عوامی عدلیہ پارٹی کا نیا عوامی لیڈر - وقاص احمد

خبروں کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے میڈیکل کالجز کی بھاری اور ناجائز فیسوں کا معاملہ اٹھانے کے بعد، ہسپتالوں کا معائنہ شروع کردیا ہے۔ انتظامیہ کی دوڑیں لگ گئی ہیں اور ابھی چیف جسٹس کا حالیہ بیان ہے کہ اگر پنجاب حکومت نے تعلیم و صحت کی حالت ٹھیک نہیں کی تو اورنج ٹرین منصوبہ بند کردیں گے۔

اُدھر سندھ میں پینے کے پانی اور ناجائز تجاوزات کے معاملے میں اجاگر ہونے والے ہوش رُبا انکشافات پر سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے احکامات و اقدامات جاری ہیں۔ سندھ حکومت نہایت ہر بڑی کا شکار ہے۔ ہماری رائے میں سپریم کورٹ کے اس جوڈیشل ایکٹوزم کی ایک بڑی وجہ سیاسی پارہ ہائی ہونا ہوسکتا ہے۔ جس میں نوازشریف صبح شام عدلیہ کے فیصلے کے خلاف حدود سے آگے جا کر تنقید کر رہے ہیں۔ لیکن عدلیہ کی اس ولولہ انگیزی نے مجھے کچھ اور باتیں سوچنے پر بھی مجبور کردیا ہے۔ دیکھیں! یہ بات تو ہمیں پتا ہی ہے کہ جو مسائل غریب ا ٓدمی کو ہر روز صبح شام درپیش ہیں وہ ان مسائل سے تین سو ساٹھ ڈگری مخالف ہیں جن کا رو نا اپر مڈل اور اپر کلاس کے افراد روتے ہے۔ غریب ا ٓدمی کے مسائل تو بنیادی انسانی حقوق کے زمرے میں آجاتے ہیں اور ان میں ابتر حالات براہِ راست قوم کی شرح غربت میں اضافہ کرتے ہیں۔ پینے کا صاف پانی نہ ہونا، سیوریج کا نہ ہونا، سرکاری ہسپتالوں میں بستر اور دوائی کا نہ ہونا، غریب طبقات کے نوجوانوں میں ملازمت کے مواقع کا نہ ہونا، بنیادی تعلیم کا نہ ہونا، رات گزارنے کے لیے چھت کا نہ ہونا، ایک وقت کا کھانا کھا کر اگلے وقت کے کھانے کی فکر ہونا، یہ صرف اور صرف غریب اور مسکین عوام کے مسائل ہیں اور ہاں یہاں کوئی ۴ یا ۵ فیصد کی بات نہیں ہورہی بلکہ پاکستان کے ۴۰ سے ۴۵ فیصد لوگوں کی بات ہورہی ہے جو بیمار پڑنے پر، بچے کی پیدائش کے وقت ڈسٹرکٹ ہسپتال کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ جو پینے کا پانی خراب ہونے کی صورت میں ۲۰ روپے والا پانی بھی نہیں خرید سکتےاور گھر یا کمیٹی کا نلکا ہی ان کا سہارا ہوتا ہے۔ مفت تعلیم کے لیے اگر بچے کو دھندے پر نہیں لگانا تو محلے سے نزدیک ترین سرکاری اسکول ہی انکی اِس ضرورت کا مرکز ہوتا ہے۔ یہ علاقے کے بااثر شخص کے ظلم کے بعد قریبی تھانے کے ایس ایچ او سے انصاف ملنے کی امیدو حسرت لگاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مہنگائی کی وجہ سے گوشت اور مچھلی کھانے کے لیے کسی بڑے دن کا انتظار کرتے ہیں۔ مرغی اور انڈوں کی قیمت گرنے کا انتظار کرتے ہیں۔

کبھی ہم نے غور کیا کہ ان لوگوں کے مسائل حل ہونے کا ایک عام یا نارمل طریقہ کار کیا ہوتا اگر پاکستان ایک دوسرے درجے کا بھی فلاحی ملک ہوتا؟ جی ہاں! وسائل کرپشن اور عیاشیوں میں ضائع کرنے کے بجائے اگر عوام پر خرچ ہوتےتو آج ہر ایک ہزار انسان پر سرکاری ہسپتال میں بستروں کی تعداد، اسکولوں کی تعداد، ضلعی عدالتوں میں سیشن ججز کی تعداد بہت بہتر ہوتی۔ پانی، سیورج، تھانے کے حالات بہتر ہوتے۔

غریب کے انفرادی مسئلے کی صورت میں ہونا تو یہی چاہیے کہ فرد سسٹم پر بھروسہ کرتے ہوئے سرکاری اسکول، ہسپتال، تھانے یا کسی اور سرکاری محکمہ میں جائے اور اپنا مسئلہ نظام کے ذریعہ بطریقِ احسن حل کرا لے۔ لیکن یہ پاکستان ہے، یہاں عام اور غریب آدمی کی جب اداروں، محکموں میں دادرسی و شنوائی نہیں ہوتی تو وہ ضلعی کونسلرز، ناظمین کے پاس جا کر(اگر عوامی نمائندہ دستیاب و آمادہ ہو ) یا علاقے کی کسی اہم شخصیت کے پاس ماتھا ٹیک کر کسی سفارش اور پرچی کی بھیک مانگتا ہے۔ نوکری کے لیے جو در در کی ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں اور انسان کی عزت نفس جس طرح پامال ہوتی ہے اس کا تذکرہ الفاظ میں بیان کرنا نہایت مشکل ہے۔ ان انفرادی مسائل سے روزانہ پاکستان کے کروڑوں لوگ گزرتے ہیں۔ سندھ اور بلوچستان کے مچھیروں اور خانہ بدوشوں،تھر اور چولستان کے صحرائیوں، سندھ کے اندرونی علاقوں کے غریب ہاریوں، جنوبی پنجاب کے چھوٹے کاشتکاروں، پاکستان بھر میں دیہاڑی پر کام کرنے والے اور خاص طور پر بھٹہ مزدوروں، گھریلو صنعت سے وابستہ ہنرمندوں کے مسائل و مجبوریوں پر اگر روزانہ آٹھ بجے سے گیارہ بجے تک پروگرامز اور ٹاک شوز ہونے لگیں تو درد رکھنے والے لوگ چند روز میں یا تو مایوس ہوکر انتہا پسند بن جائیں گے یا پھر پاگل۔ لیکن چونکہ ظلم کی یہ داستانیں پورے پاکستان میں منتشر ہوتی ہیں اس لیے خبرنہیں بنتی۔ خبر کے لیے ضروری ہے کہ یا تو کوئی کیڑا مار دوائی پی لے، تین چار بچوں کو لیکر نہر میں چھلانگ ماردے، غربت سے تنگ آکر مرد پورے خاندان کو ماردے، عورت بچوں کا گلا دبا دے یا پنشن اور بیٹے کی نوکری کے لیے عمارت سے چھلانگ لگا دے۔

اجتماعی مسائل کے حوالے سے شور شرابہ تھوڑا زیادہ ہوجاتا ہے۔ کچھ لوگ مل کر جب کسی مسئلے پر حکومت کی غفلت اور لا پرواہی کو اجاگر کرتے ہیں تو مسئلے کے حوالے سے حکومت میں تھوڑی ہل جل ہوجاتی ہے۔ لیکن یہ ہل جل اکثر منفی سمت میں ہی ہوتی ہے۔ اگر کسی پورے علاقے کی بجلی یا پانی اگر ایک دو دن تک بحال نہ ہو تو لوگ کیا کرتے ہیں ہمیں پتا ہے۔ سرکاری ٹیچرز، فیکٹری ملازمین، کسان اپنےمشترکہ مسائل سسٹم کے ذریعے حل کرنے کی اولاً تو بھرپور کوشش کرتے ہیں لیکن جب ہمارے امراء اور رؤسا کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی تو لوگ مجبوراً احتجاج کا راستہ اختیار کرتے ہیں، سڑکوں پر آتے ہیں، پانی کی دھاروں، آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا سامنا کرتے ہیں لیکن اسمیں بھی انکے مسئلے حل ہونے کے امکانات کم ہی ہوتے ہیں۔ کیونکہ انکی پشت پر کوئی مخلص، اولولعزم سیاسی لیڈرشپ نہیں ہوتی۔ لیکن ایسا کیوں! سیاست کا مطلب تو عوام کی خدمت اور انکے مسائل کا حل ہوتا ہے نا۔

اب میں اس مضمون کے اصل مقصد پر آ رہا ہوں۔ نیو لبرلزم اور نیو کیپٹلزم اور کرپٹ جمہوری نظام نے اصل میں عام آدمی سے اس کا حقیقی لیڈر چھین لیا ہے۔ کیسے چھین لیا ہے؟ خرید کر چھین لیا ہے۔ ہر چیز کارپوریٹ ہوگئی ہے اور برائے فرو خت ہے۔ سیاسی جماعتیں اور این جی اوز بھی۔ آ پ مجھے بتائیں کتنی سیاسی جماعتیں ہیں جنہوں نے اُن مسائل پر جو انسانیت کو قطرہ قطرہ زہر دے کر ایک ایک کر کے مارتی ہیں، کوئی تحریک چلائی ہو۔ صحت کے بنیادی سہولیات کے نہ ہونے سے ہر سال لاکھوں بچوں کی اموات پر، اسکولوں کے نہ ہونے پر، تھانہ کلچر پر، مہنگائی، اس سے وابستہ کرپشن اور حکمرانوں کے اللّوں تللّوں پر، کسان کے مسائل پر، پینے کے صاف پانی پر کوئی مہم کوئی کیمپین چلائی ہو۔ روز مرہ کی بیان بازی سے نکل کر کوئی دھرنا کوئی احتجاج کیا ہو۔( K-Electric کی اووربلنگ کے مسئلےپر جماعت اسلامی کا دھرنا گوکہ ایک Exceptional Case تھا )۔ ہاں جہاں مسئلہ اپنے اقتدار یعنی جمہوریت بحال کرانے کا ہو۔ نااہلی کو واپس اہلیت میں بدلنے کا ہو تو اسے ایک عوامی فلاح و بہبود کا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔ اس پر ہماری سیاسی اشرافیہ کی حرکت اور موبلایزئشن دیدنی ہوتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ واقعی کوئی غم لاحق ہے۔ اسی طرح دیکھا جائے تو عدلیہ بحالی تحریک کے پہلے فیز کا ایک بڑا محرک مشرف مخالفت تھا اسلیے سب ساتھ مل گئے۔ دوسرے فیز میں وکلاء کو زرداری صاحب نے کامیابی سے تقریباً تقسیم ہی کردیا تھا کہ ان سے گورنر راج کا ایک جذباتی فیصلہ ہوگیا۔ عدلیہ بحالی تحریک میں جان اسکے بعد ہی پڑی جب ’’عظیم انقلابی لیڈر‘‘ میاں نواز شریف نے عدلیہ بحالی تحریک کی قیادت سنبھالی۔ جب ن لیگ کی پنجاب حکومت معطل ہوئی۔ آج کل عدل بحال کرانے میں اچانک انکی دلچسپی بڑھ گئی ہے۔ تحریک انصاف نے بھی طویل دھرنا اسی بات پر دیا نا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے اور تحریک انصاف اقتدار میں نہ آسکی۔ اسلام آبا د لاک ڈاؤن میں کارکنوں پر وسائل پانی کی طرح بہانے کی نیک وجوہات بھی ہوسکتی ہیں لیکن اس سے تو انکار ممکن نہیں نا کہ عمران خان کو اپنے حریف نواز شریف کو نیچا دکھانے کا فائنل موقع ملا تھا۔ سب جماعتوں کا یہی حال ہے۔ مشرف کی حمایت میں ریلیاں نکالنا، مذہبی انتہا پسندی پر لیکچر کی آڑ میں امریکہ محبت، سیکولرزم اور قادیانیوں کو مسلمان تسلیم کرانے کے بھاشن دینا ایم کیو ایم کا وطیرہ رہا لیکن مجال ہے کہ کوٹہ سسٹم، کراچی لوکل گورمنٹ سسٹم، پانی کی فراہمی پر کوئی دباؤ سے بھرپور عوامی مہم چلائی گئی ہو۔ سب چیزوں کی قیمت ہے۔ تمام راہنماؤں کی سیاست کی کوئی نہ کوئی قیمت ہے۔ الا ماشاءاللہ۔ غریب عوام یتیم ہے۔

لیکن اللہ کا شکر ہے۔ اس صورتحال میں ہمیں ایک نیا عوامی لیڈر مل گیا ہے۔ جس کے دل میں اللہ نے عوام کی محبت ڈالدی ہے۔ وجہ کوئی بھی ہو اس نے وہ عوامی نوعیت کے مسئلے اٹھا لیے ہیں جو عوام کو سسک سسک کر مارتے ہیں اور جن پر کوئی ہلچل بھی نہیں مچتی۔ میں نہایت سنجیدگی سے تجویز پیش کرتا ہوں کہ چھوٹی غیر سیاسی تنظیمیں، عوام کے اس نئے لیڈر اور اسکے رفقاء کی توجہ اپنے مسائل کی طرف مبذول کرائیں۔ کیا! کس جماعت اور کس لیڈر کی بات کر رہا ہوں؟ جی میں عدلیہ جماعت کے چیف، چیف جسٹس جناب ثاقب نثار صاحب کی بات کر رہا ہوں۔ آج سے لیکر الیکشن تک خاص طور پر میرا دیانتدارانہ مشورہ ہے کہ سارے صوبوں کی سپریم کورٹ رجسڑیز کی عمارتوں، ہائی کورٹس کے سامنےاگر پانچ سو ہزار لوگ بھی دھرنا احتجاج کریں گے تو جج صاحبان اس مسئلے کو 184-3 کے تحت اٹھا سکتے ہیں۔ اور انشاء اللہ اٹھائیں گے۔ قسم خدا کی! دنیا میں شاید ہی ایسا کوئی ملک ہو جہاں لوگوں کو ناپاک اور زہریلا پانی پلایا جارہا ہو اور ایسا بنیادی انتظامی مسئلہ بھی سپریم کورٹ کے ڈنڈے سے سامنے آئے اور اس پر ججز حکومت سے کام کروائیں۔

کسی بلاول ہاؤس، جاتی امراء، گورنر ہاؤس، وزیر اعلیٰ ہاؤس جانے کی ضرورت نہیں ہے بس مخلص لوگ ہمت کریں، پلے کارڈز، بینرز بنائیں، تھوڑا سا منظم ہوکر مقررہ مقام پر جمع ہوں اور نعرہ لگائیں ’’چیف جسٹس زندہ باد!‘‘

’’ دیکھو دیکھو کون آیا؟ چیف آیا چیف آیا!‘‘

’’چیف جسٹس صاحب! ہمارا بنیادی مسئلہ حل کرو‘‘

آپ ہنس رہے ہیں؟ نہیں میں سنجیدہ ہوں۔ مایوس تو نہیں ہوں!

Comments

وقاص احمد

وقاص احمد

کراچی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز اور سنہ2000 سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں خدمات سرانجام دینے والے وقاص احمد ایک دنیا دیکھ چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ، مشرقِ بعید اورآسٹریلیا کے سفر کر چکے ہیں ۔مطالعہ کا شوق تو بچپن سے تھا لیکن گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدہ فلسفۂ دین،احیائے دین کی تحاریک، فلسفہِ اخلاق ، سیاست، احتساب اور تاریخ کے موضوعات ان کی تحقیقات اور فکر کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے علمائے کرام اور دینی اسکالرز کے بے شمار دروس اور لیکچرز میں شرکت کر چکے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب نے آج کی خبر کے مطابق وی آئی پی موومنٹ اور سندھ کے ہسپتالوں کی حالت پر ازخود نوٹس لے لیا ہے۔ لگتا ہے چیف جسٹس ’’دلیل‘‘ کے بھی قاری ہیں ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com