ایک سرکش قوم جوصفحہ ہستی سے مٹ گئی - مولانا محمد جہان یعقوب

قوم عاد بڑی طاقتور قوم تھی۔ 40 ہاتھ قد ، 800 سے 900 سال کی عمر، بوڑھے ہوتے نہ بیمار، دانت ٹوٹتے نہ نظر کمزور ہوتی، جوان تندرست و توانا رہتے۔ بس انھیں صرف موت آتی تھی۔ اور کچھ نہیں ہوتا تھا۔

ان کی طرف اللہ تعالی نے حضرت ہود علیہ السلام کو بھیجا۔ انھوں نے ایک اللہ کی دعوت دی۔ اللہ کی پکڑ سے ڈرایا۔ مگر وہ بولے:
”اے ہود! ہمارے خداؤں نے تیری عقل خراب کر دی ہے۔ جا جا اپنے نفل پڑھ۔ ہمیں نہ ڈرا۔ ہمیں نہ ٹوک۔ تیرے کہنے پر کیا ہم اپنے باپ دادا کا چال چلن چھوڑ دیں گے۔ عقل خراب ہوگئی ہے تیری۔ جا جا اپنا کام کر۔ آیا بڑا نیک چلن۔ تیرے کہنے پر چلیں تو ہم تو بھوکے مر جائیں گے۔“
انھوں نے شرک، ظلم اور گناہوں کے طوفان سے اللہ کو للکارا۔ تکبر اور غرور میں بد مست بولے:
فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُ‌وا فِي الْأَرْ‌ضِ بِغَيْرِ‌ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ۖ أَوَلَمْ يَرَ‌وْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً ۖ وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ ﴿١٥﴾
”اب قوم عاد نے تو بےوجہ زمین میں سرکشی شروع کردی اور کہنے لگے ہم سے زور آور کون ہے؟ کیا انہیں یہ نظر نہ آیا کہ جس نے اسے پیدا کیا وہ ان سے (بہت ہی) زیادہ زور آور ہے، وہ (آخر تک) ہماری آیتوں کا انکار ہی کرتے رہے۔“

کوئی ہے ہم سے زیادہ طاقتور تو لاؤ نا؟ ہمیں کس سے ڈراتے ہو؟
انھوں نے اللہ کی قوت و طاقت کو للکارا۔ پھر اللہ نے قحط بھیجا۔ بھوک لگی، سارا غلہ کھاگئے، مال مویشی کھا گئے۔ حرام پر آگئے، چوہے بلی کتے کھاگئے، سانپ کھاگئے۔ درخت گرا کر اس کے پتے کھا گئے۔ پر بھوک نہ مٹی۔ بارش ہوئی نہ قطرہ گرا نہ غلہ اُگا۔ پھر آخر کار اپنا ایک وفد بیت اللہ بھیجا۔ ان کا دستور تھا کہ جب مصیبت آتی تو اوپر والے کو پکار اٹھتے۔ جب دور ہوجاتی تو اپنے بتوں کو پوجنے لگتے۔ بیت اللہ وفد گیا اور کہا کہ ہمارے لیے اللہ سے دعا کرو کہ بارش برسائے۔ تو اللہ نے3 بادل پیش کیے: کالا، سفید، سرخ
ایک غیبی آواز آئی، ان میں سے ایک کا انتخاب کرو۔ تو انھوں نے سوچا کہ سرخ میں تو ہوا ہوتی ہے، سفید خالی ہوتا ہے، جبکہ کالے میں پانی ہوتا ہے، تو کالا مانگا، اور خوشی خوشی واپس آئے۔

سب لوگ ایک میدان میں جمع ہوئے، بادل آیا تو ناچنے لگے کہ اب بارش ہوگی، قحط مٹے گا اور کھانے کو ملے گا۔ مگر انھیں کیا پتا تھا کہ وہ بارش نہیں اللہ کا عذاب ہے۔ جو وہ ہودؑ سے کہتے تھے کہ :
”لے آ! جس سے ہم کو ڈراتا ہے۔“

اس بادل مین ایسی تند و تیز ہوا تھی کہ جس نے ان کو اٹھا مارا، ان کے گھر اڑا دیے، 40 ہاتھ کے قد آور لوگ تنکوں کی طرح اڑ رہے تھے۔ ہوا ان کے سروں کو اتنی زور سےٹکراتی کہ ان کے بھیجے نکل نکل کر منہ پر لٹک گئے۔ اور نچلا دھڑ علیحدہ ہو کر یوں پڑا تھا جیسے کھجور کا تنا۔ بعض لوگ بھاگ کر غار میں گھس گئے کہ یہاں تو ہوا نہیں آ سکتی، مگر میرے رب کا حکم ہو کر رہتا ہے۔ہ وا غار میں بگولے کی طرح داخل ہوتی اور ان کو باہر اٹھا کر پھینک دیتی۔
اللہ نے فرمایا:
فھل تری من باقیہ
”کیا کوئی باقی بچا ہے؟“

اللہ تعالی نے ان کو ہلاک کر کے دکھایا کہ جب تم اللہ کی اس کے رسول کی نافرمانی کروگے، اللہ تم پر ایسی جگہ سے عذاب بھیجے گا جہاں سے گمان بھی نہ ہوگا۔ جو گناہ قوم عاد نے کیا۔ کیا وہ ہم نہیں کر رہے؟ کیا ہم اللہ کی حدوں کا پار نہیں کر گئے؟ کیا ہم نے اللہ کو اپنی نافرمانی سے نہیں للکارا ہوا ہے؟ توبہ کرو! اللہ سے ڈرو، قرآن پڑھو! جن گناہوں کو ہم معمولی سمجھتے ہیں، اللہ نے ان گناہوں پر پوری پوری قومیں زمین بوس کر دی ہیں۔

Comments

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب فاضل درس نظامی ہیں، گزشتہ بارہ سال سے جامعہ بنوریہ عالمیہ سے شائع ہونے والے اخبارکے ادارتی صفحے کی نگرانی کے ساتھ ساتھ تفسیر روح القرآن کے تالیفی بورڈ کے رکن رکین اور تخصص فی التفسیر کے انچارج ہیں، مختلف اداروں کے تحت صحافت کا کورس بھی کراتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.