ٹرمپ کے ٹویٹ - محمد عنصر عثمانی

ایک نیک دل انسان نہر کنارے بیٹھے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک بچھو پانی میں ڈبکیاں کھاتا آرہا ہے، نیک دل انسان نے ترس کھا کر اسے چلو میں اٹھا لیا۔ بچھو تو پھر بچھو ہے، نرم و ملائم لمس محسوس کیے اور ڈنک مار دیا۔ بزرگ نے اسے واپس پانی میں پھینک دیا۔ بچھو پھر ڈوبنے لگا۔ بزرگ سے خدا کی مخلوق کو تکلیف میں نہ دیکھا گیا اور انہوں نے پھر سے بچھو کو پانی سے نکالنے کی کوشش کی، چلو بھرتے ہی بچھو نے ڈنک دے مارا۔ میں نے کہا: یہ کہانی سنی ہوئی ہے۔ اب اس وقت بے موقع یہ کہانی سنانے کی وجہ بتائیں گے؟سامنے بیٹھے چاچا جی نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور مجھے دیکھ کہ کہا کہ ہم 70سالوں سے جس بچھو کو ہاتھوں میں اٹھائے پھر رہے ہیں، آخر کار اس نے ڈنک مار ہی دیا۔ گو کہ امریکہ کی جنگ ہماری جنگ نہیں تھی، اور نہ ہی ہم اس جنگ کا حصہ تھے۔ وہ تو ایوب خان کے مارشل لاء اور لیاقت علی خان صاحب کے ابتدائی فیصلوں کی بابت ہم امریکی مٹھائی پہ ٹوٹ تو پڑے، مگر اب اس مٹھائی میں’’مکھی‘‘ نکل آئی ہے۔ ایسی زہریلی ’’مکھی ‘‘جس کی خود امریکی تاریخ میں مثال موجود نہیں۔

’’فائی بیٹا کیپا‘‘ آئی کیو ادارہ ہے، یہ 1776ء میں قائم ہوا اور لبرل آرٹس اور سائنس کے مضامین میں اعلیٰ درجے کی کارکردگی دکھانے والوں اور بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے والوں کا ’’آئی کیو‘‘ ٹیسٹ کرتا ہے۔ امریکہ کے 44 صدور میں 17 کا نام ’’فائی بیٹا کیپا‘‘ کی لسٹ میں شامل ہے۔ جس میں بل کلنٹن، جارج ڈبلیو بش، جمی کارٹر کا نام سر فہرست ہے لیکن اس ادارے نے ڈونلڈ ٹرمپ کو آئی کیو ٹیسٹ کی اعزازی ڈگری بھی نہیں دی۔ آئی کیو ٹیسٹ میں 276 نمایاں خصوصیات کا جانچا جاتا ہے۔ ایسا انسان جو خود کو ہیرو اور ساری مسلم دنیا کو ولن سمجھتا ہو، اسے ساٹھ برس کی عمر ایسے افعال کا ارتکاب کرنا مناسب نہیں لگتا۔

نائن الیون کے بعد امریکہ نے کمزور ملک افغانستان کو تختۂ مشق بنایا، اس کے پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کیا، مفلسی کی اندھے گڑھوں میں پڑی افغان عوام کے سامنے ’’نیٹو‘‘ کا اژدھا لاکھڑا کیا، اور سانپ نیولے کی لڑائی لڑی۔ دنیا جانتی ہے کہ نائن الیون میں افغانستان کا دور کا واسطہ بھی نہیں تھا۔ امریکہ اپنے عروج کی آخری سیڑھی پھلانگ چکا، اس کے آگے عروج نہیں، اس کے آگے اسے زوال کی تلخ حقیقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بدقسمتی سے یہ زوال کا دور ٹرمپ کے زیر سایہ لاغر و بے کار امریکی انتظامیہ کو جھیلنا پڑے گا۔ ٹرمپ امریکی ووٹروں کا آخری آپشن تھا۔ جسے چوس کرنے کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔ ٹرمپ اپنی دوغلی پالیسی سے معیشت کا ٹائی ٹینک جس رو میں چلا رہاہے، بعید نہیں کہ یہ جہاز کب ڈوب جائے۔

ٹرمپ کے ٹویٹ سے چوتھا حملہ ہوا جس سے مسلمان نشانہ بنے۔ امریکہ دنیا میں جس امن کا متلاشی ہے، وہاں مسلمان، خاص طور پر پاکستانی ایٹمی قوت کا وجود نظر نہیں آتا۔ اوبامہ انتظامیہ افغان پالیسی میں حکمت عملی، ودانش مندی سے کام لے رہی تھی، کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ ہم ایسی قوم کے ہتھے چڑھے ہیں، جہاں سے سوویت یونین دم دبا کے بھاگا۔ ٹرمپ کے ٹویٹ کی اصل جنگ اسلامی دہشت گردی کی جنگ نہیں، بلکہ یہ مسلمانوں سے تعصب کی جنگ ہے۔ مسلم ممالک پہ پابندی کا ایشو ہو یا، مسئلہ فلسطین میں امریکی اجارہ داری، امریکہ اپنی تعصبی زہر کو واضح کر چکا ہے۔ مسلم دنیا کو اپنی پوزیشن واضح کر دینی چاہیے۔ ورنہ افغان جنگ سے جو شعلے قبائل کو لپیٹتے ہوئے، مشرق وسطیٰ میں داخل ہوئے اور جس میں عراق و شام آج تک جل رہے ہیں، وہ آگ باقی ماندہ مسلم ممالک کو خاک کردے گی۔

اقتدار کی کرسی پہ براجمان انتہا پسند ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹ نے پاک امریکہ تعلقات میں غیر سنجیدگی کا اظہار کیا۔ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد صرف پاکستان ہی نہیں عالمی برادری سمیت، امریکی انتظامیہ، اعلیٰ سرکاری اداروں کے عہدے داران بھی اپنے صدرکے عتاب کا شکار ہوچکے ہیں۔ اسی دوران 2300 ٹویٹ کرکے صدر ٹرمپ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ کو مؤثر ہتھیار کے طور پہ استعمال کر کے افغانستان کی ناکامی کا ملبہ پاکستان پہ ڈالنے لگے۔ اس پر تمام پاکستانی سیاسی جماعتوں کا مشترکہ رد عمل سامنے آیا، جو کہ قومی یکجہتی کا کھلا ثبوت اور خوش آئند بات ہے۔

قابل غور امر یہ ہے کہ اس وقت جب ملک میں امن وامان کی صورت حال ہے، ہمیں امریکی غلامی کی زنجیریں توڑنی ہوں گی۔ 70 سالہ تعلقات، لاکھوں ڈالرز کا نقصان اور ہزاروں شہریوں کی قربانیوں کو تسلیم نہ کرنا مستقبل کے تعلقات میں تناؤ پیدا نہیں ہوگا۔ بجائے امریکی امداد پہ انحصار کے ہمیں بلوچستان میں ذخائر کو نعمت جان کر اس کی حفاظت کرنی ہوگی۔ سی پیک کو عالمی قوتوں سے بچا کر امریکی غلامی سے آزاد ہونا ہوگا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */