ہنوز ڈیل دور است – ڈاکٹر شفق حرا

یہ 2012ء کی بات ہے جب شریف برادران کو احساس ہوا کہ پاکستان کا اقتدار اب ان سے چند ہی مہینوں کے فاصلے پر موجود ہے لیکن اس کی راہ میں رکاوٹ صرف نوازشریف کی سوچ ہے۔ نوازشریف ممبئی حملوں سمیت کئی موقع پر ایسی سوچ ظاہر کرچکے تھے جس سے اسٹیبلشمنٹ کو تحفظات لاحق تھے۔ یہ بھی کہا جاتا رہا کہ اجمل قصاب کے پاکستانی ہونے کا انکشاف بھی نوازشریف کی مدد سے ہی غیر ملکی صحافی نے کیا تھا۔ اس صورتحال میں نوازشریف نے شہباز شریف اور چودھری نثار کو فرنٹ فٹ پر لانے کا فیصلہ کیا۔ یہ دونوں شخصیات اسٹیبلشمنٹ کے لیے قابل بھروسہ تھیں اور شاید یہی وجہ تھی کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی ان کی یقین دہانی پر اعتبار کر بیٹھے۔ الیکشن سے پہلے پہلے شہباز شریف اور چودھری نثار نے جنرل کیانی سے نصف درجن سے زائد ملاقاتیں کیں جن کا مقصد نواز شریف کے حوالے سے موجود خدشات کا خاتمہ تھا۔ جنرل کیانی بھی پیپلزپارٹی سے تین سالہ ایکسٹینشن کے بعد مزید عہدے میں توسیع کی خواہش رکھتے تھے اور ان کو لگا کہ پیپلزپارٹی مزید ان کو توسیع نہیں دے گی اس لیے مسلم لیگ ن پر تکیہ کرنا بہتر ہوگا۔

پھر کیا تھا؟ رات کے اندھیروں میں ہونے والی ملاقاتوں نے رنگ دکھایا اور فوج نے 2013ء کے الیکشن میں پس پردہ مسلم لیگ ن کا ساتھ دیا۔ نوازشریف بھاری اکثریت سے وزیراعظم منتخب ہوئے اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ نوازشریف نے جنرل کیانی کو کئی ماہ تک توسیع کے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے رکھا اور پھر عین وقت پر جنرل راحیل شریف کو آرمی چیف بنانے کا اعلان کرکے جنرل کیانی کے تمام خواب چکنا چور کردیے۔

جنرل کیانی کے جاتے ہی نوازشریف نے جنرل راحیل شریف کے ساتھ راہ و رسم بڑھائی اور پھر وقت نے وہ منظر بھی دیکھا جب نوازشریف فرنٹ سیٹ پر بیٹھے جبکہ جنرل راحیل شریف ان کی گاڑی ڈرائیو کرتے نظر آئے۔ اگرچہ دیکھنے میں دونوں کے درمیان راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا لیکن پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس سمیت کئی معاملات پر اختلافات عروج پر پہنچ گئے تھے۔

اس دوران عمران خان اور طاہر القادری کا دھرنا ہوا جس میں روزانہ یوں لگتا تھا کہ حکومت کا جانا ٹھہر گیا، صبح گیا یا شام گیا، لیکن نوازشریف اپنے بھائی اور وزیر داخلہ چودھری نثار کی مدد سے یہ برا وقت بھی ٹال گئے۔

جنرل راحیل شریف کی مدت مکمل ہوئی تو نوازشریف نے آرمی چیف کے لیے جنرل قمر جاوید باجوہ کو منتخب کیا تاہم فوج کے انداز و اطوار اب کافی حد تک تبدیل ہوتے نظر آئے۔ ڈان لیکس کے معاملے پر ڈی جی آئی ایس پی آر کی ٹویٹ کے علاوہ فوج ہمیشہ حکومت کی پشت پر نظر آئی۔ اس دوران پانامہ کا معاملہ سامنے آیا اور پھر چشم فلک نے نوازشریف کی نااہلی اور "مجھے کیوں نکالا؟" کی گردان کا عملی مظاہرہ دیکھا۔

یہ بھی پڑھیں:   نواز شریف ڈیل نہیں کریں گے؟ آصف محمود

وزارت عظمیٰ سے ہٹائے جانے کے بعد نوازشریف کو یہ احساس ہونے لگ گیا کہ ان کو سزا دینے کا فیصلہ ہوچکا ہے اس لیے سزا کو ٹالنے اور اقتدار اپنے ہاتھ میں رکھنے کے لیے پرانے گُر پھر استعمال کیے جائیں۔ اب کی بار شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کی کرسی کے لیے نامزد کیا گیا جس کے بعد انہوں نے نوازشریف کو سزا سے بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کردیے۔

فوج سے بات کرنے کا سوچا گیا لیکن ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھ کر سعودی عرب کی مدد سے ڈیل کی کوشش بہتر حل نظر آئی۔ مسلم لیگ ن کے ہی سینیٹر علامہ ساجد میر کو بیچ میں ڈالا گیا کیونکہ اہلحدیث مکتبہ فکر کی وجہ سے ان کی سعودی عرب میں اچھی یاد اللہ تھی۔ پس پردہ رابطوں نے کام دکھایا اور سعودی حکومت نے شہباز شریف کو لانے کے لیے خصوصی طیارہ بھیج دیا۔ شہباز شریف جیسے ہی سعودی عرب روانہ ہوئے تو نوازشریف کو احساس ہوا کہ چھوٹا بھائی وزیراعظم نامزدگی کی ترنگ میں سعودی عرب جاکر کوئی ایسا وعدہ نہ کرلے جس پر عمل کرنا مجبوری بن جائے اس لیے انہوں نے بھی دستیاب پہلی پرواز سے سعودی عرب کی راہ لی۔

دونوں بھائیوں کی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات ہوئی جس میں درخواست کی گئی کہ جنرل راحیل شریف کے ذریعے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو قائل کیا جائے کہ اس وقت پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی بجائے صرف مسلم لیگ ن ہی قابل بھروسہ جماعت ہے اس لیے 2013ء کی طرح ایک بار پھر ان کی مدد کی جائے۔ ولی عہد محمد بن سلمان کو باور کرایا گیا کہ 2008ء سے 2013ء تک پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں زرداری حکومت کا جھکاؤ سعودی عرب سے زیادہ ایران کی جانب رہا اور ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن معاہدے کی بنیاد بھی آصف زرداری نے رکھی تھی۔ پیپلزپارٹی کو اگر پھر اقتدار ملا تو اس کا جھکاؤ ماضی کی طرح سعودی عرب سے زیادہ ایران ہوگا جس کی وجہ سے سعودی عرب کو سفارتی سطح پر ایک اہم دوست سے محروم ہونا پڑجائے گا۔ شہزادہ محمد بن سلمان کو یہ بھی بتایا گیا کہ عمران خان بیانات دینے سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح نتائج کی پروا نہیں کرتے اس لیے وہ اکثر جوش میں سعودی عرب کے خلاف بھی بیانات داغ چکے ہیں۔ یمن میں پاکستانی فوج بھیجنے کے معاملے پر بھی عمران خان کی وجہ سے حکومت کو چارو ناچار پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانا پڑا اور پھر پارلیمنٹ نے فوج نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا اس لیے اگر عمران خان کو اقتدار مل گیا تو پھر وہ ماضی کی طرح سعودی عرب سے بہتر تعلقات کی بجائے ٹرمپ کی روایات پر عمل کرتے ہوئے جذباتی پالیسیاں بنائیں گے جس کا نقصان دونوں ممالک کو ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   جج ارشد ملک مبینہ ویڈیو کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری

شہزاد محمد بن سلمان کو یہ تجاویز پسند آئیں اور پھر فیصلہ کیا گیا کہ جنرل راحیل شریف کے ذریعے فوج پر مسلم لیگ ن کی مدد کا دباؤ ڈالا جائے گا جبکہ اگر پانامہ کیس میں نوازشریف کو سزا ہوئی تو ان کو ایک بار پھر پناہ دینے سمیت سزا سے بچانے کے تمام حربے استعمال کیے جائیں گے۔ان یقین دہانیوں کے بعد شہباز شریف حسب سابق خصوصی طیارے سے پاکستان آئے جبکہ نوازشریف عمرہ کی ادائیگی کے بعد اسلام آباد پہنچے۔ اسلام آباد آمد کے بعد جب مریم نوازشریف اور دیگر حامیوں کو صورتحال کا علم ہوا تو ان کو لگا کہ ان فیصلوں سے فائدہ صرف شہباز شریف کو پہنچ رہا ہے جبکہ نوازشریف اور ان کے خاندان کے حصے میں صرف سزا اور جلا وطنی ہی آئے گی اس لیے اس ڈیل کو خراب کیا جائے۔ نوازشریف نے ڈیل کو خراب کرنے اور ایک اور ڈیل کے بلاوے کی امید پر بدھ کی دوپہر ایک پریس کانفرنس کرڈالی جس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی جیسے اسٹیبلشمنٹ مسلم لیگ ن کو ہرانے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ اس پریس کانفرنس کے بعد اگرچہ شہباز شریف ہکا بکا ہیں لیکن نوازشریف کو امید ہے کہ چھوٹا بھائی حصول اقتدار کے لیے ایک بار پھر جدہ کا رخ کرے گا تاہم اس بار وہ ڈیل میں اپنے لیے اہم عہدہ کی یقین دہانی کے بغیر قطعی واپس نہیں آئیں گے۔

نوازشریف اور ان کے حامیوں کی امید اپنی جگہ لیکن ایک اور ڈیل کی آس پر کی کی گئی پریس کانفرنس ہاتھ میں آئی بازی پلٹ بھی سکتی ہے جس سے مسلم لیگ ن کے ہاتھ شاید پچھتاوے کے علاوہ کچھ نہ آئے۔

Comments

ڈاکٹر شفق حرا

ڈاکٹر شفق حرا

ڈاکٹر شفق حرا دس سال سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔ پی ٹی وی نیوز پر نشر ہونے والے پروگرام کیپیٹل ویو کی میزبانی کے فرائض سرانجام دیتی ہیں، اور اپنے منفرد انداز کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.