آواز دوست، حاصل مطالعہ - اسامہ عبدالحمید

مختار مسعود کی عمدہ نثر کا بہت شہرہ سنا تھا۔ مطالعہ کے حوالے سے بات ہوتی تو اردو دان احباب استفسار کرتے کہ تم نے مختار مسعود کی کون سی کتاب پڑھ رکھی ہے؟ اس پر جس شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا اس کو مٹانے کا موقع راولپنڈی میں ہاتھ آیا۔ دو سال قبل کمرشل مارکیٹ میں مٹر گشت کرتے ہوئے ایک دکان پر "آواز دوست" نظر آئی۔ ہم نے جھٹ بٹوہ نکالا، قیمت ادا کی اور کتاب بغل میں دبائے واپس پہنچ گئے۔ ہاسٹل آ چکنے کے بعد اس زمانے میں خریدی گئی دیگر کتب کی طرح آواز دوست کی قسمت میں بھی بریف کیس کی قید بلامشقت ہی لکھی تھی۔

دو سال یہ بریف کیس میں قید رہی اور ہم غم دوراں میں۔ گزشتہ ستمبر میں جب وطن اصلی کو ہجرت کی تو دیگر سامان کے علاوہ کتب سے بھرے 3 بیگ بھی ہمراہ تھے۔ گھر پہنچ کر ان کتابوں کے لیے الماریاں خالی کی گئیں۔ تقطیع اور ترغیب کے لحاظ سے کتابوں کو سجانے کا کام شروع ہوا تو کئی کتب برآمد ہوئیں جنھیں خرید کر ہم حرف غلط کی مانند بھلا ہی چکے تھے۔ الماریوں کی زینت بننے کے بعد صبح شام ان پر نظر پڑتی اور دل و دماغ میں ان کے مطالعہ کے منصوبے از سر نو تشکیل پانے لگتے۔

دسمبر میں شورش کاشمیری مرحوم کی "تحریک ختم نبوت" پڑھی کہ اس حوالے سے موجودہ کشمکش کے ہنگام مطالعہ کی تشنگی محسوس ہو رہی تھی۔ اس کے بعد دو ایک انگریزی ناول زیر مطالعہ رہے، مولانا حالی کی شہرہ آفاق مسدس پڑھ لی۔ اب باری آئی مختار مسعود صاحب کی "آواز دوست" کی۔ 27 دسمبر کی شام اس کو پڑھنا شروع کیا تو دوسرے صفحے تک پہنچتے پہنچتے یہ احساس مضبوط تر ہوگیا کہ ہائی لائٹر کے بغیر اس شاہ کار کا مطالعہ خود اپنے ساتھ زیادتی ہوگی۔ چنانچہ 2 دن بعد ہائی لائٹر کے ہمراہ دوبارہ کتاب کا مطالعہ شروع ہوا۔

"آواز دوست" بنیادی طور پر دو مضامین کا مجموعہ ہے۔ پہلا مختصر اور دوسرا قدرے طویل تر۔ "مینار پاکستان" کے عنوان سے لکھا گیا پہلا مضمون کئی تحریکوں اور تہذیبوں کا اختصاریہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ مختار مسعود اپنے قاری کو منٹو پارک میں لا کھڑا کرتے ہیں جہاں تحریک پاکستان کی کوئی یادگاری علامت قائم کرنے کی بحث چل رہی ہے۔ ایک مینار ایستادہ کرنے پر اتفاق ہوتا ہے اور بنیادیں بھرنے کا کام شروع ہوتا ہے تو مصنف اپنے قاری کو ہمراہ لے کر تخیلاتی پرواز کے ذریعے مینار کی تاریخی اہمیت کریدنے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ اہرام مصر سے ہوتا ہوا یہ قافلہ اندلس کے مٹے ہوئے میناروں کے کھنڈرات میں مسلم تہذیب کے نقوش کھنگالتا، وسط ایشیا کے میناروں سے کائی کھرچتا، شام و فلسطین کے عظیم میناروں سے گزرتا دوبارہ برعظیم آ ڈیرہ ڈالتا ہے جہاں اسے مغلوں کے فن تعمیر کے شاہ کار مینار دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں وہ مینار بھی ہیں جو مٹی اور ریت سے تعمیر ہوئے اور وہ بھی کہ جو دشمن کے سر کاٹ کر کھڑے کیے گئے۔ یہیں اس کا سامنا شیخوپورہ کے ہرن مینار اور فیصل آباد کے چوک مینار سے بھی ہوتا ہے۔ اس سفر میں مختار مسعود اپنے لکھاری کو مینار کی روایت، اس کے مقاصد اور مختصر تاریخ سے بھی آگاہ کرتے ہیں۔ انھوں نے اسے دفاعی ضرورت، علامتی نشان اور دین کا ستون وغیرہ وغیرہ قرار دیا۔ چہ عجب کہ اگر مختار مسعود آج زندہ ہوتے تو مساجد کے ہمیشہ سے زیر تعمیر اور ہمیشہ زیر تعمیر رہنے والے میناروں کو روزی کا بہترین ذریعہ بھی قرار دیتے۔

دوسرا مضمون طویل تر ہے جسے "قحط الرجال" کا عنوان ملا ہے۔ مختار مسعود کی آٹو گراف البم اس مضمون کی تحریر میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ مضمون دراصل درجن بھر خاکوں کا مجموعہ ہے۔ ان میں مصنف نے مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے کئی بڑے آدمیوں کا تعارف کروایا ہے۔ کئی خاکوں میں وہ ان بڑے آدمیوں کے اوصاف جمیلہ کی توصیف کے ساتھ ساتھ ان کی خامیوں پر بھی نقد کرتے ہیں۔ دور سے کسی شخصیت کو عظیم جان کر مصنف آٹوگراف لینے کی تمنا لیے اس کے قریب جاتے ہیں تاہم یہ قربت تصویر کا کوئی ایسا رخ سامنے لے آتی ہے کہ صاحب کتاب کا ارادہ بدلتا ہے اور آٹوگراف البم ان کی جیب ہی میں پڑی رہ جاتی ہے۔ اس مضمون کا سب سے دلچسپ اور بار بار پڑھنے کے لائق حصہ وہ ہے جس میں مختار مسعود ممتاز برطانوی مورخ آرنلڈ ٹائن بی کے ساتھ اپنی ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے تہذیبوں کے ارتقاء اور زوال کے حوالے سے ٹائن بی کے نظریات کا موازنہ دیگر ماہرین عمرانیات کی آراء کے ساتھ کرتے ہیں۔ یہ حصہ پڑھتے ہوئے قاری جان پاتا ہے کہ تہذیبیں کیونکر جنم لیتی ہیں اور کون سے عوامل انہیں فنا کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ اس تحریر کے آئینے میں ہم اپنا اجتماعی چہرہ دیکھ کر کسی حد تک یہ تجزیہ کرنے کے قابل بھی ہوجاتے ہیں کہ آیا پاکستانی معاشرہ بالخصوص اور عالم اسلام بالعموم، فی زمانہ کسی تہذیب کے حامل ہیں بھی یا نہیں۔ اور اگر ہیں تو یہ تہذیب یا تہذیبیں ارتقاء یا تنزل کی کس سطح پر ہیں۔

"قحط الرجال" کے عنوان کو مصنف نے اپنی آٹوگراف البم کے ساتھ جوڑا ہے۔ تحریک پاکستان کے دنوں میں کہاں یہ صورتحال تھی کہ رہنماوں اور بڑی شخصیات کا جم غفیر تھا۔ متوالے ایک کے بعد دوسرا آٹوگراف لیتے لیتے اپنی بک ختم کر دیتے تھے۔ اور کہاں اب یہ صورتحال ہے کہ مصنف کی آٹوگراف البم آدھی خالی پڑی ہے۔ وہ مارا مارا پھرتا ہے لیکن کوئی شخصیت اس قابل نہیں نظر آتی کہ اس کے دست خط آٹوگراف البم کی زینت بن سکیں۔ شاید ناقدری کی سزا ہی کے طور پر قدرت نے قحط الرجال عالم اسلام اور بالخصوص پاکستان پر مسلط کر دیا ہے۔

Comments

اسامہ عبدالحمید

اسامہ عبدالحمید

اسامہ عبدالحمید انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی کے طالب علم ہیں، انگریزی ادب میں بی ایس تکمیل کے مراحل میں ہے۔ فیچر رائٹر ہیں۔ دلیل کےلیے لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.