الف اور دال - دعا عظیمی

وہ بھی سلطنت کا مالک تھا، وسیع و عریض نہ سہی، پانچ سے چھ فٹ کے قریب ہی سہی، وہ برق رفتار سفید تخیل کے گھوڑے پہ اڑتا ہوا کوہ قاف کی وادیوں کی کھوج میں بادلوں کے قریب سے گزر رہا تھا کہ صدا آئی، اس گھوڑے سے اترو اور باپیادہ سفر کرو، آتشیں مالٹا لباس تن پہ پہنو اور کھوج جاری رکھو۔ فرمان جاری ہوا، حکم کی تعمیل کرنی پڑی۔ اب سفر ایڑیوں کے بل تھا، ایڑیاں پھٹ جاتیں تو پنجوں کے بل اسے چلنا تھا۔ وہ چلتا رہا، اندھیری سرنگوں سے ریتلے میدانوں گھاٹیوں سے گزرتا ہوا چلتا چلا جا رہا تھا۔ گردش لیل و نہار کی جادونگری میں اسے سنہری منتر کی تلاش تھی، لامتناہی سفر کے سلسلوں میں باب حرف ہی اس کی منزل تھی۔ اسے محسوس ہوا وہ باب حرف کے قریب ہے، تیسری آنکھ اس کے ماتھے کی ابروؤں کے عین وسط میں کھلی اور اس نے چاندی کے اوراق دیکھے، حروف کے ظروف شکلیں اور روپ بدلتے تھے، کبھی اندھیروں میں تشفی کے جگنوؤں کی مانند اڑتے، کبھی رنگین پھولوں کا پیرہن اوڑھتے، کبھی تتلیوں کی صورت ڈال ڈال گھومتے، رنگ گولتے بھاگتے دوڑتے بولتے، پھر اس نے دیکھا نیلگوں آسماں کے نیچے وہ قطار اندر قطار کھڑے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ پیشانی کے بل اوندھے ہوئے، پلک جھپکتے نگاہ پڑی، ایک قفل کھلا، ان میں ایک حرف بادشاہ تھا "الف" ذی الجلال والاکرام، اللہّ، سنہرے تاروں روشنی کی لہروں سے پھیلا ہوا، ہر طرف جیسے ہر شے پہ محیط، لمحوں میں جوگی نے دال کی صورت اختیار کی اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسی میں قید ہو گیا۔

حاصل اور تلاش کے سفر میں تسکین دال کی صورت تھی، وہ حالت رکوع میں پیوست ہوگیا، دونوں آنکھوں میں نور منتر بن کے دوڑ رہا تھا، الف کی بادشاہی زمان و مکان کی وسعتوں سے زیادہ تھی۔ کنجیاں ہلنے لگیں، باب حرف کھلنے لگا، فیصلے کا اختیار اسے تھا، وہ ہر روپ دھارنے پہ قادر تھا۔ حروف تہجی میں د کا مقام نرالا تھا، یا عبد جانے یا معبود، درد دل دعا دلیل اور دانش میں ربط پیدا کرنے والا کون تھا، جو بھی تھا مبارک تھا۔

اسے محسوس ہوا وہ ازل سے ابد تک حالت دال پر ممتکن رہے گا۔ اس نوری مخلوق کی طرح جو صدیوں سے ایک ہی حالت میں قائم معبود کی تسبیح میں مشغول ہیں، مگر جونہی سانس نے اپنی حرکت پوری کی، عرش سے فرش کا رابطہ بحال ہوا، جسم میں جنبش ہوئی، خاکی بدن کب تک ایک حالت پر قائم رہ سکتا، خواہش ابھری وہ الف کے سامنے سجدہ ریز ہوا، دعا قبول ہوئی، اسے وہ منتر عطا کر دیا گیا جسے پڑھ کر وہ ہیکل سلیمانی کے صندوق تک پہنچا، اشیائے متبرکہ کی زیارت کی اور وہ سنہرے حروف کی مدد سے زمانے کے اس لمحے میں اتر گیا جہاں حضرت داؤد علیہ السلام کی سلطنت تھی۔ صحیفہ زبور کی چمک میں لحن داؤدی کا سحر تھا، پہاڑ تسبیح سنتے تھے اور پیروی میں ساکن سر دھنتے اور پرندے اپنی آواز ان کی آواز وارفتگی میں ملاتے تھے، عجب ساماں تھا۔ جوگی کی بےخودی کا تخت پھر سے ہواؤں سے باتیں کرتا نئے زمانوں کے متحیر لمحوں کو محسوس کرنے کے لیے بے تاب تھا۔ وہ درستگی کی سمت کا متلاشی دین و دنیا کے اسرار کو سمیٹ کر کہکشاؤں کے پار نکلنا چاہتا تھا، یہ جانتے ہوئے کہ کائنات اور ہر زمانے پر اب ج اور د کی بادشاہی رہی ہے۔ ق سے قلم اور د سے دوات کی روشنائی پھیلتی جا رہی تھی۔ دل کےدریا میں د کا دیا ازل سے ابد تک روشنی کے لیے الف کا محتاج تھا۔ جوگی الف کی لطافت کو سنبھالے سانس کے پھیر میں پھر ساکن ہوگیا۔

ٹیگز

Comments

دعا عظیمی

دعا عظیمی

دعا عظیمی شاعرہ ہیں، نثرنگار ہیں، سماج کے درد کو کہانی میں پرونے کا فن رکھتی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے سوشل سائسنز میں ماسٹر کیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.