گل لالہ - فاطمہ طاہر

وہ اپنی خالہ زاد بہنوں اوربھائی کے ساتھ ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھی کھانا کھا رہی تھی۔ دسمبر کی اس خنک رات میں شدت سے جی چاہا کہ آئس کریم کھائی جائے۔ ذرا سی دیر میں آئس کریم ہاتھ میں تھی۔ آئسکریم کھاتے سب خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ اس کے موبائل کی آواز آئی۔ اٹھا کردیکھا تو سکرین پرایک پیغام جگمگا رہا تھا۔ کھولاتو لکھا تھاــ’’آپ زندہ ہیں؟‘‘۔ بھیجنے والے کا نام ’’احتشام‘‘ لکھا آرہا تھا۔ ارے! یہ تو یونیورسٹی والا احتشام ہے۔ جواب میں مصروفیت بتائی تو ہنستا مسکراتا سا جواب آیا۔ ’’یعنی کہ آپ خوش ہیں آج۔ مسکراہٹیں بھی معمول سے زیادہ محسوس ہو رہی ہیں۔ ‘‘ پیغام پڑھ کر اس کے لبوں پر پھر سے ہنسی کی ایک لہر دوڑ گئی تھی۔

رات کا دوسرا پہر تھا۔ سردی میں چھت پر آگ جلا کر موسم کا مزہ لیا جا رہاتھا۔ اس کا دھیان آگ کی طرف چلا گیا۔ لکڑیاں جل رہی تھیں اور ان کے جلنے سے ایک بے حد خوبصورت رنگ پیدا ہو رہا تھا، سونے جیسا سنہری رنگ۔ جلتی ہوئی لکڑی روشنی بکھیر رہی تھی، حدت دے رہی تھی، ہلکا ہلکا دھواں فضا میں اٹھ رہا تھا۔ آگ کے شعلے میں رنگوں کے حسین امتزاج نے اس کی توجہ مکمل طور پر اپنی جانب مبذول کر لی تھی۔ سوچوں کے یہ ارتکاز موبائل کی گھنٹی نے توڑ دیا۔ پھر سے احتشام کا میسج تھا۔ اس نے تو کبھی کبھی سٹیٹس پر تبصرے کے علاوہ کوئی بات نہیں کی تھی خصوصی طور پر اور پھر خلاف معمول تواتر سے اس کے پیغامات آنے لگے۔ وہ بس پڑھتی جارہی تھی اور حیران ہوتی جارہی تھی۔ بات کا آغاز سوال سے ہواتھا۔ ’’آپ نے مجھے واٹس ایپ پر بلاک کیوں کردیاتھا؟‘‘ جواب لکھا’’ایسے ہی مجھے غصہ آگیا تھا، مجھے لگا آپ نے میرا مذاق اڑایا تھا‘‘۔ دو دن پہلے کی بات دہرائی جارہی تھی جب اسے ایک چھوٹی سی بات پر غصہ آگیا کیونکہ اس کی عزتِ نفس مجروح ہوئی تھی۔ احتشام کا جواب حیران کن تھا۔ ایک بار پڑھا، دوبارہ پڑھا اور پھر سہہ بارہ پڑھا۔ واقعی؟

’’میں کبھی آپ کا مذاق اڑا سکتا ہوں؟دوبارہ کبھی ایسا سوچیے گا بھی مت۔ آپ میرے لیے قابلِ احترام ہیں۔ مجھے آپ سے محبت ہے۔ قدرت کے قانون نے ہاتھ باندھ رکھے ہیں ورنہ ہماری تو یہ خواہش ہے کہآپ کو کانٹا بھی نہ چبھے۔ مگر آپ غمزدہ سٹیٹس لگا کر ہمیں پریشان کر دیتی ہیں۔ ‘‘حیرت سے اس کا منہ ہی کھل گیا تھا۔ کہیں کچھ غلط ہو رہا ہے۔ چھٹی حس اس کو خبردار کر رہی تھی۔ مگر کیا؟؟ پوچھا۔ ’’کیا ہوا ہے احتشام؟‘‘ مگر احتشام سن نہیں رہا تھا۔ وہ تو اپنی سنا رہا تھا۔ ’’سنو! مجھ پر ایک کہانی لکھنا۔ میری محبت کی کہانی۔ وہ محبت جوادھوری رہ گئی ہے۔ وہ جو بند مٹھی میں سے ریت کی طرح پھسل گئی۔ ان لوگوں کی کہانی جن کا ساتھ رہنا ناممکن تھا اور وہ الگ ہو گئے۔ ریت آخر پھسل ہی جاتی ہے ہاتھ سے۔ ‘‘

وہ الفاظ نہیں تھے، سحر تھا جو اس کے اردگرد پھونکاجا رہا تھا۔ اسے لگاوہ سنہری روشنی کے ایک ہالے میں ہے۔ وہ غور سے اس کے پیغامات پڑھ رہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ کس کی بات کر رہا ہے احتشام؟ ’’کم ہی چیزوں کو کھونے کا دکھ ہوتا ہے مجھے۔ بہت سخت دل ہوں میں۔ مگر ایک لڑکی کو کھو دینا بہت بڑا جھٹکا تھا۔ نئے راستوں کا پہلا اور شاید آخری امتحان تھا۔ اس کے بعد مجھے اور کسی چیز کے کھونے کا دکھ نہیں ہوا۔ وہ کٹھن راستے پر پہلا شدید جھٹکا تھا۔ اس کے بعد میں قدم جما کر کھڑا ہونا سیکھ گیا۔ ‘‘

سوال دماغ میں کلبلا رہا تھا۔ ـ’’اگر وہ سیکھ گیا ہے تنہا کھڑا ہونا تو وہ آج یہ سب مجھے کیوں بتا رہا ہے؟‘‘سنہری رنگ اس کے پورے وجود کواپنے اندر سمو رہا تھا۔ آنکھیں چندھیا دینے والی روشنی تھی۔ سکرین پھر روشن ہوئی تھی۔ ’’آپ لکھنا، کہانی شروع ہوئی تھی یونیورسٹی کے گیٹ نمبر ۱۵ سے جہاں میں نے ایک لڑکی کو دیکھا تھا۔ ایک انجان مسافر جو کہیں دور سے آیا تھا ایک روز یونیورسٹی سے گزرتے ہوئے یکایک اس کی آنکھیں رک گئی تھیں۔ وہ کچھ لمحوں کے لیے سب بھول گیا تھا۔ وہ یہ بھی بھول چکا تھا کہ اس نے واپس جانا ہے۔ وہ ہر چیز بھلا کر رک گیا تھا۔ اور پھر… جاتے ہوئے وہ اپناجسم تو ساتھ لے گیا تھا مگر اپنی روح وہیں چھوڑ گیا تھا۔ لکھنے والااس کہانی کا حصہ ہے اس لیے وہ اس سے پہلے کی کہانی نہیں جانتا۔ وہ کہانی ازل سے ابد تک ادھوری ہی رہے گی۔ بالکل ویسے جیسے زعفران کے پھولوں کا رنگ سرخ کیوں ہے؟ والی کہانی ہمیشہ ادھوری رہتی ہے۔ ‘‘

اس نے کہا تھا۔ ’’میں تو اس کہانی کی محض ایک ملاقات سے واقف ہوں میں یہ کہانی کیسے لکھوں گی؟‘‘ احتشام نے اس کی سنی ہی نہیں تھی۔ کہا’’آخری موڑ کے بعد بھی ایک چیز عجیب رہی تھی۔ اس کہانی کی لڑکی آخری وقت تک خاموش رہی تھی۔ البتہ لڑکا اپنی محبت کے جذبات چھپا نہ سکا تھا۔ لڑکے کی بہت خواہش تھی کہ لڑکی کچھ کہے مگر وہ منتظر ہی رہا۔ کہانی ختم ہوگئی اور لڑکی خاموش ہی رہی۔ ‘‘

یہ بھی پڑھیں:   داستانِ نو - مُبشرہ ناز

دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ احتشام نے کبھی ایسے بات نہیں کی تھی۔ کیا وہ خود سے ہار گیا تھا؟۔ سکرین پر پھر پیغام نمودار ہوا تھا۔ ’’آج تو اپنی قسم توڑدو! میں صرف سننا چاہتا ہوں خاموش رہ کر آپ کو سننا چاہتا ہوں۔ ‘‘ اس نے مزاحمت کی کوشش کی تھی۔ اصرار بھرے ۲، ۳ اور پیغاما ت وصول ہوئے۔ سنہری روشنی اس قدر بڑھ گئی تھی کہ اسے لگا وہ اندھی ہو جائے گی، گویا وہ ہمیشہ کے لیے اپنی بینائی کھو بیٹھے گی۔ جیسے گل لالہ دنیا دیکھنے کے قابل نہیں رہے گی۔ وہ گل جو ایک سال سے ٹہنی پر سر اٹھائے کھڑا تھا، اس سحر کے زیرِ اثر پتی پتی ہو کر بکھر گیا۔ وہ جو خاموش رہتی تھی اس کے الفاظ لبوں کا بند توڑ کر بہہ نکلے تھے اور وہ سب کچھ کہتی گئی، وہ سب جو ہوا تھا اور وہ سب ہوتے ہوئے جو اس نے محسوس کیاتھا۔ سب بول دیا اس نے… احتشام سے اتفاقاً ہوئی پہلی ملاقات، اس کی خواہش پر اس کی بہن سے کی گئی ملاقات اور پھر گل کو پتہ چلا تھا کہ وہ اسے پسند کرتا ہے، اس سے شادی کرنا چاہتا ہے اس لیے اس نے گل کواپنی بہن سے ملوایا تھا۔ اس پر یقین نہ آتا مگر اس نے اپنی بہن سے ملوایا تھا جو بہت خلوص کے ساتھ ملی تھی۔ اس نے گل کو ڈھیروں باتیں بتائی تھیں احتشام کی۔ گل کوبہت شرمندگی ہوئی تھی، بہت زیادہ۔ اس نے احتشام کو اپنے نکاح کے بارے میں بتایا۔ کچھ وقت لگا اور پھر سب ٹھیک ہو گیا۔ احتشام سمجھ گیا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ احتشام سمجھدار ہے بہت مگر اس وقت یقین ہوگیا۔ بہت خاموشی سے راستے الگ ہوگئے تھے۔ اسے وہ آخری ملاقات بھی یاد تھی جو احتشام نے گھر جانے سے پہلے کی تھی۔ ۔ وہ شیک، وہ کینٹین سب یاد آرہا تھا اسے۔ وہ جسے بھولنے کی بیماری تھی ا س کی یادداشت کیسے کام کر رہی تھی، وہ خود بھی حیران تھی۔ جب وہ گیا تھا دل میں ایک ملال رہ گیا تھا۔ کیوں؟ یہ وہ کبھی نہ جان سکی تھی۔ انجانی سی تکلیف ہوئی تھی مگر اس نے اپنے لب سی رکھے تھے۔ اور آج… وہ سب بول، ایک ایک لفظ، ایک ایک احساس۔ احتشام نے خاموشی سے سنتے ہوئے محض اتنا کہا تھا۔ ’’آپ مجھے نہیں بھول سکتیں۔ ‘‘وہ جو بولا نہیں کرتی تھی، بولتے بولتے تھک گئی تھی۔ خاموش ہوگئی۔ پھر ایک پیغام وصول ہوا۔ کھولنے سے پہلے دل میں بہت سی باتیں تھیں۔ نجانے اس نے کیا سوچا ہوگا؟معلوم نہیں کیا لکھ بھیجا ہوگا؟ دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے پیغام کھولا تھا اور احتشام نے ایک بار پھر اسے حیران کیا تھا۔ ’’جھوٹ اس وقت تک جھوٹ ہوتاہے جب تک بتا نہ دیا جائے کہ یہ جھوٹ ہے۔ ‘‘یہ کیاتھا؟۔ ساتھ ہی ایک اور پیغام موصول ہوا۔ ’’میرا ایسا رویہ اس لیے تھاکیونکہ میں ایک تحقیق کر رہا ہوں۔ آپ بھی اسی تحقیق کا ایک حصہ تھیں۔ ‘‘

سنہری روشنی اب حدت دینے لگی تھی۔ ایک اور پیغام وصول ہوا۔ ’’میں نفسیات کا طالبعلم ہوں اور اپنے علم کی کچھ تکنیک میں نے آپ پر بھی استعمال کی ہیں۔ آج ۳کہانیاں مکمل ہوگئیں۔ اگر پہلے بتاتا تو آج سے یہ باتیں اگلوانا ناممکن تھا۔ آپ کی باتوں سے کسی کا بھلا ہوجائے گا۔ ‘‘ہاں ٹھیک تو کہہ رہا ہے، باتیں ہی تو تھیں۔ دل میں رہ کر تکلیف ہی دے رہی تھیں۔ بتانے سے کسی کے کام آگئیں۔ مگر… ان جذبات کا کیا؟وہ جذبات جنہوں نے اس کا بھرم قائم کر رکھا تھا۔ ــ’’تما م باتوں کے لیے پیشگی معذرت۔ میں نے صحیح بات بتا کر کچھ حد تک تو ازالہ کر ہی دیا ہے‘‘۔ ۔ ازالہ؟ دھواں اٹھ رہا تھا اب اس کے اردگرد…

لگاتار پیغامات مل رہے تھے’’آپ ابھی تک ٹین ایج میں ہیں؟تھوڑا سمجھدار بن جائیے۔ نہیں بھی ہوں گی تو اپنا ہی نقصان کریں گی۔ ‘‘ … وہ جل رہی تھیں۔ اس کے ہر احساس کی دھجیاں اڑ گئی تھیں۔

ہاں! وہ سمجھدار نہیں ہے۔ واقعی احتشام بہت سمجھدار ہے۔ اس نے جذباتی وار کیا تھا۔ اسے لگا احتشام خودسے ہار گیا ہے مگر ہاری تو وہ تھی۔ اپنا سب کچھ۔ اپنے انمول موتی۔ بے مول ہوگئی تھی وہ۔ گر گئی تھی اپنی نظروں میں وہ۔ اس کا جسم جل رہا تھا۔ کچھ دیر پہلے ہی تو اس نے وہ سنہری رنگ دیکھا تھا۔ وہ کیوں بھول گئی کہ وہ سنہری روشنی نہیں آگ کے شعلے تھے جو اس کے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے؟

یہ بھی پڑھیں:   آپ بیتی .... - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

بہت کمزور ثابت ہوئی تھی… ریت کی دیوار۔ ایک دھکا لگا اور وہ دھڑام سے زمین پر آگری تھی۔

موتیوں کی مالا ٹوٹ گئی تھی۔ آنسو اس کی آنکھوں سے لڑھک کر گالوں پر آرہے تھے۔ اس کے ضبط کی توہین ہو رہی تھی۔ اس کی جمع پونجی لٹ رہی تھی۔ نمکین پانی کیا گرا، شعلوں کی حدت میں گویا کمی آنے لگی۔ ارے!یہ آگ تو پانی سے ہی بجھا کرتی ہے۔ اس کو سمجھ آگیا تھا۔ آنسو صاف کر کے وہ غسل خانے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ وضو کر کے سکون آرہا تھا۔ جائے نماز بچھائی۔ تہجد کا وقت تھا۔ ۲ رکعت پڑھ کر ہی وہ سجدے میں گر گئی۔ آنسو پھر تواتر سے بہنے لگے تھے۔ زندگی کا ایک ایک لمحہ اس کی آنکھوں کے سامنے پھر رہا تھا۔ حسین بچپن، ماں باپ کاپیار، بھائی کی شرارتیں، دوست، اپنا نکاح، شوہر کی مہربانیں اور عنایتیں اور پھر دھیرے دھیرے اس سب کا ختم ہوجانا۔ اس کا ٹھکرایا جانا اور پھر سے وہی لمحے اس کی آنکھوں میں آ ٹھہرے تھے جن سے وہ بھاگ رہی تھی۔ کچھ وقت پہلے کے لمحات… سجدے میں گرے اس کی ہچکی بندھ گئی تھی۔ احتشام نے صحیح کہا تھا گل اسے کبھی نہیں بھلا سکے گی مگر احتشام کو کس نے یہ حق دیا تھا کہ وہ اس کے جذبات سے کھیل جائے؟ ان کا مذاق اڑائے؟مگر موقع بھی تو گل نے خود دیا تھا نا؟ غلطی تو گل ہی کی تھی۔

اس کی زبان سے صرف استغفار کے الفاظ ادا ہو رہے تھے۔ وہ احساس کی تمام شدتوں سے رب سے معافی کی طلبگار تھی۔ اس کا روم روم سجدہ کر رہا تھا۔ دل اللہ کی کبریائی بیان کر رہا تھا۔ اس کا جسم لرز رہا تھا۔ ایسے ہی وہ جائے نماز پر ہی لیٹ گئی۔ اسے پھر سے روشنی نظر آئی تھی۔ وہ گھبرا گئی تھی، خوفزدہ ہوگئی تھی۔ مگر وہ سنہری روشنی نہیں تھی، اس میں حدت نہیں تھی، دھواں نہیں اٹھ رہا تھا، اس کا دم نہیں گھٹ رہا تھا۔ وہ تو سفید روشنی تھی، ٹھنڈک والی، آنکھوں کو چندھیا نہیں رہی تھی بلکہ ٹھنڈک بخش رہی تھی۔ دل میں سکون اتر رہا تھا۔ کچھ دیر پہلے والی تپش کا نام و نشان بھی نہ رہا تھا۔ اس کا جسم آہستہ آہستہ سکون میں آیا۔ لب ہلے، زباں پر کلمے کے الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر آرہے تھے اور پھر اس کے لب ساکت ہوگئے۔ اس کی روح مٹی کے قید خانے سے نکل کر ہوا کے دوش پر اپنے حقیقی محبوب کی جانب پروازکر چکی تھی۔ کتنا سکون کا اس کے چہرے پر۔ فتح کی چمک، وصال کی راحت

گھڑا ٹوٹا تو یہ آواز آئی

نہیں دونوں میں اب کوئی جدائی


پہاڑوں کے درمیان ایک خوبصورت سی وادی تھی۔ جس سے راستوں پر درخت سایہ کیے رکھتے تھے۔ وہ علاقہ جنت نظیر تھا۔ صبح صادق کا وقت تھا، دریا شور مچاتا ہوا بہہ رہاتھا، پرندے گیت گا رہے تھے۔ سرسبزپگڈنڈی پر ایک شخص دیوانہ وار بھاگ رہا تھا۔ اسے اپنے پیچھے سنہری روشنی کا ایک گولہ نظر آتا تھا جو اس کا پیچھا کرتا تھا۔ وہ اسے کچھ وقت کے لیے چھوڑ دیتا تھا اور یکایک نمودار ہو کر اس کا پیچھا کرتا تھا۔ جب وہ روشنی نظر آتی تھی، وہ جھلسا دینے والی گرم ہواؤں کی زد میں آجا تھا تھا۔ بھاگتے بھاگتے اسے پتھر سے ٹھوکر لگی تھی۔ وہ لڑکھتا ہوا نیچے گرا۔ اسے چوٹیں آئی تھیں۔ گاؤں کے لوگ بھاگتے ہوئے آرہے تھے۔ انہوں نے اسے اٹھایا اور چارپائی پر لٹا دیا۔ وہ غنودگی کے عالم میں تھا۔ ایک مسافر نے پوچھا کہ یہ کون ہے اور اس کو کیا ہوا ہے؟ اجنبی مسافر یہ سن کر دنگ رہ گیا کہ چارپائی پر لیٹا وہ شخص ایک بہت قابل ماہر نفسیات تھا، جس کی تحقیقات نے بہت نام کمایا، لوگ دور دور سے اس کے پاس علاج کے لیے آتے تھے اور پھر ایک دن یکدم وہ عجیب سارویہ رکھنے لگا۔ اسے بیٹھے بیٹھے آگ نظر آنے لگتی ہے اور وہ اٹھ کر بھاگنے لگتا ہے۔ اکثر گر جاتا ہے جس سے اس کے جسم کے بہت سے حصوں پر چوٹیں آئی ہوئی ہیں۔ ان سب کو ڈاکٹر احتشام کی اس حالت پر بہت افسوس تھا۔ ڈاکٹر احتشام ان سب باتوں سے بے نیاز غنودگی کے عالم میں نڈھال پڑا تھا۔ اسے اپنا جسم ایک زندہ لاش لگ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں سے سامنے ایک باحجاب لڑکی آئی۔ اس کے گرد سفید روشنی کا ہالہ تھا۔ اس نے چاہا کہ وہ اس روشنی میں سے کچھ حصہ لے لے۔ وہ اس لڑکی کو جانتا تھا۔ وہ اسے پہچاننے کی کوشش کررہا تھا۔ وہ ہولے سے مسکرائی اور یکایک احتشام کے سامنے پھر وہی سنہری روشنی چمکی۔ وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوگیا۔ اس کی زبان پر آخری لفظ تھا ’’گل لالہ…! ‘‘اور پھر اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ اس نے اپنی منزل پا لی تھی۔