حُسن اتنی بڑی دلیل نہیں - عظمیٰ ظفر

شہر کی مصروف شاہراہ پر دوڑتی گاڑیوں کےازدحام کو نہ چاہتے ہوئے بھی ٹریفک سگنل پر رکنا پڑا۔ گاڑی میں بیٹھی کشف نے کھڑکی سے باہر سڑک پر لگے سائن بورڈز پڑھنا شروع کردیے۔ بڑے بڑے سائن بورڈز اور بل بورڈز نے تو آج کل پورے شہر کو ڈھک لیا تھا۔ ہوش ربا ماڈلز کے ملبوسات، لان کے نئے والیومز، مشہور کمپنیوں کے نام سے سجے بورڈز اور نا جانے کیا کیا؟ ان سب پر سے نظریں دوڑاتے کشف کی نظر ایک مشہور بیوٹی پارلر پر پڑی جو بہت جلد بیوٹی کالج کا افتتاح کرنے والے تھے۔ کشف کے لیے تو یہ خبر بہت اہم تھی، اس نے جلدی سے تفصیلات موبائل میں منتقل کیں۔

گھر پہنچ کر جلدی جلدی منہ ہاتھ دھوئے اور اوپر والے پورشن کی طرف بھاگی جہاں اس کی خالہ زاد بہن مومل موجود تھی۔ مجھے پتہ تھا تم یہیں ملو گی مومل! ایک زبردست بات بتاؤں؟ کشف نے پُرجوش انداز میں کہا۔

السلام علیکم! کیسی بات؟ کیا داخلہ مل گیا یونیورسٹی میں؟ اسی بات کی خوشی ہوگی تمہیں۔ مومل نے مسکرا کر پوچھا۔

نہیں، آج تو بس فارم وغیرہ لے کر آئی ہوں لیکن اب میرا ارادہ بدل رہا ہے۔ پتہ ہے وہ جو سب سے بڑا بیوٹی پارلر ہے نا گلستانِ جوہر میں، انہوں نے اب بیوٹی کالج کھولا ہے۔ میں سوچ رہی ہوں کہ اسی میں داخلہ لے لوں بلکہ تم بھی میرے ساتھ وہیں داخلہ لے لو۔ کب تک گھر میں بیٹھی رہو گی؟ خالہ جان سے میں خود بات کر لوں گی۔ کشف نے منٹوں میں سارے معاملات طے کر لیے۔ مگر سلام کا جواب ندارد!

مومل نے اس کی باتوں کا کوئی جواب نہیں دیا، صرف اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔

کیا ہو گیا مومل! اتنی حیرت زدہ کیوں ہو؟ غلط بات تو نہیں کی میں نے؟ اچھا ہے نا تم بھی کچھ اپنے آپ کو گروم کرو گی۔ پتھر کے زمانے کی مومل تم کب بدلو گی خود کو؟ اتنی سادگی بھی اچھی نہیں۔ کشف نے مومل کے حلیے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مذاق اڑایا۔

بیوٹی کالج! اچھا تو اس میں کیا ہوگا؟ مومل نے پوچھا

پتہ نہیں، ابھی تو بس نام دیکھا ہے۔ کل چلیں گے ہم دونوں معلومات لے کر آئیں گے۔ کشف نے آسانی سے مان جانے والی مومل کو دیکھا۔

اچھا پھر میں بتاتی ہوں ایسی جگہ کیا پڑھایا جائے گا؟ فیشن ڈیزائنگ، سیلف گرومنگ، How to improve your beauty،بولڈنیس۔ پھر پڑھائیں گے کہ خود کو ایکسپوز کیسے کرنا ہے؟ پھر اپنی بیوٹی کو کیش کیسے کروانا ہے؟ اور یوں بنتِ حوا کو ہر ایک کی ناپاک نظریں آلودہ کریں گی۔ تمہیں پتہ ہے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہے کہ "بد نگاہی شیطان کے بجھے ہوئے تیروں میں سے ایک تیر ہے۔ " مومل یہ کہہ کر خاموش ہو گئی۔

اف اف اف! تم بات کو کہاں سے کہاں لے جا رہی ہو؟ کشف کو غصہ آگیا۔ بیوٹی کالج ہے تو وہاں پڑھائی بھی اس کی ہی ہوگی۔ آج کل تو دور بھی خوبصورتی کا ہے۔ جو دِکھتا ہے وہ بکتا ہے۔ تم رہو کنوئیں کا مینڈک بن کر! کون پوچھتا ہے عام شکل صورت کو؟ سب خوبصورت چہرے پر ہی جاتے ہیں ڈیئر کزن! کشف نے آئینے میں اپنا خوبصورت سراپا دیکھا۔

خوبصورتی اپنی جگہ کشف! مگر اخلاق اور اچھی سیرت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ مومل نے اُسے دیکھا۔

کیا کہا؟ سیرت؟ اس نے ہنسنا شروع کردیا۔ اچھا اگر سیرت ہی اہم ہے تو تم کیوں دو سال سے اپنے سسرال میں رہنے کی بجائے خالہ جان کے پاس رہ رہی ہو؟ یہاں کیوں بھیج دیا ارسلان بھائی نے؟ تمہارا سگھڑاپا، تمہاری خوش اخلاقی تو خاندان بھر میں مشہور ہے۔ کتنی خدمتیں کیں تم نے ارسلان بھائی کی۔ مگر ان کو تمہاری سادگی تو نہیں پسند آئی بلکہ وہ تو اُس جل پری کے پیچھے بھاگ رہے ہیں جو ان کے ساتھ کام کرتی ہے۔ کشف نے اس کے ذاتی مسئلے کو ہی نشانہ بنایا۔

میری بات اور ہے کشف! ارسلان غلطی پر ہیں۔ اللہ ضرور ان کو ہدایت دے گا۔ مگر تم جانتے بوجھتے غلطی کیوں کرو گی؟ ایسی پڑھائی تمہارے کسی کام نہیں آئے گی۔ مومل نے اس کو سجھایا۔

تمہیں کیا پتہ مومل؟ جب لوگ میری تعریف کرتے ہیں، ستائش بھری نظروں سے مجھے دیکھتے ہیں تو کتنا اچھا لگتا ہے۔ ارے! سیرت میں کیا رکھا ہے؟ دنیا خوبصورتی کے پیچھے بھاگتی ہے۔ کتنے مشہور نام ہیں جن کے حسن کے چرچے ہیں۔ اُس نے کتنے ہی نام لے ڈالے۔

مومل نے پھر سے اُسے سمجھانے کے لیے ہمت جمع کی ورنہ آج تو کشف کے آگے بند باندھنا مشکل لگ رہا تھا۔

مگر تم جانتی ہو ان کا انجام کیا ہوا؟ آج ان کے نام لینے والے بھی چند ہیں۔ یا پھر وہ مٹی میں جا سوئے اور جو دنیا کی نظروں میں خوب صورت نہ تھے ان کا ذکر ہمیشہ کے لیے زمین و آسمان میں بلند کردیا۔ سیدنا بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ سیاہ فام تھے۔ سیاہ رنگ تھا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بے حد پیارے تھے۔ ان کے نیک اعمال کی وجہ سے جنت میں ان کے قدموں کی آواز سنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے۔

کشف نے کچھ کہنا چاہا پھر خاموش ہوگئی کیونکہ مومل ایک جذب سے عقیدت میں بول رہی تھی۔

تمہیں پتہ ہے کشف! حضرت لقمان علیہ السلام چھوٹے قد کے تھے، ان کے ہونٹ بھی بہت موٹے تھے مگر اپنی حکمت اور اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے ان کا ذکر قرآن میں آتا ہے۔ اماں خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا ایک مرتبہ کھانا لے کر آ رہی تھیں تو جبریل امین نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے فرماتے ہیں کہ اللہ کی طرف سے اور میری طرف سے انہیں سلام پیش کریں۔ ان کی خدمت کے بدلے میں اللہ نے جنت میں گھر بنایا ہے۔ ان قابل احترام ہستیوں کی خوبصورتی کا ذکر کہاں ملتا ہے؟ جبکہ ان کے اعلیٰ اخلاق کا، سیرت کا، نیک اعمال کا، ان کی قربانیوں کا ذکر ملتا ہے۔ خوبصورتی اللہ کی نعمت ہے۔ تم اُس نعمت کو گرہن کیوں لگوانا چاہتی ہو؟ دوسرے لوگوں کی اور نامحرموں کی نظروں میں کیوں آنا چاہتی ہو؟ مومل کی آنکھیں بھر آئیں تھیں۔

مومل آپی! مومل آپی! نیچے سے تیزی سے سیڑھیاں چڑھتی نورین اوپر کمرے میں آئی۔ اس کے ہاتھوں میں بہت خوبصورت پھولوں کا گلدستہ تھا۔

کیا ہوا نورین؟ یہ اتنے پیارے پھول کہاں سے آئے، کون لایا؟ کشف نے آ گے بڑھ کر گلدستہ لینا چاہا۔

مومل آپی! ارسلان بھائی آئے ہیں آپ کو لینے اور امی سے معافی بھی مانگ رہے ہیں اور یہ پھول آپ کے لیے بھیجے ہیں انہوں نے۔ کہا ہے کہ اگر آپ ان کو معاف کردیں گی تو ان پھولوں کے ساتھ جلدی سے نیچے آجائیں۔ اس نے گلدستہ آگے کیا۔

مومل نے ہاتھ بڑھا کر گلدستہ لے لیا اور کشف کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔

کشف کو لگا اس کی مسکراہٹ جیت گئی اور وہ ہار گئی تھی۔ مومل کی مسکراہٹ سرگوشی کر رہی تھی کہ

مت کرو بحث ہار جاؤ گی

حُسن اتنی بڑی دلیل نہیں

Comments

Avatar

عظمیٰ ظفر

عظمیٰ ظفر روشنیوں کے شہر کراچی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اپلائیڈ زولوجی میں ماسٹرز ہیں ، گھر داری سے وابستہ ہیں اور ادب سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ لفظوں کی گہرائی پر تاثیر ہوتی ہے، جو زندگی بدل دیتی ہے، اسی لیے صفحۂ قرطاس پر اپنی مرضی کے رنگ بھرتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.