عقیدہ توحید اور اللہ تعالی سے خیر کی امید - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر  جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے18-ربیع الثانی-1439  کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "عقیدہ توحید اور اللہ تعالی سے خیر کی امید " کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس  میں انہوں نے  کہا کہ عبادات میں سب سے اہم ترین قلبی عبادات ہیں اگر کسی بدنی عبادت میں حضورِ قلبی شامل نہ ہو تو وہ مردہ اور بے روح ہوتی ہے، اسی لیے نبی ﷺ نے دل کی سلامتی کو جسم کی سلامتی قرار دیا، پھر لوگوں کی اور ان کے اعمال کی درجہ بندی بھی قلبی ایمان کے مطابق ہوتی ہے۔ جس قدر معرفتِ الہی زیادہ ہو گی اللہ تعالی سے خیر کی امید بھی اتنی ہی بڑھ جائے گی۔ نبی ﷺ نے آخری لمحات میں اللہ تعالی کے بارے میں حسن ظن کی تاکید  فرمائی ہے۔ گزشتہ انبیاء اور صالحین کے حسن ظن رکھنے کی وجہ سے بہت سے فوائد ہمیں ملے ہیں چنانچہ سیدہ ہاجرہ، سیدنا یعقوب، سیدنا موسی اور ہمارے نبی ﷺ کی سیرت میں موجود حسن ظن کے واقعات اس کے شاہد ہیں۔ صحابہ کرام  میں سے ابو بکر، سیدہ خدیجہ  اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے حسن ظن  کے عملی نمونے بھی ہمارے لیے مشعل راہ چھوڑے، اللہ تعالی سے حسن ظن کا فائدہ  یہ ہے کہ ہمیں وہی مل جاتا ہے جس کی اللہ تعالی سے ہم امید رکھتے ہیں، حتی کہ توبہ بھی حسن ظن کی بنا پر جلدی قبول ہوتی ہے۔ کڑے حالات میں حسن ظن اور بد گمانی میں تفریق کا صحیح اندازہ ہوتا ہے، غزوہ احد اور غزوہ احزاب میں اس کی عملی صورتیں ہمارے سامنے آتی ہیں جس میں منافقین کا طرز بد گمانی اللہ تعالی نے واضح فرمایا۔ غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والوں میں سے تین کی توبہ بھی حسن ظن کے بعد ہی قبول ہوئی۔ حسن ظن کا مطلب یہ نہیں کہ انسان صرف خیالی پلاؤ ہی بنائے اور عملی زندگی میں کچھ نہ کرے، بلکہ وہی شخص حسن ظن کا حقدار ہے جو عملی زندگی میں  نظر آئے، تو جس قدر حسن ظن ہو گا عملی زندگی میں اس کی کارکردگی بھی اتنی ہی اچھی ہو گی۔ اللہ تعالی سے خیر کی امید رکھنا بھی مستقل ایک عبادت اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مطابق یہ بہت بڑی نعمت بھی ہے، در حقیقت قلبی سکون اور راحت کے لیے اللہ تعالی سے خیر کی امید سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے، اللہ تعالی کے بارے میں حسن ظن رکھنے والا شخص سخی، شجاع اور بے باک ہوتا ہے، روزِ آخرت میں بھی ایسا ہی شخص دوسروں پر بازی لے جائے گا،  آخر میں انہوں نے کہا کہ: حسن ظن پیدا کریں اور اس کے تقاضوں کو پورا کریں تو دنیا و آخرت کی بھلائیاں آپ سمیٹ لیں گے، پھر انہوں نے سب کے لیے جامع دعا کروائی۔

عربی خطبہ کی آڈیو، ویڈیو اور ٹیکسٹ حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں

پہلا خطبہ:

یقیناً تمام  تعریفیں اللہ  کیلیے ہیں، ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلب گار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نفسانی اور  بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، وہ یکتا  ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد   اللہ کے بندے اور اس کے رسول  ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل ، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود  و سلامتی نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد: اللہ کے بندو! اللہ سے کما حقّہ ڈور ؛ اور اسلام کو مضبوطی سے تھام لو۔

مسلمانو!

عبادت کا لفظ ہر اس چیز پر بولا جاتا ہے جسے اللہ تعالی پسند فرمائے اور جس سے راضی ہو، چاہے وہ ظاہری اقوال  ہوں یا افعال یا باطنی ا عمال۔  انہی کا تعلق صرف قلب سے ہے ، اور قلبی عبادات بدنی عبادات سے زیادہ  ، عظیم اور  دیر پا اثر رکھنے والی ہوتی ہیں۔

ایمان کا حصہ بننے کے لیے قلبی اعمال کا بدنی اعمال سے زیادہ حق ہے، یہی وجہ ہے کہ معرفت اور قلبی  کیفیت پر قائم ایمان  ہی در حقیقت اصل مقصود ہے چنانچہ ظاہری اعمال اسی قلبی کیفیت کے تابع اور ماتحت آتے ہیں بلکہ اگر دل سے بدنی عبادات نہ کی جائیں تو  قبول ہی نہیں ہوں گی؛ اسی لیے یہی قلبی  کیفیت بندگی کی روح اور مغز ہے، چنانچہ اگر ظاہری اعمال حضورِ قلبی سے خالی ہوں تو مردہ  اور بے روح جسم کی مانند ہوتے ہیں۔

اگر دل ٹھیک ہو تو سارا جسم ہی ٹھیک رہتا ہے ، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (خبردار! جسم میں ایک لوتھڑا ہے اگر وہ صحیح ہو تو سارا جسم صحیح ہے اور اگر وہی خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ خبردار !وہ لوتھڑا دل ہے۔) متفق علیہ

لوگوں کی درجہ بندی بھی ان کے دلوں میں موجود ایمان  کی بنیاد پر ہے اور اسی ایمان کی وجہ سے اعمال  کے درجات میں تفاوت پیدا ہوتا ہے، یہی قلبی ایمان پروردگار کی توجہ کا مرکز ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (بیشک اللہ تعالی تمہارے جسموں کو نہیں دیکھتا اور نہ ہی تمہاری شکلوں کو دیکھتا ہے، وہ تمہارے دلوں اور کارکردگی کو دیکھتا ہے) مسلم

قلبی عبادات میں سے مؤکد ترین عبادت یہ ہے کہ اللہ تعالی کے بارے میں حسن ظن رکھیں،  یہ ایک اسلامی فریضہ، عقیدہ توحید کا تقاضا اور واجب ہے، اس کا جامع مانع مطلب یہ ہے کہ : اللہ تعالی کی ذات اور اسما و صفات کے تقاضوں کے مطابق اللہ تعالی سے ایسا گمان رکھیں جیسا اس کی شان کے لائق ہے۔ لہذا اللہ تعالی کے بارے میں حسن ظن ؛ معرفتِ الہی اور ذات باری تعالی کے متعلق علم کا ثمرہ ہے، حسن ظن اس بات کی معرفت پر قائم ہے کہ اللہ تعالی کی رحمت، قوت، احسان، قدرت اور علم  بہت وسیع ہے ، نیز اس یقین پر قائم ہے کہ اللہ کے تمام فیصلے اچھے ہوتے ہیں؛ لہذا جب مسلمان انہیں اچھی طرح سمجھ لے تو انسان لازمی طور پر اللہ تعالی کے بارے میں حسن ظن رکھنے لگتا ہے، بسا اوقات اللہ تعالی کے بعض اسما و صفات پر غور و فکر سے بھی دل میں حسن ظن پیدا ہو جاتا ہے۔

جس شخص کے دل میں اسما و صفاتِ الہی کے معانی اور مفاہیم جا گزین ہو جائیں تو اس کے قلب و ذہن میں ہر اسم الہی اور صفتِ الہی کے مطابق حسن ظن پیدا ہونے لگتا ہے؛ کیونکہ ہر صفتِ الہی  کے لیے الگ قلبی بندگی اور حسن ظن کا جداگانہ انداز ہے۔

اسی طرح اللہ تعالی کا مخلوقات پر فضل، کرم اور جلال و جمال بھی حسن ظن رکھنے کا موجب ہے، اللہ تعالی نے حسن ظن رکھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: {وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ} اور حسن ظن رکھو، بیشک اللہ تعالی حسن ظن رکھنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔ [البقرة: 195]اس کی تفسیر میں سفیان ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں: "یعنی اللہ تعالی کے بارے میں حسن ظن رکھو"

رسول اللہ ﷺ نے وفات سے چند دن پہلے حسن ظن رکھنے کی خصوصی تاکید فرمائی ، چنانچہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: "میں نے رسول اللہ ﷺ کو وفات سے تین دن پہلے کہتے ہوئے سنا آپ فرما رہے تھے:" (تم میں سے کسی کو بھی موت آئے تو صرف اس حالت میں کہ وہ اللہ تعالی سے حسن ظن رکھتا ہو) مسلم

اللہ تعالی نے حسن ظن رکھنے والے  اور خشوع سے نہال اپنے بندوں کی تعریف فرمائی  اور ان کے لیے عبادت کی آسانی سے ادائیگی کو دنیا میں ملنے والی بشارت قرار دیا، پھر اسی عبادت کو ان کی معاونت کا ذریعہ بھی بنایا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ (45) الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلَاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ} صبر  اور نماز کے ذریعے مدد حاصل کرو ، اور نماز خشوع  کرنے والوں کے علاوہ دیگر افراد پر گراں ہے [45] خشوع کرنے والے یہ حسن ظن رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں اور انہیں اسی کی جانب لوٹ کر جانا ہے۔[البقرة: 45، 46]

تمام رسولوں علیہم السلام کا معرفتِ الہی  میں بہت بلند مقام تھا اسی لیے انہوں نے اللہ تعالی سے اچھی امید کی بنا پر  اپنے تمام معاملات اللہ کے سپرد کر دئیے تھے، چنانچہ ابراہیم علیہ السلام نے سیدہ ہاجرہ کو بیت اللہ کے پاس تنہا چھوڑا؛ اس وقت مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں کوئی نہ تھا ، جب ابراہیم علیہ السلام انہیں چھوڑ کر چل دئیے تو سیدہ ہاجرہ بھی ان کے پیچھے چلتی ہوئی کہنے لگیں: "ابراہیم! آپ ہمیں اس وادی میں تنہا چھوڑ کر کہاں جا رہے ہو؟  یہاں کوئی انسان  ہے نہ کوئی اور چیز!؟ " سیدہ ہاجرہ نے ان سے کئی بار یہ پوچھا لیکن ابراہیم علیہ السلام نے ان کی جانب مڑ کر بھی نہیں دیکھا تو آخر کار سیدہ ہاجرہ نے پوچھا:  "کیا اللہ نے تمہیں اس کا حکم دیا ہے؟" تو انہوں نے جواب میں اپنا سر ہلا دیا، تو اس پر سیدہ ہاجرہ نے فرمایا : "تب تو وہ ہمیں رائگاں نہیں چھوڑے گا" بخاری

تو اللہ تعالی کے بارے میں سیدہ ہاجرہ کے حسن ظن کی بنا پر جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے کہ بابرکت پانی کا چشمہ جاری ہوا، بیت اللہ کی آباد کاری ہوئی اور سیدہ ہاجرہ کا نام رہتی کائنات تک زندہ و جاوید ہو گیا، اسماعیل علیہ السلام  نبی بن گئے، اور انہی کی اولاد میں سے خاتم الانبیاء اور امام المرسلین ﷺ مبعوث ہوئے۔

ایسے ہی یعقوب علیہ السلام کے دو بیٹے گم ہو گئے ؛ لیکن انہوں نے بھی صبر کیا اور اپنا معاملہ یہ کہتے ہوئے اللہ کے سپرد کر دیا کہ: {إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ} میں تو اپنا شکوہ اور غم اللہ کے سامنے ہی رکھتا ہوں۔ [يوسف: 86] لیکن دل پھر بھی اللہ تعالی سے پر امید رہا کہ اللہ میرے بیٹوں کی مکمل حفاظت فرمائے گا اور اسی لیے کہہ بھی دیا: {عَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَنِي بِهِمْ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ} یقین ہے کہ اللہ تعالی ان سب کو میرے پاس لے آئے گا، بیشک وہی جاننے والا اور حکمت والا ہے۔[يوسف: 83] پھر اپنے بیٹوں کو  بھی اسی بات کی امید دے کر بھیجا: {يَا بَنِيَّ اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِنْ يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَيْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ} میرے بیٹو! جاؤ اور یوسف کے ساتھ اس  کے بھائی کی خبر گیری بھی کرو اور اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہونا؛ کیونکہ اللہ کی رحمت سے صرف کافر قوم ہی مایوس ہوا کرتی ہے۔[يوسف: 87]

اسی طرح بنی اسرائیل کو نا قابل برداشت حد تک تکالیف سے گزرنا پڑا۔  لیکن بڑی آزمائش کے باوجود  اللہ تعالی سے حسن ظن  امید اور نوید کی کرن  بن گیا اور موسی علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرما دیا: {اسْتَعِينُوا بِاللَّهِ وَاصْبِرُوا إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ (128) قَالُوا أُوذِينَا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَأْتِيَنَا وَمِنْ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا قَالَ عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ} "اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ یہ زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بنا دے اور انجام خیر تو پرہیز گاروں ہی کے لیے ہے ۔ [128] وہ موسی سے کہنے لگے : "تمہارے آنے سے پہلے بھی ہمیں دکھ دیا جاتا تھا اور تمہارے آنے کے بعد بھی دیا جا رہا ہے" موسی نے جواب دیا : "عنقریب تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا اور اس سر زمین میں تمہیں خلیفہ بنا دے گا پھر دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو " [الأعراف: 128، 129]

پھر موسی علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی پریشانی بڑھتی چلی گئی ؛ کیونکہ  سامنے سمندر تھا اور پیچھے فرعون اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ  پہنچ چکا تھا، اسی اثنا میں موسی علیہ السلام کے ساتھی چیخ اٹھے: {قَالَ أَصْحَابُ مُوسَى إِنَّا لَمُدْرَكُونَ} موسی کے ساتھیوں نے کہا: ہم تو پکڑے گئے![الشعراء: 61] تو اس وقت کلیم اللہ اور نبی اللہ کا جواب؛ اللہ تعالی پر توکل ، بھروسے اور حسن ظن کا جیتا جاگتا ثبوت تھا، انہوں  کہا: {قَالَ كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ} موسی نے کہا: ہر گز نہیں، میرے ساتھ میرا پروردگار ہے، وہ میری جلد ہی رہنمائی فرمائے گا۔ [الشعراء: 62]

تو اللہ تعالی نے وحی کے ذریعے ایسا حکم دیا کہ جس کا خواب و خیال بھی نہیں تھا: {فَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى أَنِ اضْرِبْ بِعَصَاكَ الْبَحْرَ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ (63) وَأَزْلَفْنَا ثَمَّ الْآخَرِينَ (64) وَأَنْجَيْنَا مُوسَى وَمَنْ مَعَهُ أَجْمَعِينَ (65) ثُمَّ أَغْرَقْنَا الْآخَرِينَ} ہم نے موسی کو وحی کے ذریعہ حکم دیا کہ سمندر پر اپنا عصا مار تو یکایک سمندر پھٹ گیا۔ اور اس کی ہر لہر بہت بڑے پہاڑ کی طرح ہو گئی۔  [63] اور اسی جگہ ہم دوسرے گروہ کو بھی قریب لے آئے  [64] ہم نے موسی اور اس کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔  [65] پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔ [الشعراء: 63 - 66]

اللہ تعالی کی بندگی اور اللہ تعالی کے بارے میں حسن ظن رکھنے کے اعتبار سے سب سے افضل ترین شخصیت ہمارے نبی محمد ﷺ ہیں، آپ کو  لوگوں نے  خوب اذیتیں دیں لیکن پھر بھی آپ اللہ تعالی سے پر امید  تھے کہ اللہ اپنے دین کی ضرور مدد فرمائے گا، [طائف میں] آپ کو پہاڑوں کے فرشتے نے عرض کیا: "اگر آپ چاہیں تو اخشب نامی دونوں پہاڑوں درمیان انہیں کچل دوں؟" تو آپ ﷺ نے فرمایا:  (مجھے امید ہے کہ اللہ تعالی انہی کی نسل میں  سے ایسے لوگوں کو پیدا فرمائے گا جو ایک اللہ کی بندگی کریں گے اور اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے) متفق علیہ

انتہائی سنگین اور تباہ کن حالات میں بھی آپ ﷺ حسن ظن کا دامن نہ چھوڑتے تھے، آپ ﷺ  کو مکہ سے نکالا گیا،آپ نے ایک غار میں پناہ لی، کفار بھی آپ کے پیچھے آن پہنچے اور غار کا گھراؤ کر لیا، اتنے خوف کے عالم میں بھی آپ اپنے ساتھی ابو بکر رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں: {لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا} غم نہ کر، بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔[التوبہ: 40]

ابو بکر رضی اللہ عنہ خود اپنی حالت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: "میں نے نبی ﷺ  سے غار میں کہا: اگر مشرکین میں سے کسی نے اپنے پاؤں کی جانب نظر ڈالی تو ہمیں دیکھ لے گا" تو اس پر آپ ﷺ نے فرمایا:  (ابو بکر! تم ایسے دو افراد کے بارے میں کیا گمان کرتے ہو جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہے) متفق علیہ

آپ کو جس قدر بھی اذیتوں، تکلیفوں اور جنگوں کا سامنا کرنا پڑا  پھر بھی آپ ہر وقت دو ٹوک موقف رکھتے تھے کہ یہ دین دنیا کے کونے کونے تک پہنچے گا، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (یہ دین وہاں تک پہنچے گا جہاں تک دن اور رات  ہیں، یہاں تک کہ اللہ تعالی مٹی یا اون کے بنے ہوئے گھروں میں بھی اس دین کو داخل کر کے چھوڑے گا؛ چاہے اس کی وجہ سے کسی کو عزت ملے یا ذلت۔) مسند احمد

ایک بار آپ ﷺ سوئے ہوئے تھے تو ایک دیہاتی نے آپ پر تلوار سونت لی، آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ: (میں جس وقت بیدار ہوا تو اس نے تلوار سونتی ہوئی تھی اس دیہاتی نے کہا: آج تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟  تو میں نے کہا:  اللہ ۔ تین بار کہا) پھر آپ ﷺ نے اسے کچھ نہ کہا اور وہ آپ کے پاس بیٹھ گیا۔ بخاری ، جبکہ مسند احمد میں الفاظ ہیں کہ : (تلوار  دیہاتی کے ہاتھ سے گر گئی)

انبیائے کرام کے بعد صحابہ اللہ تعالی کے بارے میں سب سے زیادہ حسن ظن رکھنے والے ہیں، اللہ تعالی نے ان کے بارے میں فرمایا: {الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ}  یہ وہ لوگ ہیں کہ جب لوگوں نے ان سے کہا کہ: "لوگوں نے تمہارے مقابلے کو ایک بڑا لشکر جمع کر لیا ہے لہذا ان سے بچ جاؤ"  تو ان کا ایمان اور بھی زیادہ ہو گیا اور کہنے لگے: " ہمیں تو اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے"  [آل عمران: 173]

یہی وجہ ہے کہ[مکہ میں] ابن دَغِنَہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس یہ مطالبہ لے کر آیا کہ آپ نماز چھپ کر پڑھیں اور قراءت کی آواز  بلند بھی نہ کریں، یا پھر ابن دغنہ نے جو ضمانت ابو بکر کی لی ہوئی ہے وہ واپس کر دیں پھر قریشی کفار جو چاہیں ابو بکر کے ساتھ کریں ابن دغنہ اس کا ذمے دار نہیں ہو گا! اس پر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "میں تمہاری ضمانت تمہیں واپس کرتا ہوں  اور اللہ عزوجل کی ضمانت پر راضی ہوں" بخاری

ایسے ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "ایک بار ہمیں رسول اللہ ﷺ نے صدقہ کرنے کا حکم دیا اور اتفاق سے انہی دنوں میرے پاس رقم بھی تھی، اس پر میں نے کہا کہ اگر ابو بکر سے آگے بڑھنے کا کوئی موقع ہے تو وہ آج ہی ہے، تو میں اپنی آدھی دولت لے کر آیا ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا"(تم نے اپنے اہل خانہ کیلیے کیا چھوڑا ہے) "تو میں نے کہا: اتنا ہی گھر میں مال موجود ہے" اور ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنی ساری جمع پونجی لے آئے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا:" (تم نے اپنے اہل خانہ کیلیے کیا چھوڑا ہے؟)"تو انہوں نے کہا: میں نے ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑا ہے"  ابو داود

سیدہ خدیجہ سارے جہان کی خواتین  کی سربراہ  ہیں، جس وقت آپ ﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی تو آپ سیدہ خدیجہ کے پاس آئے اور فرمایا: (مجھے اپنی جان کا خدشہ ہے)  تو اس پر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے حسن ظن رکھتے ہوئے فرمایا تھا: "بالکل نہیں! اللہ کی قسم! اللہ تعالی آپ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا، آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں، دوسروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، نادار لوگوں کو کما کر کھلاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور قدرتی آفات پر متاثرین کی مدد کرتے ہیں" متفق علیہ

چنانچہ تمام کے تمام اہل علم اور نیک لوگوں کا یہی وتیرہ رہا ہے،  جیسے کہ سفیان ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں: "مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ میرا حساب کتاب[یعنی جزا یا  سزا دینے کا معاملہ ] میرے والدین کریں؛ کیونکہ میرا پروردگار والدین سے زیادہ بہتر ہے"

ایسے ہی سعید بن جبیر رحمہ اللہ عام طور پر دعا کیا کرتے تھے: "یا اللہ! میں تجھ سے سچا توکل اور تیرے بارے میں حسن ظن  کا سوال کرتا ہوں"

جنوں میں بھی نیک افراد ہیں، وہ بھی اللہ تعالی کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہیں، انہیں اللہ تعالی کی قدرت اور وسیع علم کا یقین ہے، چنانچہ قرآن مجید نے نیک جنوں کی بات نقل کرتے ہوئے فرمایا: {وَأَنَّا ظَنَنَّا أَنْ لَنْ نُعْجِزَ اللَّهَ فِي الْأَرْضِ وَلَنْ نُعْجِزَهُ هَرَبًا} ہمیں اس بات کا یقین ہو چکا ہے کہ ہم نہ تو اللہ کو زمین میں (چھپ کر) عاجز کر سکتے ہیں  اور نہ ہی بھاگ کر اسے عاجز سکتے ہیں [الجن: 12]

اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالی پر قسم ڈال دیں تو  اللہ تعالی ان کی قسم پوری فرما دے، یہ بندے اللہ تعالی پر زبردستی اور جبری قسم نہیں ڈالتے بلکہ وہ اللہ تعالی پر مضبوط حسن ظن کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔ مومن ہر حالت میں اللہ تعالی کے بارے میں حسن ظن رکھتا ہے لیکن اللہ تعالی سے دعا اور مناجات کے وقت حسن ظن کی ضرورت مزید قوی ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالی مانگنے والوں کو ضرور دیتا ہے، اللہ سے امید رکھنے والا کبھی مایوس نہیں لوٹتا۔

توبہ کی قبولیت کے اسباب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بندہ اللہ تعالی سے حسن ظن رکھے، آپ ﷺ ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالی سے بیان کرتے ہیں کہ: (میرے بندے نے گناہ کیا پھر اسے علم ہوا کہ اس کا رب گناہ معاف بھی کرتا ہے اور گناہوں پر پکڑ بھی فرماتا ہے؛ لہذا جو بھی کرو میں نے تمہیں بخش دیا) مسلم

مشکل حالات اور کڑے وقت میں حسن ظن مزید نکھر کے سامنے آتا ہے، اور بدگمانیاں چھٹ جاتی ہیں، چنانچہ غزوہ احد میں اہل ایمان نے ثابت قدمی دکھائی جبکہ دوسروں نے اللہ تعالی کے بارے میں جاہلوں والے گمان رکھے، اسی طرح غزوہ احزاب میں بھی اللہ تعالی کے بارے میں مختلف گمان کئے جانے لگے، تو اللہ تعالی نے ایک گروہ کے بارے میں فرمایا: {إِذْ جَاءُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا (10) هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا (11) وَإِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا} جب وہ تمہارے اوپر  اور نیچے سے چڑھ آئے تھے اور جب آنکھیں پھر گئی تھیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے تھے اور تم اللہ تعالی کے متعلق طرح طرح کے گمان کرنے لگے تھے [10] اس موقع پر مومنوں کی آزمائش کی گئی اور بری طرح جھنجھوڑ دئیے گئے۔ [11] اور اس وقت منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری تھی کہنے لگے اللہ تعالی اور اس کے رسول نے ہم سے محض دھوکا فریب کا ہی وعدہ کیا تھا۔ [الأحزاب: 10 - 12]

تاہم صحابہ کرام کو یقین تھا کہ مشکل حالات اور کڑے وقت میں  اللہ تعالی کی جانب سے فراخی اور مدد ضرور ملتی ہے، اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا: {وَلَمَّا رَأَى الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَذَا مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا} اور ایمانداروں نے جب (کفار کے) لشکروں کو دیکھا تو کہہ اٹھے: " اللہ اور اس کے رسول نے اسی کا وعدہ ہمیں دیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول نے سچا وعدہ دیا" اس نے ان کے ایمان میں اور فرمانبرداری میں اضافہ کر دیا ۔[الأحزاب: 22]

تنگ حالات میں اللہ تعالی سے خیر کی امید راہ نجات ہے، لہذا غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے تینوں افراد کی پریشانی اور تکلیف اللہ تعالی سے خیر کی امید رکھنے پر ہی وا ہوئی، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَنْ لَا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ}  اور تین شخصوں کے حال پر بھی[غور کریں] جن کا معاملہ ملتوی چھوڑ دیا گیا تھا، یہاں تک کہ زمین فراخی باوجود کے ان پر تنگ ہونے لگی اور وہ خود اپنی جان سے تنگ آ گئے۔ اور انہوں نے یقین کر لیا کہ اللہ کی جانب رجوع کئے بغیر کہیں پناہ نہیں مل سکتی ، تو پھر ان کے حال پر توجہ فرمائی تاکہ وہ آئندہ بھی توبہ کر سکیں ۔  بیشک اللہ تعالی بہت توبہ قبول کرنے والا بڑا رحم والا ہے۔ [التوبہ: 118]

اللہ تعالی اپنے بندوں اور اولیا کی مدد کرنے پر قادر  ہے کوئی بھی اس میں رکاوٹ اور حائل نہیں بن سکتا۔ اللہ کی مدد کے بارے میں پر اعتمادی بھی یقین کا حصہ ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {إِنْ يَنْصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ وَإِنْ يَخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِي يَنْصُرُكُمْ مِنْ بَعْدِهِ}  اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آ سکتا۔ اور اگر وہ تمہیں بے یارو  مدد گار چھوڑ دے تو پھر اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کر سکے ؟ [آل عمران: 160]

اللہ تعالی پاک ہے، نہایت رحم کرنے والا اور بڑا مہربان ہے۔ ایمان لانے والے، نیک اور اللہ سے خیر کی امید رکھنے والے اللہ تعالی کی رحمت آخر کار پا لیتے ہیں، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جس وقت اللہ تعالی نے مخلوقات کو پیدا  کرنے کا فیصلہ فرما لیا تو اللہ تعالی نے اپنی تحریر میں لکھا جو کہ اس کے پاس عرش پر ہے: بیشک میری رحمت میرے غضب پر بھاری ہے) متفق علیہ

اگر کسی کی  زندگی تنگ ہو جائے تو اللہ تعالی سے خیر کی امید فراخی اور راہ نجات بن جاتی ہے، جیسے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جس شخص کو فاقہ کشی کا سامنا ہو  اور وہ اپنی فاقہ کشی لوگوں کے سامنے رکھے تو اس کی فاقہ کشی ختم نہیں کی جاتی، اور جو شخص فاقہ کشی آنے پر اسے اللہ تعالی کے سامنے رکھے  تو عین ممکن ہے کہ فوری یا قدرے تاخیر کے ساتھ اللہ تعالی  اسے رزق  عطا فرما دے۔) ترمذی

سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے  اپنے بیٹے عبد اللہ کو کہا: "بیٹا! اگر تم میرا قرض اتارنے سے عاجز آ جاؤ  تو قرضہ چکانے کے لیے میرے مولا سے مدد مانگنا!  اس پر عبد اللہ نے کہا: اللہ کی قسم مجھے سمجھ میں نہیں آیا کہ ان کا کیا مطلب ہے؟ پھر میں نے پوچھ ہی لیا: ابّا جان آپ کا مولا کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: اللہ میرا مولا ہے۔ عبد اللہ بن زبیر کہتے ہیں: اللہ کی قسم اس کے بعد مجھے جب بھی اپنے والد کا قرضہ چکانے میں پریشانی ہوئی تو میں دعا کی: اے زبیر کے مولا! زبیر کا قرضہ چکا دے، تو اللہ تعالی اس کا بندوبست فرما دیتا تھا" بخاری

اللہ تعالی وسیع مغفرت اور عنایت کرنے والا ہے، جو شخص بھی اللہ تعالی سے خیر کی امید رکھے اللہ کے فضل، کرم، اور مغفرت کا امید وار ہو تو اللہ تعالی اسے  اس کی مرادیں عطا فرما دیتا ہے، (اللہ تعالی آسمان دنیا تک نازل ہو کر فرماتا ہے: کون ہے جو مجھے پکارے تو میں اس کی دعا قبول کروں؟  کون ہے جو مجھ سے مانگے تو میں اسے دوں؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو اسے بخش دوں، اس کے دونوں ہاتھ  بھرے ہوئے ہیں، شب و روز کی عنایتیں بھی اس میں کمی واقع نہیں کر سکتیں)

اللہ تعالی توبہ قبول کرنے والا ہے،  (اللہ تعالی کو بندے کی توبہ سے خوشی ہوتی ہے، اللہ تعالی اپنا ہاتھ رات میں پھیلاتا ہے تا کہ دن میں غلطیاں کرنے والا توبہ کر لے، اللہ تعالی اپنا ہاتھ دن میں پھیلاتا ہے تا کہ رات میں گناہ کرنے والا توبہ کر لے) یہ اللہ تعالی کی کمال خوبی اور صفت ہے کہ اللہ تعالی کسی بھی سوالی کو خالی نہیں لوٹاتا۔

انسان کو قریب المرگ حالت میں اللہ تعالی کے بارے میں حسن ظن کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، جس وقت انسان دنیا چھوڑ کر اللہ کی طرف جانے والا ہو اس لمحے میں خیر کی امید کرنی چاہیے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: " تم میں سے کسی کو بھی موت آئے تو صرف اس حالت میں آئے کہ وہ اللہ تعالی سے حسن ظن رکھتا ہو " مسلم

انسان جس وقت اللہ تعالی کے بارے میں حسن ظن رکھے تو یہ در حقیقت اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل  ہے اور یہ عبادت بھی ہے، نیز انسان کو اپنے رب سے وہی ملتا ہے جس کی اللہ سے امید رکھتا ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (اللہ تعالی کا فرمان ہے: میں اپنے بندے کے ساتھ وہی کرتا ہوں جیسا وہ میرے بارے میں گمان کرتا ہے، وہ جب بھی مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں) متفق علیہ

ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "انسان اللہ تعالی سے جب بھی خیر کی امید لگاتا ہے تو اللہ تعالی اس کو وہی عطا فرما دیتا ہے؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمہ قسم کی خیر اللہ تعالی کے ہی ہاتھ میں ہے "

اگر اللہ تعالی کسی بندے کو حسن ظن کی نعمت عطا  کر دے تو یہ اس کے لیے بہت بڑی دینی نعمت ہے؛ چنانچہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "قسم ہے اس ذات کی جس کے علاوہ کوئی حقیقی معبود نہیں! کسی بھی مومن کو  اللہ تعالی کے بارے میں حسن ظن سے بڑھ کوئی نعمت نہیں دی گئی۔"

لوگوں کی کارکردگی بھی اللہ تعالی سے حسن ظن کے مطابق ہوتی ہے؛ اسی لیے مومن اللہ تعالی سے حسن ظن رکھتا ہے تو کارکردگی بھی اچھی دکھاتا ہے، جبکہ کافر اللہ تعالی کے بارے میں سوء ظن کا شکار ہوتا ہے اور کارکردگی بھی نہیں دکھاتا، حسن ظن رکھنے کی عبادت سے اسلام کی امتیازی خوبی  اور کمال ِ ایمان عیاں ہوتا ہے  اور یہی انسان کے لیے جنت کا راستہ بھی ہے۔

حسن ظن رکھنے سے انسان کے دل میں اللہ تعالی پر توکل اور اعتماد پیدا ہوتا ہے، ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: "جس قدر آپ اپنے رب سے حسن ظن رکھیں گے، خیر کی امید لگائیں گے اتنا ہی آپ کا اللہ تعالی پر توکل ہو گا؛ یہی وجہ ہے کہ کچھ اہل علم نے توکل کو حسن ظن سے تعبیر کیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حسن ظن  انسان کو اللہ تعالی پر توکل کرنے کی دعوت دیتا ہے؛ کیونکہ ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ آپ کسی ایسے شخص پر توکل کریں جس کے بارے میں آپ بد گمانی کرتے ہیں ایسے ہی جس سے امید نہ ہو اس سے آس نہیں لگاتے"

حسن ظن کی علامات میں یہ چیز شامل ہے کہ  آپ کا دل مطمئن ہو گا، اور اللہ تعالی کی جانب متوجہ ہوں گے ، اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں گے۔

شرح صدر اور قلبی سکون کے لیے  ایمان کے بعد اللہ تعالی پر اعتماد ،توکل ، حسن ظن اور اللہ سے خیر کی امید سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔

حسن ظن سے خوش فالی کی ترغیب ملتی ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (کوئی بیماری خود بخود متعدی نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی چیز میں نحوست ہوتی ہے، مجھے خوش فالی  اچھی لگتی ہے۔) متفق علیہ ۔ حلیمی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "بد شگونی  اللہ تعالی سے بد گمانی کا نام ہے اور خوش فالی  حسن ظن کا نام ہے۔"

حسن ظن انسان کو سخاوت، شجاعت اور بے باکی  کا عادی بناتا ہے، چنانچہ ابو عبد اللہ  ساجی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اللہ تعالی پر اعتماد کرنے والا اپنی توانائی کو تحفظ فراہم کرتا ہے"

اللہ تعالی کے بارے میں حسن ظن  بہترین زادِ راہ  اور توشہ ہے۔ سلمہ بن دینار رحمہ اللہ سے کہا گیا: "ابو حازم! تمہاری جمع پونجی کتنی ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالی پر مکمل بھروسا اور لوگوں کی دولت سے مکمل صرف نظری"

اللہ تعالی پر حسن ظن رکھنے والا شخص  انتہائی سخی ہوتا ہے اسے اللہ تعالی کے اس فرمان پر یقین ہوتا ہے کہ: {وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ} اور تم جو کچھ بھی [راہِ الہی میں ]خرچ کرو تو   وہ اسے واپس لوٹا دے گا۔[سبأ: 39]

سلیمان درانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "جو شخص اپنے رزق کے حوالے سے اللہ تعالی پر مطمئن ہو تو اس کا اخلاقی حسن بڑھ جاتا ہے، اسے حلم کی دولت ملتی ہے، وہ راہِ الہی میں خرچ کرتے ہوئے سخاوت سے کام لیتا ہے، اور نماز میں اسے وسوسے آنا کم ہو جاتے ہیں"

حسن ظن انسان کو اللہ تعالی کے فضل و کرم  اور اللہ کے وعدوں پر اعتماد کرنے کی ترغیب دلاتا ہے، بلکہ فضلِ الہی حاصل کرنے کیلیے مثبت سرگرمیاں  سر انجام دینے پر ابھارتا ہے ، جو کہ اللہ تعالی کے اس فرمان کے عین مطابق ہے: { وَمَا يَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ يُكْفَرُوهُ} وہ جو بھی بھلائی کا کام کریں گے اسی کی ناقدری  بالکل نہیں کی جائے گی۔[آل عمران: 115]

اللہ تعالی اپنے بندوں کے ساتھ ویسا ہی معاملہ فرماتا ہے جیسا ان کا اللہ تعالی کے بارے میں گمان ہوتا ہے، کیونکہ جیسی نیت ویسی عنایت؛  لہذا اچھا گمان رکھنے والے کو اچھائی ملتی ہے اور بصورتِ دیگر  نقصان اٹھانا پڑتا ہے ، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (اللہ تعالی فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق  معاملہ کرتا ہوں، اب اس کی مرضی میرے بارے میں جو بھی گمان کرے، اگر میرے بارے میں گمان اچھا رکھتا ہے تو اسے خیر ملے گی اور اگر برا گمان کرتا ہے تو اسے برا بدلہ ہی ملے گا) احمد

انسان اللہ تعالی کے بارے میں اچھا گمان رکھے تو اللہ اسے کبھی بھی خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا۔

روز قیامت اللہ تعالی کے بارے میں حسن ظن رکھنے والا کہے گا: {هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ (19) إِنِّي ظَنَنْتُ أَنِّي مُلَاقٍ حِسَابِيَهْ (20) فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ (21) فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ} آؤ میرا نامہ اعمال پڑھو  [19 ]مجھے حسن ظن تھا کہ میرا حساب مجھے ملنے والا ہے [20] تو وہ خوش حال زندگی میں ہو گا  [21]عالی مقام جنت میں۔ [الحاقہ: 19 - 22]

ان تمام تر تفصیلات کے بعد: مسلمانو!

اللہ تعالی کریم، بہت بڑا، قوی اور عظیم ہے ، جس چیز کا ارادہ فرما لے تو اسے ہو جانے کا حکم دیتا ہے تو وہ چیز بن جاتی ہے، اللہ تعالی نے اپنی کتاب کے تحفظ  اور دین کے غلبے کا وعدہ کیا ہوا ہے، آخر کار انجام متقی لوگوں کے حق میں ہو گا، وہ جسے چاہتا ہے بے حساب نوازتا ہے، اللہ اپنی پناہ لینے والوں کی مشکل کشائی فرماتا ہے، اللہ تعالی کے بارے میں جس کی معرفت جس قدر زیادہ ہو گی  اللہ تعالی پر اس کا یقین بھی اتنا ہی قوی ہو گا۔ اللہ تعالی کے بارے میں بد گمانی  معرفتِ الہی سے نا بلد ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، اور اللہ کی معرفت سے دوری اہل جاہلیت کی نشانی ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {يَظُنُّونَ بِاللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ} وہ اللہ کے بارے میں بغیر حق کے جاہلیت والے گمان کرتے ہیں۔[آل عمران: 154] اللہ تعالی اور اللہ تعالی کے اسما و صفات پر ایمان  کا نتیجہ حسن ظن ، توکل اور اپنی ہر چیز اللہ کے سپرد کرنے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ: {فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعَالَمِينَ} تو تمہارا رب العالمین کے بارے میں کیا گمان ہے؟ [الصافات: 87]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو ذکرِ حکیم کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی  بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں کہ اس نے ہم پر احسان کیا ، اسی کے شکر گزار بھی ہیں کہ اس نے ہمیں نیکی کی توفیق دی، میں اس کی عظمت اور شان کا اقرار کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا اور اکیلا ہے ، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد  اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اللہ تعالی ان پر ، ان کی آل اور  صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں ،سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔

مسلمانو!

اللہ تعالی کے بارے میں حسن ظن کی حقیقت حسن کارکردگی میں پنہاں ہے، اگر آپ دل جمعی  اور عمدگی سے عمل کر رہے ہیں تو آپ کی محنت بار آور ہو گی، چنانچہ سب سے اچھی کارکردگی کا حامل شخص ہی اللہ تعالی سے خیر کی امید رکھنے والا ہے، جس قدر انسان کا اللہ تعالی کے بارے میں حسن ظن ہو گا لازمی بات ہے کہ اس کی کارکردگی بھی اسی قدر عمدہ ہو گی،  اور جو شخص بد عملی کا شکار ہو تو وہ اللہ تعالی کے بارے میں بد ظنی کا شکار ہو گا ۔

اگر کوئی شخص اپنی کارستانیوں پر بھی حسن ظن  کرے تو وہ اللہ کی پکڑ سے بے خوف بنا بیٹھا ہے۔ اگر حسن ظن انسان کو نیکی پر ابھارے تو یہ مفید حسن ظن ہے، لیکن اگر حسن ظن میں کمی واقع ہوئی تو اعضا گناہوں میں ملوث ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

یہ بات جان لو کہ اللہ تعالی نے تمہیں اپنے نبی پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیا اور  فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام  بھیجا  کرو۔ [الأحزاب: 56]

اللهم صل وسلم وبارك على نبينا محمد، یا اللہ! حق اور انصاف کے ساتھ فیصلے  کرنے والے خلفائے راشدین:  ابو بکر ، عمر، عثمان، علی سمیت  بقیہ تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ !اپنے رحم و کرم اور جو د و سخا کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا اکرم الاکرمین!

یا  اللہ !اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، شرک اور مشرکوں کو ذلیل فرما، یا اللہ !دین کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما،  یا اللہ! اس ملک کو اور مسلمانوں کے تمام ممالک کو خوشحال اور امن کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کے حالات سنوار دے، یا اللہ! تمام مسلمانوں کو تیری طرف احسن انداز میں رجوع کرنے والا بنا۔

یا اللہ! ہماری فوج کی مدد فرما،  یا اللہ! ہمارے ملک کی حفاظت فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! جو بھی ہمارے بارے میں یا ہمارے ملک کے بارے میں  یا مسلمانوں کے بارے میں برے ارادے رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا قوی! یا عزیز!

یا اللہ! ہمارے حکمران کو تیری رہنمائی کے مطابق توفیق عطا فرما، اور ان کے سارے اعمال تیری رضا کیلیے مختص فرما، یا اللہ! تمام مسلم  حکمرانوں کو تیری کتاب پر عمل کرنے اور نفاذِ شریعت  کی توفیق عطا فرما، یا ذالجلال والا کرام!

یا اللہ! ہمیں دنیا  اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! تو ہی معبود حقیقی ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو ہی غنی ہے ہم فقیر ہیں، ہمیں بارش عطا فرما اور ہمیں مایوس مت فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما۔

یا اللہ! ہم نے اپنی جانوں پر بہت ظلم کیا  اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم خسارہ پانے والے بن جائیں گے۔

اللہ کے بندو!

{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے  منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں وعظ کرتا ہے تا کہ تم نصیحت پکڑو۔ [النحل: 90]

تم عظمت والے جلیل القدر اللہ کا ذکر کرو تو وہ بھی تمہیں یاد رکھے گا، اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا کرو تو وہ  تمہیں اور زیادہ دے گا، یقیناً اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے ، تم جو بھی کرتے ہو اللہ تعالی جانتا ہے ۔

پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ یا پرنٹ کرنے کیلیے کلک کریں

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ایم ایس تفسیر کے طالب علم ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.