امریکی معاشرے میں مذہبی رواداری کا خاتمہ - آصف خورشید رانا

یہ ستمبر 2015کی بات ہے جب امریکہ میں صدارتی انتخابات کی مہم اپنے عروج پر تھی۔ موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی ریاست نیو ہپمشائرایک انتخابی ریلی سے خطاب کررہے تھے۔ ان کے خطاب کے دوران شرکاء میں سے ایک شخص اٹھا اور بلند آواز سے چلایا "اس ملک میں ہمارے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، جسے مسلمان کہا جاتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ہمارا موجوددہ صدر براک اوباما بھی ان میں سے ایک ہے۔ہم جانتے ہیں کہ ان کے بہت سے تربیتی کیمپ ہیں جہاں وہ ہمیں مارنے کے لیے تیاری کرتے ہیں۔ہم کب ان سے نجات حاصل کر سکتے ہیں ؟"

اسی ماہ اسی ریاست میں ڈونلڈ ٹرمپ نے شامی مہاجرین کو امریکہ سے نکالنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ زیادہ تر مسلمان ہیں اور وہ خفیہ آرمی کے لوگ ہو سکتے ہیں۔ اکتوبر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں مساجد کو بند کرنے کے اقدام پر بھی غور کرنے کا کہا۔نومبر میں الاباما میں ہونے والی ریلی کے دوران ٹرمپ نے ٹریڈ ٹاور کی تباہی کے تذکرے کو موضوع بنا کر مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی بھرپور کوشش کی۔ دسمبر میں مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا۔دسمبر میں ہی ایک امریکی ٹی وی انٹرویو کے دوران پوچھا گیا کہ کیا آپ کینیڈا کے اس مسلمان پر بھی داخلے کے لیے پابندی عائد کرتے ہیں جو امریکہ میں بزنس کے لیے آرہا ہے؟ تو جواب تھا کہ مسلمان بیمار ذہن کے لوگ ہیں۔فروری2016میں امریکی صدر براک اوباما نے ایک مسجد کا دورہ کیا اور کہا کہ میں بہت سی جگہوں پر جاسکتا ہوں اور میں نے اس کے لیے مسجد کا انتخاب کیا، جہاں میں اطمینان محسوس کرتا ہوں جس پرٹرمپ نے اوباما کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔مارچ میں کہا گیا کہ اسلام ہم سے نفرت کرتا ہے۔مارچ میں مسلمانوں کی جانب سے اپنے معاملات شریعت کے مطابق چلانے پرتنقید کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کا ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ مسلمان امریکہ کے قانون کی بجائے اسلام پر عمل پیرا ہونا چاہتے ہیں۔یہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کی ہلکی سی جھلک تھی۔ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں اسلام کو ہدف تنقید بنایا اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کو پروان چڑھایا جس کے نتیجے میں مسلمانوں پر تشدد اور حملوں میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اس انتخابی مہم کی جھلک پیش کرنے کا مقصد وہ خبر ہے جو گزشتہ روز تمام اخبارات کی زینت بنی جس میں پاکستان کو ایک نئی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔

امریکی وزارت خارجہ نے پاکستان کو مذہبی آزادی ایکٹ کے تحت ان دس ممالک کی فہرست میں شامل کر لیا ہے جن کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے کہ وہاں لوگوں کو مذہبی آزادی حاصل نہیں ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان کا نام ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جہاں مبینہ طور پر مذہبی آزادیوں کی یا تو سنگین خلاف ورزی کی جاتی ہے یا مذہبی آزادیوں پر قدغن لگائی جاتی ہے۔دنیا کے کئی مقامات پر مذہبی آزادی کے حق کے استعمال یا عقائد پر لوگوں کو غیر منصفانہ طور پر سزائیں دی جارہی ہیں اور قید میں رکھا جا رہا ہے، کئی حکومتیں لوگوں کو اپنے مذہب اور عقیدے کے مطابق چلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ 1998کے بین الاقوامی مذہبی آزادیوں کے قانون کے تحت بنائی گئی اس فہرست میں پاکستان کے علاوہ چین، میانمار، اریٹیریا، ایران، شمالی کوریا، سوڈان، سعودی عرب، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان شامل ہیں۔ترجمان نے کہا کہ دنیا کی بہت سی جگہوں پر لوگوں کو ان کے مذہب اور عقائد کی وجہ سے جبر، تشدداور قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مذہبی آزادیوں کے قانون کے تحت ہر سال امریکی وزیر خارجہ ان ممالک کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں آزادیوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ امریکہ ان ملکوں کے ساتھ تعاون اور کام کرتا رہے گا جو اپنے معاشروں میں مذہبی آزادیوں کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے رہیں گے۔

حیرت ہے کہ امریکہ جیسا ملک، جہاں اس وقت مذہب کی وجہ سے سب سے زیادہ تشدد اور نفرت پھیلائی جارہی ہے وہ مذہبی راواداری کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اگر امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم اور اس کے بعد مختلف واقعات جن میں بیت المقدس کو یہودی ریاست اسرائیل کا دارلحکومت قرار دینا ہے سرفہرست ہے کو دیکھتا تو شاید محسوس ہوتا کہ سب سے زیادہ پابندی کی ضرورت صدر ٹرمپ اور امریکی معاشرے کو ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم ہی نہیں بلکہ بعد میں بھی مسلسل نہ صرف مذہب کی بنیاد پر نفرت پھیلائی بلکہ نسل پرستی کو بھی ہوا دی۔ امریکہ میں سیاہ فام اور سفید فام کے درمیان پھر سے چپقلش کا آغاز ہو چکا ہے۔ امریکہ میں سیاہ فام لوگوں کا کوئی حق نہیں اور امریکہ محض سفید فاموں کا ہے کی تحریک ’’آلٹرنیٹو رائٹ موومنٹ‘‘ پھر سے سر اٹھا رہی ہے۔ ٹرمپ کی صدارت کے بعد’’ امریکہ میں اقلیتوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ‘‘ کا نعرہ پھر سے امریکی معاشرے میں مقبول ہو رہا ہے۔

نائن الیون کے بعد امریکہ محض دویا تین ہزار افراد کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے دس لاکھ سے زیادہ افراد کو ہلاک کر چکا ہے۔ امریکہ کی قیادت میں مختلف اتحادی ممالک نے افغانستان، عراق کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا۔ دنیا بھر میں امریکہ نے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہی نہیں بلکہ ہیلری کلنٹن کی جانب سے داعش کے بنانے کے اعتراف نے بھی امریکی کردار پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی کے اس بیان کے بعد کہ امریکی افواج داعش کے جنگجوؤں کو حملے کرنے میں مدد فراہم کر رہی ہیں یہ ثابت ہوتا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر امریکہ کس حد تک جا سکتا ہے۔

عالمی اداروں کے مختلف سروے رپورٹس بھی ظاہر کررہی ہیں کہ محض مسلمان ہونے کی بنیاد پر امریکہ میں لاکھوں افراد کی زندگیاں غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔ دوسال قبل عالمی ادارے ’’پیو ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے 60فیصد مسلمان اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ امریکی خفیہ ادارے ان کی نگرانی کرتے ہیں ان کا تعاقب کیاجاتا ہے ان کے ٹیلیفون ریکارڈ کیے جاتے ہیں اور انہیں اکثر اوقات مختلف قسم کی تفتیش کا سامنا کرناپڑتا ہے۔ امریکہ کی سڑکوں پر 51سالہ ایک یہودی خاتون کی مہم کا بھی خاصہ چرچا رہا ہے جس میں مسلمانوں کو اپنا مذہب اسلام چھوڑنے کی دعوت دی گئی۔ نیویارک میں ’’امریکہ کی اسلامائزیشن روکو‘‘ نامی تنظیم کی سربراہ خاتون پامیلا نے کہا کہ اس کی اس مہم کا مقصد ان مسلمانوں کی مدد کرنا ہے جو اپنا مذہب چھوڑنا چاہتے ہیں لیکن ان کو خوف ہے۔ اس سے قبل پامیلا میامی میں بھی ایسی مہم چلا چکی ہے جس پر وہاں کے مسلمانوں نے اسے نفرت انگیز مہم قرار دیا تھا۔

امریکی صدر ٹرمپ کی صدارت کے بعدمسلمانوں کے خلاف پرتشدد واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ نظر آیا۔ ’’دی بریج انیشیٹیو ‘‘ویب سائٹ کے مطابق مارچ 2015سے صدارتی انتخاب تک مسلمانوں کے خلاف 180پرتشدد واقعات درج ہوئے جن میں 12قتل، 34جسمانی حملے، 49زبانی حملے جبکہ 56حملے مساجد اور اسلامی سنٹروں پر کیے گئے۔ اسی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق نائن الیون سے اب تک مسلمانوں کے خلاف ہونے والے واقعات میں 5سو فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ امریکی اخبار نیوزویک کی رپورٹ اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ گزشتہ سال جولائی میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2017میں اپریل اور جون کے درمیان مسلمانوں کے خلاف 940پرتشدد واقعات ہوئے جو کہ گزشتہ سال کی نسبت 91فیصد زیادہ ہیں۔ امریکی معاشرے میں مساجد پر حملے، توڑ پھوڑ اور مسلمان خواتین پر حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو ثابت کررہا ہے کہ یہ معاشرہ انتہا پسندی کی طرف بڑھتا جا رہا ہے، جہاں مخالف مذہب اور بالخصوص اسلام اور مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔ ایسی صورت میں امریکہ کی طرف سے پاکستان کو مذہبی آزادیوں کے حوالے سے تشویش والی فہرست میں شامل کرنا افسوسناک ہے۔ امریکہ کو پہلے اپنے معاشرے پر توجہ دینی چاہیے جہاں اسلام مخالف اور نسل پرستی کے جذبات کو مسلسل فروغ دیا جارہا ہے۔ ان حالات میں پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ امریکہ میں اس نفرت انگیز مہم کے حوالے سے عالمی برادری کو آگاہ کرے اور امریکہ کا وہ چہرہ دنیاکے سامنے آئے جس پر سوائے جرائم کی اور کچھ نہیں ہے۔