تین طلاق نہیں، بیوی چھوڑیں، وزیراعظم بنیں - تزئین حسن

مسلمان عورتوں کے لیے خون کے آنسو بہانے والے نریندر مودی نے اپنی بیوی یشودابن کو شادی کے تین سال بعد بغیر کسی قانونی چارہ جوئی کے چھوڑ دیا تھا. تقریباً 46 سال بعد 2014ء کے الیکشن کے کاغذات میں اسی بیوی کا نام شریک حیات کے طور پر لکھوایا جسے اس عرصے میں پوچھا بھی نہیں. الیکشن کے بعد یشودابن نے ایک RTI یعنی سرکار سے معلومات لینے کے حق کے تحت یہ استفسار کیا ہے کہ ان کے گرد سیکورٹی کا کیا مقصد ہے؟ اگر انھیں یہ سیکورٹی وزیراعظم کی بیوی ہونے کی وجہ سے مل رہی ہے تو انھیں ان کی بیوی ہونے کے دوسرے حقوق کیوں نہیں مل رہے؟ یاد رہے یشودابن اپنی غربت کے باعث آج بھی پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے پر مجبور ہیں جبکہ ان کے گرد سیکورٹی والے سرکاری گاڑیوں میں ان کی بس کا پیچھا کرتے ہیں.

اگر یہ سیکورٹی وزیراعظم کی بیوی ہونے کی وجہ سے مل رہی ہے تو انھیں ان کی بیوی ہونے کے دوسرے حقوق کیوں نہیں مل رہے؟

اس بھارتی ناری کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ آج بھی مودی جی کی خدمت کرنا چاہتی ہیں اور ہر مہینے ان کے لیے برت رکھتی ہیں. ان کا کہنا ہے کہ ان پر دباؤ ہے کہ وہ میڈیا سے کوئی بات نہ کریں. انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان پر کس کا دباؤ ہے؟

یشودابن نے ہندوستانی ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انھیں چالیس سال سے مودی جی کی پتنی ہونے کے باوجود شادی شدہ زندگی کے کوئی حقوق نہیں ملے. وہ شادی کے تین سال بعد سے اپنے بھائیوں کے پاس زندگی گزار رہی ہیں. ان تین سالوں میں بھی مودی اور وہ مشکل سے تین ماہ ایک ساتھ رہے ہوں گے. یشودابن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کا کبھی مودی جی سے کوئی جھگڑا نہیں ہوا. بغیر کسی قانونی چارہ جوئی پچاس سالہ علیحدگی کے دوران وہ متعدد مرتبہ اپنے سسرال والوں کے پاس رہنے کے لیے گئیں لیکن مودی اس دوران اپنے گھر والوں سے بھی ملنا چھوڑ دیتے ہیں، بلکہ ان کو بھی پیغام دلواتے کہ تم یہاں آنے کے بجائے اپنی پڑھائی پر توجہ دو. وزارت عظمیٰ کے الیکشن کی امیدواری کے کاغذات میں مودی نے اپنے آپ کو شادی شدہ کہا اور بیوی کا نام یشو دابن ہی لکھوایا. اس طرح خود مودی کے مطابق وہ ابھی تک ان کی قانونی بیوی ہیں.

چالیس سال سے مودی جی کی پتنی ہونے کے باوجود مجھے شادی شدہ زندگی کے کوئی حقوق نہیں ملے.

الیکشن سے قبل انڈیا ایکسپریس کو انٹرویو دیتے ہوئے یشودابن نے کہا کہ ان کی خواہش ہے اور انھیں پورا یقین ہے کہ مودی جی ہی سرکار بنائیں گے اور انڈیا کے پردھان منتری ضرور بنیں گے لیکن ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انھیں کوئی امید نہیں کہ مودی انھیں اپنے ساتھ رکھنا چاہیں گے. ان کا کہنا تھا کہ جب انھیں پتہ چلا کہ مودی جی نے کاغذات میں انھیں بیوی تسلیم کیا تو ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور انھیں بہت خوشی ہوئی. وہ ہمیشہ سے لوگوں کو بتانا چاہتی تھیں کہ ان کے پتی کون ہیں.

یہ ہندوستانی مشرقی بیوی آج بھی مودی کی کامیابی کی خواہاں ہے. الیکشن سے قبل ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر وہ چیز پڑھتی ہیں جن میں مودی کا تذکرہ ہو. یاد رہے یشودابن نے مودی سے الگ ہونے کے بعد اپنی پڑھائی مکمل کی اور ٹیچرز ٹریننگ کے بعد ملازمت کر لی. آج کل ان کا گزارا اپنی پنشن پر ہے اور وہ اپنے ایک بھائی کے پاس رہتی ہیں. ان کا زیادہ وقت عبادت میں گزرتا ہے. ان کا کہنا ہے کہ شادی کے بعد ان کی تعلیم کے اخراجات ان کے والد نے برداشت کیے.

دوسری طرف نریندر مودی آج کل مسلمان عورتوں کو حقوق دلوانے کے لیے سرگرداں ہیں. بھارتی پالیمنٹ نے مسلمان علماء کے اعتراض اور شدید مخالفت کے باوجود اختلافی ٹرپل طلاق بل منظور کر لیا ہے، جس کے مطابق ایک ساتھ تین طلاق دینے والے مرد کو قید اور جرمانے کی سزا ہوگی. بل کے مطابق ایسے مرد کو تین سال کے لیے قید کر دیا جائے گا اور اس پر بیوی بچوں کا نان نفقہ بھی واجب ہوگا. مگر بل میں اس بات کی وضاحت نہیں کہ جیل میں رہ کر وہ بیوی بچوں کو کیسے نان نفقہ دے گا. یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بل کا بظاہر مقصد میاں بیوی کے درمیان افہام و تفہیم ہے، مرد کے جیل جانے کی صورت میں وہ کیسے انجام پائے گا.

نریندر مودی کی سرکار اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں اور دلتوں پر ظلم و ستم کے حوالے سے معروف ہے. اس بات پر کوئی اختلاف نہیں کہ 2002ء میں گجرات فسادات اس وقت کے وزیراعلیٰ مودی کی نگرانی میں کروائے گئے. مودی ایک طرف مسلم آبادی میں اضافے کے خلاف بیان دیتے رہے ہیں. بی جے پی نے اپنی مرضی سے مسلمان مردوں سے شادی کرنے والی ہندو لڑکیوں کے حوالے سے ''لو جہاد'' کی مضحکہ اڑانے والی اصطلاح بھی رائج کی.

مودی سرکار خواتین کے بغیر محرم حج کی اجازت کا کریڈٹ بھی لے رہی ہے جبکہ یہ شق سعودی قانون میں عرصے سے موجود ہے اور بہت بڑی تعداد میں ترکی، ملائیشیا، اور انڈونیشیا میں خواتین گروپس کی صورت میں حج اور عمرے کے لیے بغیر محرم حجاز کا سفر کرتی رہی ہیں اور آج بھی کر رہی ہیں.

دیکھنا یہ ہے کہ مسلمان عورتوں کے حقوق کے لیے جس مودی کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں، وہ اب اپنی بیگم کو حقوق دیتے ہیں یا نہیں، جو زندگی میں پہلی بار میڈیا کے سامنے آئی ہیں. تین طلاق دے کر جیل جانے سے بہتر بندہ بیوی کو ایسے ہی چھوڑ دے اور انڈیا کا پردھان منتری بن جائے. اندھیر نگری چوپٹ راج.

Comments

تزئین حسن

تزئین حسن

تزئین حسن ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ میں صحافت کی طالبہ ہیں، نارتھ امریکہ اور پاکستان کے علاوہ مشرق وسطی کے اخبارات و جزائد کےلیے لکھتی ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.