نئی پالیسی اب ہماری بھی ضرورت ہے - یاسر محمود آرائیں

اقوام عالم میں تگڑی اور توانا ریاستوں کی بنیاد اُن کی واضح اور اٹل خارجہ پالیسی ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں ملکی سلامتی اور خارجہ امور سے متعلق پالیسیاں کم از کم آئندہ تیس سے چالیس سال کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے قومی مفاد میں تشکیل دی جاتی ہیں اور پالیسی میکنگ کے عمل میں تمام اسٹیک ہولڈرز (پارلیمنٹ، مسلح افواج، خفیہ اداروں اور تھنک ٹینکس) کو آن بورڈ لیا جاتا ہے اور ایک جامع ڈیبیٹ کے بعد طویل المدتی خارجہ پالیسی تشکیل دی جاتی ہے اور پھر حکومت خواہ کسی کی بھی عمل بہرحال اسی پالیسی پر کیا جاتا ہے۔

ایسی بہت سی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ ہمارے پڑوسی بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہو یا پھر کانگریس کی پاکستان کے متعلق بھارت کی پالیسی میں کبھی رتّی برابر فرق نہیں آیا اور پچھلی پون صدی سے کشمیر کے متعلق بھی دونوں جماعتوں کی سوچ میں واضح یکسانیت نظر آتی ہے۔ یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارت میں پاکستان اور کشمیر سے متعلق کوئی بھی بات کرتے ہوئے سویلین گورنمنٹ ملٹری فیڈ بیک کو لازما مقدم رکھتی ہے اور افواج کو باقاعدہ اعتماد میں لے کر ہی پاکستان سے کوئی بات چیت کی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ امریکا میں بھی خارجہ اور دفاع سے متعلق تمام فیصلے پینٹاگون اور دفترخارجہ کے کو آرڈی نیشن سے ہی ہوتے ہیں مگر فیصلہ کن اختیار پینٹاگون کے پاس ہی ہوتا ہے۔ اس کے ثبوت کے طور پر آپ دیکھ سکتے ہیں کہ امریکی صدر براک اوباما اپنی انتخابی مہم کے دوران بارہا افغان جنگ کے خلاف بات کرتے اور اقتدار میں آنے کے بعد وہاں سے اپنی امریکی افواج واپس بلانے کا ذکر کرتے نظر آتے تھے مگر اپنی تقاریر کے برخلاف انہوں نے منصب سنبھالنے کے بعد ناصرف اپنے پیشرو کی چھوڑی ہوئی پالیسی کو آگے بڑھایا بلکہ افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد میں اضافہ بھی کردیا۔

حالیہ امریکی صدر ٹرمپ بھی منصب سنبھالنے سے قبل امریکا کی افغان پالیسی پر تنقید کرتے رہے ہیں اور انہوں نے انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد بیرون ملک امریکی فوجی آپریشنز کو مرحلہ وار ختم کردیں گے۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد مگر انہوں نے بھی اسی سابقہ پالیسی کو جاری رکھا اور انہیں بھی احساس ہوگیا کہ اقتدار میں آنے کے بعد بھی بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن پر سول حکومت کا اختیار نہیں ہوتا۔ اس بات کا اعتراف انہوں نے ایک بار اپنی تقریر میں یہ کہہ کر کیا تھا کہ وائٹ ہاؤس میں بیٹھ کر بہت سی چیزوں کو آپ اپنی مرضی کی نظر سے نہیں دیکھ سکتے وہاں بیٹھ کر آپ کو وہی نظر آتا ہے جو آپ کو عینک(اسٹیبلشمنٹ)دکھانا چاہتی ہے۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خارجہ امور دنیا بھر میں ملٹری کی منشا سے طے کیے جاتے ہیں اور مذکورہ دونوں مثالیں میں نے جمہوری طور پر مضبوط ممالک سے دی ہیں کیونکہ بصورت دیگر کچھ لوگ یہ اعتراض جڑدیتے کہ تیسری دنیا کے ممالک میں ہی اسٹیبلشمنٹ حکومت سے الگ رائے رکھتی ہے۔ لیکن اس بات کا مطلب یہ بھی نہیں کہ تمام امور ایک فرد واحد یعنی آرمی چیف کی صوابدید پر چھوڑ دیے جائیں کہ وہ جس طرف چاہے ملکی پالیسی کا رخ موڑ دے۔ جیسے کہ ماضی میں جنرل ضیاء الحق نے افغانستان میں جہاد کا اعلان کیا اور اس کے ساتھ ہی اس دور میں بہت سی جہادی تنظیمیں اور فرقہ ورانہ جماعتیں بھی وجود میں آگئیں اور سرکاری سطح پر ان کی بھرپور سرپرستی بھی کی گئی۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ روس کے خلاف جنگ ہمارے بھی مفاد میں تھی مگر اس جنگ کے بعد جہادی تنظیموں پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہ رکھا گیا اور وہی لوگ جو واقعتاً ہمارا اثاثہ ثابت ہوسکتے تھے، کوئی دوررس پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے دشمن نے ان کے درمیان اپنے ایجنٹ انجیکٹ کرکے ہمارے لیے مسائل پیدا کیے۔

بعدازاں، جنرل پرویز مشرف نے نائن الیون کے بعد ایک امریکی کال پر ملکی پالیسی کو بالکل یوٹرن پر ڈال دیا جس کی وجہ سے مغربی بارڈر جہاں پر کبھی ایک سپاہی تعینات کرنے کی ضرورت پیش نہ آئی تھی وہاں ہماری ڈیڑھ لاکھ سپاہ پھنس کررہ گئی ہے مگر پھر بھی ہماری یہ سرحد ہنوز غیر محفوظ ہے۔ اس سے قبل جن لوگوں کو ریاست نے اپنا اثاثہ بتایا تھا اور ہتھیلی کا چھالہ بناکر برسوں پالا راتوں رات انہیں دہشتگرد ڈکلیئر کرکے ان کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی جس کی وجہ سے آج تک قتل و غارت گری کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ یہ سب ایک فردِ واحد کی جانب سے بلامشاورت پالیسی بنانے کا نتیجہ ہے۔

قابلِ غور بات یہ ہے کہ مذکورہ دونوں مواقع پر پاکستان کی پالیسی بدلنے کی بڑی وجہ قومی یا مذہبی مفاد کے بجائے امریکی مفاد رہا ہے۔سویت یونین کے خلاف جنگ کے وقت بھی ہمیں بتایا گیا کہ اس جنگ میں شمولیت ہمارے لیے مذہبی لحاظ سے فرض ہے اور نائن الیون کے بعد دہشتگردی کے نام پر جنگ کے وقت کہا گیا کہ اس میں شمولیت ہمارے قومی مفاد میں لازم ہے۔عملاً دونوں بار مگر ہمارا مقصد امریکی مفادات کی نگہبانی اور اطاعت گزاری ہی تھا۔جس کی خاطر ہم اپنے مفادات کو بھی پس پشت ڈال کر آخری حدوں تک گئے۔امریکا کی خوشنودی کے لیے ہم نے اپنے ہم وطنوں ہر لشکر کشی کردی،اپنی ملکی سرحدیں امریکا کے لیے بے معنی بناکر رکھ دیں،غرض کہ ہم نے بطور ریاست امریکا کے لیے وہ کچھ کیا جو شاید کوئی بھی دوسری ریاست کبھی کرنے پر تیار نہ ہوتی۔لیکن اس سب کے باوجود ہمیں امریکا کی جانب سے ہمیشہ بے اعتمادی اور گالیاں ہی ملی ہیں اور ہر بار امریکا کی جانب سے گالیاں کھانے کے بعد صفائیاں دینے لگ جاتے ہیں کہ ہم نے فلاں فلاں قربانیاں دی ہیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے امریکا کے لیے واقعی بہت کچھ کیا ہے مگر اس بہت کچھ کے باوجود امریکا کی جانب سے ہمیں ملنے والی گالیوں کی وجہ یہ ہے کہ ہم بہرحال ایک آزاد ریاست ہیں اور اس وجہ سے ہم چاہ کر بھی امریکی مطالبات مکمل طور پر کبھی پورے نہیں کرسکتے۔ہماری بے وقعتی کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم نے آج تک جو کچھ بھی کیا ہے وہ دباؤ اور دھونس میں آکر ہی کیا ہے ہماری اپنی کوئی مرضی کبھی اس میں شامل نہیں رہی۔امریکا کی جانب سے اگر ہمیں حکم آتا ہے تو ہم جہادی لشکر بنالیتے ہیں اور پھر امریکا ہی کے کہنے پر ہم انہیں پھانسی پر لٹکانا شروع کردیتے ہیں جس میں ہماری مرضی کا کوئی دخل نہیں ہوتا اسی لیے کچھ نا کچھ کوتاہی ہر بار رہ جاتی ہے جس کی وجہ سے ہمیں اس سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مقصود عرض یہ ہے کہ اگر ہم واقعی اس سردرد سے مستقل نجات چاہتے جو ٹرمپ انتظامیہ کے بیانات سے پیدا ہورہا ہے تو ہمیں اپنے نیشنل انٹرسٹ میں اب فیصلہ کرنا پڑے گا کہ آئندہ کسی کے لیے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا اور جو بھی کیا جائے گا، اس کے لیے بھی وجوہات تلاش کرنی پڑیں گی کہ آخر یہ سب کیوں کیا جائے اور اس میں ہمارا کیا مفاد ہوگا؟ یہ بھی سوچنا ہوگا کہ محض کسی دباؤ کی وجہ سے اپنے پرامن شہریوں کے خلاف بلاثبوت کارروائی کے بطور ریاست کیا اثرات پیش آسکتے ہیں۔اس کے علاوہ آئندہ ہمیں عالمی برادری کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات رکھنے کا عہد کرنا ہوگا مگر اس کے لیے بھی ہمیں پہلے یہ طے کرنا پڑے گا کہ آخر ہماری خودمختاری کی حد کیا ہوگی اور وہ کون سی ریڈ لائن ہوگی جسے عبور کرنے والی ریاست کو ہم دشمن تصور کریں گے؟

نہایت خوش آئند ہے کہ امریکا کی طرف سے تمام تر اشتعال انگیزی کے باوجود ہماری جانب سے اب تک روایتی بڑھک بازی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا اور امریکی بیانات کا جواب دینے کے لیے سنجیدگی سے غوروخوض جاری ہے۔ آخر میں ایک بار پھر کہنا چاہوں گا کہ آئندہ کے لیے جو بھی لائحہ عمل تیار کیا جائے وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ہی ہونا چاہیے مگر اس کے ساتھ یہ بھی یقینی بنانا پڑے گا کہ خارجہ پالیسی اور اس کے متعلق تمام تر بیانیہ دنیا تک دفتر خارجہ اور سویلین گورنمنٹ نے ذریعے ہی پہنچایا جائے کیونکہ ماضی کے بہت سے تجربات ہمارے سامنے ہیں کہ دیگر ادارے سویلین گورنمنٹ کی نسبت بیرونی دباؤ برداشت کرنے میں ہمیشہ ناکام رہے ہیں اور اکثر دفاعی اور خارجہ امور پر ان کے بیانات کی وجہ سے شکوک وشبہات پیدا ہوتے رہے ہیں۔ اور نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انہی وجوہات کے باعث ہمیں وقتاً فوقتاً عالمی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ عالمی سطح پر ہمارا یہ تاثر بن چکا ہے کہ ہمیں دباؤ میں لے کر ہر قسم کے مطالبات منوائے جاسکتے ہیں اور زیادہ تفصیل میں جائے بغیر میں اس کے ثبوت کے طور پر صرف اتنا کہوں گا کہ گزشتہ سال اگست میں جب امریکا کی جانب سے نئی افغان پالیسی کا اعلان کیا گیا تھا تو اس وقت حافظ سعید، حقانی نیٹ ورک اور "ڈو مور" کے متعلق ہمارے اداروں کے موقف میں اور امریکی دباؤ بڑھنے کے بعد کے موقف میں واضح فرق دیکھا جاسکتا ہے۔

Comments

یاسر محمود آرائیں

یاسر محمود آرائیں

یاسر محمود آرائیں "باب الاسلام" اور صوفیوں کی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں۔حافظ قرآن ہیں اور اچھا لکھنے کی آرزو میں اچھا پڑھنے کی کوشش میں سرگرداں رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */