گھوڑے کے کوڑے جتنی زمیں اور مسجدِ اقصیٰ - حافظ یوسف سراج

گذشتہ کالم میں پیش گئی 8 آیات نے بتایا، مسجد اقصیٰ سیاسی نہیں مذہبی مسئلہ ہے ، آج رسولِ اطہرؐ سے بھی یہ مسئلہ جان لیجئے ، مستدرک حاکم میں ہے۔ سیدنا ابو ذر غفاری ؓ فرماتے ہیں ، ہم یہ تذکرہ کر رہے تھے کہ آیا مسجدِ نبوی افضل ہے یا مسجدِ اقصیٰ؟ سرکار نے فرمایا ، میری مسجد میں نماز ادا کرنا ، مسجدِ اقصیٰ میں نماز پڑھنے سے 4 گنا زیادہ باعث ِ اجر ہے ، البتہ کیا ہی خوب ہے ، وہ مسجد ، یعنی مسجدِ اقصیٰ! فرمایا ، وقت آئے گا کہ گھوڑے کی رسی جتنی ایسی زمیں کہ جہاں سے مسجدِ اقصیٰ دیکھی جا سکے ، دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے بیش قیمت ہو گی۔ ایک اور ارشادِ گرامی ہے، مسجدِ حرام، مسجدِ نبوی اور مسجدِ اقصیٰ کے علاوہ ثواب کی نیت سے کسی بھی مقام کے لیے بہ اہتمام سفر کرنا جائز نہیں۔ یعنی مسجد اقصیٰ زمین پر تین بنیادی مساجد میں سے ایک ہوئی۔ اب سوچیے، صحابہ کرام بصد شوق جس مسجدکے تذکرے کریں، جس مسجد کو نظر بھر کے دیکھ لینے جتنی زمیں پا لینا دنیا کی تمام پراپرٹی اور جملہ دنیاوی خزانوں سے بیش قیمت ہو، اور جسے زبانِ نبوت سے’ کیا خوب ہے وہ مسجد !‘ کا اعزاز ملا ہو، جہاں ایک نماز اڑھائی سو نماز کے برابر ہو ، تو اس مسجد کا مسئلہ کیا مسلمانوں کا مذہبی مسئلہ نہیں؟ سنن نسائی اور ابنِ ماجہ میں ارشادِ ہے، مسجد اقصیٰ بنا لینے کے بعد تین دعائیں سیدنا سلیمان ؑنے کیں ، عرض کی مولا ! انصاف پر مبنی قوتِ فیصلہ دے ، جو کبھی کسی کو نہ مل سکے ، وہ سلطنت دے اور خاص طور پر اس مسجد میں نماز ادا کرنے کیلئے آنے والے کو اس کے جنم دن کی طرح گناہوں سے پاک فرما دے ۔‘‘ ظاہر ہے ، قرآن کے بعد حدیث سے بھی یہی آشکار کہ مسجد اقصیٰ علاقائی یا زمینی نہیں مسلمانوں کا مذہبی مسئلہ ہے۔

کالم میں آیت لکھی گئی کہ تم اہلِ کتاب کے قبلے کو ، اور وہ تمھارے قبلے کو نہیں مانیں گے ، مکرم بھائی بھلا اس سے کیا ثابت ہوا؟ یعنی یہ کہ ہم مسجد اقصیٰ کی عظمت اور ملکیت ہی سے بے وفائی کر گزریں؟ طلاق کے بعد شوہر اپنی بیوی کا شوہر نہ رہے تو کیا اس کی آڑ میں یہ بھی مان لیا جائے کہ اب وہ شوہر انسان یا با صلاحیت انسان بھی نہیں رہا؟ حیرت ہے پہلے مسجد اقصیٰ کی کلی حیثیت کا انکار کر دیا گیا ، اور پھر اس کی حدود طے کرنے کی بھی ضرورت آن پڑی؟ بھئی جب وہ ہماری ہے ہی نہیں تو پھر اس سے کیا حاصل کہ کتنی ہے؟ خیر یہ بھی سہی۔ قصہ یہ ہے کہ جب سے مسجد اقصیٰ بنی ہے ، یہ مسجد ہی ہے۔ حدیث میں ہے کہ یہ بیت اللہ کی تعمیر کے چالیس سال بعد تعمیر ہوئی ۔ دوسری حدیث آپ اوپر پڑھ آئے ،کہ مسجد ِ نبوی میں پڑھی گئی نماز مسجد اقصیٰ میں پڑھی گئی نماز سے چار گنا زیادہ اجر والی ہے۔ تیسری میں فرمایا، سیدنا سلیمان ؑ نے مسجد اقصٰی تعمیر فرمائی تو تین دعائیں کیں۔ ادھر قرآن مجید میں آیتِ معراج میں بھی اسے مسجدِ اقصیٰ ہی کہا گیا۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کہیں بھی اللہ اور اس کے رسول نے اسے معبد، کنیسا یاسادہ عبادت گاہ نہیں کہا ،جہاں کہا ، التزام سے مسجد کہا، یہ کون نہیں جانتا کہ مسجد وہ ہوتی ہے، جہاں سجدہ کیا جائے، جبکہ ادھر عالم یہ ہے کہ یہود کی عبادت میں سجدہ سرے سے ہوتا ہی نہیں ۔گویا اللہ اور اس کے رسول کی منشا میں یہ مسجد ہے، اب اگر مسجد ہے تو پھر مسلمانوں کی، اور پھر ظاہر ہے کہ اگر مسجد ہے تو حضرت آدم و سیدنا سلیمان ؑ کی تعمیر کی گئی تمام حدود پر قائم مسجد ہے۔ آج تک اس کی حدود میں کمی بیشی نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:   میں فلسطین ہوں - عصمت اسامہ

رہا مسئلہ سیدنا عمرؓ اور کعب الاحبار کا تو اگر سیدنا عمرؓ اس کی ساری حدود کو مسجد نہ سمجھتے تو یہ کیوں پوچھتے کہ اس کے احاطے میں نماز کہا ں پڑھی جائے؟ یا وہ مسجد سے باہر بھی کہیں نماز پڑھنے کا سوچ رہے تھے؟ رہی عمارتِ عمرؓ ، تو بندہٌ خدا کیا سارے رقبے پر عمارت بنانا ممکن تھی؟ چنانچہ اگلے حصے میں عمارت بنا دی گئی۔ تو کیا یہ بھی کبھی ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طے کردہ حدود ِ مسجد میں سے جتنے حصے پر چھت ڈال دی جائے ، اس کے علاوہ کا تمام حصہ مسجد ہی نہ رہے؟ کتنی عجلت میں ابن تیمیہ کا قول سمجھے بغیر شامل کر لیا گیا۔ وہ تو صاف لکھتے ہیں ساری بنائے سیدنا سلیمان ؑ مسجد اقصیٰ ہے۔ ابن ِ تیمیہ نے یہ کہاں فرمایا کہ باقی حصہ مسجد نہیں، یہی فرمایا نا کہ تمام احاطے میں نماز پڑھنے کا یکساں ثواب ہے، سوائے اس جگہ کے جہاں سیدنا عمر ؓ نے عمارت بنائی۔ اس کے علاوہ کسی ایک حصے کو دوسرے پر برتری حاصل نہیں۔ مثلا کوئی کہے بیت اللہ میں مقامِ ابراہیم پر نماز ادا کرنا افضل ہے، البتہ باقی مطاف کے کسی حصے کو دوسرے پر فضیلت نہیں ، تو کیا یہ ثابت ہو جائے گا کہ سوائے مقامِ ابراہیم کے باقی مطاف بیت اللہ کا حصہ ہی نہیں رہا؟ کہا گیا، مسجد اقصیٰ حرم نہیں ، ہاں بھائی حرم بس دو ہیں ، بیت اللہ اور مسجد نبوی کہ وہاں کے آداب مثلاً شکار نہیں کھیلا جا سکتا وغیرہ یہاں لاگو نہیں ہوتے، تو اس سے یہ کیسے طے ہو گیا کہ اب مسجدِ اقصیٰ کی ساری عظمت ہی تمام شد؟ کہا گیا قبۃ کی کسی نے تعظیم نہیں کی اور نہ اس کے فضائل ہیں۔ تو؟ یہ تو ایسے ہی ہے کہ کوئی کہے فلاں مسجد میں آیا مگر اس نے مسجد کی فلاں عمارت یا دیوار کو تعظیم نہیں دی ، بھلا مسجد کی عمارت کے کسی خاص حصے کو الگ سے کیوں تعظیم دی جائے ، جب اس کی کو ئی تعظیم ثابت نہ ہو۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی کیسے نکل آیا کہ چونکہ فلاں نے مسجد کے ہر ہر حصے کو باقاعدہ تعظیم نہیں دی، اس لئے اس کے نزدیک یہ حصہ مسجد بھی نہیں؟ پھر زمینی حقیقت یہ کہ نسل در نسل آج تک فلسطینی پورے احاطے کو مسجد سمجھتے ہیں، مسجد عمر اگلے حصے میں ہے، سنہرا گنبد پچھلے حصے میں، اگلے حصے میں مرد جبکہ آج کل پچھلے حصے میں خواتین نماز پڑھتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   حماس کی اسرائیل کے خلاف تازہ فتح کیسے ممکن ہوئی؟ عبدالمنعم

رہا فلسطینی موقف؟ مسجد اقصیٰ کے امام عکرمہ صبری صاحب پاکستان تشریف لائے تو ان کا موقف جانا، ابھی پچھلے دنوں انھوں نے خاکسار کے ادارے کے ٹی وی سے بات کی، ان کا موقف بہت واضح ، دو ٹوک اور ریکارڈ پر ہے، وہ سیدنا عمر ؓ کی تعمیر کردہ مسجد اور قبۃ الصخرہ سمیت ساری مسجدِ اقصٰی کو مسجد سمجھتے ہیں، ان کا شکوہ بھی ریکارڈ پر ہے، فرمایا، اگر آج مسلمانوں نے مسجد اقصیٰ دے دی تو کیا ضمانت کل یہ مسجد نبوی اور بیت اللہ بھی دے نہ دیں گے؟

کہا، ولید نے قبہ کا حج شروع کروا دیا۔ یا خدا! کسی بھی کتاب میں لکھی ہر بات اب سوچے بنا تسلیم کر لی جایا کرے گی؟ یعنی آج ہم جیسے گئے گزرے مسلمان تو بیت اللہ کی عصمت کے لیے جان ہتھیلی پر رکھ لیتے ہیں مگر ولید کے اتنے بڑے اقدام پر صحابہ کی آنکھیں دیکھنے والے تابعین نے چپ سادھ لی تھی؟ انھوں نے یہ سب ہونے دیا، یعنی انھوں نے، جن کے زمانے کو سرکار نے خیرالقرون فرمایا؟ ہرگز نہیں ، دراصل یہ ہم ہیں، سرکار کے ارشاد پڑھے بغیر جنھوں نے قومی غصے میں کشمیر کو فلسطین کے ہم پلہ کہہ دیا۔ اور حرفِ آخر یہ کہ ہم فلسطین سے کبھی بھاگ نہیں سکتے۔ سیدہ میمونہ بنت سعد ؓ نے رسول ِ رحمت ؐسے بیت المقدس کی عظمت دریافت کی تو آپ نے اسی بلادِ شام کے متعلق فرمایا، یہیں پر حشر ہوگا اور یہیں پر حساب ہوگا۔ کشمیر ہمارا مسئلہ ہے، کشمیر دل میں بستا ہے۔ فلسطین اور اقصیٰ مگر وہ نہیں کہ کشمیر کا مسئلہ مسلمانوں کا مسئلہ ہے اور فلسطین کا مسئلہ نصِ شرعی کا مسئلہ ہے، ایمان کا مسئلہ ہے۔

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.