ٹرمپ کو جواب کیسے دیا جائے؟ ڈاکٹر شفق حرا

انیس سو نوے کی بات ہے کہ ہالی ووڈ ڈائریکٹر مارٹن برسٹ کو اپنی فلم ہوم الون کے دوسرے حصے کی شوٹنگ کرنا تھی۔ شوٹنگ کیلئے انہیں ایک ہوٹل کا منظر پسند آیا جس کے حصول کیلئے ڈائریکٹر کی جانب سے ہوٹل انتظامیہ سے اجازت طلب کی گئی۔ ہوٹل انتطامیہ نے مروجہ قواعد و ضوابط کے مطابق فلم کیلئے ہوٹل کے کچھ کمرے اور جگہ کو استعمال کرنے کی اجازت دی اور پھر شوٹنگ کا آغاز کردیا گیا۔ شوٹنگ شروع ہوئے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ اچانک ہوٹل کے عملے نے ڈٓائریکٹر کو شوٹنگ روکنے کا پروانہ تھما دیا۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ ہوٹل کے مالک اس فلم میں ایک کردار ادا کرنا چاہتے ہیں اس لئے ان کے بغیر یہ شوٹنگ نہیں ہوسکتی۔ ہوٹل مالک کی جانب سے یہ شرط بھی پیش کی گئی کہ فلم میں ان کو باقاعدہ نام سے پکارا جائے گا۔ پھر کیا تھا ڈائریکٹر کو پورا دن ضائع کرکے ہوٹل کے مالک کے ساتھ ایک سین فلمبند کرنا پڑا جس میں ہوٹل مالک کو فلم کا مرکزی کردار روک کر ہوٹل کی لابی کا پوچھتا ہے۔ فلم کی ایڈیٹنگ کے دوران اگرچہ ہوٹل مالک کا نام کاٹ دیا گیا لیکن اس سین کو جوں کا توں فلم میں پیش کیا گیا۔ فلم میں ضد کرکے چھ سیکنڈ کا کردار حاصل کرنے والا یہ انوکھا لاڈلا کوئی اور نہیں آج کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تھا۔ امریکی صدر کی اس ضد کا انکشاف فلم کے اہم کردار میٹ ڈیمن نے بھی کیا جس کے بعد دنیا پر یہ حقیقت کھلی کہ ڈونلڈ ٹرمپ صدر بننے سے قبل فلموں اور مختلف سیریلز میں ایسے چھوٹے چھوٹے کردار ادا کرکے ٹی وی پر آنے کا شوق پورا کرتے رہے ہیں۔

مجھے ہوم الون ٹو کی یہ کہانی چند روز قبل ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹویٹ سے یاد آگئی۔ امریکی صدر اس وقت اگرچہ دنیا کی واحد سپر پاور کے صدر ہیں لیکن ان کے اندر سپر پاور کا صدر ہونے کے باوجود دل اور دماغ آج بھی ہوٹل کے اس مالک کو ہے جو صرف خبروں میں مرکزی کردار کیلئے اپنے ملک کا تیا پانچہ کرانے کیلئے تیار ہے۔ ایک جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے ساتھ محاذ کھول رکھا ہے تو دوسری جانب اب پاکستان کو بھی دھمکیاں دینا شروع کردی ہیں۔ شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ان نے دھمکی دی کہ ان کی میز پر ایٹمی دھماکے کا بٹن ہمیشہ موجود ہوتا ہے اس لئے امریکا کبھی جنگ نہیں کرسکتا۔ دوسری جانب اس دھمکی کا جواب ڈونلڈ ٹرمپ نے اس طرح دیا کہ ان کی میز پر ایٹم بم چلانے والا بٹن زیادہ بڑا ہے اور کام بھی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   گنگو تیلی سے مودی تیلی تک - راجہ احسان

امریکی صدر کا چند روز قبل پاکستان کو دی گئی امداد والا بیان کچھ یوں بھی مضحکہ خیز ہے کہ ٹرمپ کو صدر بنے جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے اور وہ پندرہ سال کا حساب کھول کر بیٹھ گئے ہیں۔ شائد امریکی صدر کو علم نہیں کہ پندرہ سال میں امریکا کی دی گئی امداد کیلئے سب سے زیادہ لابنگ امریکی سینیٹرز ہی نے کی۔ سینیٹر جان کیری ایک بل لے کر آئے جسے بعدازاں کیری لوگر برمن بل کا نام دیا گیا۔ اس بل کے تحت امریکی پارلیمنٹ نے پاکستان کو ہر سال ڈیڑھ ارب ڈالر کی سویلین امداد کی منظوری دی تاکہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہونے والے نقصان کا کچھ مداوا ہوسکے۔ اس امداد کے نام پر جو امریکا نے کھیل کھیلا وہ الگ کہانی ہے لیکن یہ کہنا درست ہے کہ ہمیں امریکا سے پندرہ برس میں امداد کے نام پر مونگ پھلی ملی اور ساتھ الزامات کی لمبی فہرست ملی۔
سوال یہ ہے کہ امریکی صدر کے الزامات کے بعد پاکستان اس صورتحال سے کیسے نکل سکتا ہے؟۔ پاکستان کو موجودہ صورتحال میں روس اور چین کی مدد حاصل کرنی چاہئیے اور وزیراعظم کو فوری طور پر دوست ممالک کے دوروں کے ذریعے امریکا کو واضح پیغام دینا چاہئے کہ اگر اس نے ایبٹ آباد کی طرح ایک بار پھر کوئی حماقت کا ارتکاب کیا تو اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوگا۔

پاکستان میں نوازشریف پر کرپشن کا الزام تو لگا لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد دنیا میں پاکستان کا سب سے بڑا لیڈر نوازشریف ہی گردانا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارت کا منصب سنبھالنے سے پہلے نوازشریف کو ٹیلی فون کیا جبکہ پاکستان کا کٹر دشمن نریندر مودی سابق وزیراعظم نوازشریف کی سالگرہ کے دن رائیونڈ پہنچ گیا۔ ناقدین تو یہ کہتے ہیں کہ امریکا اور بھارت نوازشریف کو ہی واپس لانے کیلئے دبائو ڈال رہے ہیں لیکن میرا ماننا یہ ہے کہ نوازشریف اگر آج مسند اقتدار پر ہوتے تو شائد امریکی صدر پھر بھی یہی الزام لگاتے لیکن ان الزامات کا جواب دینے کیلئے ہمارے پاس نوازشریف جیسی شخصیت ہوتی۔ نوازشریف دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ مل کر نہ صرف ٹرمپ کی دیوانگی کو روک سکتے تھے بلکہ اس سفارتی رابطوں سے امریکا کو پاکستان پر الزامات عائد کرنے سے بھی باز رکھ سکتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   مسئلہ کشمیر: جوش، حکمت اور مصلحت کا توازن - وقاص احمد

نوازشریف کے جانے کے بعد اب ہمیں جذباتی اقدامات کی بجائے ہوش سے کام لینا چاہیے جس کی ایک مثال حکومت نے جماعت الدعوہ اور اس کی ذیلی فلاحی تنظیموں سمیت پندرہ تنظیموں پر پابندی عائد کرکے قائم کردی ہے۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ دنیا میں جماعت الدعوہ اور حافظ سعید کی ساکھ متنازعہ ہے اس لئے اس موقع پر ہمیں ان پر پابندی عائد کرکے خود کو سفارتی تنہائی سے بچانا چاہیئے۔ افغانستان میں طالبان حکومت نے دو ہزار ایک میں اسامہ بن لادن کو بچانے کیلئے پوری ریاست تباہ کروا ڈالی جس کا سبق ہمیں یہی مل سکتا ہے کہ افراد ریاست سے اہم نہیں ہوتے اس لئے اگر ہماری صفوں میں کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جن کی وجہ سے پوری قوم پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں تو پھر ریاست کو چاہئے کہ خود کو ایسے افراد سے الگ کرے اور دنیا میں پاکستان کا مثبت امیج اجاگر کرے۔
امریکا دھمکیوں کے باوجود پاکستان کیخلاف جنگ نہیں چھیڑ سکتا تاہم وہ معاشی پابندیاں عائد کرکے ہماری آئی سی یو میں پڑی معیشت کو موت کے منہ میں ڈال سکتا ہے۔ اگر پاکستان امریکی دھمکیوں کے جواب میں ایسے سنجیدہ اقدامات اٹھاتا ہے جس سے دنیا دہشتگردی کیخلاف پاکستان کے اقدامات پر شک کرنا چھوڑ دے تو یقین کریں چند ماہ بعد یہی صدر ٹرمپ ایک اور ٹویٹ میں پاکستان کی دہشت گردی کیخلاف قربانیوں کی لمبی فہرست گنوا رہے ہوں گے۔

Comments

ڈاکٹر شفق حرا

ڈاکٹر شفق حرا

ڈاکٹر شفق حرا دس سال سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔ پی ٹی وی نیوز پر نشر ہونے والے پروگرام کیپیٹل ویو کی میزبانی کے فرائض سرانجام دیتی ہیں، اور اپنے منفرد انداز کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.