قاضی صاحب کی انفرادیت - جویریہ سعید

پاکستان میں عموماً مڈل کلاس پڑھے لکھے لوگوں میں سیاست ایک ناگوار موضوع سمجھا جاتا ہے۔ سیاست گندی چیز ہے، سیاست دان اور کرپشن لازم و ملزوم ہیں، سیاست دان عوام کی خدمت کے نام پر اپنی جائیدادیں بناتے ہیں، ان کے اسکینڈلز بدنام اداکاراؤں کی طرح ان کو مقبول بنائے رکھنے کا ایک ذریعہ ہیں، اور ان سے متعلق کسی بھی قسم کا اسکینڈل غیر متوقع بات نہیں ہوتی۔ مخالفین کو مہمات چلانے کا موقع ملتا ہے، اور فدائیوں کا کہنا ہوتا ہے کہ ان کے لیڈر کی ذاتی زندگی پر عوامی گفتگو بری بات ہے۔

ہمارے قاضی حسین احمد صاحب علیہ الرحمہ کا دامن ان داغوں سے پاک تھا۔ گندگی میں رہ کر دامن صاف کیسے رکھتے ہیں؟ کوئی چاہے تو ان سے سیکھ سکتا ہے۔ ان کی انفرادیت ان کی خوش گفتاری بھی تھی۔ پرجوش مگر پرمحبت اور پرامید گفتگو کرنے والے۔ خوبصورت لہجے میں ستھری اردو میں گفتگو کرتے۔ ان کو سننا ہمیشہ اچھا لگتا تھا۔ کئی مرتبہ ان کو بالمشافہ سننے کا اتفاق ہوا۔ بلاشبہ ان کی شخصیت کی نفاست، ولولہ انگیز گفتگو اور پرمحبت گفتگو سامعین کو متاثر کرتی تھی۔ ان کو سننے کے بعد سامعین دلوں میں نفرتیں، مخالفین کے لیے تضحیک آمیز خیالات اور منفی جذبات لے کر گھروں کو نہیں لوٹتے تھے۔ بلکہ ایک نظریاتی قائد ہونے کی حیثیت سے ان کی گفتگو اسلام اور پاکستان سے محبت، امت مسلمہ کے درد اور نوجوانوں کو عمل پر ابھارنے کی تحریک کے گرد گھومتی تھی۔ شاعری اور خصوصا اقبال سے انہیں خاص لگاؤ تھا۔ اقبال کے فارسی و اردو اشعار اور سامعین دلوں میں جوش اور امید کی لہریں دوڑتے محسوس کرتے۔ اردو اور فارسی کے اشعار بلاتکان پڑھتے اور محفل میں سماں باندھ دیتے۔

قاضی صاحب کی خاص بات ان کی وسعت قلبی و وسعت نظری تھی۔ ''ایک دن جیو کے ساتھ'' میں کہتے ہیں کہ فیض ان کے پسندیدہ شاعر ہیں۔ میزبان استفسار کرتے ہیں کہ ان کا تعلق تو نظریاتی طور پر مخالف مکتبہ فکر سے ہے۔ مگر قاضی فرماتے ہیں کہ فیض بھی ہماری طرح تبدیلی چاہتے تھے۔ میں نے ان کے اندر حالات بدلنے کی فکر دیکھی ہے، اور پھر اپنے مخصوص لہجے میں فیض کو پڑھتے ہیں


یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

یہ وہ سحر تو نہیں کہ جس کی آرزو لیکر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں

نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی


پاکستانی سیاست دانوں میں کتنے ہیں جو ادبی ذوق رکھتے ہوں اور یوں خوبصورت گفتگو کرتے ہوں۔

مذہبی قائدین کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے کہ وہ شدت پسند اور تنگ نظر ہوتے ہیں۔ عوام کو گناہگار سمجھ کر ان سے فاصلے پر رہتے ہیں۔ قاضی صاحب کا معاملہ اس کے برعکس تھا۔ ایک واقعہ اس ذیل میں خاصا مشہور ہے کہ ایک مرتبہ کسی ہجوم میں لوگوں سے مل رہے تھے۔ نوجوانوں سے خصوصی محبت کے سبب کچھ نوجوانوں سے خاص گرم جوشی سے ملے۔ کسی نے کہا کہ یہ تو سنگرز ہیں، قاضی صاحب نے ان کے ماتھے پر بوسا دیا اور محبت سے بولے، ”ہاں تو یہ میری قوم کے، امت مسلمہ کے نوجوان ہیں.“

اتحاد امت ان کا خواب تھا۔ اس کے لیے مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں سے ملنا، اور فرقہ واریت کی زہر آلود فضاؤں میں مختلف مسالک کے مابین رواداری اور احترام کے ذریعے امت میں اتفاق اور اتحاد کو فروغ دینے کے لیے بڑھ چڑھ کر کوششیں کرتے رہے۔

روشن خیالی کے دعویدار حلقے مذہب اور مذہب پسندوں پر جہالت، خواتین کے حقوق کی پامالی، انہیں تعلیم اور عملی میدان میں اپنا کردار اداکرنے کی راہ میں مزاحم ہونے کے الزام لگاتے ہیں۔ قاضی صاحب کا ریکارڈ ان سب حوالوں سے شاندار تھا۔ نہ صر ف یہ کہ ان کا تعلق ایک علمی و دیندار گھرانے سے تھا بلکہ وہ خود اور ان کی اولادیں دنیاوی لحاظ سے بھی اعلی تعلیم یافتہ ہیں۔ ان کے گھر کی خواتین سیاست اور سماج کے علاوہ عالمی سطح پر بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کی صاحبزادی ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی قومی اور بین الاقوامی سطح پر پردے کے ساتھ پاکستانی خواتین کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اپنی ذاتی زندگی میں بھی وہ ایک پر شفقت اور محبت کرنے والے سربراہ خاندان کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے گھر والے بشمول خواتین ان کی شخصیت کی ہمہ گیری اور شفقت کی گواہی دیتے ہیں۔

امت مسلمہ کے مسائل کے ساتھ ساتھ انہیں اقلیتوں کے لیے بھی متحرک دیکھا گیا۔ انہوں نے عوامی مزاج کو سمجھنے اور عوامی رابطوں کی اہمیت پر زور دیا اور اس سلسلے میں انقلابی اقدامات کیے۔ قاضی صاحب ایک نہایت اجلی، نفیس، اور جمالیاتی حس سے مزین شخصیت کے حامل تھے، اسی لیے ان کے سیاسی و نظریاتی مخالفین بھی ان کی تعریف کرتے رہے۔ وہ حقیقتا ایک ہر دلعزیز شخصیت تھے۔ ان کے ہونے سے پاکستانی سیاست جیسے بدنام کوچے میں دیانت داری، اصول پرستی، تہذیب، شائستگی، علم دوستی اور انسانی خدمت کا اعتبار قائم تھا۔ بلاشبہ وہ اب بھی بہت سے دلوں میں زندہ ہیں۔
اللہ کریم ان کے درجات بلند کرے۔ آمین

Comments

جویریہ سعید

جویریہ سعید

جویریہ سعید کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں. طب اور نفسیات کی تعلیم حاصل کی ہے. ادب، مذہب اور سماجیات دلچسپی کے موضوعات ہیں. لکھنا پڑھنا سیکھنا اور معاشرے کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیتے رہنا ان کے خصوصی مشاغل ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.