تبلیغی جماعت، طریق کار اور مقصد - علی عمران

تبلیغی جماعت کی فکر پر بحث کرنے کے لیے ہم مندرجہ ذیل نکات پر بحث کریں گے.
تبلیغی جماعت کا مقصود بانیان جماعت کے الفاظ میں، تاکہ اس کے بارے میں جو مختلف خیالات اور افکار ہیں، ان کی اصلاح ہو سکے.
فلسفہ اصلاح اور طریق کار اور فلسفہ اقتدار.

مقصد:
تبلیغی جماعت کے بانی مولانا الیاس ر.ح نے فرمایا:
"ہماری اس تحریک کا مقصد مسلمانوں کو اسلام کے پورے علمی و عملی نظام سے امت کو وابستہ کرنا ہے. یہ تو ہے اصل مقصد. رہی قافلوں کی چلت پھرت اور تبلیغی گشت، سو یہ اس مقصد کے لیے ابتدائی ذریعہ ہے، اور کلمہ و نماز کی تلقین و تعلیم گویا ہمارے پورے نصاب کی الف بے تے ہے.''
فرمایا:
''ہماری اس تحریک کا ایک خاص مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کے سارے جذبات پر دین کے جذبے کو غالب کرکے اور اس راستے سے مقصد کی وحدت پیدا کر کے اور "اکرام مسلم "کے اصول کو رواج دے کر پوری قوم کو اس حدیث کا مصداق بنایا جائے: المسلمون کجسد واحد

امیر ثانی مولانا محمد یوسف ر.ح نے فرمایا:
''تبلیغ کا مقصد کسی خاص چیز کی اشاعت نہیں، بلکہ اس کے ذریعے ہمیں ہر اس چیز کو زندہ کرنا ہے، جس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی فلاح کے لئی لے کر آئے اور تدریجی طور پر ہم مسلمانوں کی استعداد کے مطابق عمل پر ڈالتے رہیں.''
فرمایا:
''مقصد یہ ہے کہ رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے زندگی کے ہر شعبے میں زندہ ہوں اور عام مسلمانوں میں حق تعالیٰ شانہ کی مرضی کے مطابق معاشرے کی اصلاح وجود میں آجائے.''
فرمایا:
''ہم یہ چاہتے ہیں کہ بازار سے مسجد تک کا نظام اور مسجد سے بیت اللہ تک کا نظام درست ہو جائے.''

حضرت جی ثالث مولانا انعام الحسن رح نے فرمایا:
''ہم اس دعوت والے کام کے ذریعے یہ چاہتے ہیں کہ جسوقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دنیا سے پردہ فرمایا، اس وقت جو اس امت کی حالت تھی، اس حالت پر تمام امت واپس آجائے.''

اس مقصد کے لیے ان حضرات نے کیا طریق کار اختیار کیا اور اس مخصوص طریق کار کے اختیار کرنے میں کیا حکمت اور فلسفہ ہے؟ آئیے ان حضرات کے فرمودات کی روشنی میں اس کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں.
مولانا الیاس رح نے فرمایا:
''ہمارا کام دین کا بنیادی کام ہے اور ہماری تحریک درحقیقت ایمان کی تحریک ہے. آج کل عام طور پر جو اجتماعی کام ہوتے ہیں، ان کے کرنے والے ایمان کی بنیاد کو قائم فرض کرکے امت کی اوپر کی تعمیر کرتے ہیں، اور اوپر کے درجے کی ضروریات کی فکر کرتے ہیں. اور ہمارے نزدیک امت کی اول ضرورت یہی ہے کہ ان کے قلوب میں پہلے صحیح ایمان کی روشنی پہنچ جائے.''
فرمایا:
''ہمارے نزدیک اس وقت امت کی اصل بیماری دین کی طلب و قدر سے ان کے دلوں کا خالی ہونا ہے. اگر دین کی فکر و طلب ان کے اندر پیدا ہو جائے، تو ان کی اسلامیت دیکھتے ہی دیکھتے سرسبز ہو جائے. ہماری اس تحریک کا مقصد اس وقت بس دین کی طلب و قدر پیدا کرنے کی کوشش کرنا ہے نہ کہ صرف کلمہ اور نماز وغیرہ کی تصحیح و تلقین.''
فرمایا:
''یہ تحریک درحقیقت ایک بہت بڑے درجے کی ریا ضت ہے، افسوس! لوگ اس کی حقیقت کو نہیں سمجھتے.''

حضرت مولانا یوسف رح فرماتے ہیں:
"دعوت جو چلے گی، وہ ایک آدمی کے دینے سے نہیں چلے گی. اجتماعی زندگی لائیں گے .اس میں کھانا پینا، عادات، نظریے، تخیلات، حاکموں اور غریبوں کے ساتھ کو دیکھیں گے، اپنی مدد آپ کو دیکھیں گے.''
فرمایا:
"دین کی محنت ہوگی تو اللہ تعالیٰ تمام شعائر کو زندہ فرمائیں گے.''

حضرت مولانا عمر پالنپوری رح نے فرمایا:
"ہر کام طریقے سے تدریجاً ہوتا ہے. دین بھی طریقے کی محنت سے حاصل ہوگا.''

مولانا یوسف ر.ح نے فرمایا:
"اس کام سے ماحول بنے گا اور کسی کے دل میں درد پیدا ہوگا اور فکر لگے گی کہ یہ امت کس طرح یہود و نصاریٰ کے ہاتھ سے چھوٹے اور اس کی درد بھری آہ و زاری پر منجانب اللہ اس امت کے دوبارہ چمکنے کی صورت پیدا ہوگی، جیسے تاتاریوں کے زمانے میں بائیس لاکھ مسلمانوں میں سے سترہ لاکھ مسلمانوں کو شہید کیا گیا، پھر حضرت شہاب الدین سہروردی رح کی فکر پر دروازے کھلے. اکبر کے دین الہٰی پر حضرت مجدد ر.ح کے ہاتھوں دروازہ کھلا.''
فرمایا:
"تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کے مطابق بننا شروع کردو، جتنا بننا ہوگا، بن جائے گا، جو بننے والا نہیں ہوگا اور جو بننے والوں کے لیے رکاوٹ بنے گا، خدا اسے اس طرح توڑ دے گا، جیسے انڈے کے چھلکے کو توڑا جاتا ہے. تم جن کو بڑی طاقتیں کہتے ہو، خدا کے نزدیک ان کی حیثیت مکڑی کے جالے کے برابر بھی نہیں ہے. اس دنیا میں پاکیزہ انسانوں کے نہ ہونے کی وجہ سے بڑے بڑے جالے لگ لگ گئے تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سعی سے پاکیزہ انسان بن گئے، تو خدا نے عذاب کی ایک جھاڑو سے روم و فارس کے جالے صاف کردیے.''

یہ وہ بنیادی فلسفہ ہے جس کی بنیاد پر ان حضرات نے اس طریق کار کو اپنایا. اس طریق کار سے یہ مقاصد کیسے حاصل ہوں گے؟
مولانا یوسف رح بیان کرتے ہیں:
"پانچ چیزوں پر جب اعمال آئیں گے، تو دین کا نقشہ وجود میں آئےگا. یقین کی خصوصیت، علم کی شان، خدا کا دھیان، رضائے الہی کا جذبہ، نفس کا مجاہدہ.
پہلے درجے میں عبادات مطلوب ہیں، دوسرے میں اخلاق، تیسرے میں معاشرت و معاملات. اب ان عبادات کو ان پانچ پر لانے کے لیے سب سے پہلے محنت کی جائے گی، اور ان پانچ باتوں کو عبادات میں زندہ کیا جائے گا. عبادات ان پانچ چیزوں پر زندہ ہوں گے تو بقیہ شعبوں میں یہ پانچوں چیزیں جائیں گی اور جب زندگی کے شعبے ان پانچ کے ساتھ چلیں گے تو عبادات کی طرح بقیہ شعبے بھی خدا کی مددوں کے نزول کا باعث بنیں گے.''

مندرجہ بالا فرمودات اور ذاتی مطالعہ، مشاہدہ اور تجربات کے بعد تبلیغی جماعت کا جو نہج شریعت کے بارے میں مجھ پر واضح ہوا ہے، وہ مختصراً حسب ذیل ہے:
1: ایمان کی بنیاد پر محنت اور فضائل کے تذکرے کر کے اعمال کو وجود دے کر ایمان و عمل سے بھرپور ایک معاشرے کی تشکیل، جو "اکرام مسلم "کے بنیادوں پر قائم ہوگا.

2: دین بتدریج آئے گا. معاشرے کا جو طبقہ ایمانی کیفیات اور فضائل کے یقین سے جتنا متصف ہوتا جائے گا اتنا ہی پختہ کار بنے گا. اسفار میں سب سے زیادہ محنت اسی پر کی جاتی ہے. اس کے بعد اعمال کے یقین اور ان کی صحیح شکل کے بنانے پر محنت ہوتی ہے. یوں رفتہ رفتہ عبادات اور اخلاق سے ترقی کر کے معاملات اور معاشرت تک پھیلتا چلا جاتا ہے.

3: حکومتی سطح پر دین اور شریعت کیسے آئےگی؟
اس کی کل تین ممکنہ صورتیں ہیں:
ا: یا تو خود حکمران طبقہ دعوت کی محنت میں لگ جائے گا اور صالح بن کر نظام حکومت چلائے گا، جیسے شیخ جمال الدین رح کی دعوت پر تاتاریوں میں ہوا، اور حضرت مجدد رح کی محنت سے ہوا. کم از کم آج کل کے خصوصی احوال میں اسی نہج کو ہی سامنے رکھا جا رہا ہے.
ب: اہل باطل و اہل شوکت (منافق مسلمان) خود ان اہل حق و دعوت کے مقابلے میں آجائیں گے اور بلامقابلہ براہ راست خداوندی عذاب سے ہلاک کر دیے جائیں گے، اور ریاست صالحین کے حوالہ کردی جائے گی، جیسے انبیاء و سابقین اور بنی اسرائیل کے معاملے میں ہوا.
ت: یہ اہل حق طبقہ تھوڑا سا ہاتھ پیر ہلائے گا اور نصرت خداوندی پھیل جائے گی، جیسا کہ حضرات صحابہ کرام رضی للہ عنھم کے ساتھ ہوا. قرآنی آیات کی ایک کثیر تعداد اس نہج کی راہنمائی کرتی ہیں.
واضح رہے کہ ان ہر تین صورتوں میں اہل دعوت کی طرف سے ریاست کی طرف پیش قدمی نہیں ہے،بلکہ ریاست کی طرف سے ہے.

4: اس نہج کے پیچھے اصل فکر یہ ہے کہ اقتدار اور ریاست دینی زندگی کو پیدا کرنے اور لانے کا ذریعہ نہیں، بلکہ اسے بچانے اور آگے چلانے میں ممد اور ذریعہ ہے. یہاں پر ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ حضرت مولانا منظور نعمانی رح کے نوٹ کا وہ حصہ نقل کریں، جو انھوں نے اپنے کتابچے بنام "تبلیغی جماعت، جماعت اسلامی اور بریلوی حضرات" میں لکھا ہے:
"حضرت مولانا الیاس رح کا دین کے بارے میں تصور اور طرز فکر وہی تھا، جو سلف سے لے کر خلف تک تمام علمائے ربانی کا رہا ہے. ان کے نزدیک دین کے نظام میں حکومت و اقتدار کو "اصل مقصد اور غایت" کا مقام حاصل نہیں ہے، بلکہ وہ اصل دین کے خادم اور محافظ کی حیثیت سے مطلوب ہے. انبیاء علیھم السلام کی اصل دعوت حکومت قائم کرنے کی نہیں، بلکہ ایمان و عمل صالح اور اللہ کے ساتھ عبدیت کے صحیح تعلق کی ہوتی ہے. وہ اسی کو اپنی بعثت کا اصل مقصد قرار دیتے ہیں. ہاں! اس مقصد کی تحصیل و تکمیل اور خدمت و حفاظت کے لیے اگر حکومت وا قتدار کی ضرورت ہو، تو حالات و امکانات کے مطابق بحکم خداوندی وہ اس کے لیے بھی جدوجہد کرتے ہیں اور اس کو اللہ تعالیٰ کے قرب و رضا کا خاص وسیلہ سمجھتے ہیں. تبلیغی جماعت کا کام دین کے اسی تصور پر مبنی ہے.''

بہت مناسب ہوگا، اگر ہم یہاں پر مولانا مودودی رح کے ایک مضمون کے بعض اقتباسات سے اس مضمون کا خاتمہ کرلیں، جو اکتوبر انیس سو انتالیس کے ترجمان القرآن میں "اہم دینی تحریک" کے عنوان سے شائع ہوا تھا. لکھتے ہیں:
"اس سفر (میوات) میں جو کچھ میں نے دیکھا اور جو نتائج میں نے اخذ کیے، میں چاہتا ہوں کہ انھیں ناظرین ترجمان القرآن تک پہنچادوں تاکہ اللہ کے جو بندے درحقیقت کچھ کرنا چاہتے ہیں، ان کو کام کرنے کے لیے ایک صحیح راہ مل سکے.
"ایک جاہل کسان سے میں نے پوچھا کہ تم دورے کیوں کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا، ہم جہالت میں پڑے ہوئے تھے، نہ ہم کو خدا کی خبر تھی، نہ رسول کی، اس مولوی کا خدا بھلا کرے کہ اس نے ہمیں سیدھا راستہ بتا دیا. اب ہم چاہتے ہیں کہ اپنے دوسرے بھائیوں تک بھی یہ نعمت پہنچائیں، جو ہمیں ملی ہے.
یہ الفاظ سن کر میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے. یہی جذبہ تو تھا، جس سے مخمور ہو کر صحابۂ کرام اٹھے تھےاور اس طرح اٹھے تھے کہ انھیں اپنے تن بدن کا بھی ہوش نہ رہا تھا.''

آگے لکھتے ہیں،
"ایک ایسی تنظیمی ہیئت وجود میں آ رہی ہے جس سے آگے چل کر بہت سے کام لیے جا سکتے ہیں. تنظیم کا ماحصل اس کے سوا اور کیا ہے کہ کثیرالتعداد افراد ایک آواز پر مجتمع ہوں اور ایک آواز پر حرکت کرنے لگیں."

پھر لکھتے ہیں:
"اس اکیلے آدمی نے جو ٹھوس کام کیا ہے، وہ ہماری ان بڑی بڑی انجمنوں اور ان بلند بانگ تحریکوں سے آج تک نہ بن پایا، جن کے نام آپ دن رات اخباروں میں سنتے رہتے ہیں. حقیقتا ً اس نوعیت کی تحریک ہندوستان کی اسلامی تاریخ میں یا تو حضرت شیخ احمد سرہندی رح نے اٹھائی تھی، یا حضرت سید احمد بریلوی رح نے اس کا احیاء کیا، یا اب مولانا محمد الیاس صاحب کو اللہ تعالیٰ نے اسے تازہ کرنے کی توفیق بخشی.''

مولانا الیاس ر.ح کی جہد کی بنیاد کا ذکر کرتے ہوئے آگے لکھتے ہیں:
"اب جو لوگ دین کا احیاء چاہتے ہیں، ان کے لیے اس کے سوا کوئی راہ عمل نہیں کہ مسلمانوں کو مسلمان فرض کر کے آگے کی منزلوں پر پیش قدمی کرنے کا طریقہ چھوڑ یں اور ان میں از سر نو پہلے قدم سے دین کی تبلیغ کریں. (سبحان اللہ! یہ بالکل وہی بات ہے جو ہم مولانا الیاس رح کے حوالے سے تحریر کر چکے ہیں.)

مولانا مودودی آگے لکھتے ہیں:
"ظاہر فریب تدبیروں سے تماشا پسند لوگوں کا جو ہلڑ برپا ہوتا ہے، وہ کوئی جہاں کشاں طاقت نہیں رکھتا. اس کے کے لیے تو صحیح طریقہ وہی ہے، جو انبیاء علیھم السلام اختیار کرتے تھے، یعنی یہ کہ ایک شخص خالص خدا کی خوشنودی کے لیے پتہ مار کر ایک جگہ بیٹھے، خاموشی کے ساتھ دعوت و اصلاح کا کام کرے، رفتہ رفتہ لوگوں کے دل اور ان کی زندگیاں بدلے، اور برسوں کی لگاتار محنت سے مسلمانوں کی ایک ایسی جماعت تیار کرے، جو تعداد کے اعتبار سے چاہے مٹھی بھر ہو، مگر ایمان اور عمل صالح کی دولت سے بہرہ ور ہو. ایسے آدمیوں میں ایمان کی جو حرارت اور کیریکٹر کی جو صلاحیت ہوگی، اور احکام شرعیہ کی پابندی سے ان میں منظم اور منضبط طریقہ سے کام کرنے کی جو مستقل عادات پیدا ہوں گی، وہی درحقیقت عسکریت کی اصلی روح ہے اور یہی عسکریت ہم کو مطلوب ہے."
(ترجمان القرآنن اکتوبر 1939ء)

Comments

علی عمران

علی عمران

علی عمران مدرسہ عربیہ تبلیغی مرکز کے فاضل ہیں۔ تخصص فی الافتاء کے بعد انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں اسلامک کمرشل لاء میں ایم فل کے طالب علم ہیں. دارالافتاء والاحسان اسلام آباد میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جہاں افتاء کے علاوہ عصری علوم پڑھنے والے طلبہ اور پروفیشنل حضرات کو دینی تعلیم فراہم کی جاتی ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.