۔

تیسرے گروہ نے ان دو گروہوں کے تجربات کی روشنی میں نہ تو بہاؤ روکنے کی کوشش کی، نہ ہے سوتے بند کرنے کا کوئی اقدام کیا۔ البتہ اپنی تمام تر کوششیں اس کام پر صرف کردیں کی پانی کے اس بہاؤ کو صحیح راہ پر لگادیا جائے اور اس کام کو اس طرح شروع کیا کہ بہاؤ کا رخ بنجر زمینوں اور قابل زراعت کھیتوں کی طرف کردیا، جس سے جگہ جگہ پانی کے تالاب بن گئے۔ بلاشبہ تیسرے گروہ نے وسائل کی صورت میں آنے والے سیلاب کو صحیح استعمال کیا اور کامیاب رہا جبکہ باقی دو گروہوں نے موقع اور وقت کو برباد کرنے کے سوا کچھ نہ کیا۔

دیکھا جائے تو نہر کے پانی میں دو عنصر موجود ہوتے ہیں، ایک پانی اور دوسرا اس کے ساتھ چلنے والی مٹی۔ بس یہی دو عنصر حضرت انسان میں بھی پائے جاتے ہیں۔ عمرکے اس حصّے میں جہاں ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ پڑھائی بھی بالکل اختتام پر ہے اور ابھی تک ہم نے اپنے لیے کوئی گول سیٹ نہیں کیا، تب ہماری اپنی شخصیت میں ان تین الگ سوچوں کا جنم ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مقصد حیات - خالد ایم خان

پہلی سوچ وہ جوہمیں بالکل منتشر کر کے رکھتی ہے کہ یا تو کوئی غیبی امداد آ جائے یا اچانک ہمارا کوئی چھکا لگ جائے اور کامیابی، دولت اور شہرت ہمارے قدموں پر گر کر انہیں چومے۔

دوسری سوچ یہ ہوتی ہے کے ہم یا تو کوئی ایسا کام کر جائیں جو آج تک کسی نے نہ کیا ہو، یا کچھ ایسا ہونے لگے کہ زندگی کی ساری آسائشیں میسر ہوں اور بس ہم بیٹھ کر زندگی بھر مزے کریں۔

تیسری سوچ وہ ہوتی ہے جس تک پہنچنا آسان نہیں ہوتا لیکن جو ایک بار پہنچ جائے، وہ کبھی ناکام نہیں ہوتا۔ یہ سوچ انسان کے اندر موجود صلاحیتوں کا پتا لگنے پر ہوتی ہے، جس سے انسان اس بات کا بخوبی اندازہ لگا سکتا ہے کہ وہ کس کام کو کرتے ہوئے مہارت حاصل کرسکتا ہے اور کون سا کام اس کی مستقل مزاجی اور کامیابی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ کوئی ایک ہی کام ہو، دو بھی ہوسکتے ہیں۔ بشرطیکہ آپ کی مکمل دلچسپی اس میں موجود ہو۔

اپنے اندر پانی جیسی طاقت پیدا کیجیے، جو زور پکڑلے تو یہ نہیں دیکھتی کہ آگے کون سی رکاوٹ ہے بلکہ ہر چیز کو توڑتی ہوئی آگے نکل جاتی ہے۔ مٹی جیسی صفت پیدا کیجیے جو ہر ماحول میں خود کو ڈھال لیتی ہے اور جس زمین پر بھی ہو مٹی ہی رہتی ہے۔ خود میں چینج ضرور لائیں مگر اپنے اہداف پر پوری توجہ رکھیں۔ اپنے اندر کے پانی کو کبھی ٹھہرنے نہ دیں، ہر وقت اضطراب رکھیں کیونکہ رکے ہوئے پانی میں کچھ عرصے بعد ہی بدبو آنے لگتی ہے اور پھر وہ کسی کام کا نہیں رہتا۔ آپ کی ساخت مٹی کی بنائی گئی ہے خود کو اس کی مناسبت سے ماحول میں ڈھالنے کی کوشش کریں مگر کبھی اپنے گولز کو نہ بھولیں۔ اپنے اندر کی صلاحیتوں پر بخوبی غور کریں اور ان کا صحیح استعمال کرتے ہوئے کامیابی کی سیڑھیاں چڑھنے کی کوشش کریں۔

یہ بھی پڑھیں:   مقصد حیات - خالد ایم خان

آئیڈیاز روز جنم لیتے ہیں لیکن ان آئیڈیاز پر فوکس زیادہ اہم ہے، جن میں آپ کی صلاحیتیں استعمال ہوسکتی ہوں۔ اپنی زندگی کا ایک موٹو بنالیں: "آپ کو پوری اجازت ہے کہ آپ اپنی ناکامی پر افسوس کریں لیکن آپ کو اس بات کی بالکل اجازت نہیں ہے کہ آپ ہار مان لیں۔"