اب کرنا کیا ہے؟ - امجد طفیل بھٹی

امریکہ کی طرف سے پاکستان کو دی جانے والی دھمکیاں کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ یہ پچھلے بیس سال کی کہانی ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ امریکہ اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر کچھ بھی کر گزرنے کو تیار رہتا ہے، حتیٰ کہ جنگ کرنا بھی امریکہ کے لیے کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو دنیا میں ہونے والی ماضی قریب میں ہر جنگ کی سازش کے تانے بانے امریکہ سے ہی جا کر ملتے ہیں اور یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ دنیا میں جنگوں کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کی بڑی تعداد کا سبب بھی امریکہ خود ہی ہے۔ لیکن وہاں کی اسٹیبلشمنٹ جب بھی اپنی ناکامی کو چھپانا چاہتی ہے وہ اس کا ملبہ کسی نہ کسی ملک پہ تھونپ کر بری الزمہ ہونے کی کوشش کرتی ہے۔

موجودہ حالات بھی اسی بات کی غمازی کرتے ہیں کہ اس وقت کھولے گئے تمام محاذوں پر امریکہ ناکام ہو چکا ہے، خاص طور پر افغانستان کی جنگ امریکہ کی معیشت کو لے کر بیٹھ گئی ہے۔ اگر امریکی صدر کی حالیہ دھمکیوں اور الزامات کو سچ بھی مان لیا جائے کہ 33 ارب ڈالر پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں دیے جا چکے ہیں تو ان اعداد وشمار کا اندازہ لگانا مشکل نہ ہو گا کہ خود امریکہ کے اپنے اخراجات کتنے زیادہ ہوں گے؟ جیسا کہ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ امریکہ کے اپنے اخراجات کا ایک فیصد ہی پاکستان کو اب تک دیا گیا ہو گا۔

اس وقت امریکہ ساری دنیا میں تنہائی کا شکار ہے، خاص طور پر اسرائیل کے دارالحکومت کے اعلان اور اقوام متحدہ میں ووٹنگ کے بعد تو امریکہ پر یہ واضح ہونا شروع ہو گیا ہے کہ اب وہ اپنی سپر پاور برقرار رکھنے کی پوزیشن میں بھی شاید نہیں رہا۔ دنیا میں طاقت کے مراکز تبدیل ہوتے رہتے ہیں یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ کبھی روس سپر پاور رہا تو کبھی امریکہ لیکن اب دنیا میں سپر پاور اسی ملک کی ہے جو کہ معاشی طور پر مضبوط ہے۔ ظاہر ہے اتنے زیادہ جنگ وجدل کے بعد امریکہ کی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے اور دنیا کی تمام تر معاشی طاقتیں اس وقت چین کو ہی سب سے بڑی معاشی طاقت سمجھتی ہیں۔ پچھلے پانچ سالوں میں پاکستان کا جھکاؤ بھی چین کی طرف ہی رہا ہے کیونکہ پاکستان بھی یہ جان چکا ہے کہ امریکہ کی دوستی مکر وفریب کے سوا کچھ نہیں ہے۔ افغان جنگ میں پاکستان کو استعمال کر کے جس طرح بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا, اس کا خمیازہ آج بھی ہم افغان مہاجرین کی شکل میں بھگت رہے ہیں۔ پچھلے 35 ، 40 سال سے 30 لاکھ افغان مہاجرین پاکستان کی نہ صرف معیشت پر بوجھ بنے ہوئے ہیں بلکہ امن و امان کی مجموعی صورتحال کی خرابی کے ذمہ دار بھی یہی لوگ ہیں جو کہ بم دھماکے، اغوا اور قتل جیسے جرائم میں ملوث ہیں۔

موجودہ صورتحال میں پاکستانی عوام شش وپنج میں مبتلا ہے کہ آخر پاک۔ امریکہ تناؤ کا نتیجہ نکلے گا کیا؟ کچھ لوگ بہت زیادہ جذباتی ہیں کہ دہشت گردی کی جنگ صرف اور صرف امریکی مفادات کی جنگ ہے جس سے ہمیں فوری طور پر نکل جانا چاہیے۔ کچھ لوگ اس جنگ کا دائرہ کار بڑھانے کی بات کرتے ہیں اور کچھ لوگ امریکہ کو منہ توڑ جواب دینے کی بات کرتے ہیں لیکن یہ وقت ایسا نہیں کہ ہم مفت میں ایک اور جنگ اپنے اوپر طاری کر لیں بلکہ یہ وقت انتہائی سمجھداری سے کام لینے کا ہے کیونکہ یہ جنگ صرف امریکہ اور پاکستان تک محدود نہیں ہوگی۔ اس جنگ میں پاکستان کا ازلی دشمن بھارت تو بڑھ چڑھ کر حصہ لے گا کیونکہ بھارت سے پاکستان کی موجودہ ترقی ہضم نہیں ہو رہی جس میں ہمارا پارٹنر چین بھر پور کردار ادا کر رہا ہے اور جس کو سی پیک کا نام دیا گیا ہے۔ بذات خود امریکہ کی جانب سے بھی اس منصوبے کی کئی مواقع پر مخالفت کی گئی ہے۔ یہ منصوبہ صرف پاک-چین منصوبہ نہیں ہے اس میں اور بھی کئی ممالک شرکت کے متمنی ہیں جن میں روس، ترکی اور ایران سرفہرست ہیں۔ اس وقت امریکہ اور بھارت کو اس خطے پر اپنی اجارہ داری ختم ہوتی نظر آ رہی ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ امریکہ کبھی بھی پاکستان کے خلاف جنگ کا خطرہ مول نہیں لے سکتا کیونکہ پاکستان دفاعی طور پر خود مختار ایٹمی طاقت ہے اور اس جنگ کے نتائج نہ صرف ان دونوں ممالک بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں نہیں ہیں۔ اگر خدانخواستہ امریکہ محدود جنگ شروع بھی کرتا ہے تو پھر یہ جنگ پاکستان تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس میں مشرق وسطیٰ، خاص طور پر اسرائیل کی تباہی کے 100 فیصد چانس موجود ہیں جو کہ امریکہ کبھی نہیں چاہے گا کیونکہ اسرائیل میں ہی امریکہ کی جان ہے۔ جنگ کے علاوہ امریکہ کے پاس پاکستان کے خلاف جو آپشن بچتا ہے وہ ہے اقتصادی پابندیوں کا، اور موجودہ حالات میں جب چین پاکستان کو ہر طرح سے مدد کر رہا ہے ان پابندیوں کا بھی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلے گا۔ اس لیے اس صورتحال میں دونوں ممالک کو ایک “ گرینڈ ڈائیلاگ “ کی اشد ضرورت ہے جس میں دونوں ممالک کے تھنک ٹینک مل بیٹھیں اور اس تناؤ کی صورتحال سے نکلنے کی کوشش کریں کیونکہ اس صورتحال کا نقصان اگر پاکستان کا ہے تو اس سے کئی سو گنا زیادہ امریکہ کا ہے۔ اور امریکی عوام بھی اس وقت اپنے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جارحانہ پالیسیوں سے شدید تنگ ہیں اور تذبذب کا شکار ہیں کہ آیا ان کا ملک کسی نئی جنگ میں شریک ہونے تو نہیں جا رہا؟ دونوں ممالک کے اعلیٰ فوجی افسران، سیاستدان، بیوروکریٹ اور سفارتکاروں کو چاہیے کہ وہ مل بیٹھ کر موجودہ حالات کو قابو کرنے کی کوشش کریں تاکہ دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچایا جا سکے وگرنہ اس جنگ کے نتیجے میں ساری دنیا نہ صرف سینکڑوں سال پیچھے چلی جائے گی بلکہ کروڑوں بے گناہ لوگوں کی ہلاکت کا بھی خدشہ موجود ہے جوکہ کسی بڑے انسانی المیے کا سبب بن سکتا ہے۔

Comments

Avatar

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */