"سیاست میں بدزبانی" اور بیٹیوں کی اچھلتی عزت - ابوبکر قدوسی

اب شاید یہ بات زیادہ اہم نہیں رہ گئی کہ کس نے کیا کہا، اہمیت زیادہ یہ ہوگئی ہے کہ کس نے زیادہ کچھ کہا.

آغاز جانے کب ہوا لیکن برصغیر کی معلوم تاریخ میں سیاست کا سیاہ دن تب تھا کہ برصغیر کے مہذب اور باوقار ترین مولانا ابوالکلام آزاد کی ٹرین جب علی گڑھ کے سٹیشن پر رکی. مولانا کہ مخالف کی گالی کا جواب بھی نہ دیتے تھے، اس روز مگر ان کے ساتھ عجیب ہی ہوا. جانے کیسے علی گڑھ کالج کے لڑکوں کو خبر مل گئی کہ آپ اس گاڑی میں یہاں سے گزر رہے ہیں. بہت سے لڑکوں کا ہجوم گاڑی میں گھس گیا. وہ مولانا پر ناراض تھے، ایک نے تو حد ہی کر دی، اس نے اپنا پاجامہ مولانا کے سامنے کھڑے ہو کر اتار دیا. اور جانے کون سا "پرچم" لہراتا رہا. حادثہ مگر یہ نہ تھا، حادثہ تو اگلے روز ہوا کہ جب ہندستان بھر کے اخبارات مذمت سے بھرے ہوئے تھے، مگر مسلم لیگ کا نمائندہ اخبار "ڈان" تہذیب کا بھی "ڈان" بنا ہوا اس عمل کا دفاع کر رہا تھا، اور ان طالب علموں کی تحسین. جی یہ مسلم سٹوڈنٹ فیڈریشن کے طلبہ تھے.
حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا
لوگ ٹھہرے نہيں حادثہ دیکھ کر

اور یہ روایت پھر ترقی پذیر ہوگئی. "ازل ازل سے زندہ بھٹو" کی پارٹی نے اس میں ایسے ایسے طریقے ایجاد کیے کہ شرافت اپنا منہ چھپاتی پھری. ایک بار نیم برہنہ طوائف کی تصویر پر مولانا مودودی کی تصویر کا سر کاٹ کر چسپاں کیا اور اپنے اخبار میں چھاپ دیا، اور پھر بھی موصوف قائد عوام ہی رہے، شاید اب عوام بھی ایسی ہی تھی.

مکافات عمل سے کس کو مفر ہے؟ عزت کس کی نہیں ہوتی اور بیٹیاں کس کے گھر نہیں بستیں؟ بھٹو گردی کی سزا ان کی بیٹی کو ملی، جب ان کی کہانیاں گھر گھر پھیلا دی گئیں. بےنظیر بھٹو اسمبلی میں بیٹھی ہوئی تھیں، اور شیخ رشید صاحب ان کے ساتھ والی رو میں ان کے بالمقابل بیٹھے تھے، ایک دم ہنگامہ سا ہوگیا. شیخ نے ایسی بات کی کہ بی بی بھڑک اٹھیں. بندہ کیا لکھے، واقفان حال جانتے ہیں کہ کیا کہا تھا. گھٹیا ترین بات، مگر افسوس اس پر کوئی ایکشن لینے کے بجائے موصوف کی تحسین کی گئی کہ تب آپ جناب مسلم لیگ کی ناک کی نتھلی تھے.

یہ بھی پڑھیں:   تیسر ا امپا ئر کیو نکر انگلی اٹھا ئے گا؟ عارف نظامی

تاریخ کا سفر کب رکتا ہے، اب کے باری تھی میاں صاحب کی. مریم نواز شریف کے نام سے منسوب قصے بازار کی زینت ہوئے. جو میاں صاحب نے اپنے مخالفین سے کیا تھا، ان سے ہو رہا تھا.

ماضی میں مگر یہ سب "سینہ گزٹ" میں چھپتا تھا، آنکھوں ہی آنکھوں میں کہا جاتا اور سرگوشیوں میں سنا جاتا. اب مگر ایک نئی بلا بھی میدان میں تھی جس کو "سوشل میڈیا" بولا جاتا ہے.

اس میں ایک کی بورڈ ہوتا ہے، ایک لکھنے والا ہوتا ہے، اور اس کو کوئی روکنے والا نہیں ہوتا. اب یہاں گلی کے ہر کونے میں کوئی نہ کوئی ''بابا کوڈا'' کھڑا ہے. عمران خان کا ماضی اس کی کمزوری تھا، مگر اس کو احساس نہیں تھا، یا شاید ادراک نہیں. اس کی زبان نے اس کی جماعت کے لڑکوں کو کھلی چھوٹ دے رہی تھی. بات یہاں تک رہتی تو شاید بہت سے قصے سربازار نہ آتے.

عمران خان کی بیٹی کا قصہ ایسا اچھالا گیا تو جواب میں میاں صاحب کی بیٹی چادر کیسے بچ سکتی تھی.گند ہے سو خوب اچھل رہا ہے. سوال یہ نہیں کہ کون زیادہ دوسرے کی عزت اچھال رہا ہے؟ سوال یہ ہے کہ یہ "عزت دار" لوگ ہمارے پاکستان کی قیادت ہیں؟

مجھے بتائیے کہ کس روز ان لیڈروں نے کھل کے اپنے کارکنوں کو روکا ہو کہ جو چاہو سو کہو مگر خبردار کسی کی بیٹی کی عزت نہیں اچھلنی چاہیے. عمران خان کی مبینہ بیٹی اگر پاکستانی ہوتی تو کیا ممکن نہ تھا کہ خود کشی کر چکی ہوتی کہ اس کی "عزت افزائی" ہی اتنی کر دی آپ نے. قصور اس کے "باپ" کا تھا اس کا تو نہیں، وہ کسی کی غلطی سے دنیا میں آئی، اپنی مرضی سے تو نہیں.

مجھے بتائیے کہ مریم نواز کی بیٹی کی پیدائش اور اس کی ماں کی شادی کی تاریخیں لے لے کر فرق ڈھونڈنے والے اس کی بیٹی کی عزت کو کس جرم میں خاک تلے آلودہ کر رہے ہیں. اس تمام معاشرے میں کون ہے کہ جو سینے پر ہاتھ رکھ کے کہہ سکتا ہے کہ اس کے خاندان میں کبھی ایسا کوئی "حادثہ" نہیں ہوا، اور کون ہے کہ جس کو تنہائی میں موقع ملے تو "حضرت یوسف" بن جائے.

یہ بھی پڑھیں:   ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی انکوائری: سابق سفیر کی گواہی کے دوران امریکی صدر کی ٹویٹ

چلتے چلتے پھر وہی بات کروں گا کہ اس تمام تر گند اور غلاظت کے اصل مجرم یہی ہمارے لیڈر ہیں کہ جو اپنے کارکنان کے ہاتھ سے مخالف کی عزت اچھلنے پر خود بھی خوشی سے اچھلتے ہیں، مگر ان کے اپنے گھر کے پچھلے کمپاؤنڈ میں دوسری کہانی پنپ رہی ہوتی ہے.