تمغے سجانے کےلیے کفن درکار کیوں؟ اسری غوری

ہم من حیث القوم اس رویے کے عادی ہیں کہ جنازے پر کھڑے ہو کر اور وفات کے بعد علی الاعلان یہ اظہار کرسکتے ہیں کہ جانے والا کتنی اور کیسی کیسی خوبیوں کا مالک تھا، اور اس نے اس نے اپنی زندگی میں یہ اور یہ کارنامے انجام دیے، اس کی یہ اور یہ خدمات تھیں، اس کو یہ اور یہ میڈل ملنا چاہیے، مگر المیہ یہ ہے کہ کسی زندہ وجود کو یہ اعزاز دینے کا ظرف نہیں رکھتے، اس کی زندگی میں خوبیاں بیان نہیں کرتے۔

رات سے فیس بک نیوز فیڈ زبیدہ آپا کے انتقال پر لوگوں کے اسٹیٹس سے بھری ہوئی ہے، ہر اک ان کی اچھائیاں اور خوبیاں گنوانے میں ایک دوسرے سے بڑھ کر آگے نکلتا دکھائی دے رہا ہے۔ اور میں رات سے یہ سوچ رہی ہوں کہ تمغے سجانے لیے ہمیں کفن کیوں درکار ہوتا ہے؟ زندگی میں سادہ لباس پر یہ کیوں نہیں ٹانکتے؟

زبیدہ آپا اپنے اندر یقینا ایک جہان رکھتی تھیں، لوگوں کے خیالات جان کر آج شدت سے ان کی وہ ویڈیو یاد آ رہی ہے جس میں انھوں نے ہاتھ جوڑ کر سب سے اپیل کی تھی کہ ''میرے لطیفے نہ بنائیں، میسجز میں میرے نام سے میرا مذاق نہ اڑائیں، بخش دیں مجھے، میں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتی ہوں، میرے ساتھ یہ نہ کریں۔ جب ایسے میسجز میرے پاس آتے تو مجھے بہت دکھ ہوتا ہے۔''

اندازہ کیجیے کہ وہ کس اذیت کا شکار ہوئی ہوں گی اور کس کیفیت میں انھوں نے یہ سب آن لائن آ کر کہا ہوگا؟ ایک ستر سالہ عورت ٹی وی پر آئے، اور ہاتھ جوڑ کر جس قوم سے معافی مانگے اور یہ کہنے پر مجبور ہوجائے کہ مجھے بخش دو، اس قوم کو ان کے مرنے پر ان کے جنازے پر اسے تمغے دینے، اور اپنی دیواروں پر نوحے سجانے کا کوئی حق نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   آپ بیتی .... - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

خدارا!
زندوں کو عزت دینا سیکھیے، گدھ کی فطرت نہ اپنائیے کہ جیسے وہ اپنا شکار کھانے کے لیے مرنے کا انتظار کرتا ویسے ہم کسی کو اچھا کہنے کے لیے اس کی موت کا انتظار کرتے ہیں۔ بے شک مرنے کے بعد جانے والے کی اچھائیاں بیان کرنے کی ہدایت، مگر ساتھ زندہ کی بھی قدر کرنا، عزت اور احترام دینا اہم بتایا گیا۔

جتنی عزت اور جتنی اچھائیاں خوبیاں مرنے کے بعد گنوائی جاتی ہیں، ان کا پرچار کیا جاتا ہے، خدارا! اس کی آدھی اس کی زندگی میں قبول کرلیجیے، اسے اس عزت سے اس کی زندگی میں نوازیے، اسے مردہ وجود پر تعریفی ٹوکرے یا سونے کے میڈل بھی رکھ دیں تو اس کو فرق پڑنے والا نہیں ہے ۔

خدارا!
زندگیوں میں اعزاز دینے کا ظرف پیدا کیجیے، زندگی میں قدردانی کیجیے، زندگی میں محبتیں دیجیے کہ یہ زندہ لوگوں کا حق اور ضرورت ہوا کرتی ہیں، مرنے والے کی ضرورت تو بس سات گز کفن رہ جاتی ہے۔

Comments

اسری غوری

اسری غوری

اسری غوری معروف بلاگر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں، نوک قلم بلاگ کی مدیرہ ہیں، حرمین کی زیارت ترجیح اول ہے، اسلام اور مسلمانوں کا درد رکھتی ہیں اور اپنی تحاریر کے ذریعے ترجمانی کرتی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • اسری غوری عہد حاضر کی معروف بلاگر ہیں انکی تحریریں انسان کو بے ساختہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں کاش کہ ہم سب اس نہج پر سوچ سکنے کی سکت خود میں پیدا کر سکیں کل کی شرارتی سی اسری آج کی سنجیدہ اور پر وقار لکھاری ہیں مجھے ذاتی طور پر ان کا انداز تحریر بہت پسند ہے اللہ رب العزت انہیں زندگی اور صحت کہ ساتھ انکی تحریرون میں مزید نکھار عطا فرمائے اردو ادب کے لئے یہ نیک فال ہوگی اور ہمارے لئیے سعادت

    • جزاک اللہ پسند کرنے اور حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ۔
      اللہ ویسا بنا دے جیسا لوگ گمان کرتے ہیں ۔
      آمین

      • السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ آپکا ایک ناول آ رہا تھا(اٹھو نا مجھے تمہاری ضرورت ہے) جو ادھورا رہ گیا.........کب مکمل ہو گا؟؟ باقی آپکی تحاریر بہت عمدہ ہوتی ہیں اللهم زد فزد

        • وسلام ورحمتہ وبرکاتہ
          آپ کی پسندیدگی کا بہت شکریہ
          ان شاءاللہ جلد اس ناول کی اگلی قسط آپ پڑھ سکیں گی ۔
          آمین