اسلام دشمنی، ٹرمپ کی سیاسی پالیسی کا جزو لاینفک - ہلال احمد تانترے

برنٹ ناگٹی گال (Brent Nagtegaal) مشرق وسطیٰ کے لیے شہرہ افاق نشرو اشاعتی ادارے دی ٹر یمپٹ (The Trumpet)کے نمائندے ہیں۔ موصوف اپنے ایک حالیہ مضمون میں رقمطراز ہیں کہ’ ہم یروشلم کے معاملے میں اس لیے زیادہ زور نہیں دیتے کہ اس شہر کی کچھ عمدہ تاریخ ہے یا یہ یہودی ریاست کا مرکزی مقام ہے، جو مسلم اکثریتی خطوں کے اندر جکڑا ہو اہے بلکہ ہم اس پر اس لیے زیادہ زور دیتے ہیں، کیوں کہ مذکورہ شہر کا بائبل کی پیش کردہ پیشن گوئیوں (Biblical prophesies) میں اہم اور سب سے زیادہ تذکرہ ہے۔ یہ جس خطے میں سیاسی رساکشی کا بازار خریدو فروخت کے اعتبار سے بامِ عروج پر ہے، اس کا بہت پہلے بائبل میں تذکرہ ہو چکا ہے‘۔ موصوف اپنی بائبل سے کچھ حوالے بھی پیش کرتا ہے، جن کے مطابق دنیا اِس وقت اپنے آخری وقت کی طرف گامزن ہے۔ مزید، یروشلم کا آدھا حصہ عربوں کے زیرِ قبضہ آنے والا ہے، جس کے بعد ہمیں مسیح ؑکے آنے کا انتظار کرنا پڑے گاتاآنکہ وہ ہمیں اِس آفت سے بچالیں۔اس طرح یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہودیوں کو نہ ہی اپنی تاریخ یاد رکھنے کا شوق ہے، نہ ہی کسی مقدس و خاص انسان کے تولد سے وہاں کی جگہ کا مقدس ہونے میں دلچسپی۔ ویسے بھی وہ اپنی تاریخ کو کیو ں کر یاد رکھنا چاہیں؟ اپنی تاریخ کے جھروکوں میں جانے سے انہیں اور زیادہ ہزیمت اٹھانی پڑ تی ہے، کیوں کہ وہ اُن کی ذلت و مسکنت سے بھری پڑی ہے۔ اس کے بالمقابل انہیں اگر کسی چیز پر اعتماد ہے وہ بس اُن کے مطابق بائبل کی پیش کردہ خوش باش پیشن گوئیاں ہیں اور اسی زُعم کے تلے وہ اپنے دنوں کا حساب لگانے میں خوش باشی کے لمحات کاٹنے میں مصروف ہیں۔

یہاں پر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مسلمانوں کی مذہبی کتابوں کے اندر بھی اُن کے لیے اسی قسم کی بشارتیں موجود ہیں۔ لیکن صحیح کون سی بشارتیں ہیں اور کن کے لیے موزوں نظر آرہی ہیں، اُس کی پیمائش کے لیے دو اہم نقطے کارگر ثابت ہو سکتے ہیں۔ پہلا، وقت۔ کہتے ہیں کہ وقت ہر کسی کوپرکھ لیتا ہے۔ وقت کہاں اور کس جانب موزوں ہے؟ یہ بذاتِ خود اس با ت پر منحصر کرتا ہے کہ وقت کے اہل کار وقت کو کس جانب لے جانے میں محو تن ہیں۔ المختصر، وقت کے سرورق میں اُلٹ پھیر ہونے پر جن صاحبِ بصیرت انسانوں کو نظر ہے، وہ اس بات کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کس کا مستقبل روشن ہے اور کس کا تاریک؟ دوسرا، یہ اس بات پر منحصر کرتا ہے کہ کن کی بشارتوں کا ماخذ زیادہ صحیح اورمستند ہے۔ بشارتوں کا ماننا اور اُن پر یقین کرنا اسی طرح سچ ہے جس طرح آفتاب و مہتاب۔ لیکن کچھ خوش باش بشارتیں کسی کے حق میں پیش کرنا ہی معنیٰ نہیں رکھتا، بلکہ یہاں یہ اس بات پر منحصر کرتا ہے کہ بشارتیں جن ذرائع سے پہنچائی جارہی ہیں، وہ کس حد تک صحیح الاسناد ہیں اور اُن کا انسانوں کے عملی ردِ عمل سے کتنی مطابقت ہے؟ مسلمانوں کے ہاں احادیث کی الفتن و الملاحم کی کتابوں اور یہودیوں کی بائبل میں پیش کردہ خوش خبریاں پہنچانے والی پیشن گوئیوں(passages on Biblical prophecies)کا تقابلی مطالعہ اس حوالے سے قارئین کرام کی مزید راہنمائی کر سکتی ہیں۔

دو ہفتے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اعلان کیا تھا کہ ہم متنازع اسرائیل کے زیرِ قبضہ شہر یروشلم میں اپنا سفارت خانہ تعینات کریں گے اور اس طرح اسرائیل کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے حوالے سے مزید راہ ہموار کریں گے۔ اس متنازع اعلان پر نہ صرف مسلم دنیا میں بلکہ غیر مسلم اقوام میں بھی واویلا مچ گیا اور ہر طرف سے مذمتوں کی قرارداتیں پاس کی گئیں۔ اس پر مزید امریکہ کو اُس وقت ہزیمت اٹھانی پڑی جب اقوامِ متحدہ نے اس متنازع اعلان پر ایک عام اجلاس بلاتے ہوئے تمام ممبرممالک سے رائے مانگ لی۔ رائے دہی کے اس عمل میں ۱۳۷ ممالک نے حصہ لیا۔ ۱۲۸ ممالک نے اس اعلان کے خلاف وہی صرف ۹ ممالک نے اس کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔غور طلب بات یہ ہے کہ جن ۹ ممالک نے اس فیصلے کے حق میں اپنی رائے پیش کی اُن میں سے بیشتر کا شاذ ہی دنیا کے کسی کونے میں تذکرہ کیا جاتا ہو۔ موجودہ امریکی صدر کے بارے میں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اِن سے پہلے تین امریکی صدور نے یہودیوں سے اس حوالے سے وعدے کیے تھے کہ وہ تل ابیب (Tel Aviv) سے یرشلم کی طرف امریکی سفارت خانے کو منتقل کریں گے، لیکن اُن میں سے کوئی بھی یہ کام انجام نہ دے سکا۔ یہ ہمت صرف موجودہ صدر کو ہوئی کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبا ت پر خنجر مارتے ہوئے یہ متنازع اعلان کر ڈالا۔ اس اعلان کے خلاف دنیا بھر کے نمائندوں کا اپنی ناراضگی کا اظہار امریکہ اور اِس کے حلیفوں کے لیے ایک بہت ہی کڑی امتحان کا وقت ثابت ہو رہا ہے۔ اس طرح سے یہا ں پر ایک سوال کھڑا ہوسکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ ہمت کیسے ہوئی کہ وہ اس طرح کا بے باک اعلان کرڈالے؟ دراصل اس کے پیچھے ایک لمبی داستان ہے اور یہ داستان اسلام و مسلم دشمنی کی ہے۔۲۰۱۶ ء میں اپنی صدارتی مہم کے دوران ہی ٹرمپ نے اسلام دشمنی کا اظہار کیا تھا۔ اسلام دشمنی کا یہ اظہار انہوں نے نِت نئی وضع کردہ اصطلاحات سے کیا۔ صدر بننے کے بعد انہوں نے اس بات کا کھل کر اظہار کیا کہ اسلام ہی اُن کا دشمن ہے۔ کبھی اسلامی انتہا پسندی(Islamic Extremism) کبھی اسلامی بنیاد پرستی(Radical Islam) وہی کبھی انہوں نے اسلامی شخصیات و تنظیمات کا کھل کر تعاقب کرتے ہوئے انہیں نہ صرف امریکہ کے لیے خطرہ قرار دیا بلکہ پوری دنیا کے لیے سمِ قاتل کے طورپیش کیا۔

صدر بننے کے بعد جن لوگوں کو ٹرمپ نے اپنے کارندے خاص بنا لیے، اصل میں وہی پکّے اسلام دشمن ہیں۔ مائیکل فلین (Micheal Filen) کو انہوں نے اپنا لیفٹنیٹ جنرل چن لیا تھا۔ یہ وہی شخص ہے جنہوں نے ۲۰۱۶ ء میں تجویز پیش کی تھی کہ ’آزادیِ مذہب کی بنا پر اسلام اپنے آپ کو بچانہیں سکتا، اسلیے کہ میں اسلام کو مذہب سے زیادہ ایک سیاسی نظریے کے طور پر دیکھتا ہوں‘۔ ٹرمپ نے اپنے لیے اعلیٰ منصوبہ دار (Chief Strategist) کے پوسٹ کے لیے اسٹیو بنون(Stew Benon) کو چنا، جنہوں نے۲۰۱۵ ء میں اعلان کیا تھا کہ ’جس کسی مسجد میں ’بغاوت‘کی بوآئے گی، اسے بند کیا جائے‘۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے آئے روز اسلام مخالف بیانات سے یہ بار آشکارہ ہو جاتی ہے کہ اس طرح کے بیانا ت دینا اب اُن کی سیاسی پالیسی کا جزو لاینفک بن چکا ہے۔ اِس دوران کسی بھی ملک یا حکمران نے اس کے بیانات کا سنجیدگی سے نوٹس نہیں لیا اور وقت یہاں تک پہنچ آیا کہ یروشلم کو متنازع اسرائیل کا دارالحکومت تسلم کیے جانے کا اعلان جاری کیا گیا۔