نسیم حجازی: فنِ تحریر کا ایک جائزہ - راحیل قریشی

نسیم حجازی کے قلمی نام سے شریف حسین نے اُردو ناول میں نئی جہت کو متعارف کرایا۔نسیم حجازی (شریف حسین ) پنجاب کے ضلع گُرداسپور کی تحصیل دھاری وال کے گاؤں سُوجن پور میں ۱۹۱۴ ٔ میں پیدا ہوئے۔ جب کہ علم و ادب کا یہ سُورج ۲ مارچ ۱۹۹۶ ٔ کو راول پنڈی میں غروب ہوگیا۔ نسیم حجازی نے ۱۹۹۲ ٔ میں پرائڈ آف پرفارمنس کا ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ جب کہ حقیقت یہ ہے نسیم حجازی کو ناول نگاری کے فن میں جو مہارت حاصل تھی وہ کسی ایوارڈ کی محتاج نہیں تھی اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کسی بھی ایوارڈ کے حصول سے نسیم حجازی کے نہیں بلکہ اس ایوارڈ کی وقعت میں ہی اضافہ ہوا۔

نسیم حجازی ۱۹۴۰ ء تا ۱۹۹۱ ء اُردو ادب کو ناول نگاری کے ذریعے مُسلم تاریخ سے آگاہ کرتے رہے، اُن کی ناول نگاری کا موضوع اور مواد اسلامی تاریخ ہے۔ اُنہوں نے اول روز سے ایک معتبر مورخ کا کردار ادا کیا ہے۔ فن پر ان کو مکمل قدرت حاصل ہے اور وہ ناول کی تکنیک سے اچھی طرح واقف ہیں۔ نسیم حجازی پر اسلامی تاریخ کے حوالے سے پروپیگنڈے کا الزام عائد کیا جاتا ہے، بالکل یہی بات اعجاز رحمانی کی شاعری کے لیے بھی کہی جاتی ہے۔ ابن ِ انشاء نے بھی شجاعت اور بہادری کے حوالے سے نسیم حجازی پر طنزیہ تبصرے کیے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ کہ جو شان اقبال ؔ کی شاعری میں موجود ہے وہی نسیم حجازی کی نثر میں نظر آتی ہے۔ اقبال ؔ نے اپنی شاعری کے ذریعے جو فلسفہ برصغیر کے مسلم عوام کو پیش کیا، نسیم حجازی نے بعینیہ وہی فلسفہ اپنی نثر کے ذریعے پیش کیا۔

نسیم حجازی نے ۱۹۴۰ء میں ’’ انسان اور دیوتا ‘‘ کا پہلا حصہ مکمل کیا اور پھر ’’ داستان ِ مجاہد ‘‘ تحریر کی۔ اس کے بعد ۱۹۴۷ء میں ’’ انسان اور دیوتا ‘‘ کی تکمیل ہوئی۔ نسیم حجازی کے فنی کما ل کا اندازہ لگانے کے لیے ان کے ناول ــ’’محمد بن قاسم ‘‘ کا مطالعہ کر کے دیکھا جاسکتا ہے کہ کس ہنر مندی اور چابک دستی سے انہوں نے صحیح تاریخ کی اصلیت برقرار رکھتے ہوئے ایک نہایت دلچسپ، خوب صور ت اور پُراثر داستان ترتیب دی ہے۔ جنگ کی حالت میں بھی انسانی رشتوں اور سرگرمیوں کی روداد نے ایک قابل ِ قبول ماحول پیدا کیا۔ چھوٹے بڑے ہر کردار نے اپنا مخصوص کردار بخوبی ادا کیا۔ یہاں تک کہ تما م فتوحات اور کمالات کے باوجود تاریخ ِ عالم کے اس عظیم ہیرو کا دردناک انجام بھی اس کی سیرت کے مطابق ہوا۔ وہ زندگی میں جتنا شاندار تھا اتنا ہی بلند موت کے وقت بھی نظر آیا۔ اس کی اخلاقی رفعت کے مقابلے میں سلیمان بن عبدالملک کی سلطنت بھی سرنگوں ہوگئی۔ اطاعت ِ امیر میں محمد بن قاسم کے ایثار و قربانی نے ان کی جنگی فتوحات کا اسلامی مقصد بالکل واضح کردیا۔

آخری چٹان میں عالم ِ اسلام کے خلاف منگولوں کی تباہ کن یلغار کا تنہا مقابلہ کرکے سلطان جلال الدین شاہ خوارزم نے بغداد کی خلافت ِ عباسیہ پر منڈلانے والے خطرات کو ایک مدت تک روکے رکھا۔ اس ناول میں وسط ایشیا کے جغرافیہ و تاریخ اور تہذیب و تمدن کی جھلکیاں بھی دکھائی دیتی ہیں اور عہد ِ وسطیٰ کے ہندوستان میں ایک نئی مسلم سلطنت کے آغاز کا حال بھی معلوم ہوتا ہے۔ یہ ناول منگولوں کے سیلاب اور وقت کے طوفانوں اور فتنوں کے مقابلے میں مسلمانوں کی آخری اجتماعی عالمی مزاحمت واضح کرتا ہے۔

قیصر و کسریٰ اور قافلہ ٔ حجاز کے عنوانات سے دو ناولوں میں نسیم حجازی نے اسلام کے دور ِ زرّیں کو اپنی ناول نگاری کا موضوع بنایا ہے۔ وہ سچے واقعات کو افسانوی قالب میں ڈھال کر ماجرا سازی اور کردار نگاری کا جادو جگا تے ہیں۔

مسلم اسپین (ہسپانیہ، قرطبہ اور غرناطہ) کا نوحہ پڑھنے کے لیے نسیم حجازی کے قلم نے چار ناول تحریر کیے ہیں جن کو بالترتیب پڑھنا بہتر رہے گا: یوسف بن تاشفین، شاہین، اندھیری رات کے مسافر، کلیسا اور آگ۔

اندلس، غرناطہ، قرطبہ اور الحمرا کی داستان آپ کو ماضی میں لے جائے گی، خاص طور پر ’’کلیسا اور آگ ‘‘ کا مطالعہ کرتے ہوئے آپ کو اس بات کی سچائی کا علم ہوجائے گا کہ ’’ کیا مغرب کبھی مہذب رہا ہے؟ ‘‘

حجازی کا مطالعہ وسیع اور مشاہد ہ گہرا ہے، وہ جس ماحول کو پیش کرنا چاہتے ہیں اس کی تفصیلات سے واقف ہیں اور حالات کے تجزیئے میں انہیں ید ِ طولیٰ حاصل ہے، ان کی سیاسی بصیرت تاریخی واقعات کے تمام مضمرات کھول کر سامنے رکھ دیتی ہے۔

نسیم حجازی یقیناً ایک مبلغ ہیں، لیکن ان کا جذبۂ تبلیغ ہی انہیں بلاغت ِ فن کی طرف متوجہ کر تا ہے اور وہ اپنے پیغام کا زیادہ سے زیادہ دل آویز بنانے کے لیے حُسن ِ اظہار کی آخری حدوں تک جاتے ہیں۔ نتیجتاً ان کا اُسلوب ِ نگارش سحر آفریں بن جاتا ہے۔ کم نظر ناقدین اسے پروپیگینڈہ کہہ کر نظر انداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ درحقیقت ادب کے اسرا ر و رموز سے واقف نہیں اور محض اپنے تعصبات و جذبات کو اصول و معیار سمجھتے ہیں۔ جب کہ نسیم حجازی کے ناولوں کے ساتھ ان کے قارئین کی ذہنی وابستگی درحقیقت ناول نگار کی مہارتِ فن کا ثبوت ہے۔

بعض مواقع پر جمالیاتی ذوق کی تصویر کشی سے نسیم حجازی کا مقصد رومان انگیزی نہیں، نہ آثار ِ قدیمہ کی پرستش ہے۔ بلکہ وہ عصر ِ حاضر کے جہادِ زندگانی میں اسلامی تاریخ کے ہیروز کی شجاعت کا نمونہ پیش کرکے آج کے نوجوانوں میں سعی و عمل کی شمشیریں دینا چاہتے ہیں اور انہیں ماضی کے خوابوں میں گم ہوجانے کے بجائے زمانہ ٔ حال کے معرکوں میں پنجہ ٔ فگن ہونے کی تلقین کرتے ہیں۔ نسیم حجازی تاریخی ناول نگا ر ہیں جن کے محرکا ت و مقاصد دینی و اخلاقی ہیں اور اسلام کے آفاقی نصب العین کے علم بر دار ہیں اور اس کی روشنی میں ایک انقلاب کے نقیب۔ اُن کے فن کا کارنامہ اردو ادب میں وہی ہے جو اقبال ؔ کی شاعری کا ہے۔ دوسری طرف نسیم حجازی کے ناول عبرت و بصیر ت کے مرقعے بھی ہیں۔ خیالات میں لطافت و جمالیات شاعری سے مخصوص سمجھی جاتی ہے لیکن نسیم حجازی کی نثر میں یہ خوبیاں موجود ہیں۔ عراق، قرطبہ، غرناطہ، ہسپانیہ اور ہندوستان میں جو کچھ مسلمانوں پر بیتی اس کا نوحہ نسیم حجازی کے اسلوب میں موجود ہے۔

نسیم حجازی کے بعض کردار جذباتی مکالمے پیش کرتے ہیں اور طویل مکالموں سے قاری کو ہرگز بوریت کا احساس نہیں ہوتا کیونکہ وہ حقیقت سے بالکل دُور نہیں ہوتے۔ اُن کی ہر کتاب کے شروع ہوتے ہی حکمت و دانش کے موتی بھی ہر صفحے پر چمکتے مل جاتے ہیں۔

نسیم حجازی کی تصانیف

تاریخی ناول: قیصر و کسریٰ، قافلہ حجاز، داستان ِ مجاہد، محمد بن قاسم، آخری چٹان ، یوسف بن تاشفین، شاہین، اندھیری رات کے مسافر، کلیسا اور آگ، پردیسی درخت، گمشدہ قافلے، آخری معرکہ، معظم علی ، اور تلوار ٹوٹ گئی، خاک اور خون، انسان اور دیوتا

طنز و مزاح: ثقافت کی تلاش، سو سال بعد، سفید جزیرہ، پورس کے ہاتھی

سفرنامہ ٔ حج: پاکستان سے دیار ِ حرم تک