ماڈرن ازم اور سیکولرازم ادبی تناظر میں - عزیز ابن الحسن

سوشلستان پہ چل رہے سیکولرازم اور سیکولرائزیشن کے مباحث پر ایک بارہ سال پرانی طویل تحریر کا کچھ حصہ، ادبی و تہذیبی مسائل کے تناظر میں.
قارئین سے گزارش ہے کہ اس میں آئے کچھ ناموں میں الجھ کر رہ جانے کے بجائے مرکزی مسئلے پر توجہ رہے.

محمد حسین آزاد، حالی اور شبلی تینوں'' نیچرل شاعری'' کے نام لیوا اور پانی دیوا تھے اور ان کی تقلید میں اور بہت سے بھی۔ "وقت کی راگنی" میں عسکری نے اس پر تصور روایت اور حقیقت کی روشنی میں شاہ وہاج الدین کے حوالے سے چند کلمات لکھے ہیں۔ جن کا ماحصل یہ ہے: انسان کے پیش نظر معرفت کے دو تعینات ہیں: انفس اور آفاق! کمال تو یہ ہے کہ دونوں کی شناخت ایک ساتھ ہو، مگر انفس کی شناخت کو آفاق پر غلبہ بھی ہو؛ کیونکہ آفاق جسم ہے اور انفس اس کی روح! پس رونگٹا رونگٹا انفس کا آفاق کا عالم عالم ہے۔ اس لئے پچھلی صدیوں سے ہر زبان کی شاعری ،بشمول آفاق کے، انفس کو غلبہ دیکر مکمل سمجھی گئی ہے۔ مگر اس روشنی میں جب ہم نیچرل شاعری کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتاکہ '' وہ ناتمام ہے۔ کیونکہ اس میں صرف آفاق ہی کو لیا ہے اور انفس کو، جو آفاق کی جان ہے، چھوڑ دیا ہے۔ لہٰذا یہ شاعری مثل ایک جسم بے جان کے ہے۔ اور پرانی شاعری پر جو یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ جھوٹ اور مبالغہ بھرا ہوا ہے یہ اعتراض نا سمجھی سے ہے کیونکہ جان کی بابت کوئی بات مبالغہ نہیں ''۔( وقت کی راگنی، ص ١٠٩) اس روایتی معیار کی روشنی میں عسکری لکھتے ہیں ہمارے ہاں نظیر اکبر آبادی کو، جس کے ہاں انفس کے مقابلے میں آفاق کا غلبہ ہے، اُس دور میں صرف اتنی ہی اہمیت دی گئی تھی جتنی ایک روایتی معاشرے میں ممکن تھی۔ لیکن انگریزوں کے بعد ہمارا معاشرہ بدلا تو ترقی پسندوں نے اسے اونچے سنگھاسن پر بٹھایا۔ اسی طرح مولانا حالی بھی بظاہر روایت کے شاعر نظر آتے ہیں، مگران کی نعت تک میں الفاظ تو روایتی ہیں ،مگر مابعد الطبیعیات کی بجائے اخلاقیات پر زور دے رہے ہیں۔ لہٰذا روایت کے نقطہ نظر سے ان کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اردو شاعری سے مابعدالطبیعات کو خارج '' کر دیا ۔  آزاد حالی اور شبلی جیسے بزرگوں سے شروع ہونے والی تنقید کے اس کارنامے کے پیش نظر عسکری کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے انگریزی ادب سے چلتے ہوئے خیالات لیکر اردو ادب پر اس طرح ان کا اطلاق کیا کہ '' آنے والی نسلوں کے ادبی فہم اور ادبی ذوق کو غارت کر گئے، سب سے بڑا نقصان انہوں نے یہ پہنچایا کہ شعر کی بنیاد جذبات کو قرار دے گئے اور شعر کی خوبی کا معیار خلوص جذبات کو بنایا۔ دوسرے شاعری کا سب سے بڑا مقصد اخلاقی اصولوں کی ترویج ٹھہرا ۔ ''
وہ مزید لکھتے ہیں کہ جس طرح '' جذبات کا خلوص غیر شرعی چیز کو شرعی نہیں بنا سکتا اسی طرح صرف و محض جذبات کا خلوص برے شعر کو اچھا نہیں بنا سکتا''۔مشرقی و مغربی ادب پر تصور روایت کے اطلاق کے حاصلات کے جائزے میں ا بھی اور بھی بہت کچھ باقی ہے، جس کی تفصیل وقت کی راگنی کے ہر صفحے پر پھیلی ہوئی ہے ۔مگر اب ہم اس کے چند'' غیر ادبی پہلوؤں'' کی طرف آتے ہیں۔

''مشرق اور مغرب کی آویزش'' والے مضمون میں عسکری نے بتایا تھا کہ اس کشمکش نے ہمارے ادب میں تین گروہ پیدا کر دئے ہیں، جن کی سرحدیں بہت غیر واضح ہیں۔ ایک گروہ دل و جان سے مغرب کی پیروی کرنا چاہتا ہے۔ اس کے نزدیک مغرب کی دنیاوی ترقی اس کے تہذیبی اور ادبی اصولوں کی صحت کی بھی دلیل ہے۔ دوسرا گروہ مشرقی ادب کی روح کو برقرار رکھناچاہتا ہے۔ اور تیسرا مشرق و مغرب کے امتزاج کا قائل ہے کہ اچھی چیز جہاں سے ملے لے لو ۔ چونکہ '' یہ گروہ ہمیں سوچنے کی اذیت سے محفوظ رکھتا ہے، لہٰذا ہر جگہ احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ''۔( وقت کی راگنی،ص ٨) عسکری کے نزدیک مشرق و مغرب کے طرز احساس کا فرق چونکہ صرف مادی علوم، معاشی وسائل، سیاسی، عمرانی و بشری نظاموں کے فرق کا زائیدہ نہیں بلکہ اس کی جڑیں بہت گہری ہیں، اس لیے اس مضمون میں آمدہ مسئلے کی صورت کچھ یوں بنتی ہے:
١۔ کیا ہم مکمل طور پر مشرقی ادب کی روح کو برقرار رکھ سکتے ہیں ؟
٢۔ کیا ہم مکمل طور پر مغربی ادب پیدا کر سکتے ہیں ؟
٣۔ کیا ہم مشرق و مغرب کے امتزاج سے کسی طرح کا ادب پیدا کر سکتے ہیں؟

جہاں تک مشرقی ادب کی روح برقرار رکھنے کا سوال ہے، عسکری کہتے ہیں کہ یہ مشرقی تصور حقیقت کو اچھی طرح سمجھے اور اسے برقرار رکھے بغیر ممکن نہیں۔ کیونکہ ہر ادب کی بنیاد اس کے تصور حقیقت پر ہے، اور خارجی اسالیب بیان تک، جو ثانوی چیزیں ہیں مگر، اسی بنیادی تصور سے نکلتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم خواہ اپنا تصور حقیقت اور خارجی اسالیب دونوں چھوڑ دیں، یا تصور حقیقت برقرار رکھ کے اسالیب دوسرے اختیار کر لیں، یا اسالیب برقرار رکھ کر تصور حقیقت کہیں اور سے لیں، مشرق ادب کی روح اگر برقرار رہ سکتی ہے تو صر ف اس کے اپنے پرانے تصور حقیقت کے ساتھ ،ورنہ نہیں۔ اور اگر مشرقی ادب کی روح/تصور حقیقت کو برقرار رکھنا ضروری ہے تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے: '' آپ کو ان تمام چیزوں سے کنارہ کش ہونا پڑے گا جنہیں مغربی ترقی کا مظہر سمجھا جاتا ہے ''۔ ( وقت کی راگنی،ص ١٥) اس جملے میں مضمر تلخ ترین حقیقت یہ ہے کہ مغرب کی ''موجودہ ترقی''ممکن ہوئی ہے ایک نیا تصور انسان اختیار کرنے اور اس تصور حقیقت کو ترک کرنے سے جو مغرب میں نشاۃ ثانیہ سے پہلے تھا۔  عسکری نے مغربی تہذیب کے سفر کو اپنی طرف سے ترقی یا تنزل کہنے کے بجائے وہاں کے ادیبوں کے چند اقوال نقل کئے ہیں جو خدا کی موت (نٹشے)، انسانی تعلقات کے ادب کی موت (لارنس)،اور انسان کی موت (مالرو) کے اعلان پر مشتمل ہےں اور لکھا ہے کہ '' ترقی یا تنزل کا فیصلہ آپ خود کر لیں ''۔( وقت کی راگنی،ص ١٩)

جہاں تک مغربی ادب یا اس جیسا ادب پیدا کرنے کی بات ہے عسکری کہتے ہیں اگر ہم مغرب کا موجودہ تصور حقیقت قبول کر لیں تو قطع نظر اس سے کہ ہمارے ہاتھ سے کیا کچھ جائیگا، ہم زیادہ سے زیادہ مغربی ادب کا ضمیمہ پیدا کر سکیں گے۔ کچھ نہ کرنے سے تو یہ کام بھی اچھا ہے مگر وہاں چونکہ بقول لارنس ''انسانی تعلقات کا ادب اپنے امکانات ختم کر چکا ہے'' اس لئے آگے جنسی تخریبات کے سوا کچھ نہیں۔ اگر ہم نے مغربی ادب ہی کی پیروی کی تو زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ '' مغرب جیسا ادب پیدا کر چکا ہے اس کی نقل ہم بھی تیار کر دیں اور جب مغربی ادب اپنی فطری موت مرے تو اس کے تھوڑے دن بعد ہمارا ادب بھی مر جائے ''۔ ( وقت کی راگنی،ص ٢٠) مشرقی اور مغربی طریقہ ادب میں ناکامی کے امکانات کے بعد کیا یہ ممکن نہیں کہ دونوں کے امتزاج سے ایک نئی قسم کا ادب پیدا کیا جائے؟ اس بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ'' مشورہ تو معقول ہے مگر ساری پریشانی تو یہی ہے کہ اچھی اور بری چیز کا فیصلہ کیسے ہو ''،( وقت کی راگنی،ص ٧) کیونکہ جس کی باتیں اچھی لگنے لگیں اچھے اور برے کا معیار بھی اسی کا چلنے لگتا ہے۔ لیکن چونکہ وہ خود مغربی ادب کی اچھی اچھی باتوں کی حقیقت جان چکے تھے اس لئے امتزاج کی بات کو وہ یوں رد کر دیتے ہیں کہ امتزاج دو ایسی چیزوں کا ہو سکتاہے جن میں کچھ بنیادی اشتراکات ہوں۔ مشرق و مغرب کے ادب میں تصور حقیقت کے اختلاف کے باعث اتنا بُعد ہے کہ اگر ایک درست ہے تو دوسرا یقیناََ غلط! چونکہ دونوں میں سے کوئی ایک ہی تصور حقیقت درست ہو سکتا ہے ۔یعنی یا تو مشرق کا ماورائے عالم طبعی حقیقت ِعظمی کا تصور درست ہے یا پھر مغرب کا تصور جو صرف و محض عالم مادیات اور انسانی نفسی کیفیات میں بند ہے۔ لہٰذا کوئی قدر مشترک نہ ہونے کی وجہ سے مشرق و مغرب کے ادب کے''امتزاج کی بات ہی مہمل ہے ''۔( وقت کی راگنی،ص ٢٠)     چلئے تیسرا راستہ بھی بند ہوا۔اپنے تئیں عسکری نے ڈی ایچ لارنس کے حوالے سے ایک چوتھے امکان کی بات بھی کی ہے۔ مشرق کے لئے لارنس نے مغرب کو جذب کر کے اپناراستہ خود ڈھونڈنے کی تجویز دی تھی اور مغرب کے لئے یہ کہا تھا کہ انسانی تعلقات کے ادب کے امکان ختم ہو جانے کے بعد وہاں اگر کوئی جاندار ادب پیدا ہوا تو وہ انسان اور خدا کے باہمی رشتے کے بارے میں ہو گا۔ ('' مشرق اور مغرب کی آویزش۔اردو ادب میں '' (١٩٦٠) ، مشمولہ وقت کی راگنی، ص ٢٠۔١٨)

یہ محض امکانا ت ہیں۔انہیں یہیں چھوڑ کر عسکری کی ان باتوں میں مضمر کچھ عملی حقائق کی طرف رخ کرنا مفید ہو گا ۔ سلیم احمد نے مشرقی ادب کے بارے میں عسکری کی مبینہ تین صورتوں کا اطلاق پوری زندگی پر کر کے اس کی تین صورتیں یوں بیان کی ہیں: ١۔ کیا ہمارے لئے پوری پوری مشرقیت پر قائم رہنا ممکن ہے؟ ٢۔ کیا ہمارے لئے پوری طرح مغربی بن جانا ممکن ہے؟ ٣۔ کیا مشرقیت و مغربیت کا امتزاج ممکن ہے؟ ہمار ی مجموعی زندگی میں اس وقت یہ صورتحال ہے کہ ہمارے معاشرے میں مغربیت جتنی جتنی آتی جار ہی ہے مشرقیت اسی حساب سے غائب ہو رہی ہے۔ ہم خواہی نہ خواہی مغرب ہی کی طرف جا رہے ہیں۔( سلیم احمد، محمد حسن عسکری: انسان یا آدمی، ص ٧٩) تاکہ ہمیں نئی زندگی ملے ،یعنی سائنسی عقلیت و جمہوریت عطا ہو، فرد کی آزادی اور سماج کے رشتوں کا عرفان ملے، ہم تجرباتی ور معروضی طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے فطرت کو قابو میں لاسکیں، سماجی علوم کے اسرار و رموز جانیں، انسانی دماغ کے پر پیچ گوشوں تک رسائی حاصل کریں؛ تاکہ جاگیردارانہ نظام کاطلسم ٹوٹے، ازمنہ وسطیٰ کی فرسودہ روایات کا بھرم ٹوٹے ،اور ان تمام خرابیوں سے نجات ملے جنہیں آل احمد سرور نے جدیدیت کے فروغ سے وابستہ دکھایا ہے۔ ( سرور، نظر اور نظریے ،ص ٤٤۔ ١٤٣) یہ سب مستحسن اور مطلوب اقدام ہیں مگر ان سب کے ہوتے ہوئے مغرب خود جس گرداب میں ہے اس کی تقلید میں ہم اس سے کیسے بچ سکیں گے؟ سلیم احمد کے بقول مغرب کی ہلاکت کی خبر دینے والے عسکری پہلے آدمی نہیں ہیں، انہوں نے تو سب کچھ اہل مغرب ہی کی شہادت پر یہ کہا ہے اور خود ہمار ے انتہائی معتدل اور روشن خیال مفکر اقبال نے بھی دیار مغرب کے رہنے والوں کو ان کی تہذیب کی خود کشی کی پیش گوئی سنا رکھی ہے ۔ اور یہ ہیہاؤ ان کے سوا ہو بھی کسے سکتا تھا ۔اب اگر ان ہلاکت خیزیوں سے بچنا ہے اور مشرق کی روح بھی برقرار رکھنا ضروری ہے تو عسکری کے خیال میں ہمیں ان تمام چیزوں سے کنارہ کرنا ہو گا جو مغربی ترقی کی معراج ہیں : '' آپ جانتے ہیں کہ زندگی میں ان چیزوں کے کیا معنی ہیں؟ سائنس، ٹیکنالوجی، نئی تعلیم، نئے سیاسی سماجی ادارے، یعنی ہر وہ چیز جو پیروی مغربی کے بعد ہمارے معاشرے میں آئی ہے ۔ ''( سلیم احمد ایضاً، ص ٧٩) ظاہر ہے کہ یہ بھی ممکن نہیں ۔مگر اس رویے میں بھی عسکری تنہا نہیں۔ صاحبِ رسوخ علماء کی ایک جماعت بالکل مذہبی بنیاد پر تقلید مغرب سے ہمیشہ اسی طرح روکتی رہی ہے ۔ سرسید و حالی کی طرف سے دع ما کدر خذ ما صفا کا مشورہ درحقیقت مغرب سے اچھی اچھی چیزیں لیکر امتزاج پیدا کرنے کا راستہ تھا مگر یہ کون نہیں جانتا کہ سرسید احمد خان، مولوی چراغ علی ،سید امیر علی سے لیکر غلام احمد پرویز تک ،قرآن کو جس عقلیت پرستی کی روشنی میں دیکھتے آئے تھے اس کا معیارات مغرب ہی سے آیے تھے۔ اس طرح کی امتزاجی کوششوں میں یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے تصور حقیقت کو کسی نہ کسی درجے میں نقصان نہ پہنچارہے ہوں۔ عسکری کے صر ف ادبی تناظر میں اٹھائے ہوئے سوالات نے یوں ہمیں پوری زندگی کے مقابل لا کھڑا کیا ہے، جہاں انتخاب آدھے پونے کا نہیں۔ ہم مشرق کو جائیں کہ مغرب کو، یہ محض بیل گاڑی چھوڑ کر ہوائی جہاز اختیار کرنے کا معاملہ ہے نہ ہوائی جہاز چھڑوا کر پرانے سفری طریقوں کو اختیار کرنے پر اصرا ر ہے۔ بلکہ اصل معاملہ اُس نظام اقدار کا ہے جو اشیاء کے ساتھ بندھا چلا آتا ہے ۔ مغرب کے اس تاریخی سفر کے رخ پر اگر سوال اٹھایا جائے تو فوراََ کہا جاتا ہے کہ یہ مسلمانوں کو سائنسی ترقی سے محروم رکھنے کے مشورے ہیں۔ عسکری نے ایسے ہی موقع پر لکھا تھا '' اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو لوگ حقیقت کے مشرقی تصور پر ایمان رکھتے ہوں وہ کپڑے دھونے کی مشین بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتے، دراصل ان لوگوں کو کپڑے دھونے کی مشین کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ یہ ڈینگ نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ بارود اور چھاپہ خانہ چین والوں نے ایجاد کیا مگر ان کے مہلک نتائج کے پیش نظر ان چیزوں کو فروغ نہیں دیا۔ کولمبس سے سینکڑوں سال پہلے مشرق والے امریکہ سے واقف تھے۔ لیکن وہاں کے باشندوںکو لوٹنے کھوسٹنے کبھی نہیں پہنچے ۔مشرقی تصورات سے اسی طرح کی بے عملی پیدا ہوتی ہے ''۔ نظام اقدار ہو یا اخلاقیات یہ معاشرتی معاملہ بعد کا ہے پہلے یہ وحی، مذہب اور روایت کا معاملہ ہے، وہ روایت جس کا منبع و ماخذ سوائے وحی الہٰی اور مقدس کتب کے اور کچھ نہیں۔ روایتی تصورات، اور غیر روایتی اقدار( جس کا نمائندہ آج مغرب ہے) کے درمیان اصل جھگڑا اس بات میں نہیں کہ انسانی زندگی کو ترقی کے اوج کمال تک پہنچانے کے سامان کس کے پاس زیادہ ہیں بلکہ یہ کہ انسان کی ترقی اور بہتری اور دنیا و آخرت کی سعادت و نجات کا حتمی معیار کیا ہے اور وہ کس کے پاس ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ادب پہلا قرینہ ہے - عظمیٰ ظفر

مغرب کے سیکولر ہیومنزم اور سائنسی ترقی کے بارے میں آج یہ بات بڑی سادگی سے کہ دی جاتی ہیے کہ'' جدید مغربی تہذیب درحقیقت تسلسل ہے اسی تہذیب کا جس کا مرکز بغداد سے قرطبہ ، قرطبہ سے پیرس ، پیرس سے لندن، لندن سے نیو یارک اور ماسکو اور ... بتدریج ٹوکیو اور پیکنگ منتقل ہو رہا ہے ۔ اس تہذیب کے اساسی ترکیبی عناصر سائنس اور سیکولرزم ہیں۔ سائنس اور سیکولرزم اہل مغرب کو اہل اسلام ہی کی دین ہیں ''۔
(محمد ارشاد ،'' روایت اور جدیدیت ایک جائزہ'' مشمولہ فنون ،شمارہ ١٧ ، فروری مارچ ١٩٨٢ئ،ص ٦٠)

مغرب کے ہیومزم کی داستان تو رینے گینو کی کتابوں میں باتفصیل دیکھی جا سکتی ہے، اور سیکولرزم کے بارے میں حسین نصر اورسید محمد نقیب العطاس دونوں کا کہنا ہے کہ اسلام کی پوری فکری و عقلی تاریخ میں سیکولرزم جیسا نہ کوئی تصور رہا اور نہ اس کے متراد ف یا ہم مفہوم کوئی اصطلاح موجود رہی ہے۔  سیکولرزم کے بارے میں اس مغالطے کے باوجود کہ اس کا ترجمہ درست ترجمہ'' لادینیت'' نہیں بلکہ'' دنیاویت'' ہے اور یہ کہ مغرب میں یہ اصطلاح امام غزالی کے تراجم کے ذریعے آئی، یہ سب تسلیم ہے۔ بات اردو ترجمے کی نہیں بلکہ ان تصورات کی ہے جو سیکولرزم کے موجودہ مفہوم سے وابستہ ہیں۔ بقول سراج منیر اگر جدیدمغرب میں آج دنیا یا دنیویت / سیکولرزم کا یہی مفہوم ہے کہ یہ آخرت کی کھیتی ہے یا دنیا کافروں کے لئے جنت اور مومنوں کے لئے قید خانہ ہے تو اسے امام غزالی سے ماخوذ سمجھنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور ہمارے لئے اسے قبول کرنے میں کوئی عار نہیں۔ باقی رہ گئی ترقی کی بات تو اس پر غور ہمیشہ کسی نصب العین کو سامنے رکھ کر کرنا چاہیے، اور منجملہ دیگر معیارات کے آنحضرت کی اس حدیث کو بھی ضرورکسوٹی بنانا چاہیے کہ سب سے بہترین زمانہ میرا ہے، پھر اس کے بعد.... اور یہ کہ کیا ہم اخلاقی وروحانی اعتبار سے معاشرہئ مدینہ کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں یا ''بغداد سے قرطبہ ، قرطبہ سے پیرس ، پیرس سے لندن، لندن سے نیو یارک اور ماسکو اور ... بتدریج ٹوکیو اور پیکنگ ''کی طرف ؟ اس چھوٹے سے سوال کا بھیانک جواب ہمیں تصور انسان کے مسئلے سے دو چار کردیتا ہے : '' کیا انسانی زندگی خود سے بلند کسی درجے میں اپنی کوئی معنویت رکھتی ہے ؟ اگر رکھتی ہے تو ابتداء سے لیکر آج تک اس معنویت کی نوعیت کیا ہے، اور وہ کس طرح خود کو انسانی زندگی کی اوضاع میں ظاہر کرتی ہے؟''(سراج منیر، ملت اسلامیہ ،ص ١١٧) جدید مغربی فکر میں اس کے جو بھی جواب ہوں ، ان کا منبع مادے کے ارتقا سے اورمیدان عمل، انسانی دائرہئ وجود سے باہر نہیں ہوتا۔ اس سے انسانی زندگی میں تمام تر مادی و جسمانی آسائشوں کے باوجود بے معنویت کا جو احساس پیدا ہوتا ہے ا س کی گواہی وجودیت اور لایعنیت کے ادب سے زیادہ کس کے پاس ہو گی؟ سراج منیر لکھتے ہیں '' یہاں انسانی زندگی کی معنویت کی بنیاد چونکہ تاریخی عمل، انفرادیت پرستی اور جذباتیت پر رکھی جاتی ہے اس لئے بنیادی طور پر اس نقطہ نظر نے خود کو ایک طویل اور مسلسل تربیت کے ذریعے اس قابل بنا لیا ہے کہ وہ بنیادی انسانی حقیقتوں کے بارے میں سوالات کو فراموش کر سکے ۔اس نقطہ نظر سے جنم لینے والا ادب اس کے جہنمی نتائج کا بار بار ذکر کرتا ہے، لیکن اس سے وابستہ علوم ارتقائے انسانی کے خواب کو طویل سے طویل تر کرنے میں مصروف ہیں ''۔(ایضاً ،ص ١١٩)

جب تک انسانی معنویت کے مبدا اور معاد کا سوال سامنے نہیں رکھا جائیگا بے سمت حرکت کی بے مہار دوڑ تو ہوتی رہے گی، مگر منزل کے تعین کے بغیر ترقی اور تنزل کا فیصلہ اُسی طرح بے معیار رہے گا جس طرح صفر سے نسبتی قدر کا تعین کئے بغیر عدد کی قیمت بے حساب رہتی ہے۔عدد و پیمائش کی دنیا میں یہ معیار صفر فراہم کرتا ہے اور روایتی دنیا میں تصور حقیقت! عہد جدید نے جس طرح فیثا غورثی اعداد کی علامتی معنویت گم کر کے ان کی مقداری قیمت پر قناعت کررکھی ہے، اسی طرح حقیقت ِ عظمیٰ کے بجائے اس کا انحصار، کانٹ کے الفاظ میں''ا پنی عقل کو استعمال کرنے کی جرأت پیدا کر '' کے ماٹو پر ہے۔ اور کسی طرح حقیقت ِ عظمیٰ کی طرف رخ کرنے کو تیار ہی نہیں: ''عہد جدید کا شعور کائنات کی روحانی تعبیر سے بچنے کے لئے کوئی قیمت دینے پر تیار ہے، خواہ یہ قیمت اس شعور کا داخلی منطقی ربط ہی کیوں نہ ہو ''۔ (ایضاً ،ص ١٩) اس کی سب سے بڑی مثال نظریہ ارتقاء کی'' سائنسی معروضیت'' میں دیکھی جا سکتی ہے ، جو جدیدیت کے چند بڑے ستونوں میں سے ہے ۔جسے بہت بڑے سائنسی خلاء کے باوجود اس لئے مانا جاتا ہے کہ اس کے بغیر ایک صاحب شعورہستی کا وجود ماننا لازم آتا ہے، جو حقیقت الحقائق ہے اور جس تک رسائی کا نام روایت ہے ۔ سراج منیر لکھتے ہیں کہ روایت کیا ہے؟ اور انسانی زندگی کی معنویت کو برقرار رکھنے کے سلسلے میں اس کی کیا اہمیت بنتی ہے ... اس سوال سے رو گردانی کرنا ہلاکت خیز سمندر میں ساحل سے پھینکی جانے والی رسی کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے''۔(ایضاً،ص ١١٧ )

انسانی معنویت کے مبدا کی رسی، یعنی روایت کو نظر انداز کر کے مغرب اسی ہلاکت خیزی میں پڑا ہوا ہے جو محض روحانی تباہی ہی نہیں اس کی جسمانی خرابی بھی ہے۔ٍ     ان باتوں کی خبر دینے والا رینے گینوں پہلا آدمی نہیں ہے، خود ہمارے ہاں ایسے علما کی کمی نہیں رہی جو جدید تہذیب کو'' دجالی فتنے'' سے تعبیر کرتے آئے ہیں ۔مولانا مناظر احسن گیلانی نے تو اُن احادیث کی روشنی سے اشارہ لیکر، جن میں سورہ کہف کو دورآخر کے دجالی فتنوں سے حفاظت کا سبب کہا گیاہے، اپنی کتاب تذکیر بسورۃ الکہف میں جدید تہذیب کا اچھا خاصہ مطالعہ کر ڈالا ہے۔ انہی کے تتبع میں مولانا سید ابو الحسن علی ندوی نے بھی معرکہ ایمان ومادیت کے عنوان سے اسی مادیت کے خدوخال دکھائے ہیں۔ علاوہ ازیں مولانا عبدالماجد دریا بادی نے تو مغربی تہذیب کا نام ہی'' یا جوجی تمدن'' رکھ چھوڑا تھا۔ ڈاکٹر تحسین فراقی نے مغربی تہذیب پر اکبر الہ آباد ی اور عبدالماجد دریا بادی وغیرہ کی تنقید کا رینے گینوں کے افکار سے موازنہ بھی کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سیکولر طبقے کے پاس دلائل کا خاتمہ - عاطف الیاس

جدید تہذیب کے بیان میں منبر و محراب کا سا رنگ آنے پر معذرت کئے بغیر کہ علامات قیامت اور نزول مسیح کے دینی احوال میں دور آخر کے بار ے میں بہت کچھ ایسا ہی موجود ہے ،ہم رینے گینوں کے ماخذ سے جدید مغربی تہذیب کے سب سے مہتم بالشان کارنامے یعنی سائنس کی طرف اشارہ کر کے یہ بحث ختم کرتے ہیں ۔ کیونکہ ایک خاص انداز کی مادیت پرستی کو فروغ سب سے زیادہ موجودہ سائنس ہی سے ملا ہے۔ اور نہ صرف مغرب میں رہنے کی وجہ سے بلکہ اپنے سائنسی تعلیمی پس منظر--یونیورسٹی میں اس کے تھیسس کاعنوان 'Leibniz and Infinitesimal Calculus' تھا -- کی وجہ سے گینوں ان چیزوں سے ہمارے علماء کی نسبت زیادہ واقف ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ مادیت سے مراد یہ نہیں کہ دنیا میں مادے کا قرار واقعی وجود ہے ،بلکہ اس سے وہ ذہنی رویہ مراد ہے جو مادے اور اس سے مستخرج موجودات کے سوا کسی دوسرے درجہئ وجود کے امکان کو تسلیم ہی نہیں کرتا ۔ اس ذہنی رویے کا بہت گہرا تعلق موجودہ سائنس سے ہے ۔گزشتہ چند صدیوں سے مغرب میں جس سائنس کا فروغ ہوا ہے اس کا تعلق صرف عالم ِحسی سے ہے اور اس سائنسی طریقہ کار نے صرف عالم مادی کا ناپ تول اور پیمائش کر سکنے والے علوم ہی کو ''سائنٹفک'' علوم قرار دیکر دوسرے تمام شعبوںکو علم کی حدود سے خارج کر دیا ہے۔ اس واحد سائنسی شعبے سے تعلق رکھنے والے تمام سائنسدان اگراصطلاحی معنوں میں مادیت پرست نہیں بھی ہوتے تب بھی ان کا ذہنی رویہ انہی سائنسدانوں کی طرح کا ہوتا ہے جن کے نزدیک علم صرف مادی دنیا کا پابند ہے ۔ گینوں کا کہنا ہے کہ مذہبی نقطہ نظر سے سائنس کے بارے میں یہ سوال کہ یہ کافر ہے یا مادیت پرست، بنیادی طور پر غلط ہے۔ کیونکہ یہ سائنس نہ تو کفر کا اعتراف کرتی ہے اور نہ مادیت پرستی کا۔ بلکہ یہ اپنی منہاجی مجبوری کی بنا پر ماورائے طبعی چیزوں کا انکارکئے بغیر انہیں نظر انداز کئے رکھتی ہے۔ چونکہ یہ صرف عالم مادی ہی کو قابل توجہ سمجھتی ہے اس لئے یہ عملاََ مادیت پرست (Defecto Materialist) ہے ۔یہ جس شے کو نامعلوم سمجھتی ہے اسے ناقابلِ معلوم قرار دینے کی بھی جلدی میں رہتی ہے۔

یہ تو ہوا اس سائنس کا نظری پہلو، جو نہایت خاموشی سے مادیت پرستی کو فروغ دینے کا باعث بنتا ہے ۔ عام لوگوں کے لئے یہ سائنس اپنے عملی پہلو کے اعتبارسے زیادہ اہم ہے کیونکہ اس کے نتائج و حاصلات ٹیکنالوجی کی صورت میں ہماری محسوسات کو متاثر کرتے ہیں۔ اس سے پیدا ہونے والی نتائجیت اور افادیت پرستی نے سچی روحانیت اور خدا پرستی کے لئے کوئی جگہ نہیں چھوڑی۔ آج اگر کچھ لوگ اصولی سطح پر کسی برتر روحانی وجود کا انکار نہ بھی کریں تب بھی کم از کم تمام عملی معاملات میں اُسے الگ ہی رکھتے ہیں۔ جہاں تک سائنس کے فوائد کا تعلق ہے گینوں کا کہنا ہے کہ اگر اس کے تمام فوائد کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کے نقصانات بڑھتے نہیں جا رہے ؟

 یہاں اس عظیم نقصان کا ذکر نہیں جو اعلیٰ علوم کے زوال، حکمت و دانش کی تباہی اور روحانیت سے محرومی کی صورت میں انسان کو دیکھنا پڑ رہا ہے بلکہ موجودہ تمدن کے مادی نقصانات ہی کی بات ہے۔ آج نئی نئی ایجادات کی صورت میں ایسی قوتوں سے کھیلا جا رہا ہے جن کی حقیقی تباہی کا خود سائنسدانوں کو بھی اندازہ نہیں۔ اس میں صرف وہی ایجادات نہیں جن کا مقصد ہی تباہی لانا ہے بلکہ وہ بھی ہیں جن کا کوئی تعلق بظاہر ہلاکت خیز ی سے نہیں ۔ ان سے ارضی ماحول میں آنے والی تباہی کا اندازہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔

ان ممکنہ تباہ کاریوں کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ سائنس اپنے تمام فوائد کو بالآخر اپنے نقصانات سے برابر کر دے گی اور پھر پلڑا دوسری طرف جھکنا شروع ہو جائیگا۔ دائرہ ظہور کے آخری دور''کلجگ'' کی اس تہذیب کے بارے میں گینوں کا کہنا ہے کہ مغرب کی یہ مادی تہذیب تاریخ کا ایک لازمی حصہ ہے اور اس سے لڑنے کے کوئی معنی نہیں۔ اس پر یہ تنقیدی نظر اسے سمجھنے کی ایک کوشش ہے ۔ جیسا کہ عسکری نے کسی اور تناظر میں کہا تھا کہ ولیم فاکنر کے خیال کے مطابق ایٹم بم نے اگر تمام روحانی مسائل ختم کر دئے ہیں ( بلکہ وہ تو کہتے تھے کہ اس نے روحانی مسائل کو پہاڑ بنا دیا ہے ) مگریہ تو سمجھنا چاہیے کہ ایٹم بم آخر ہمارے سروں پر کیوں گریں گے ؟ ( ستارہ یا بادبان،ص ٢٩٢) اسی طرح یہ مادی تہذیب اگر تباہی کی طرف جار ہی ہے تو ہمیں اس کے اسباب کو جاننا چاہیے۔ مادیت کے اس اتھاہ سمندر میں ''روایت'' کا سوال اٹھانا اس غیر روایتی تہذیب کی شناخت متعین کرنے کا ہی ایک طریقہ ہے ،بلکہ اس نے اپنے اندر روایت کے جو جھوٹے سچے عناصر چھپار رکھے ہیں انہیں جدا کرنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ اپنی تمام تر مادیت کے باوجود جدید تہذیب بعض اوقات اچھے خاصے دین داروں کو بھی اپنے جال میں لپیٹ لیتی ہے ۔ مذہبی اصطلاح میں کہا جائے تو وہ ہے اس کی دجل و التباس کی قوت ۔ دجال اور ابلیس کے خصائص میں سے یہ بھی ہے کہ وہ اچھی شے کو برا اور بری کو اچھا بنا کر پیش کرنے کا فن جانتے ہیں۔ یہی تلبیسِ ابلیس ہے اور یہی دجال کا دجل! چیزوں پر ملمع چڑھا کر کھرے کو کھوٹے میں اس طرح ملا دینا کہ فیصلہ کرنے میں مشکل ہو جائے۔ گینوں کا کہنا ہے کہ پرانی مادیت مذہب کے انکار پر قائم تھی مگر اب اس نے مذہب اور روحانیت کو تباہ کرنے کی نئی صورت نکالی ہے: اب جھوٹے دین ،جھوٹی روایتیں اور جعلی روحانیت ایجاد ہو رہی ہے اور خلاف ِمذہب ہونے کا تأثر ختم کیا جا رہا ہے۔ روحوں سے ملاقاتیں، مستقبل بینی، غائب دانی، جذباتی تلاطم، مکاشفات، ماورائے حسی اداراک کو مذہبی تجربے کا متبادل بنانا، خدا اور وحی کو منہا کر کے نئے مذہب ایجاد کرنا، بلامذہب اخلاقیات پر زور دینا، اور اخلاقیا ت کے پیچھے کار فرما اعتقادات کو غیر اہم سمجھنا وغیرہ وغیرہ۔(جدیدیت ،ص ٨٧،٧٠،٦٨،٦٣) یہ سب مادیت ہی کی نئی صورتیں ہیں۔ یہ تمام وہ امور ہیں جو مادیت کے اندر روحانیت کے رنگ پید اکئے رکھتے ہیں۔ گویا'' غیر روایت'' میں ''روایت'' اور باطل میں حق کی آمیزش کے یہ وہ بہروپ ہیں جنہیں گینوں Anti Tradation اور Counter Tradationکہتا ہے اور جہاں وہ روایت کا شعور پیدا کرنے پر زور دیتا ہے وہاں جعلی اور جھوٹی روایت سے بچنے کی تلقین بھی کرتا ہے کیونکہ یہی جدیدیت ہے۔ جو حسین نصر کے بقول مذہبی اور ما بعد الطبیعاتی اقلیم میں ایسا دھندلکا پیدا کرتی ہے جس میں آدھا سچ پورے سچ کی جگہ لے لیتا ہے۔( Traditional Islam in the Modern World, p. 14)

اس طرح جدیدیت اور روایت کو الگ الگ مشخص کرنا گویا حق اور باطل کے التباس کو ختم کرنا ہے تاکہ باطل تنہا ہو جائے کہ اسی میں اس کی تباہی ہے ۔ وہ سوال جو عسکری نے اردو ادب میں مشرق و مغرب کی آویزش کے مسئلے سے شروع کیا تھا یوں پوری زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اس پوری بحث کو سمیٹتے ہوے سلیم احمد لکھتے ہیں :''اب ہمارے تینوں سوالوں کا جواب ایک ہے۔ مغرب کو اختیار کرنا باطل کو اختیار کرنا ہے۔ دونوں کی آمیزش کے معنی حق اور باطل کو ملانا ہے، جو باطل کا کام ہے۔ مشرق کو قائم رکھنے کے معنی حق کو حق سمجھنا ،اور باطل کو باطل سمجھنا ،اور دونوں کے التباس کو دور کرنا ہے ... اس لئے عسکری صاحب کے اس دور کا مقدمہ صرف اتنا ہے حق اور باطل کے امتزاج کی ہر شکل کو ردکرنا۔عسکری صاحب کے آخری دور کے تمام مضامین کو اسی روشنی میں دیکھنا چاہیے ''۔( سلیم احمد، عسکری انسان یا آدمی،ص ٨٦)اس پس منظر میں اب یہ سمجھنا مشکل نہیں رہا ہو گا کہ قرون وسطی کے بعد مغرب کی پوری فکر نے جو رخ اختیار کیا اور جسے ہم نے شروع میں روشن خیالی اور جدیدیت کہا تھا ،عسکری اسے کیوں شدت سے رد کرنے لگے تھے ۔ اس میں انہوں نے ادبی اور غیر ادبی جدیدیت کا امتیاز اس لئے نہیں کیا تھا کہ جس وسیع تر پس منظر میں وہ یہ بات کر رہے تھے اس میں اس کی گنجائش ہی نہ تھی اور پھر یہ بھی کہ اس سطح پر ٹی ایس ایلیٹ اور رایزا پاؤنڈ جیسے لوگ بھی جن کی ادبی مہمات کے وہ آخر دور تک قائل رہے تھے، اپنی تمام تر اخلاق پرستی اور کنفیوشسزم کے باوجود روایت کے اس مفہوم سے نا آشنا نکلے تھے۔( وقت کی راگنی ،ص١٠٨، ١٠٦، ٥٤) اس لئے یہاں ادبی اور غیر ادبی جدیدیت سب ایک تھیں۔ اس تناظر میں یہ محض ادبی معاملات نہ تھے بلکہ حیات و موت کے مسائل تھے، جن کا چہرہ عسکری نے ادب کے آئینے میں دیکھا تھا.