ٹرمپ کی ٹوئیٹ کے مثبت پہلو - قیصر احمد راجہ

بظاہر تو میں نمک میں مٹھاس ہی تلاش کر رہا ہے لیکن کچھ دیر کے لیے برداشت کرلیجیے۔ دراصل ٹرمپ صاحب کی شخصیت ایک مسلسل تحریک کا شکار ہے، جس میں وہ بد سے بد تر کی جستجو میں لگے رہتے ہیں۔ اس بار نئے سال کا آغاز انھوں نے پاکستان کو نشانہ بنا کر کیا۔ ان کے مطابق پاکستان پیسے لیکر ان سے جھوٹ بولتا رہا ہے۔ یہ الزام اگر سچائی کا کوئی عنصر رکھتا بھی تو امریکہ کے منہ سے بالعموم اور ٹرمپ کے منہ سے بالخصوص اچھا نہیں لگتا۔ دروغ گوئی اور فریب میں اگر کسی نے امریکہ کو مات دی ہے تو وہ ڈونلڈ ٹرمپ ہے!

حقیقت یہ ہے کہ امریکہ پاکستان کا مقروض ہے۔ یہ کوئی جذباتی بات نہیں بلکہ حقائق کی زمین سے نکلا ہوا پودا ہے۔ پاکستان کو اتحادی فنڈ میں سے پوری رقم ملی، نہ ہی ایف 16طیاروں کی رقم کسی کنارے لگی۔یہ صرف پیسوں کے معاملات کی ہے۔ ابھی ہزاروں شہادتوں کا ذکر باقی ہے جو پاکستانیوں کو اس جنگ نے تحفے میں دیں۔ پاکستان نے اپنا موقف دنیا کے سامنے رکھا، جس میں ٹرمپ کی اس ٹوئیٹ کو افسوسناک قرار دیا گیا۔ پاکستان کا موقف بالکل بجا ہے کہ امریکی صدر کی ایسی اوچھی حرکت پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔

ایک بات ضمناً عرض کرتا چلوں کہ پاکستان کا جواب اور جواب دینے کا طریقہ بہت ہی شاندار ہے۔ اس بات کا خدشہ تھا کہ پاکستان بھی ٹرمپ کو اس کے سٹائل میں جواب دے مگر ملک کے ذمہ داروں نے انٹرنیشنل ریلیشنز کی اقدار کو قائم رکھا اور خود کو ٹرمپ کی سطح پر نہیں گرایا۔ اب آتے ہیں ٹوئیٹِ ٹرمپ کے مثبت پہلوؤں کی جانب جو اس ٹوئیٹ سے انگڑائی لیکر اٹھنے والے موقع کی صورت میں ملتے ہیں۔ اس ٹوئیٹ نے پاکستان کو دو اہم اموقع فراہم کیے ہیں۔ اول یہ کہ پاکستان امریکہ کو اچھی طرح یاد دہانی کرا دے کہ پاکستان کوئی امریکی اسٹیٹ نہیں بلکہ ایک آزاد ملک ہے۔ پاکستان کے اس خطے میں اپنے مفادات ہیں جو کبھی امریکی مفادات سے ہم آہنگ ہوں گے اور کبھی متصادم۔ پاکستان امریکہ کا سروس پروائیڈر ہے اور نہ ہی اس کا وجود کا مقصدامریکی مفادات کا تحفظ ہے۔ یہ بات سمجھنے کے لیے بہت زیادہ ذہانت کی ضرورت نہیں کہ اگر پاکستان کو اپنے اور امریکہ کے مفادات میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی ضرورت ہوئی تو کس کا کرے گا۔

دوم یہ کہ پاکستان اس خطے میں نئی حکمتِ عملی کا اجراء کرے جس میں قریبی ممالک کو شریک کیا جائے اور امریکہ کو باہر رکھا جائے۔ پاکستان امریکہ کو پہلے ہی بتا چکا ہے کہ اس کے ڈالرز نہیں چاہئیں اور اسی بات کو بنیاد بنا کر امریکی جنگ سے باہر آیا جائے۔ کچھ لوگ یہ غلط فہمی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان امریکی امداد کے بغیر گزارا نہیں کر سکتا۔ یہ تاثر غلط ہے اور یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ پاکستان خود کو ملنے والی امریکی مدد سے چار گنا اس جنگ میں خرچ کر چکا ہے۔ مطلب یہ کہ پاکستان کو امریکہ کی مبینہ امداد کی ضرورت نہیں، البتہ امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ہے۔ اس بات کا اظہار وہ امریکی عہدیدار متعدد مرتبہ کر چکے ہیں جو اس خطے کی پیچیدگیوں کو سمجھتے ہیں۔

میرا اندازہ ہے کہ پاکستان بیک ڈور چینلز کے ذریعے امریکہ کو یہ بات یاد کرا رہا ہوگا۔ پاکستان کا نپا تلا اور پر اعتماد بیانیہ اس خیال کو مستحکم کرتا ہے۔ آخر میں عرض ہے کہ ہم ایسے ایک تجربے سے گزر چکے ہیں۔ میرا اشارہ مودی صاحب کی اس زہر افشانی کی طرف ہے جو انھوں نے اپنی حکومت کے ابتدائی دنوں میں کی اور پاکستانی قوم ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوگئی۔ شاید یہی وہ تندئ بادِ مخالف ہے جو عقاب کو اونچا اڑانے کے لیے چلتی ہے۔

Comments

قیصر احمد راجہ

قیصر احمد راجہ

قیصر راجہ یونیورسٹی آف بیڈفورڈ شائر میں قانون اور بزنس مینجمنٹ کے لیکچرر ہیں۔ مذہب اور سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ بزنس کنسلٹنسی کے حوالے سے Udemy پر آپ کا کورس بھی جاری ہو چکا ہے جبکہ نیو جورنال آف یورپین کرمنل لاء میں بھی تحقیق شائع ہو چکی ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */