مدرسہ ڈسکورسز کیا ہے؟ - محمد عرفان ندیم

یہ دونوں پی ایچ ڈی کی اسٹوڈنٹ تھیں اور امریکا کی کسی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھیں۔ ان کا آبائی تعلق لاہور سے تھا اور ا ن دنوں یہ لاہور آئی ہوئی تھیں، ان میں سے ایک میرے دوست ناصر باجوہ کی صاحبزادی تھیں۔ ناصر باجوہ پاکستان میں انٹر نیشنل میڈیا کا بڑا نام ہیں، یہ وائس آف جرمنی سے وابستہ ہیں اور کئی پاکستانی چینلز میں بھی کام کر رہے ہیں۔ ایک دن ان کا فون آیا کہ میری بیٹی اور اس کی چند دوستوں کا ایک گروپ ہے، یہ سب سائنس کی سٹوڈنٹس ہیں، ان کے ذہن میں اسلام کے بارے میں چند سوالات ہیں اور وہ اپنے سوالات کلیئر کرنا چاہتی ہیں۔ اس سلسلے میں انہیں کسی اسکالر کی تلاش تھی، مولانا طارق جمیل صاحب سے رابطہ کیا گیا تو وہ ملک سے باہر تھے، ایک دو اور مولانا حضرات سے بات ہوئی تو انہوں نے معذرت کر لی، بالآخر لاہور کی ایک یونیورسٹی کے اسلامیات کے پروفیسر سے بات ہو گئی، وہ گھر تشریف لائے، اسٹوڈنٹس نے سوالا ت شروع کر دیے۔ یہ پی ایچ ڈی لیول کی اسٹوڈنٹ تھیں اس سے آپ ان کے سوالات کا اندازہ کر سکتے ہیں، ان کے سوالات کچھ اس طرح کے تھے کہ ہم خدا کو کیوں مانیں جبکہ جدید سائنس یہ بات ثابت کر چکی ہے کہ کائنات کا نظام چند متعین قوانین کے تحت چل رہا اور اس میں خدا کا کوئی کر دار نہیں؟ اگر مذہب کو ماننا ہی ہے تو دنیا میں مختلف مذاہب کیوں ہیں؟ ان سب مذاہب کو ملا کر ایک انٹر نیشنل مذہب کیوں تشکیل نہیں دیا جا سکتا؟ ہمیں عبادت کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟ ہمارے نماز پڑھنے اور روزہ رکھنے سے اللہ کو کیا فائدہ ہوتا ہے اور اگر ہم نہیں کرتے تو اللہ کو کیا نقصان ہے؟ اگر اللہ رحمان اور رحیم ہے تو اپنے بندوں کو جہنم میں کیوں ڈالے گا؟ اللہ نے قرآن میں زمین و آسمان کی تخلیق اور کائنات کے بارے میں جو حقائق بیان کیے ہیں جدید سائنس نے انہیں غلط ثابت کر دیا ہے، ایسا کیوں کیا؟ پروفیسر صاحب نے اپنے علم اور فہم کے مطابق جواب دینے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے اور محفل ختم ہو گئی۔

یہ ایک مثال ہے ورنہ ہماری نوجوان نسل میں سے اکثر اس طرح کے سوالات سے دو چار ہیں اور ان سوالات نے ان کے ذہنوں میں طوفان برپا کر رکھا ہے، یہ سوالات کیوں پیدا ہو رہے ہیں اس کی وجہ بڑی دلچسپ ہے۔ دنیا کی گزشتہ تین چار سو سالہ تاریخ میں سینکڑوں نئے علوم و فنون متعارف ہوئے اور یہ سارے علوم مغرب نے متعارف کروائے ہیں، آج بھی مغربی یونیورسٹیوں میں پانچ پانچ سو ماسٹرز ڈگری پروگرام چل رہے ہیں جبکہ ہمارے یہاں کوئی یونیورسٹی بمشکل ہی سو پروگرام آفر کر رہی ہو گی۔ یہ سارے علوم وفنون نیچرل سائنسز اور سوشل سائنسز پر مشتمل ہیں اور یہ مغرب کے راستے سے ہم تک پہنچے ہیں۔ مغربی فکر کا خدا، کائنات، سماج اور انسان کے بارے میں اپنا ایک نقطۂ نظر ہے اور یہ سارے علوم اسی خاص نقطۂ نظر اور تناظر میں پروان چڑھے ہیں، اب ہمارے نوجوان جب یہ علوم وفنون یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں تو اس کا ٹکراؤ ان کے ایمان اور عقیدے سے ہوتا ہے اور یہیں سے سوالات جنم لیتے ہیں، اب سوالات تو اٹھ رہے ہیں لیکن انہیں رسپانڈ نہیں کیا جا رہا اوراس کا نتیجہ کیا نکل رہا ہے؟ اس کا شاید ہمیں ابھی احساس نہیں ہو پا رہا۔

یہ سوالات ماضی میں بھی تھے لیکن تب صورتحال مختلف تھی، ایک تو ان سوالات کی نوعیت مختلف تھی دوسرا انہیں رسپانڈ کرنے کے لیے پورا علم الکلام موجود تھا، علم الکلام کیا تھا اور یہ کیسے وجود میں آیا؟ یہ حقیقت بھی دلچسپ ہے، آسان لفظوں میں آپ علم الکلام کو فلسفے کی اسلامی شاخ کا نام دے سکتے ہیں۔ ابتدائی صدیوں میں دین اسلام جب جزیرہ عرب سے نکل کر عجم میں پھیلا تو اس کا سامنا وہاں کے مقامی مذاہب اور فلسفے سے ہوا، یہ دور یونانی فلسفے کے عروج کا دور تھا، ایک طرف یونانی فلسفہ اور دوسری طرف ہندو متھالوجی نے اسلام کے سامنے خدا، کائنات، سماج اور انسان کے بارے میں بہت سارے سوالات کھڑے کر دیے تھے۔ اس کے ساتھ مسلمانوں کے اندر بھی کچھ ایسے گروہ پیدا ہو گئے تھے جنہوں نے کائنات، خدا، قرآن، معجزات، بندے اور خدا کے تعلق اور مرتکب کبیرہ کے بارے میں بحث کا آغاز کر دیا تھا، یہ لوگ اہل سنت سے ہٹ کر ایک الگ روش پر چل نکلے اور معتزلہ کہلائے۔ اسلامی علمی روایت میں سب سے پہلے انہی لوگوں نے عقلیت کا نعرہ لگایا اور عقلی بنیادوں پر احکام و مسائل کی تشریح کرنے کی کوشش کی۔ ان سے پہلے فقہی مسائل میں بحث و مباحثہ ہوتا تھا لیکن عقائد پر بات نہیں ہوتی تھی انہوں نے عقائد پر بھی بات شروع کر دی اور یوں اہل سنت کو یونانی فلسفے، ہندو متھالوجی کے ساتھ معتزلہ کی کلامی مباحث کا بھی جواب دینا پڑا۔ ان سارے چیلنجز اور سوالات کو رسپانڈ کرنے کے لیے جو علمی روایت قائم ہوئی اسے علم الکلام کا نام دیا گیا اور اس فن کے ماہرین متکلمین کہلائے۔ اہل سنت کی طرف سے اشاعرہ اور ماتریدیہ نے اس میدان کو سنبھالا اور اپنے وقت اور زمانے کے سوالات اور چیلنجز کو بہترین طریقے سے رسپانڈ کیا۔

گزشتہ تین چار صدیوں سے مسلمانوں پر جو علمی و سیاسی زوال آیا اس کے اثرات علم الکلام پر بھی پڑے۔ اگرچہ برصغیر، ایران اور مصر میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے طور پر علم الکلام کو زندہ رکھنے کی کوشش کی اور اپنے دور کے سوالات کا جواب دیا لیکن یہ انفرادی کوششیں زیادہ دیر تک نہ چل سکیں۔

اب صورتحال یہ ہے کہ جدید سائنس اور فلسفے نے سوالات کی نوعیت بدل ڈالی ہے، اکیسویں صدی میں جدید سائنس اپنی معراج پر کھڑی ہے، انسانی فہم شعور ارتقاء کی منازل طے کرتا ہوا بہت آگے جا چکا ہے، جدید سائنس نے قدیم متھالوجی اور ایمان و عقیدے کے باب میں بہت سارے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور سوشل اور نیچرل سائنسز کے دائرے میں سوالات کا ایک طوفان ہے جو مسلسل بلند ہوتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے اور نوجوان نسل اس طوفان میں غرق ہو رہی ہے لیکن اسے کہیں سے ریلیف نہیں مل رہا۔ اس وقت جو سوالات پیدا ہو رہے ہیں وہ دو طرح کے ہیں، ایک، وہ سوالات جو غیر مسلموں کی طرف سے سامنے آ رہے ہیں، اس میں مستشرقین سے لے کر جدید سائنس اور جدید مغربی فکر و فلسفہ شامل ہیں، دو، وہ سوالات جو خود مسلمانوں کے اپنے ذہنوں میں پرورش پا رہے ہیں اور ان کے ذہنوں میں الجھاؤ اور وسوے پیدا کر رہے ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ایک سائنس کا اسٹوڈنٹ یا ایک عام مسلمان جب ان سوالا ت کو لے کر اپنے محلے کی مسجدیا امام کے پاس جاتا ہے تو اسی تسلی بخش جواب نہیں ملتا اور اس کی تشنگی بر قرار رہتی ہے۔ ہمارے علماء، قراء حضرات اور آئمہ مساجد کے ایمان و تقوی میں کو ئی شک نہیں، ان کی علمی پختگی، دینی تصلب اور خشیت الہٰی میں کسی کو شبہ نہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ ان سوالات کا جواب نہیں دے پا رہے۔ ہمارے مدارس میں آج جو فلسفہ اور علم الکلام پڑھایا جا رہا ہے وہ وہی ہے جو قدیم یونانی فلسفے اور معتزلہ کے سوالات کو رسپانڈ کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا، بلاشبہ یہ اپنے دور کا بہترین علم الکلام تھا لیکن آج اس سے کام نہیں چلے گا۔ ہمیں آگے بڑھ کر جدید سائنس، انسانی شعور کے ارتقاء، نئے علوم وفنون اور جدید مغربی فکر و فلسفے کو مد نظر رکھ کرنئی تھیا لوجی یا نیا علم الکلام ڈویلپ کرنا پڑے گا اور مدرسہ ڈسکورسز یہی کام کر رہا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اس کا حل کیا؟ اس کے لیے ہمارے پاس صرف دو آپشن ہیں، وہ دو آپشن کیا ہیں؟ ان کا ذکر میں اگلے کالم میں کروں گا۔

Comments

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • "اللہ نے قرآن میں زمین و آسمان کی تخلیق اور کائنات کے بارے میں جو حقائق بیان کیے ہیں جدید سائنس نے انہیں غلط ثابت کر دیا ہے، ایسا کیوں کیا؟ "
    عرفان صاحب آپ نے یہ سوال کس آیت کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس آیت کا حوالہ بتاسکتے ہیں ؟
    اگر آپکو ایسی کوئی آیت نہیں پتا تو فورا اس لڑکی سے رابطہ قائم کریں جو اس سوال کے حوالے سے آیت کا حوالہ دے ؟
    ہمیں بھی پتہ چلے کہ ماڈرن سائنس نے کس آیت کو غلط ثابت کردیا ہے ؟
    کیونکہ پی ایچ ڈی لڑکی کا معصومانہ سوال آپ نے بھی معصومیت سے نقل کر دیا مسلہ یہ نہیں ہے کہ فلاں آیت جدید سائنس کے خلاف ہے بلکہ سوال کرنے والے نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ خلق کائنات کے حوالے سے سائنس نے قرآن کی آیات غلط ثابت کردی ہے بس یہ بتادیں کہ اللہ نے ایسا کیوں کیا
    اپنے اگلے مضمون میں آیت کا حوالہ ضرور دیجئے گا جزاک اللہ

    • تاخیر کے لیے معذرت آپ کا تبصرہ ابھی دیکھا۔
      محترم ! زمین و آسمان کی تخلیق کے متعلق جتنی بھی آیات ہیں وہ سب اس سوال میں شامل ہیں ۔ مثلا اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں نے زمین و آسمان کو چھ دنوں میں پیدا کیا ، اور آسمان کو بغیر ستونوں کے کھڑا کیا ، تو جدید سائنس کہتی ہے کہ آسمان تو ہے ہی نہیں ۔ یہ اور اس جیسے متعدد آیات اس ضمن میں پیش کی جا سکتی ہیں ۔

      • عرفان ندیم صاحب میری طرف سے بھی معذرت آپ کے جواب پر نظر آج ہی پڑی۔ پہلی بات تو یہ کہ طالب علموں کے سوالات کیا اصل میں آپ کے سوالات ہیں؟
        کیونکہ پہلے تو یہ لگ رہا تھا کہ گوکہ قرآن کی ہر آیت برحق ہے لیکن ہم اہل علم اور علماء کرام نئے ذہنوں کو سمجھا نہیں پاتے۔ لیکن اب مجھے معاملہ کچھ اور لگ رہا ہے اور لگ رہا ہے کہ آپ بھی اس معاملے میں کنفیوز ہیں۔
        آپ کو مجھ سے بہتر پتا ہونا چاہیے کے قرآن اصل میں ہدایت کی کتاب ھے جس کے اندر سائنسی حقائق بھی ہیں اور دوسری طرف یہ عربی ادب کا بھی شاہکار ہے
        آج یہ بات جانتے ہوئے بھی کے سورج مشرق سے نہیں ابھرتا بلکہ زمین اپنے محور پر اس طرح گھومتی ہیں کہ سورج ہمیں مشرق سے نکلتا ہوا لگتا ہے اس کے باوجود آج کسی بھی زبان کے ادب اور شاعری میں یہی لکھا جاتا ہے کہ مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ
        آپ مجھے بتائیں کہ جب میں زمین سے اوپر دیکھوں تو اپنے ساتھ کھڑے ہونے والے کو کیا بولوں؟ کیا یہ نہ بولو ں کیا آسمان کی طرف دیکھو
        اب اللہ نے اگر یہ فرمایا کہ ہم نے زمین و آسمان چھ دنوں میں بنایا تو بالکل ٹھیک
        اب اگر بقول آپکے آسمان کوئی چیز نہیں ہے تو پھر اسپیس کیا ہے۔ sky کیا ہے اس کچھ نہیں کا کچھ تو نام ہے
        اور ویسے بھی ایسا نہیں ہے کہ اس خلا میں کچھ نہیں ہے اس میں بہت سارے اقسام کی الیکٹرو میگنیٹک لہریں بھی ہیں تو اللہ قرآن میں الیکٹرومیگنیٹک لہروں کا تذکرہ کرتے تو آپ کی اور ان پی ایچ ڈی کے طالب علموں کی تشفی ہوتی
        ۔ قرآن میں اگر یہ ہوتا کہ آسمان کو ستونوں کے ساتھ کھڑا کیا تو بحث طلب بات بھی بنتی یہاں تو اللّہ یہی فرما رہے ہیں نا کہ ہم نے آسمان کو بغیر ستونوں کے کھڑا کیا سائنس کی رو سے بھی صحیح بات ہوئی اور اور ادبی پیرایا بھی آ گیا۔
        مجھے حیرت ہے کہ آپ ہمیں مدرسہ ڈسکورس پڑھا رہے ہیں لیکن آپ قرآن کے بنیادی اسلوب سے بھی ناواقف لگتے ہیں قرآن کے حوالے سے آپ نئے علماء اور سکالرز کی کتابیں پڑھیں فائدہ ہوگا اس کے بعد آپ کے دوسرے مضامین خاص طور پر مدارس پر تنقید میں وزن پیدا ہوگا
        شکریہ