موجودہ حالات اور چند تضادات - عاصم اللہ بخش

چند تضادات، جن کا فوری طور پر دور ہونا نہایت اہم ہے۔

1۔ ٹرمپ صاحب تو ٹویٹ کر کے فارغ ہو گئے لیکن ہم اس ٹویٹ کے پیدا کردہ گرداب میں خود کو مسلسل پھنساتے چلے جا رہے ہیں۔ 33ارب ڈالر کی امداد کی بات کے جواب میں ہم بار بار ایک ہی سانس میں دو باتیں کہہ رہے ہیں : یہ سب امداد نہیں، اس میں 14 ارب ڈالر تو کوالیشن سپورٹ فنڈ کے ہیں جو ہماری "سروسز" کی مد میں ہمیں ملے۔ اور یہ کہ یہ تو ہماری جنگ تھی جو ہم نے اپنے مفاد میں لڑی۔ اس بیانیہ کے مضمرات کیا ہوسکتے ہیں؟ کیا اس پر غور کر لیا ہم نے؟

بادی النظر میں اس بیانیہ سے دو سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ اگر تو یہ ہماری جنگ تھی تو پھر امریکہ کی فنڈنگ کیا معنی رکھتی ہے؟ کیونکہ اس سے قبل جو دو اپنی جنگیں ہم نے لڑیں، اس میں تو اس قسم کی کسی بیرونی فنڈنگ کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ اور اگر ایسا ہے کہ فنڈ تو ہم لیتے رہے امریکہ سے اور جنگ اپنی لڑتے رہے، یہ تو ٹرمپ کے عائد کردہ الزام کی تائید ہو گئی۔ پھر شکایت کس بات کی؟

بنیادی المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں ادارہ جاتی سطح پر اس قسم کی صورتحال میں جواب دینے کا میکانزم موجود نہیں۔ عام ممالک مثلاً امریکہ، روس، بھارت، چین و یورپ وغیرہ میں جواب کا پہلا حق دفتر خارجہ کا ہوتا ہے۔ یہ اس لیے کہ وہ سفارتی نزاکتوں سے بخوبی واقف ہونے کی وجہ سے ایسا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے جس پر بعد میں خجالت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بین الاقوامی تعلقات میں الفاظ کے معنی اور ان کا استعمال بہت احتیاط سے کرنا ہوتا ہے تاکہ کسی وقت آپ اپنے کہے کی گرفت میں نہ آجائیں۔ دفتر خارجہ کے بعد دیگر لوگ جو کچھ بھی کہتے ہیں وہ اس فریم ورک کے اندر رہ کر ہی کہتے ہیں۔ اس طرح ایک سوچا سمجھا جوابی بیانیہ وجود میں آ جاتا ہے۔ اس وقت کا چیلنج یہ ہے کہ اپنی جنگ میں امریکی فنڈنگ کو کیسے فٹ کیا جائے کہ ٹرمپ کی بات بے بنیاد نظر آئے؟

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر پر امریکہ ثالثی کی پیشکش اور بھارتی ہٹ دھرمی - آصف خورشید رانا

ہمارے ہاں چونکہ چودھراہٹ کے مسائل ضرورت سے زیادہ ہیں اس لیے حکومت، اپوزیشن، فوج سب ہی بیک وقت چھلانگ لگا دیتے ہیں اور قومی کے بجائے اپنا اپنا مؤقف دینے لگتے ہیں۔ یہ خیال کیے بغیر کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں اس کے نتائج کیا نکل سکتے ہیں؟ اس وقت ہمیں ایک ایسے مؤقف کی ضرورت ہے جو ہماری پوزیشن کا تحفظ کرے، نہ یہ کہ وہ خود الزام لگانے والے کی بات کو تقویت دیتا نظر آئے۔ اس لیے دفتر خارجہ کو لیڈ لینے دیجیے اور خود وزیر خارجہ نے بھی جو کہنا ہو وہ دفتر خارجہ سے بریفنگ لے کر کہیں۔

2۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کل فرمایا کہ امریکہ ہمارا اتحادی ہے اور اتحادیوں سے جنگ نہیں ہوتی۔ ڈی جی صاحب ایک حاضر سروس فوجی افسر اور ٹو سٹار جنرل ہیں۔ دنیا کی فوجی تاریخ سے بھی واقفیت رکھتے ہوں گے۔ وہ کوئی ایسی مثال، کسی بھی ملک سے دے سکیں کہ فوج کہہ رہی ہو کہ فلاں تو ہمارا اتحادی ہے اس سے جنگ نہیں ہو سکتی۔ حلیف اور حریف کا فیصلہ افواج کرتی ہیں یا حکومت؟ افواج کا کام صرف لڑائی کی پلاننگ ہوتا ہے، حریف و حلیف کا فیصلہ کرنا نہیں۔ ایسا ہونے لگے تو چین آف کمانڈ کہاں باقی رہ جائے گی؟ یہ ہماری ریاست کا سنگین سٹرکچرل اور آپریشنل مسئلہ ہے کہ فیصلہ سازی کے دو متوازی مراکز موجود ہیں۔ جبکہ اصول یہ ہے کہ ایک دارالحکومت میں ایک ہی حکومت کام کرتی ہے۔ اس متوازی نظام نے فوج، حکومت اور ملکی مفاد کو بارہا نقصان پہنچایا ہے۔ اس روِش کا خاتمہ نہ ہوا تو آئندہ بھی نقصان ہو گا۔ فوجی "اِن پُٹ" کلیدی اہمیت کی حامل ہے لیکن اس کا مقام بند دروازوں کے پیچھے ہے۔ جہاں تک جنگ اور پالیسی سے متعلق اعلانات کا تعلق ہے وہ صرف حکومت کے پلیٹ فارم سے ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم ابھی مایوس نہیں ہوئے! شیخ خالد زاہد

3۔ بہت سے فاضل دوست اور حکومتی شخصیات اپنے انٹرویوز اور ٹی وی ٹاک شوز میں یہ باور کرا رہی ہیں کہ پچیس، چھبیس کروڑ ڈالر کی امریکی امداد بند بھی ہو جائے تو کچھ فرق نہیں پڑتا۔ نرم سے نرم الفاظ میں بھی یہ کم علمی اور سادہ لوحی پر مبنی بات ہے۔ امریکہ ایک ملک ہی نہیں ایک حلقئہ اثر کا نام ہے۔ دنیا کے تمام معاشی اداروں اور سفارت کاری کے فورمز پر اس کا گہرا اثر و رسوخ ہے۔ امداد کی بندش دراصل اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکہ خفا ہے۔ اس کے بعد دنیا کے مالیاتی اداروں کی جانب سے شدید بے رخی کا سامنا ہو سکتا ہے اور بہت سے دوست نظر آنے والے ممالک بھی سرد مہری کا رویہ اپنا سکتے ہیں۔ اپنے عوام کو یہ سب بتائیں تاکہ وہ ذہنی طور پر اس بات کے لیے تیار رہیں کہ اگر قومی مفاد کے سفر میں ایسی نوبت آ جائے اور حالات تلخ رخ اختیار کر لیں تو عوام میں بے چینی گھر نہ کرنے لگے۔ طفل تسلیاں "بڑھک" کلچر کو فروغ دیتی ہیں، اس کا نتیجہ یا تو پریشانی کی صورت نکلتا ہے اور یا پھر مایوسی کی صورت!

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.