صدر کی جانب سے رینجرز اہلکاروں کی معافی - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

صدر ریاست نے ان رینجرز اہلکاروں کو معافی دے دی جنھوں نے کراچی میں ایک نوجوان سرفراز شاہ کو 2011ء میں قتل کیا تھا۔

اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے سوموٹو ایکشن کے بعد ان اہلکاروں کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں مقدمہ چلایا گیا تھا، جہاں ایک اہلکار کو سزائے موت اور باقیوں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ سندھ ہائی کورٹ نے اس سزا کو برقرار رکھا لیکن 2014ء میں سپریم کورٹ نے ورثا کی جانب سے معافی کی بنیاد پر سزائے موت ختم کر دی تھی اور عمر قید کی سزا برقرار رکھی۔ اب صدرِ محترم نے ساری سزائیں معاف کر دی ہیں اور ان مجرموں کو کسی بھی وقت رہا کیا جا سکتا ہے۔

وہ سارے لوگ جو شاہ رخ جتوئی کیس کے تناظر میں ورثا کی جانب سے معافی کو "انصاف کے ساتھ کھلواڑ" قرار دے رہے تھے، اور کہہ رہے تھے کہ معافی کا اختیار ورثا کے پاس نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ریاست ہی اصل مدعی ہونی چاہیے، اب ان پر لازم ہوگیا ہے کہ برطانوی دستور کے اس اصول کو، جسے ہمارے دستور میں اندھی تقلید کے اصول پر مانا گیا ہے، اسی طرح تنقید کا نشانہ بنائیں اور قرار دیں کہ ریاست نے انصاف کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔ ان پر یہ بھی لازم ہے کہ اس اصول کو دستور سے ختم کرنے کی جدوجہد کریں کیونکہ اس طرح طاقتور مجرم بچ جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ مقتول کے ورثا کی جانب سے معافی کے باوجود مجرموں کو فساد کی سزا دی جاسکتی ہے، اور سپریم کورٹ نے شاہ رخ جتوئی والا معاملہ اب اٹھا لیا ہے۔ لیکن صدر ریاست کی جانب سے معافی کے بعد کوئی سوال نہیں اٹھایا جاسکتا کیونکہ برطانوی قانون کا مفروضہ یہ ہے کہ بادشاہ کوئی غلطی نہیں کرسکتا!

واضح رہے کہ ”حاکم خان کیس“ (1992ء) میں سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ دستور کی دفعہ 45، جس میں صدر کو ہر سزا کی معافی کا اختیار دیا گیا ہے، دستور ہی کی دفعہ 2 الف کے ساتھ متصادم ہے کیونکہ دفعہ 2 الف کے تحت اللہ تعالیٰ کا قانون بالادست ہے، جس کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ قصاص میں مقتول کے ورثا کا اختیار رکھتے ہیں اور ان کی مرضی کے خلاف قاتل کو معاف نہیں کیا جاسکتا۔ نہایت افسوسناک امر یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے یہ طے کرنے کے بعد کہ دستور کی دو دفعات کے درمیان تصادم پایا جاتا ہے، قرار دیا کہ ان میں سے ایک دفعہ کو دوسری دفعہ پر فوقیت نہیں دی جاسکتی، کیونکہ دستور ایک اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اس تصادم کو دور کرنے کا فورم پارلیمنٹ ہے۔ یہ فیصلہ کئی لحاظ سے انتہائی غلط ہے۔

اولاً: جب عدالت نے طے کیا کہ ان دفعات کے درمیان تصادم موجود ہے تو اس کی ذمہ داری ہوگئی کہ دستور کی اس طرح تعبیر کرے کہ ان دفعات کے درمیان تصادم دور ہوجائے۔ عدالت نے یہ معاملہ پارلیمنٹ کے سپرد کرکے درحقیقت اپنی دستوری ذمہ داری پوری کرنے سے گریز کیا ہے۔

ثانیاً: عدالت نے کئی مواقع پر دستور کی دو دفعات کے درمیان پایا جانے والا ظاہری تعارض رفع کیا ہے۔ چنانچہ کبھی عدالت ایک دفعہ کو عام اور دوسری کو خاص قرار دے کر عام کی تخصیص کردیتی ہے، اور کبھی ایک کو مطلق اور دوسری کو مقید قرار دے کر مطلق کو مقید پر محمول کر دیتی ہے۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر عدالت نے دستور کی ایک دفعہ کو اس بنیاد پر معطل بھی کیا ہے کہ یہ دستور کی ایک دوسری دفعہ سے متصادم ہے۔ مثال کے طور پر دستور کی دفعہ 209 کی ذیلی دفعہ 7کے تحت قرار دیا گیا ہے کہ اعلی عدالتوں سے ججوں کو صرف سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے ہی کے ذریعے برطرف کیا جاسکتا ہے۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے جب وفاقی شرعی عدالت بنائی تو دستور میں آٹھویں ترمیم کرکے دفعہ 203 سی کی ذیلی دفعہ 5 میں قرار دیا کہ اگر ہائی کورٹ کے کسی جج کو شریعت کورٹ ٹرانسفر کیا جائے اور وہ وہاں چارج لینے سے انکار کرے تو اسے اپنے عہدے سے برطرف سمجھا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے ججز کیس (1996ء) میں طے کیا کہ اس مؤخر الذکر دفعہ پر عمل نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ دستور کی اصل دفعہ 209 سے متصادم ہے، اور موجودہ پارلیمنٹ دستور میں ایسی ترمیم نہیں کرسکتی جو دستور کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی لائے، کیونکہ اس پارلیمنٹ کے پاس قانون ساز ی کا اختیار تو ہے لیکن نئی دستور سازی کا اختیار اس کے پاس نہیں ہے۔ اس فیصلے کے بعد دفعہ 203 سی کی ذیلی دفعہ 5دستور میں موجود رہی، لیکن عملاً غیر مؤثر رہی، تاآنکہ 2010ء میں اٹھارویں دستوری ترمیم کے ذریعے اسے دستور سے نکال دیا گیا۔

ثالثاً: قرارداد مقاصد کو دفعہ 2 الف کے ذریعے دستور کا باقاعدہ حصہ بنانے کے پیچھے واحد سبب یہی تھا کہ سپریم کورٹ نے ضیاء الرحمان کیس (1973ء) میں طے کیا تھا کہ دستور کا دیباچہ ہونے کی وجہ سے اسے دستور کے متن پر فوقیت نہیں دی جاسکتی۔ چاہیے یہ تھا کہ عدالت mischief rule کے تحت قرار دیتی کہ پارلیمنٹ نے قرارداد مقاصد کو اس لیے دستور کا باقاعدہ حصہ بنایا ہے کہ وہ اسے دستور کی دیگر دفعات پر فوقیت دینا چاہتی ہے۔ اگر باقاعدہ حصہ بنادینے کے بعد بھی اس کی حیثیت میں کوئی فرق نہیں آیا تو پھر اس ترمیم کی ضرورت کیا تھی؟ یہ تعبیر قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ مجلس قانون ساز کی طرف بےفائدہ اور لغو کام کی نسبت نہیں کی جائے گی۔

رابعاً: اگرچہ عدالت نے قرار دیا ہے کہ دستور کی ایک دفعہ کو دوسری دفعہ پر فوقیت نہیں دی جاسکتی لیکن عملاً ہوا یہ ہے کہ دفعہ 45 کو دفعہ 2 الف پر فوقیت دے دی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب عدالت نے ان دفعات کے درمیان تصادم کے اعتراف کے باوجود اس تصادم کو دور نہیں کیا تو گویا اب ایک ہی کام ایک دفعہ کے تحت جائز اور دوسری دفعہ کے تحت ناجائز ہے۔ اگر صدر نے قصاص کے مقدمے میں اولیاء الدم کی مرضی کے بغیر قاتل کو معاف کیا تو کیا یہ فعل اس کے لیے جائز ہوگا؟ دفعہ 2 الف کے تحت وہ اس کام کا اختیار نہیں رکھتا، جبکہ دفعہ 45 کے تحت اس کا یہ اقدام دستور کے عین مطابق ہوگا!

دراصل عدالت اس مسئلے کو اس وجہ سے حل نہیں کرسکی کہ یہ تصادم صرف دو دفعات کے درمیان نہیں ہے، بلکہ درحقیقت تصادم دو مختلف نظام ہائے قانون کے اصولوں کے درمیان ہے جن کو مصنوعی طریقے سے ایک جگہ سمونے کی کوشش کی گئی ہے۔ بہ الفاظ دیگر، اصل مسئلہ دو مختلف نظام ہائے قانون کے اصولوں کے درمیان تلفیق کا ہے۔ دفعہ 45 میں مذکور اصول دراصل انگریزی دستوری قانون کے ایک قاعدے کا لازمی نتیجہ ہے۔ وہ قاعدہ یہ ہے کہ ریاست حاکمیت اعلی کی حامل ہے۔ ظاہر ہے کہ حاکمیت اعلی پر کوئی قدغن نہیں لگائی جاسکتی۔ نیز چونکہ حاکمیت اعلی ہی عدل اور قانون کا سرچشمہ ہے، اس لیے حاکمیت اعلی کے حامل کی جانب سے کیا گیا ہر کام جائز ہوتا ہے، (The king can do no wrong!)۔ ریاست کا سربراہ ریاست کی حاکمیت اعلی کا مظہر ہوتا ہے، اس لیے اس کے پاس عفو کا یہ مطلق اختیار ہوتا ہے۔ برطانیہ اور پاکستان میں وزیراعظم حکومت کا سربراہ ہوتا ہے جبکہ ریاست کی سربراہی برطانیہ میں ملکہ کے پاس اور پاکستان میں صدر کے پاس ہوتی ہے۔ چنانچہ برطانیہ میں عفو کا یہ اختیار ملکہ کے پاس اور پاکستان میں صدر کے پاس ہوتا ہے۔ امریکہ میں صدر بیک وقت ریاست کا بھی سربراہ ہوتا ہے اور حکومت کا بھی، اس کے باوجود وہاں یہ اختیار صدر ہی کے پاس ہوتا ہے۔ دوسری طرف قرارداد مقاصد کے پہلے پیرا میں قرار دیا گیا ہے کہ حاکمیت اعلی اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ چنانچہ اصل میں تصادم دو جزئیات کے درمیان نہیں بلکہ دو بنیادی قواعد کے درمیان ہے۔ شاید عدالت اس تصادم کو اس وجہ سے دور نہیں کرسکی کہ وہ خود اس معاملے میں تذبذب یا الجھن کا شکار تھی۔ خود قرارداد مقاصد کے متن سے ظاہر ہے کہ اس کا مسودہ لکھنے والے بھی اسی الجھن میں مبتلا تھے کیونکہ اس میں ایک طرف اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلی کا اعلان کیا جاتا ہے اور دوسری طرف ریاست پاکستان کے لئے sovereign rights جیسی تراکیب بھی استعمال ہوئی ہیں۔
ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے، کلیسا مرے آگے!

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.