سوشل میڈیا صحافت اور ضابطہ اخلاق - منصور مانی

صحافی اور لکھاری اپنے بارے میں میں یہ سوچنا پسند کرتے ہیں:
"ہم کسی کے احکام کے پابند نہیں، ہم اپنے ذہن خود بناتے ہیں کہ کون سی خبر کو جگہ دی جائے، کس موضوع پر لکھا جائے یا ترتیب میں اُس خبر کو کہاں رکھا جائے۔ آزادی، ادارتی دیانت داری اور غیر جانبداری ساتھ ساتھ چلتی ہیں، ہم کسی خوف یا حمایت کے بغیر لکھتے اور رپورٹ کرتے ہیں اور بس. ختم شُد!۔"
(بی بی سی اسکول آف جرنلزم کے لیکچر سے ایک اقتباس)

یہ ایک عمومی انسانی رویے کی جانب اشارہ ہے، صحافی اور لکھاری ایک عام آدمی کی نسبت زیادہ معلومات رکھتے ہیں اور اسی بنیاد پر تفاخر سے اپنے آپ کو دیگر سے ممتاز تصور کرتے ہیں۔ یہاں سے ہی خرابی کا آغاز ہو جاتا ہے، خبر دینے کی جلدی اور سب سے پہلے کی دوڑ اس خرابی میں مزید تڑکے کا کام کرتی ہے، جس کے باعث صحافتی اخلاقیات نظرانداز ہو جاتی ہیں۔ سینہ گزٹ سے اخبار، اخبار سے ریڈیو، پھر ٹیلی ویژن اور اب ڈیجیٹل میڈیا ہمیں معلومات کے حصول میں مزید آگے لے کر جا رہا ہے، مگر ہم اپنی اخلاقیات کو کہیں پیچھے چھوڑتے جا رہے ہیں، اور اس رویے کو ہم آزادی رائے کاعنوان دیتے ہیں۔

آزادی رائے کے نام پر ہم کیاگُل کھلا رہے ہیں، ذرا ملاحظہ کیجیے۔
نوٹ: یہاں ہم ایکسپریس نیوز، ڈان نیوز، ہم سب، دلیل اور مکالمہ جیسی مشہور ویب سائٹس پر شائع ہونے والے مواد پر گفتگو کریں گے، میری مدیر اعلی سے دارخوست ہے کہ جو تصاویر آپ کو ثبوت کو طور پر مہیا کی گئی ہیں، انھیں شائع نہ کریں۔
1
سُرخی۔
سنی لیونِ کا بھائی پیسوں کے لیے کیا کرتا تھا؟
(سنی لیونِ کی ایک دل فریب تصویر تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ کلک کریں)
تصویر کا کیپشن: ادکارہ نے شرمناک راز سے پردہ اُٹھا دیا۔۔۔ مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں ایکسپریس نیوز۔
2
ادکارہ پر فلم میں نامناسب سین شوٹ کرانے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا،
(لوگوں کو متوجہ کرنے کے لیے ایک انتائی غیر مناسب تصویر)
کلک کریں ڈان نیوز۔
3
لڑکی سے ملاقات نوجوان کو کتنی مہنگی پڑ گئی، وڈیو نے ہلچل مچا دی، دیکھنے کے لیے کلک کریں۔ ایکسپریس نیوز
4
میری بہن نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر تین بار جنسی زیادتی کی اور وڈیو بنائی، وڈیو دیکھیں۔ ڈان نیوز
5
ہم سب ویب سائٹ پر شائع ہونے والی کسی ادکارہ کی کئی تصاویر جو قابلِ اعتراض تھیں۔
6
ہم سب ویب سائٹ پر شائع ہونے والی سنی لیونِ کی تصاویر، اور اس کے جسمانی خدوخال پر بحث
7
مکالمہ ویب سائٹ پر ہم جنس پرستی کے موضوع پر ایک ایسا بلاگ جو اولین طور پر ایک جنسی کہانی تھا، بعد میں اسے ایڈٹ کر دیا گیا۔
8
مکالمہ ویب سائٹ پر ایسے الفاظ کا استعمال جو غیر شائستہ تھے۔

یہ صرف چند امثال ہیں، اور یہ سب کیوں کیا جاتا ہے، اس کی ایک وجہ ریٹنگ، سرکولیشن میں اضافہ اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا جا سکے۔

حال ہی میں ویب سائٹ ہم سب پر کسی مرحوم قلم کار کا ایک مضمون شائع کیا گیا، جو کہ نور جہاں پر تھا۔ صاحب قلم نے نور جہاں کو ایک طوائف زادی اور جانے کیا کیا قرار دیا، یہ اُن کا نکتہ نظر تھا، ہو سکتا ہے کہ وہ درست ہوں، جواب میں دوسری ویب سائٹ مکالمہ نے اسی حوالے سے مکالمہ شروع کرتے ہوئے ایک جوابی مضمون میں ان الفاظ کو جگہ دی
''احباب نورجہاں سے واپس ثانیہ کی چڈی اور سنی لیونِ کی برئیزر کے پیچھے چھپ جائیں گے۔ موصوف قلم کار جنہوں نے یہ الفاظ تحریر کیے، انہیں نہیں معلوم کہ اگر ان الفاظ پر ثانیہ اور سنی لیونِ میں سے کسی ایک نے بھی ہتک عزت کا مقدمہ کر دیا تو انہیں ان جگہوں پر بھی چُھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔''

ایک طرف ادارہ ہم سب اپنی پالسی میں کہتا ہے کہ "مذیبی بحث کو جنم دینے والی اشتعال انگیز تحریروں سے گریز کیجیے''، دوسری جانب ایسی تحریروں کو شائع بھی کرتا ہے، ایک طرف اپنی پالیسی میں کہتا ہے کہ لعنتی منحوس نامراد بےغیرت جیسے القاب سے گریز کریں دوسری جانب کنجری جیسے عنوانات کو قبول بھی کرتا ہے۔ یہ ہی حال مکالمہ کا بھی ہے، اپنی پالیسی میں مکالمہ عمومی تہذیب کے دائرے میں رہنے کی دارخواست کرتا ہے، دوسری جانب اپنے پلیٹ فارم پر بعض ایسی تحاریر کو جگہ دیتا ہے جو تہذیب سے ہی نہیں اخلاقیات کے جامے سے بھی باہر نکل جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   دو نمبری انقلاب - رؤف کلاسرا

دلیل ویب سائٹ اس حوالے سے کچھ بہتر ہے کہ وہاں آپ کو اخلاقی اقدار کے منافی کوئی چیز نظر نہیں آ تی یا ہوسکتا ہے میری نظر سے نہ گزری ہو، یکطرفہ نکتہ نظر اور تحاریر آپ کو دلیل پر ہی نظر آئیں گی، مگر انہوں نے اپنے مقاصد میں اس چیز کو واضح کر رکھا ہے کہ اس پلیٹ فارم پر اسلامی فکر کو ہی فروغ دیا جائے گا، توازن کے ساتھ۔

ہو سکتا ہے اپنے اپنے مقاصد کے لحاظ سے یہ سب درست سمت گامزن ہوں مگر کیا یہ مقاصد معاشرے کی فلاح کو مدنظر بھی رکھ رہے ہیں، اس کا فیصلہ میں یا آپ نہیں وقت کرے گا۔

ہر انسان کو لکھنے کی آزادی ہوتی ہے، آزادی اپنی مرضی کی، لکھنے والا اپنی آزادی دیکھتا ہے اور پڑھنے والا اپنی آزادی لیکن مکمل آزادی دونوں کے لیے ممکن نہیں اور نہ ہی سود مند ہے، کیوں کہ فطرت کبھی آپ کو مادر پدر آزاد نہیں چھوڑتی، کہیں نہ کہیں آپ کو کسی پابندی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور یہ ضروری بھی ہے۔ لکھنے والے اپنی تحریر میں اگر اپنی خواہشات کا شامل کر دیں تو پھر جانبداری ابھر آتی ہے جو ممکن ہے سچ بھی ہو مگر ایسا سچ جس کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہوتی۔
مثال دیکھیں۔
شخصیت: نور جہاں
وجہ شہرت: گائیکی، ادکاری :
خبر صحافت کی اصل روح کے مطابق۔
گلوکارہ نور جہاں انتقال کر گئیں،
آپ نےبےشمار ایوارڈزحاصل کیے، آپ نے فلمی گیتوں کے ساتھ ساتھ وطن کی محبت پر بھی کئی گیت گائے ہیں۔

خبر، ذاتی پسند و ناپسند کے مطابق1،
گلوکارہ نور جہاں انتقال کر گئیں
آپ نے بےشمار ایوارڈز حاصل کیے، آپ کا تعلق اُس بازار سے تھا جہاں راتیں جاگا کرتی ہیں اور دن سوتے ہیں۔

خبر، ذاتی پسند و ناپسند کے مطابق2،
گلوکارہ نور جہاں انتقال کر گئیں
آپ نے بے شمار ایوارڈز حاصل کیے، آپ کا تعلق اُس بازار سے تھا جہاں راتیں جاگا کرتی ہیں اور دن سوتے ہیں، ہمارے ذرائع کے مطابق نور جہاں کے کئی نام ور اور بااثر افراد کے ساتھ جنسی تعلقات بھی رہے تھے، بتایا جاتا ہے کہ۔۔۔

یہ تین خبریں ہیں، تین کی تین سچ ہیں، یہ ایک مدیر پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح اس خبر کی بنت کرتا ہے، بنت پھر اخبار، سائٹ یا ٹی وی کی پالیسی کو دیکھ کر کی جاتی ہے۔ اور پھر اس خبر کے مختلف اینگل (زاویے) دیکھ کر کسی ایک اینگل کو اُٹھا لیا جاتا ہے۔ پھر الفاظ کا چناؤ، آپ کی خبر یا تحریر میں شدت یا اعتدال کو ظاہر کرتا ہے، مثال کے طور پر ''دوشیزہ کی آبرو تار تار، خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کا واقعہ، وحشی درندے نے نازک اور خوبصورت لڑکی کی عزت لوٹ لی.''

یہ چند امثال ہیں، خبر ایک ہی ہے مگر الفاظ کا چُناؤ پڑھنے والے کے دل میں الفاظ کے حساب سے غم و غصے کو بڑھائے گا، جبکہ لکھنے والے کے غصے کی بھی عکاسی کرے گا۔

ایک انگریز نے جو ہمیں نیوز مائننگ پڑھا رہا تھا، صحافت کی مشہور زمانہ بات کہی جو ہم اکثر پڑھتے ہیں مگر اُس پر عمل نہیں کرتے۔ اُس نے کہا تھا خبر بناتے وقت اپنا دل اور جذبات ایک طرف رکھ دو، خبر صرف خبر ہوتی ہے، آپ کے جذبات اور خواہشات کا عکاس نہیں، پھر مدیر کا کیا کام؟ کسی نے سوال کیا۔ جس پر اُس نے جواب دیا کہ مدیر کا یہ کام ہے کہ وہ دیکھے اگر اُس خبر کی نوعیت ایسی ہے کہ اُس کے شائع ہونے سے معاشرے میں ابتری بڑھ سکتی ہے یا اجتماعی نقصان کا اندیشہ ہے تو اُس خبر کے الفاظ میں سے شدت نکال دے، اُسے ایک سادہ انداز میں شائع کرے۔ اس کی مثال دیکھیں۔
''فائرنگ سے ایک ڈاکٹر جاں بحق، فائرنگ سے ایک شیعہ ڈاکٹر ہلاک، دونوں خبریں سچ ہیں، مگر الفاظ کا چُناؤ انہیں سنگین بنا رہا ہے، اب کس خبر کے شائع ہونے سے غم و غصہ پھیلے گا، یہ زیادہ سوچنے کی بات نہیں!

اور یہ سب صرف خبر کے لیے ہی نہیں، کسی بھی کالم یا بلاگ کے حوالے سے بھی ہے۔ بنیادی طور پر کالم یا بلاگ میں کسی بھی شخصیت، خبر یا واقعہ پر اپنی معلومات اور حاصل حقائق کی روشنی میں تبصرہ کیا جاتا ہے، اور ایک رائے قائم کی جاتی ہے۔ محسوس یا غیر محسوس طریقے سے رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی ایک کوشش کی جاتی ہے، یہ کوشش مثبت بھی ہو سکتی ہے اور منفی بھی، رائے کھری بھی ہو سکتی ہے اور کھوٹی بھی، معلومات ادھوری بھی ہوسکتی ہیں اور غلط بھی، حقائق کو کانٹ چھانٹ کر بھی پیش کیا جا سکتا ہے اور آدھا سچ بھی، الفاظ کا چُناؤ بھی بہت اہم ہے، آپ جس معاشرے میں رہ رہے ہیں، وہاں کی اقدار کا خیال رکھنا آپ کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ایک چور کو آپ صرف چور بھی کہہ سکتے ہیں، اور چور کے ساتھ کوئی گالی جوڑ کر بھی اُسے چور کہہ سکتے ہیں، دونوں صورتوں میں وہ چور ہی رہے گا، الفاظ کے چناؤ سے مگر آپ کی جانب داری نظر آ جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   بھائی لائیکس نہیں آرہے – محمد جمیل اختر

غیر جانب داری مگر کیا ہے؟ کسی بھی دعوے یا خبر کو ممکنہ حد تک درستی کے ساتھ بیان کیا جائے، اور زیر بحث معاملے پر دوسرے متعلقہ، اہم خیالات کو تلاش کر کے ان پر بھی غور کیا جائے۔ غیر جانب داری آپ کو ایسے فیصلے تک پہنچنے کی اجازت دیتی ہے جس کی بنیاد حقائق پر ہو اور اس بات پر اصرار کرتی ہے کہ آپ زیر بحث معاملے کی بابت متعلقہ، اہم خیالات کو تلاش کریں اور یہ بھی تقاضا کرتی ہے کہ آپ ان خیالات کے وزن کو پرکھیں، اور غالباً ان خیالات کو رد جنھیں کسی شہادت کی مدد حاصل نہ ہو یا جو حقائق کی تردید کرتے ہوں۔ (بی بی سی، اسکول آف جرنلزم سے کے لیکچر سے لیا گیا اقتباس)

کہا جاتا ہے کہ غیر جانبداری مکمل طور پر ممکن نہیں، متنازع موضوعات کے حوالے سے یہ عین ممکن ہے، خبر وقت کے ساتھ مکمل ہوتی ہے اور اُس پر دی جانے والی رائے بھی، خبر کے آغاز میں آپ ایک رائے قائم کرتے ہیں اور جیسے جیسے خبر مکمل ہوتی ہے آپ بتدریج غیر جانبداری کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اسی طرح آپ کسی کو ظالم اور مظلوم نہیں کہہ سکتے، دنیا کو واضح طور پر ظالم اور مظلوم کے زمروں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا، درحقیقت جو کچھ پیش آ رہا ہوتا ہے، بعض اوقات اس کے پیچھے جھانکنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بات اتنی آسان نہیں اور اس کی بابت کچھ دشوار فیصلے کرنے ہوں گے، حساس مسائل جیسے نسل پرستی، عقیدے، مذہب اور ملک کی سلامتی کے حوالے سے بہت سے چیزوں کو نظرانداز کرنا بہتر ہوتا ہے، ایسے مسائل کو بیان کرتے وقت الفاظ سادہ، نرم اور اس طرح کے ہوں جن سے کسی قسم کی سنسنی اشتعال انگیزی سامنے نہ آئے۔

آپ کی تحریر، بلاگ یا خبر میں بنیادی طور پر یہ عوامل شامل ہونے چاہییں،
1- سچائی
2- درستگی
3- غیر جانب داری
4- توازن
5- آزادانہ
6- حقائق کا درست استعمال
7- عوامی دل چسپی
8- عوام کے سامنے جوابدہی کا احساس
9- مفاد عامہ کا خیال۔
عمومی طور پر لکھاری اور صحافی اس چیز کو باعث فخر سمجھتے ہیں کہ وہ کسی کو جوابدہ نہیں، آپ جوابدہ ہیں چاہے آپ کو یہ بات پسند ہو یا نہ ہو، آپ اپنے ادارے، اپنے قارئین، سامعین اور ناظرین کے جوابدہ ہیں، وسیع تر معنوں میں عوام کے!
جو تحریر اور صحافت عوام کو جوابدہ نہ ہو، اُس کی حیثیت محض تفریح سے زیادہ کچھ نہیں۔

اپنی تحریر کو جانچ لیجیے کہ مفاد عامہ کے پیش نظر، کہیں وہ نفرت انگیز مواد کے فروغ کا باعث تو نہیں بن رہی، کہیں آپ کا طنز مزید ابہام تو پیدا نہیں کر رہا، عوامی مفاد اور مذہب سے جڑے واقعات پر لکھتے وقت خاص طور پر ان چیزوں کا خیال رکھیں۔

ڈیجیٹل میڈیا کو خاص طور پر ان چیزوں کا خیال رکھنا ہوگا۔ ضروری نہیں صرف صحافی یا ایک مستند لکھاری کو ہی لکھنے کا حق حاصل ہے، مگر یہ بھی ضروری نہیں کہ ایک عام آدمی جسے آپ لکھنے کے لیے پلیٹ فارم مہیا کر رہے ہیں، اچھا لکھ سکے۔ لکھنا ایک بڑی ذمہ داری کا کام ہے، سیکھے اور پڑھے بغیر، اُصولوں کو جانچے بنا، معلومات کے بنا کیا کوئی لکھ سکتا ہے؟

ہاں!
لکھ تو سکتا ہے، لیکن وہ تمام تر اُصولوں کی پابندی کرتا ہو یہ ممکن نہیں۔ ہر شخص پڑھ سکتا ہے لیکن ہر شخص لکھے، یہ ضروری نہیں۔ یہ کہاوت، ''نیم حکیم خطرہ جاں'' ایک صحافی اور قلم کار پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ پرکھنا اور جانچنا مگر مدیران کی ذمہ داری ہے۔ اپنے پیش نظر مشہور ہونے سے زیادہ اس چیز کا خیال رکھیں کہ آپ جوابدہ ہیں، اس احساس کے ساتھ آپ ایک بہتر خیال اور تحریر اپنے پڑھنے والوں کو دے سکیں گے۔