صبر - نزہت وسیم

غریب کی بیٹی غریب سے ہی بیاہی جاتی ہے۔ سو وہ بھی باپ کے گھر کی عسرت سے نکل کر شوہر کے گھر کی غربت میں گھل مل گئی۔ باپ دیہاڑی دار مزدور تھا شوہر بھی ہر روز کی مشقت سے چار پیسے کما لاتا جس سے زندگی کی گاڑی اپنی رفتار سے چلتی رہتی۔ قناعت تو گھٹی میں پڑی تھی۔ تھوڑا کھا کر معمولی پہن کر رب کا شکر کرنے کے ساتھ ساتھ مجازی خدا کی بھی مشکور رہتی۔ شوہر کی محبت بھری نگاہ اس کو ہر خواہش سے بے نیاز کردیتی۔ الله نے پے درپہ تین بیٹیاں دیں۔ لیکن اس کی ممتا ایک بیٹے کی سوالی بنی الله کے حضور کھڑی رہتی۔ ہر بار بیٹے کی منہ زور خواہش اس کے دل میں ایسی مچلتی کہ وہ الله کے سامنے رو رو کر دامن پھیلا دیتی۔

آخر الله نے اس کی سن لی اور ایک پیارا سا بیٹا عطا کر دیا۔ الله کی اس عطا پر وہ حیران رہ گئی۔ خوشی تھی کہ اس کے انگ انگ سے چھلکی پڑتی تھی۔ بیٹے کا وجود دنیا کی ہر نعمت سے بڑھ کر تھا۔ زندگی حسین و رنگین ہوگئی۔ سکون و اطمینان نے اس کے دل میں ڈیرے ڈال لیے۔ ابھی الله کے اس احسان کا جی بھر کے شکر ادا کر نہ پائی تھی کہ شوہر کو جان لیوا بیماری لگ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے دنوں میں وہ دنیا اور اس کی مشقتوں سے دامن چھڑا کر منوں مٹی تلے جا سویا۔ زندگی نے خوشی و اطمینان کا چولا اتار پھینکا اور اپنی سیاہ ڈراؤنی صورت دکھانے لگی۔

سسرال میں کوئی نہ تھا جو اس کی اور چار ننھی منی جانوں کی فکر کرتا۔ باپ پہلے ہی دنیا سے کنارہ کرچکا تھا۔ ایک ماں کا آسرا تھا سو بچوں کو نانی کے پاس چھوڑ کر لوگوں کے گھروں میں کام کرنے نکل پڑی کہ پیٹ کھانا مانگتا ہے اورتن موسم کی مشقت سہہ نہیں پاتا۔ الله کی مدد شامل حال رہی اور کچھ اچھے لوگوں تک رسائی ہوگئی۔ کام کے بدلے زندگی کی گاڑی کو رواں دواں رکھنے میں وہ لوگ مددگار رہے لیکن ابھی زندگی کے امتحان باقی تھے۔ ایک دن نانی اور نواسہ کسی کام سے گھر سے باہر نکلے۔ سڑک پار کرتے ہوئے تیز رفتار گاڑی کی زد میں آکر اس کا ننھا سا پھول مسلا گیا۔

آہ! میری زندگی کا آسرا، میرے دل کا پھول، میرے جینے کا سبب۔ یہی تو ایک امید تھی میرے جینے کی۔ اب میں کس طرح زندہ رہوں گی؟ اس کا دل پھٹ رہا تھا۔ درد رگوں میں لہو بن کر دوڑ رہاتھا۔ زندگی کی ڈور ہاتھ سے چھوٹ رہی تھی۔ مایوسی کے اندھیرے نگلنے کوتھے کہ اچانک اس کی نگاہ اپنی بیٹیوں پر پڑی۔ جن کے چہرے بے چارگی کی علامت اورآنکھیں سوال بن کر اسے تک رہی تھیں کہ ماں تو بھی ساتھ چھوڑ جائے گی تو ہمارا کیا ہوگا؟ اس سوال نے اسے اندر تک جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ آنکھوں میں آنسو اور دل میں ویرانی لے کر اٹھی اوراپنے بے جان لاشے کوگھسیٹتی کام پر جانے کے لیے گھر سے نکل آئی۔

ٹیگز