حرف ایک طلسم – دعا عظیمی

کہنے لگا "آپ کا تعارف؟"

بولی، "میرا تعارف آپ کا ظرف ہے۔" کانچ کی چوڑیاں دھیرے سے چھنکیں۔

"نہیں، ہر ہستی کا کوئی نہ کوئی حوالہ، کوئی شناخت ضرور ہوتی، کچھ بتائیں ناں!" اصرار بڑھا، جیسے گیلی لکڑیوں کی سلگن میں یکدم اضافہ ہوا۔ نگاہ باغیچے کے گوشے سےہٹی اور کھلتے گلابوں سے ٹکرائی۔

نگاہ کالمس بھی عجب لمس ہے،آواز کاسحر بھی عجب سحر ہے،نازکی کافسوں بھی کیا فسوں ہے؟ احساس کو حرف میں انڈیلنا بھی تو ایک ہنر ہے۔ بولی "جوتے اتارو، مخملیں گھاس پہ بیٹھ جاؤ اور آرام سے سنو، جیسے سننے والے سنتے ہیں۔" وہ آلتی پالتی مار کے دو زانو بیٹھ گیا، جیسے مراقبے میں۔

روشنی کی لہر نے حرف کو اوڑھا جیسے رات چاندنی کا دوشالہ اوڑھے۔ وہ چپ تھی، اسے لگا کبھی کبھار چپ کی آواز میں سر بہتے ہوں۔ سکوت میں ڈالی ہلے تو سنائی دیتی ہے، خیال کی آہٹ کو سننےکے لیے کبھی کبھی چپ کی گہری بکل مارنی پڑتی ہے۔ یہ لکھاری کی ضرورت ہے کہ وہ ڈبکی مارے، بحر قیاس کی نچلی اندھیری سطح کو چھوئے، کبھی اس کے حصے موتی آئے، گوہر نایاب آئے اور کبھی صرف خیال کی جھاگ۔ اور جو ہاتھ میں آئے اسے پوری دیانتداری اور سچائی کے ساتھ اپنے پڑھنے والے کے سامنے طشت میں سجا کر پیش کرے۔ چاہے وہ اسے اپنائے یا پھر یکسر رد کر دے۔

"مادام! آپ سکوت نہ توڑیں، مجھے آپ کاتعارف حاصل ہو گیا"

"اچھا؟،" وہ اچنبھے سے مسکائی۔ "واہ! آپ تو کمال کے آدمی ہیں، میری چپ اور آپ کی چپ سے معاملہ حل ہو گیا؟ چلیں مجھ سے میرا تعارف کرا دیں۔ "

"سنیں،" وہ گویا ہوا، جیسے طلسمی دروازے پہ لکھے منتر پڑھتا ہو، اب تعارف کی ذمہ داری اس کی تھی۔ "اسے لگا جیسے وہ ایک ہستی نہ ہو، پورا بسا بسایا شہر ہو۔ زرخیز، آباد، شاداب، پھوٹتی آبشاریں جھیلیں،کوہستان درّے دروازے۔ وہ اپنی ذات میں ایک شہر کے مانند تھی۔ دستک دیے بغیر باب رومان کھلا۔ یہ شہر رومان ہےیہاں۔ صندل سے دہکتی لکڑی کا مہکتا دھواں آنے والے کو مسحور کر دیتا ہے۔ کنول کھلتے ہیں، پانی میں پھول اور ہوا میں عطر کی آمیزش ہے۔ اس کے عین وسط میں دریائے محبت بہتا ہے۔ ایک کنارے پر وادی تخیل کی گلکاری ہے۔ یہاں خوابوں کی پریاں محو رقص ہیں۔ دوسرے کنارے پر حقیقت کی تلخ کھائی ہے جہاں سچ کی خاردار بیری ہے۔ اس کے شمال مغرب میں اونچی فصیل ہے جس کی منڈیروں پر سفید اور دودھیا آبی پرندے ہیں۔ ان کےپروں سے دعاؤں کی روشنی پھوٹتی ہے اور شہر رومان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔ اس میں ایک باب حرف ہے، جس کا دوسرا سرا تیسرے آسمان کو چھوتا نظر آتا ہے۔"

یہ بھی پڑھیں:   قصہ ایک فلم اور ادھورے خواب کا - سعدیہ مسعود

اس نے تالی بجائی، "ہوش کی دنیا میں واپس آئیے، حرف ایک طلسم ہے، اسے مت چھوئیے۔" مقدس حروف ستاروں کی مانند جگمگائے، مرغ کی بانگ نے سماعت کو جھنجوڑا۔

سحر ہو چکی تھی،صحافی کے ہاتھوں میں ادھ کھلی کتاب جھٹکے سے بند ہوئی۔ رات دیر تک وہ اپنی پسندیدہ مصنفہ کا ناول پڑھتا رہا، حرف تخیل تعارف اور خواب کب ہم آہنگ ہوئے؟ اسے پتہ ہی نہیں چلا۔ اس نےپاس پڑا ٹیبل لیمپ کا سوئچ آف کیا اور کروٹ بدل کر دوبارہ نیند کی گہری وادی میں اتر گیا۔ زیرو کی نیلی روشنی میں حرف کا طلسم پھیلتا جا رہا تھا۔ ٹوٹے خواب کا سلسلہ پھر سے جڑنے کو تھا۔ کیا تخیل اور خواب لاشعور کو ٹٹولنے کی سعی میں تھے؟ صبح ہونے سے پہلے کا سارا وقت اس کا تھا۔

Comments

دعا عظیمی

دعا عظیمی

دعا عظیمی شاعرہ ہیں، نثرنگار ہیں، سماج کے درد کو کہانی میں پرونے کا فن رکھتی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے سوشل سائسنز میں ماسٹر کیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.