خوش رہنے کا فن سیکھیں - جہانزیب راضی

نیویارک اسٹاک ایکسچینج دنیا کا سب سے بڑی اسٹاک ایکسچینج ہے۔ یہاں روزانہ ٹریلینز آف ڈالرز کا کاروبار ہوتا ہے۔ پچھلے دنوں وہاں ایک سروے کیا گیا اور لوگوں سے پوچھا گیا " کیا آپ اپنی زندگی سے خوش ہیں ؟ " آپ حیران ہوں گے نیویارک جیسے شہر میں رہنے والے کروڑوں اور اربوں ڈالرز کا کاروبار کرنے والے ننانوے فیصد لوگوں کا جواب نفی میں تھا۔

دنیا میں ہر شخص کو " اینگزائٹی " اور "ڈپریشن " ضرور ہوتا ہے۔ میڈیکل سائنس کیونکہ صرف نظر آنے والی چیزوں کو قابل علاج سمجھتی ہے اس لیے ان کے نزدیک اس کا واحد علاج نیند کی گولیاں یا زیادہ نہ سوچنا ہے۔ انسان نے اپنا غم غلط کرنے کے لیے, " اینگزائٹی" اور " ڈپریشن " سے نجات کے لیے شراب ، پاپ میوزک ، ڈسکو کلبس اور آئے دن مختلف پارٹیز کا سہارا لینا شروع کیا ہے۔

آپ کو اکثر ایسے لوگ نظر آئیں گے جن کا دل بیٹھنے لگتا ہے۔ ہم نے اس کو بی – پی کا نام دیا ہے۔ کبھی ہم اس کو بلڈ پریشر کم اور کبھی زیادہ ہونے کا نام دیتے ہیں۔ کبھی ہم نے سوچا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ یہ " اینگزائٹی "، "ڈپریشن " ، دل کا بیٹھنا ، بلڈ پریشر کا کم یا زیادہ ہونا ٹینشن کا ہونا اس سب کی کیا وجہ ہے ؟ اس کی صر ف ایک وجہ ہے اور وہ یہ کہ ہم سب خوش رہنا چاہتے ہیں اور وہ خوشی ہمیں کہیں نہیں ملتی ہے۔

دنیا کے ہر انسان کے پریشان رہنے کی واحد وجہ خوشی کی تلاش ہے۔ خوش رہنا بھی ایک فن ہے اور اس کو بھی سیکھنا پڑتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہمیں کبھی خوش رہنا سکھایا ہی نہیں جاتا ہے۔ خوشی کا اصل تعلق برداشت سے ہے۔ جتنی آپ کی برداشت ہوگی اتنا آپ خوش رہنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اگر آپ بات بات پر لوگوں پر غصہ نہیں ہوتے ہیں اور آپ اختلاف رائے کو بخوبی برداشت کرلیتے ہیں تو آپ خوش رہیں گے۔ اگر آپ اپنے مزاج کے خلاف ہونے والے کاموں کو برداشت کرنا سیکھ گئے ہیں تو آپ نے خوش رہنے کا فن سیکھ لیا ہے۔

آپ لوگوں کی خوشی میں جلنے اور کڑھنے کے بجائے خوش ہونا اور دل سے مبارک باد دینا سیکھ گئے ہیں تو آپ خوش رہ سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنی تقدیر پر راضی ہیں اور خدا کے سوا کسی کے سامنے اپنے دکھڑے نہیں روتے تو یقین کریں آپ خوش رہ لیں گے۔ اگر آپ کو گھر میں موجود سوئی اور بالوں میں خشکی نہ ہونے پر بھی شکر ادا کرنا آگیا ہے تو آپ دنیا کے خوش قسمت انسان ہیں۔ اگر آپ نے " بہت ہے " اور " سب کے لیے ہے " پر یقین کرنا سیکھ لیا ہے۔ لوگوں کو گرا کر خود اٹھنا ، دوسروں کو پیچھے چھوڑ کر خود آگے نکلنا اور دوسروں سے ہر وقت بدگمان ہونے کے بجائے دوسروں کی کامیابی کے لیے سوچنا شروع کردیا ہے تو آپ نے خوش رہنا سیکھ لیا ہے۔ ہم وقتی چیزوں میں خوشی تلاش کرتے ہیں اور وقت گزرتے ہی وہ خوشی کافور ہوجاتی ہے۔

ایک بادشاہ نے اپنے وزیر کو انگوٹھی دی اور کہا اس پر کچھ ایسا لکھو کہ جب میں وہ انگوٹھی خوشی میں دیکھوں تو غمزدہ ہوجاؤں اور جب غم میں دیکھوں تو خوش ہوجاؤں ، وزیر نے اگلے دن بادشاہ کو انگوٹھی واپس کی تو اس پر لکھا تھا " یہ وقت بھی گزر جائے گا"۔ آپ نے کبھی غور کیا کہ یہ دولت اور شہرت کے نشے میں چور ، گلیمر کی چکا چوند دنیا میں رہنے والے جنید جمشید جیسے لوگوں کو یہ سب چھوڑ کر اتنا سکون کیوں ملتا ہے ؟ بل گیٹس دنیا کے امیر ترین آدمی ہیں اور یہ پچھلے گیارہ سالوں سے امیر ترین آدمی ہیں، ان کی کل دولت 91 بلین ڈالرز سے زیادہ ہے لیکن یہ ہر سال اپنی دولت کا 66 فیصد خیرات کردیتے ہیں ، بل اینڈ ملنڈا گیٹس کے نام سے غریب بچوں کی تعلیم کا انتظام کرتے ہیں اور پوری دنیا میں پولیو کی مہم بھی چلاتے ہیں۔

ہم انسان بنیادی طور پر دو چیزوں کا مجموعہ ہیں ایک ہمارا جسم ہے جس کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور دوسری ہماری روح ہے جس کو اللہ تعالی نے میرے اور آپ کے اندر پھونکا ہے۔ جس دن میرا اور آپ کا دم نکلے گا ہم اپنے ماں باپ تک کے لیے بیکار ہوجائیں گے۔ ماہرین کے مطابق انسان کے مرنے کے بعد اس کے وزن میں صرف 10 گرام کی کمی ہوتی ہے۔ صرف اس دس گرام کی کمی کی وجہ سے لوگ ہمیں اپنے ساتھ تک رکھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے ہیں۔ اس جسم کے لیے جو پہلے ہی مٹی سے بنا ہے اور اس کو پھر مٹی میں ملنا ہے ہم لاکھوں کروڑوں بلکہ اربوں کھربوں روپے تک خرچ کر ڈالتے ہیں۔ ہم اپنی شادی بیاہ پر لاکھوں روپے پھونک دیتے ہیں ، ہم جوتوں اور کپڑوں پر کئی کئی ہزار لگا دیتے ہیں اور جیسے ہی کچھ وقت گزرتا ہے ہمیں اپنا موبائل فون ، اپنے کئی ہزار کے جوتے اور کپڑے ، لاکھوں روپے کی شادی اور کروڑوں روپے کا بنگلہ بیکار لگنے لگتا ہے ، ہمارے نزدیک وہ سب پرانا ہوجاتا ہے ہم پھر ایک نئی گاڑی ، نئے موبائل اور زیادہ مہنگے کپڑے خریدنے کی فکر میں لگ جاتے ہیں لیکن ان سب نئی چیزوں سے ملنے والی خوشی پھر ہمیں ماند پڑتی دکھائی دینے لگتی ہے۔

خوشی نظر آنے والی چیز نہیں ہے ،سکون آپ کو نظر نہیں آتا ہے ، اطمینان آپ کو دیکھنے سے یا سننے سے یا چھونے سے محسوس نہیں ہوتا ہے۔ یاد رکھیں جو چیز نظر نہیں آتی ہے وہ نظر آنے والی چیزوں سے مل بھی نہیں سکتی ہے۔ ہر وہ چیز جس کا تعلق مادے سے ہو وہ ہمیں کل وقتی خوشی ، اطمینان اور سکون نہیں دے سکتی ہے۔

روح کیونکہ آسمان سے آئی ہے اس لیے اس کی خوراک بھی آسمان سے ہی ملے گی۔ ہماری روح زندگی بھر اپنے اصل کی طرف پلٹنے اور اس کو حاصل کرنے کے لیے تڑپتی رہتی ہے اور ہمیں اسے آئی – فون ، ہش پپیز اور نئی نئی گاڑیوں سے بہلاتے رہتے ہیں۔ ہم اسے ریسٹورینٹس میں جا جا کر ٹہلاتے رہتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہر وقت پارٹیز میں رہنا ، دوستوں سے گپے لگاتے رہنا اور تیز آواز پر ڈانس کرنے سے ہمیں سکون ملے گا۔ لیکن جب کبھی کہیں ہم اکیلے میں ہوتے ہیں، روح پھر بے چین ہوجاتی ہے۔ ہم اس کو کبھی " اینگزائٹی " اور کبھی " ڈپریشن " کا نام دے دیتے ہیں۔ ہم نیند کی گولیاں کھا کھا کر اپنے ضمیر کو سلاتے ہیں لیکن وہ پھر جاگ جاتا ہے۔ کیونکہ اس کو بھی غذا کی ضرورت ہے اور اس کی غذا آسمان سے آئی ہے اس کو وہی ملے گی تو اس کو خوشی ، اطمینان اور سکون نصیب ہوگا۔

ابھی حال ہی میں دنیا کے پر آسائش اور رہنے کے قابل شہروں کی فہرست شائع ہوئی ہے اور جاپان کا ٹوکیو اس میں سر فہرست ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ جاپان میں خود کشی کی شرح سب سے زیادہ ہے 2014 میں جاپان میں تیس ہزار سے زیادہ لوگوں نے خود کشی اور یہ تعداد تقریباً 82 آدمی روز بنتی ہے اس کے مقابلے میں پاکستان رہنے کے قابل ملکوں میں بد ترین ملک ہے لیکن آپ یہاں خود کشی کی شرح دیکھیں بمشکل ایک فیصد بھی نہیں ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ لوگوں کی زندگیوں میں بھی اور قوموں کی زندگیوں میں بھی معاشی انقلاب سے کہیں زیادہ روحانی انقلاب اہم ہوتا ہے۔ ہم ساری زندگی صرف اپنے بارے میں سو چتے ہیں۔ ہمیں ہماری خوشی ،ہمارا اطمینان اور ہمارا سکون چاہیے ہوتا ہے اور ہم پوری زندگی اپنی خواہشات کی تکمیل کو اپنی خوشی سمجھتے رہتے ہیں۔ خوشی ، غم ، خوف اور امید ان چاروں چیزوں کا تعلق پیدا کرنے والے سے ہے۔

انگریزی کا مشہور مقولہ ہے " امیدیں ہمیشہ دکھ دیتی ہیں " ہم چاہتے ہیں دوسرے ہمیں ہماری غلطیوں پر معاف کردیں ، دوسرے ہماری عزت کریں سارے لوگ مجھ سے محبت کریں اور سب لوگوں سے مجھے صرف خوشی ملے۔ یہ سب حاصل کرنے کے لیے آپ کو بے غرض ہونا پڑے گا۔ ہمارے رویّے ہمارے فیصلوں کا نتیجہ ہوتے ہیں اور ہم ہمیشہ ان کا الزام دوسروں کودیتے ہیں۔ دوسروں پر الزام رکھنے والا شخص کبھی خوش نہیں رہ سکتا ہے۔ ہماری پانچوں انگلیوں کی پوریں ایک دوسرے سے مختلف ہیں ، ہماری دونوں آنکھوں کی پتلیاں ایک دوسری سےالگ ہیں تو بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ دنیا کے سات ارب انسانوں کا دماغ ہمارے جیسا ہو؟ وہ ویسا ہی سوچیں اور ویسا ہی کریں جیسا ہم چاہتے ہیں؟

اگر آپ خوش رہنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو لوگوں کو بے غرض ہو کر معاف کرنا ، عزت دینا اور خوش رکھنا سیکھنا پڑے گا۔ یاد رکھیں خوشی حاصل کرنے کا نام نہیں ہے ، خوشی چھوڑ دینے کا نام ہے ، خوشی خود پر نہیں، دوسروں پر خرچ کرنے سے ملتی ہے ۔ یہ پہن کر نہیں پہنا کر حاصل ہوتی ہے ، یہ کھا کر نہیں کھلا کر نصیب ہوتی ہے۔ اگر آپ خوش رہنا چاہتے ہیں تو پھر مسکرانے کی عادت ڈالیں خوش رہنا پریشان رہنے سے زیادہ آسان ہے۔ خدا کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے ، خدا سے تعلق مضبوط کرنے سے انسان کے غم غلط ہوتے ہیں۔ عبادت سے جنت ملتی ہے لیکن خدمت سے خدا ملتا ہے۔ جو دوسروں کے لیے جیتا ہے مخلوق خدا کو آسانی پہنچاتا ہے وہ خدا سے قریب ہوجاتا ہے۔ جو خدا کی محض عبادت کرتا ہے وہ مخلوق خدا کو تکلیف پہنچا سکتا ہے اور پہنچاتا ہے لیکن جو خدا سے محبت کرتا ہے وہ کبھی مخلوق کو تکلیف نہیں پہنچاتا۔ اس لیےخوش رہنا سیکھیں ، خوش رہیں اور خوش رکھیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */