امریکہ تو نام کا بدنام ہے - اسماعیل احمد

ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹ پہ غصہ ٹھنڈا ہو گیا ہو تو تھوڑی سی " اپنی منجی تھلے ڈانگ " پھیرنے کی کوشش کر لیتے ہیں۔

1۔یہ جو دہشت گرد، انتہا پسند، بنیاد پرست وغیرہ کی اصطلاحیں تھیں اور 9/11 کےبعد جن کا مفہوم بہت سے دانشوران قوم نے نونہالانِ وطن کو ازبر کرایا، اب ان کی حقیقت اور آئندہ کے لیے تشریح اور توضیح کیا ہوگی، جب کہ تازہ ترین سچ کچھ ٹرمپ نے اور کچھ ہمارے اربابِ حکومت نے فرما دیا کہ اس اپنے دشمنوں کے خلاف جنگ کے عوض امریکہ نے ہمیں 14ارب ڈالر ہماری "سروسز " کا کرایہ دیا۔ تو اپنے دشمنوں کے خلاف جنگ لڑنے کی قیمت انسان اور قومیں ایسوں سے تو وصول نہیں کیا کرتے جنہیں حسب ِ ضرورت ہم کبھی کبھی اپنی خلاف سازشوں کا ذمہ دار بھی ٹھہرا لیتے ہیں۔

2۔ہم ببانگ دہل یہ کہہ دیتے ہیں کہ امریکہ، بھارت اور افغانستان پاکستان میں بذریعہ بلوچستان سازش کر رہے ہیں اور برطانیہ بھی ان کے ساتھ ہے۔ سندھ میں موساد، سی آئی اے، را، ایم فائیو وغیرہ کی کارروائیوں کا سراغ بھی ہم لگا لیتے ہیں تو پھر ان سارے ممالک کی طرف ہمارےحکمران اتنی للچائی نظروں سے کیوں دیکھتے ہیں؟ ڈی جی آئی ایس پی آر نے تو یہاں تک فرمایا کہ امریکہ ہمارا اتحادی ہے اور اتحادیوں سے جنگ نہیں ہوا کرتی۔تضادات سے بھرپور ہمارے بیانیے ہماری جگ ہنسائی کا باعث کب تک بنتے رہیں گے؟

3۔سابق صدر زرداری کا میمو گیٹ ہو یا سابق وزیراعظم نواز شریف کا ڈان نیوز گیٹ، ان سب میں ا مریکی صدر ٹرمپ کے ٹویٹ کے عکس کیوں دکھائی دیتے ہیں؟ ایک جیسا انداز، ایک جیسی بات۔ پھر اسٹیبلشمنٹ بھی قوم کی سالمیت کے خلاف ایسی ننگی حرکتیں کرنے والوں کی پشت پناہی کرنے کا الزام اپنے سر کیوں لیتی ہے؟ 30، 35 برس ایسے"لاڈلوں" کو کیوں پالا جاتا ہے جو بڑے ہوکر "کھیلن کو چاند "مانگنے لگتے ہیں؟

4۔تاریخ کے صفحات میں پاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کے بارے درج ہے کہ آپ اپنی اہلیہ کے ہمراہ روس کا دورہ کینسل کر کے امریکی صدر ٹرومین کی دعوت پر امریکہ تشریف لے گئے جہاں آپ نے 24 دن سرکاری مہمان کے طور پر گزارے اور بعد میں نجی طور پر ایک ماہ اورسات دن قیام کیا۔ کہیں ان یکطرفہ چاہتوں کا سلسلہ شروع کر کے پاکستان کے مستقبل کو امریکہ اور امریکی امداد کے سپرد کرنے کا انتظام تو نہیں کیا گیا؟

5۔یہ جو "افغان جہاد "تھا، اس میں بھی امریکہ کا نام آتا ہے۔ ہم "ایمان والوں" کے جہاد کی سرپرستیاں یہود و ہنود کرتے ہیں۔ ہمیں امریکہ کہتا ہے تو ہم کسی کو مجاہد کہہ دیتے ہیں، امریکہ کہتا ہے تووہی مجاہد،دہشت گرد بن جاتا ہے،انتہاپسند کہلاتا ہے، ہماری ساری ریڈی میڈ تھیوریاں اور دانشوریاں امریکہ سے امپورٹ کی جاتی ہیں۔ہم کیا دو تین برس ایسا نہیں کر سکتے کہ "غلط" ہی سہی مگر کچھ خود سوچیں؟

6۔اقبال اور قائد کے سبق پڑھنے والی قوم کے کچھ دانشور روز ٹی وی اور اخبارات میں قوم کو بتاتے ہیں، "امریکہ اس دور کا ناخدا ہے، اس سے بگاڑ کا مطلب اپنے سفینے کو بیچ بھنور میں ڈبونا ہے" تو کیا اس ڈوب جانے کے ڈر سے ہر روز مر مر کے جیا جائے، سارا وقت ان خدشات میں گزرے کہ کہیں امریکہ ہم سے ناراض نہ ہو جائے؟

7۔ہم سب خواص و عوام کی لوٹ مار کی عادات قبیحہ نے ملک کو اس حال میں پہنچایا کہ معیشت امریکی رحم وکرم پہ پڑی دکھائی دیتی ہے۔ اس صورتحال کے لیے بھی ہمیں خود کو موردِ الزام ٹھہرانا چاہیے۔ روح ِ اقبال سے معذرت کے ساتھ

امریکہ کی غلامی پہ رضا مند ہو ا تو

مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے، امریکہ سے نہیں ہے

Comments

اسماعیل احمد

اسماعیل احمد

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کرنے والے اسماعیل احمد گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں بطور انسٹرکٹر کمپیوٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی آف سرگودھا سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ سیاست، ادب، مذہب اور سماجیات ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں مطالعے کا شوق بچپن سے ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */