تھری ایڈیٹس - خالد ایم خان

سال ڈیڑھ پہلے میں نے ایک تحریر لکھی تھی، جو ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئٹ کے بعد حقیقت کا روپ دھارتی نظر آ رہی ہے۔ بقول ٹرمپ کے پاکستان گزشتہ پندرہ سالوں سے ہمارے حکمرانوں کو بے وقوف بنا رہا ہے۔ اب بے وقوف کون ہے؟ اس کا اندازہ آپ خود لگا لیں کیونکہ جن کو ڈونلڈ ٹرمپ بے وقوف کی ڈگری عنایت کر رہا ہے، جواب دینا بھی اُنہی کا حق بنتا ہے۔

مثلاً سب سے پہلا بے وقوف امریکی حکمران جارج واکر بُش، دوسرا بے وقوف امریکی حکمران براک حُسین اوباما اور اُس کے تمام مشیران خاص، جن میں قابل ذکر ہیلری کلنٹن اور جان کیری اور پھر تمام امریکی ملٹری اسٹیبلشمنٹ، پھر جرنیل جنہوں نے نام نہاد امریکی اتحاد میں دہشت گردی کے خلاف جنگوں میں حصہ لیا۔ جواب تو بہرحال ہم بھی دیں گے دنیا کے سب طاقتور نفسیاتی امریکی صدر کے اُن الزامات کا، جو اُس نے پاکستان کے اوپر لگائے ہیں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ سرے سے ہی غلط تھی، جس کے نقصانا ت خود امریکی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ امریکی حلیف ہونے کے ناتے پاکستان، اس کی افواج اور عوام کوسب سے زیادہ بھگتنے پڑے۔ بہرحال، اب نتائج امریکی حکمرانوں اور عوام اور ساتھ ساتھ پوری دنیا کو بھی بھگتنا ہوں گے کیونکہ جب آگ سے کھیلیں گے، دامن تو جلے گا۔

امریکا نے جس طرح چند ممالک کا استعمال کرکے دنیا کی معیشت پر قبضہ کیا، افواج پاکستان کو استعمال کرکے اپنے مدمقابل سب سے بڑی رکاوٹ روس کو زمین بوس کیا اور خود دنیا کا حکمران بن بیٹھا۔ یہی ہماری اس دنیا کے لیے سیاہ گھڑی تھی جس پر شاید آنے والے کئی عشروں تک پاکستان خود کو معاف نہ کر پائے کیونکہ ہم نے دنیا کا توازن توڑ دیا۔ امریکا کے مقابل کھڑی سب سے بڑی طاقت کو خاک میں ملا کر اس سانڈ کو کھلا میدان فراہم کردیا جو اب پاکستان ہی کو توڑنے کی کوشش میں لگ گیا ہے۔ کیونکہ اس کے خود ساختہ حکمرانوں کو پتہ ہے جو ملک روس جیسی سپر طاقت کا نشہ ہرن کر سکتا ہے، وہ امریکا کو بھی خاطر میں نہیں لائے گا۔ لہٰذا اس نے ہر حربہ استعمال کیا جس سے حکومت پاکستان اور افوج پاکستان کی طاقت کو توڑا جا سکے، ہر وہ طریقہ آزمایا جس سے پاکستان کی معیشت کو زوال آسکے، سیاستدان خریدے گئے، بیورو کریسی خریدی گئی، عوامی نمائندگان تک خرید لیے گئے، ہمارے ملک میں جعلی امریکی مشنوں کی بھرمار کی گئی لیکن "جاکو راکھے سائیاں مار سکے نہ کوئی"، پاکستان آج بھی وہیں کھڑا ہے جہاں آج سے دس سال پہلے کھڑا تھا۔

کیا اب بھی نہیں سمجھے کہ امریکا کو پہلے سے اس بات کا ادراک ہو چکا تھا کہ روس کے بعد اگر دنیا میں کوئي اس کا مقابلہ کرنے کی ہمت رکھتا ہے تو وہ صرف چین اور پاکستان ہی ہو سکتے ہیں۔ آج روس بھی دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا ہے اس لیے اسے بھی علیحدہ نہیں کر سکتے۔ چین اور روس کے بعد عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت اور دنیا کی سب سے پروفیشنل فوج کے حامل ملک سے امریکی، یہودی اور اہل ہند عرصہ دراز سے پریشان ہیں کیونکہ پاکستان ہی وہ ملک ہے جو وقت پڑنے پر اسلامی دنیا کے مقابلے میں ان 'تھری ایڈیٹس' کو آنکھیں دکھا سکتا ہے۔ ایک طرف چین امریکی معیشت کے لیے خطرناک دیو کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے، جس سے امریکی اور یہودی خوفزدہ ہیں اور دوسری جانب بھارت کا حال بھی یہی ہے۔ اگر وقت آیا اور چین امریکا کے مدمقابل کھڑا ہوا تو پاکستان کا کردار امریکا کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔ یعنی جہاں سے بھی چلیں بات گھوم پھر کر پاکستان پر ہی آئے گی، اس لیے امریکا اور اسرائیل نے بھارت کو بھی شامل کرلیا ہے۔

اس ٹرائیکا نے پہلے عرب ممالک کا رخ کیا، وہاں 'عرب اسپرنگ' کا ڈراما رچایا، جو اب دنیا کے سامنے ہے۔ ایران کو عرب ملکوں میں شیعہ حکومتیں قائم کرنے کے جھانسے میں پھنسایا گیا اور دوسری طرف عرب عوام کو شیعہ کمیونٹی کے خلاف بھڑکایا گیا۔ عالم اسلام کے مسلکی اختلافات کو لے کر ایسا گھناؤنا کھیل کھیلا جا رہا ہے جس کی پاداش میں مشرق وسطیٰ کے ممالک باہم دست و گریبان نظر آ رہے ہیں۔ عرب اپنے مسلک اور حکومت بچانے کے لیے سرگرداں ہیں تو ایران اپنے مسلک کی حکومت بنوانے کی خاطر نادانستہ طور پر اس ٹرائیکا کے جال میں ہے۔

اس وقت عالم یہ ہے کہ امریکا نے داعش کو جنم دیا، جو عرب کے ساتھ ساتھ شیعہ کمیونٹی کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ پورا کھیل بڑی پلاننگ سے کھیلا جا رہا ہے جس میں ایک طرف عربوں کو نیست و نابود کرنے کا پروگرام ہے تو دوسری طرف ایران کا صفایا کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔ امریکا اور اسرائیل داعش کے پیچھے ہیں جبکہ بھارت تحریک طالبان پاکستان کے پس پردہ!

میں یہ پوچھنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ سب استعماری طاقتوں کے غلام کیوں بن گئے ہیں؟ کیا وہ وقت نہیں آئے گا کہ عوام آپ کو کٹہرے میں کھڑا کرکے سوال کرے گی کہ آخر کون سی مجبوری تھی کہ آپ اسرائیل، بھارت اور امریکا کو خوش کرنے کی خاطر اپنے ہی عوام کو نشانہ بناتے رہے؟ داعش کی حقیقت جلد کھلنے والی ہے، جب ایسا ہوگا تو کیا ہوگا؟ برطانیہ کا وزیر اعظم استعفیٰ دے گا؟ عراق جنگ پر محض "سوری" سے کام چلانے والے برطانیہ سے عوام ضرور سوال کریں کہ آخر عراق کے لوگوں کا قصور کیا تھا؟ جن کو دربدر کیا گیا، جن پر جیلوں میں کتے چھوڑے گئے، کیا دنیا میں انسانیت کے علمبرداروں کا یہی کردار ہوتا ہے؟

پھر یہ پوچھنا بھی ضروری ہے کہ شام، کشمیر، برما اور فلسطین میں مظالم پر انسانی حقوق کیوں یاد نہیں آتے؟ کشمیر پر آواز کیوں نہیں اٹھائی جاتی؟ تب انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں کہاں غائب ہو جاتی ہیں؟ کہیں نہیں، یہ سب یہیں موجود ہیں لیکن کسی میں ہمت نہیں کہ ان 'تھری ایڈیٹس' کے سامنے سر اٹھا سکے۔ کوئی ان خوں آشام بھیڑیوں کو روکنے والا نہیں جو اس خوبصورت زمین کو برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ لیکن آگ اور خون کا جو کھیل انہوں نے شروع کیا ہے، ایک دن میں خود اس میں ـھی جلیں گے۔

اب پاکستان کو چین اور دیگر حلیف ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے کیونکہ وقت اب بھی موجود ہے۔ آج امریکا کے صدر نے جو زبان استعمال کی ہے، اس نے ثابت کردیا کہ 'تھری ایڈیٹس' کا اول و آخر نشانہ ہم ہی ہیں اور ہمیں ان سے بچنے کے لیے وسیع بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔ دنیا پر باور کرائیں کہ پاکستان نہ ہی عراق ہے، نہ لیبیا، یہ شام اور تیونس نہیں بلکہ ایک ذمہ دار ایٹمی ملک ہے۔ "ڈو مور" کے نعرے بند کریں اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کریں۔ یہ منہ پر رام رام اور بغل میں چھری والا کردار بند کردیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */