درد - نزہت وسیم

سر میں پڑنے والے جوتے نے اس کے دماغ کو ہلا کر رکھ دیا لیکن درد کی جو لہر اس کے دل سے اٹھی تھی اس نے اسے بے حال کردیا۔ اب تو آنکھیں بھی سوکھ چکی تھی آخر کب تک بہتی رہتیں وہ صحن میں پھسکڑا مارے بیٹھے تھی اور اس کا شوہر اس کے بازو کو پکڑ کر اندر لے جانے کے لیے گھسیٹ رہاتھا ساتھ ساتھ انتہائی بے ہودہ گالیاں بک رہا تھا۔

یہ مارکٹائی اور گالی گلوچ اس کا برسوں کا معمول تھا اب تو پاس پڑوس کے لوگ بھی عادی ہوگئے تھے اور کوئی جھانک کر بھی نہیں دیکھتا تھا۔ لیکن اس کے لیے آج بھی ہر گالی روح پر لگنے والے تازیانے کی طرح تھی اوراپنے ہمسفر کا اٹھتا ہاتھ اس کو ہوش وہواس سے بے گانہ کر دیتا تھا۔ اس کا گناہ کیا تھا؟ کیا غلطی تھی؟ کس جرم کی سزا میں اس کے لیے گالیاں اور جوتیاں لکھ دی گئی تھیں؟ اور آخر کب تک اسے اس جرم بے گناہی کی سزا بھگتنا تھی؟ شاید اس وقت تک جب روح کے ساتھ اس کا جسم بھی مردہ قرار دے دیا جائے۔

مدتوں پہلے یا شاید صدیوں پہلے وہ اس گھر میں بیاہ کر آئی تھی۔ اس کا شوہر غصے کا بہت تیز تھا، خاندان میں جہاں کسی کی لڑائی ہوتی اس کو مدد کے لیے بلا لیا جاتا۔ اونچے لمبے قد کا خوبصورت نوجوان لڑتے ہوئے سرخ ہوجاتا اور اس کے جھگڑے سے ڈر کر مخالف پارٹی دب جاتی، اچھی جگہ ملازمت کرتا تھا جوانی کا جوش سمجھتے ہوئے اس کے باپ نے اپنی پھولوں جیسی نازک لڑکی اس کے حوالے کردی۔ کچھ دن خوشی اور شوق میں گزر گئے پھر معمولی معمولی غلطی پراس کا ہاتھ اٹھنے لگا۔ غصہ اترتا تو معافی تلافی کرنے لگتا اور کسی کو نہ بتانے کا وعدہ لینے لگتا۔ اسی لڑائی جھگڑے اور پیار محبت میں وقت گزرتا گیا/ چار بچوں کے بعد بھی غصے میں ہاتھ اٹھالینے کی عادت نہ بدلی اور آہستہ آہستہ سارا خاندان اس راز سے واقف ہوگیا۔ بہنیں دبے لفظوں سے سمجھاتیں، ماں باپ کبھی سختی، کبھی پیار سے کام لیتے لیکن اب مار کے ساتھ شک کرنا بھی اس کی عادت میں شامل ہوتا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   جنوبی ایشیا کا پہلا انسداد تشدد مرکز - رانا اعجازحسین چوہان

باہر کیوں گئی تھی؟ میرے بعد کون گھر آیا؟ فلاں سے کیا بات کر رہی تھی؟ یہاں تک کہ اپنے بھائیوں سےملنے پر بھی شکوک کا اظہار کرتا اور مار کٹائی سے گریز نہ کرتا۔ کئی بار اس عہد کے ساتھ میکے گئی کہ اب کبھی واپس نہ آؤں گی لیکن پھر کبھی بچوں کی وجہ سے اور کبھی ماں باپ، بہن بھائیوں کے مجبور کرنے پر واپس اسی گھر میں اسی سےمار کھانے پہنچ جاتی۔

اچھا کماتا اور بچوں کو اچھا کھلاتا، خاندان کے باقی معاملات میں بھی درمیانہ سا گزارے لائق رویہ تھا۔ شاید اسی لیے زندگی گزرتی گئی بچوں کی شادیاں کر دیں۔ ملازمت سے ریٹائر ہوا تو یہ مارکٹائی اور شک ایک لا علاج جنون بن گیا۔ بچے سمجھاتے، بیٹے اور بیٹیاں ماں کو پٹتا ہوا دیکھ کر بڑے ہوئے تھے۔ لیکن نہ جانے کیوں باپ کے ہاتھ کو نہ روک سکے اور باپ کو غصے میں دیکھتے ہی ادھر ادھر نکل جاتے۔ ہر دوسرے دن شک کے طعنے اور مار کٹائی شاید یہی اس کا مقدر تھا۔ لیکن آخر کب تک؟ شاید موت ہی اس کی نجات دھندہ تھی۔ لیکن موت بھی دہلیز پر آکر اس کا تماشا دیکھ رہی تھی اوراس کے جسم کا رواں رواں موت سے ملن کی خواہش میں تڑپ رہا تھا۔