’’شکاری چیونٹی‘‘ - رعایت اللہ فاروقی

طاقتور کی سب سے بڑی کمزوری اس کی رعونت ہوتی ہے۔ وہ اسی تصور کے نشے میں مارا جاتا ہے کہ چیونٹی کی کیا مجال جو مجھ ہاتھی سے پنگہ لینے کی سوچے بھی۔ نتیجہ یہ کہ یہی چیونٹی جب ہاتھی پر بھاری پڑنے لگتی ہے تو اس کا پاگل پن دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ہمارے ہاں ڈالروں کی آبیاری سے اگ آنے والے دانشور تو سوویت یونین کی تحلیل سے قبل بھی موجود تھے، سوویت یونین ٹوٹا تو بچارے ’’ترقی پسند‘‘ کھڑے کھلوتے بے روزگار ہوگئے۔ راتوں رات قبلے بدل گئے جس سے امریکہ کو لالم لال دانشور بھی میسر آگئے۔ رنگ ہی بدلنا تھا سو اس میں وقت ہی کتنا لگتا ہے؟ امریکہ نے پرانے نمک خواروں کی جگہ سپرے گن سے رنگ کرکے وہ ترقی پسند بھرتی کر لیے جو اب اندر سے لال اور باہر سے جامنی تھے۔ نائن الیون ہوا اور امریکہ افغانستان پر چڑھ دوڑا تو اندر سے لال اور باہر سے جامنی دانشوروں کی مسرت ساتویں آسمان پر پہنچ گئی۔ ذرا نائن الیون کے بعد والے دو سالوں کے اخبارات کی فائلیں تو کھول دیکھیے کہ کس کس نمونے نے جنگی پیشین گویوں کے نام پر کیا کیا دانش بکھیر رکھی ہے۔ یہ سب جانتے تھے کہ آج تک تو صرف کنویں سے ڈالر بھر بھر کر لانے پڑتے تھے، اب دریا بہا چلا آئے گا۔ اندازہ غلط بھی نہ تھا، دریا آیا اور خوب آیا۔ کابل اس دریا کا منبع بنا اور ڈالروں کے اس دریائے کابل سے نہریں نکل نکل کر ہمارے ملک کے طول عرض میں بھی پھیلیں۔ نتیجہ یہ کہ پہلے انہی ڈالروں کی مدد سے ٹی ٹی پی کسی ہدف پر حملہ آور ہوتی، وہ اپنا حملہ مکمل کر چکتی تو پھر اندر سے لال باہر سے جامنی دانشور میڈیا کے راستے حملہ آور ہوجاتے کہ ’’انٹیلی جنس ایجنسیاں کیا کر رہی ہیں؟ سیکیورٹی ادارے فیل ہوچکے ہیں، امریکی ناراض ہیں تو اس کا کوئی نہ کوئی سبب تو ہوگا، ہمیں دیکھنا چاہیے کہ کہیں اداروں کے اندر تو کوئی روگ ایلی منٹس نہیں؟ وغیرہ وغیرہ‘‘ ملک ان دو طرفہ حملوں کا شکار رہا مگر یہ تو طے تھا کہ افغان جنگ کی طرح اس کی یہ ایکسٹنشن بھی اپنے انجام کو پہنچے گی۔

امریکہ کو لگتا تھا کہ فتح کی کنجی پاکستان میں ہے، وہ ٹی ٹی پی اور اندر سے لال باہر سے جامنی دانشوروں کے کامبینشن سے اسی کنجی تک رسائی کی کوششیں کرتا رہا۔ ساتھ ہی ہر پندرہ روز بعد پوری پابندی کے ساتھ اس کا ایک اعلیٰ سطحی ڈیلی گیشن اسلام آباد آتا اور ہر آنے والا ’’ڈو مور!‘‘ کی تکرار کے ٹوکرے ساتھ لاتا۔ خدا گواہ ہے کہ ہم نے اس کے ہر ڈومور کا پاس رکھا، اب یہ اور بات کہ ہر بار ڈومور کیا ہم نے اپنے ہی حق میں۔ امریکہ کی سب سے بڑی بد بختی یہ رہی کہ افغانستان میں اپنی ہر کمزوری ہم سے شیئر کرنے پر مجبور تھا کیونکہ اسے لگتا تھا کہ اسے ہماری ’’مدد‘‘ سے ہی دور کیا جا سکتا ہے۔ یہ تو رپورٹ بھی ہو چکا کہ ایک موقع پر افغانستان میں تعینات امریکی کمانڈر جنرل کیانی کے ترلے کرتا رہ گیا کہ افغانستان کے جنوب مشرق میں واقع ہمارے فوجی اڈے پر تین دن میں ٹرک بم سے حملہ ہونے لگا ہے، اسے رکوائیے۔ جنرل کیانی نے کہا، جب آپ جانتے ہیں کہ حملہ ٹرک بم سے ہونا ہے اور ہدف ہی نہیں حملے کی تاریخ سے بھی آپ واقف ہیں تو پھر مشکل کیا ہے؟ یہ حملہ تو وہی روک سکتے ہیں جو افغانستان میں موجود ہیں اور وہاں ہم نہیں آپ موجود ہیں، جائیے اور اسے رکوائیے ! امریکی کمانڈر نے کہا، اسے آپ ہی روک سکتے ہیں کیونکہ اس کے پیچھے آپ ہیں۔ جنرل کیانی نے کہا، اگر ہم ہیں اور آپ پیشگی ہماری یہ سازش پکڑ بھی چکے تو پھر تو ہمارا دماغ ہی خراب ہوگا کہ یہ حملہ کرکے اپنے لیے مسائل پیدا کریں گے۔ کوئی عسکری حملہ تو کیا دنیا میں آج تک گلی محلے کی کوئی واردات بھی ایسی نہیں ہوسکی جس کا راز وقت سے پہلے فاش ہوچکا ہو۔ امریکی کمانڈر کابل لوٹ گیا اور تیسرے دن حملہ ہو کر رہا۔ صدیوں سے مسلمہ لاجک تو یہی کہتی ہے کہ اس کے پیچھے ہم نہیں تھے۔ امریکہ ٹیکنالوجی کی معراج پر بیٹھی سپر طاقت ہے اور ہم سائبر وار فیئر کے دور میں کھڑے ہیں۔ سائبر کی اس دنیا میں امریکی طاقت کا یہ عالم ہے کہ وہ پوری دنیا کی ای میلز اور دیگر مواصلاتی پیغامات ہی روز نہیں پڑھتا بلکہ کسی بھی ملک کے الیکٹرانکس نظام کو جام کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔ ایسے میں یہ سائبر دور افغان جنگ کے حوالے سے ایک کلیدی سوال کھڑا کرتا ہے اور وہ یہ کہ اگر کسی پر امن ملک میں چار آدمی ایک ہی شہر کے دس محلے پار جا کر کسی بندے کی تھوڑی سی ٹھکائی کر آئیں تو یہ حملہ بھی کم ازکم دو ڈھائی ہزار میں پڑتا ہے۔ آنے جانے کا خرچ الگ، کسی جوابی چوٹ کی مرہم پٹی کا خرچ الگ اور جن تین دوستوں نے ساتھ دیا، انہیں کھانا اور چائے پیش کرنے کا خرچ الگ۔ جب محلے کی معمولی سی لڑائی بھی اتنے خرچے رکھتی ہے تو افغان طالبان امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ڈیڑھ لاکھ فوج کی پندرہ سال سے جو ٹھکائی کرتے آئے ہیں اس کا خرچ تو بے پناہ حد کوپہنچتا ہوگا۔ سائبر کنگ امریکہ آج تک یہی نہیں بتا سکا کہ افغان طالبان کا یہ اتنا بڑا خرچ آخر اٹھا کون رہا ہے اور اس کے ثبوت کہاں ہیں؟ یہ جنگ تو امریکہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت لڑ رہا ہے۔ وہ اقوام متحدہ کو بتاتا کیوں نہیں طالبان کے بلینز نہیں تو ملینز آف ڈالرز کا خرچ کون پورا کر رہا ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   مذہبی کارڈ ہی کیوں؟ حبیب الرحمن

جس طرح امریکہ یہ جانتا ہے کہ افغان طالبان کے پیچھے کون ہے؟ اسی طرح ہم بھی شروع سے جانتے ہیں کہ ٹی ٹی پی اور اندر سے لال باہر جامنی دانشوروں کے پیچھے کون ہے؟ امریکہ کے لیے فتح کی کنجی پاکستان میں تھی اور ہمارے لیے فتح کی کنجی افغانستان میں۔ جوں ہی افغان طالبان نے اتحادیوں کو افغانستان سے فرار پر مجبور کیا اور نوبت یہ آگئی کہ امریکہ کو بھی اپنی ایک لاکھ سے زائد فوج نکالنی پڑی تو اس کے نتائج پاکستان کے محاذ پر یوں ظاہر ہوئے کہ ضرب عضب اور رد الفساد کے نتیجے میں پاکستان میں سرگرم دہشت گردوں کے لیے وزیرستان جیسے اڈے تو کیا شہری بل بھی جائے پناہ نہ رہے۔ ہم نے ضرب عضب کے ذریعے ان کے اڈے ختم کیے اور رد الفساد کی حکمت عملی سے انہیں شہری بلوں سے نکال نکال کر انجام تک پہنچایا۔ ہم اچھی طرح جانتے تھے کہ اگر افغانستان میں امریکی شکست سے قبل پاکستان میں کوئی بڑا آپریشن لانچ کیا تو یہ ناکامی سے دوچار ہوگا، ہم نے امریکی شکست کا انتظار کیا جو تین سال قبل اسے ہوچکی۔ آج امریکہ محدود قوت کے ساتھ افغانستان میں موجود ہے تو نتیجہ دیکھیے کہ پاکستان میں دہشت گردی بھی محدود ہوچکی۔ یہ بالکل ختم تب ہوگی جب امریکہ کی یہ محدود قوت بھی افغانستان میں نہ رہے گی۔

آج کی تاریخ میں صورتحال یہ ہے کہ افغانستان میں بچی کھچی ٹی ٹی پی کی مدد سے ہمارا دشمن ہم پر اکا دکا حملے کرنے میں ہی کامیاب ہو پاتا ہے جبکہ افغانستان میں طالبان امریکہ کے اڈوں کو مستقل نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔ جنگ کی یہ تازہ صورتحال ہی امریکہ کو پاگل کیے جا رہی ہے۔ ہاتھی کا یہ خیال تھا کہ چیونٹی کی اوقات ہی کیا ہے؟ ہوں گے ہم چیونٹی، مگر ہمارے آس پاس بلبلاتے ہاتھیوں سے ان کے بلبلانے کا سبب تو پوچھا ہوتا! ہم گوریلا وار فیئر کے لیجنڈ اور ہاتھیوں کی شکاری چیونٹی ہیں۔ حسن اتفاق کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا تو انتخابی نشان بھی ہاتھی تھا!

Comments

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی سوشل میڈیا کا جانا پہچانا نام ہیں۔ 1990ء سے شعبہ صحافت سے وابستگی ہے۔ نصف درجن روزناموں میں کالم لکھے۔ دنیا ٹی وی کے پروگرام "حسبِ حال" سے بطور ریسرچر بھی وابستہ رہے۔ سیاست اور دفاعی امور پر ان کے تجزیے دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.