بچوں کی چھٹیاں آسان بنائیں - ایمن طارق

آنکھوں اور منہ پر سے بالوں کو ہٹاتے ہوئے جھک کر جو ہم نے ان کے ماتھے پر پیار کیا تو کسمسا کر دوسری طرف کروٹ کرلی اور محترمہ کے نیچے سے ڈائری برآمد ہوئی۔

"اُف! یہ لڑکی بھی پتا نہیں کیا داستانیں لکھتی رہتی ہے؟" آج جو ڈائری ہاتھ لگی تو سوچا ایک نظر ڈال ہی لیں ورنہ دن کی روشنی میں تو یہ خوش قسمتی ہی ہے کہ کسی کو ان کی طرف سے یہ اجازت ملے۔ پین اندر ہی تھا یعنی لکھتے لکھتے لڑھک گئیں ہماری صاحبزادی صاحبہ!

ڈائری پر نظر ڈالتے ہی مسکراہٹ روکنی مشکل ہو گئی کیونکہ ایک لمبی فہرست تھی جس کا عنوان کرسمس کی چھٹیوں کی پلاننگ تھی۔ فہرست کے زیادہ تر نکات کافی خطرناک تھے کیونکہ ان میں گھومنے پھرنے، دوستوں کے گھروں میں دن spend کرنے، اپنے گھر میں پارٹیاں منعقد کرنے اور پسندیدہ کھانے پکوانے اور شاپنگ کرنے کی پلاننگ کافی تفصیل سے کی گئی تھی۔ یہ تو شکر ہوا کہ ہم نے یہ ڈائری پڑھ لی اور احساس ہوا کہ جب دو ہفتے قبل بچوں کی پلاننگ ہو چکی ہے تو حفظ ماتقدم کے طور پر کچھ counter plan ہمیں بھی کر لینا چاہیے۔

آج کل کے دور میں جب دنیا حقیقتاًگلوبل ولیج بن چکی ہے، معصوم ذہنوں کے بچوں کے اندر بھی خواہشات گلوبلائز شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں اور وہ بچے جو پہلے چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے بہل جاتے تھے، ان کے لیے بڑی بڑی خوشیاں بھی بعض اوقات کچھ ہی لمحے بعد بوریت کا سبب بن جاتی ہیں۔

کچھ ہی دن قبل جب ایک عزیز دوست نے ہمارے صاحبزادے کی بوریت سے بھرپور شکل دیکھ کر بڑے پیار سے ان کو بتانا شروع کیا کہ کس طرح بچپن میں ہم اپنی امیوں کے ساتھ ساتھ ہر جگہ جایا کرتے تھے اور کسی موبائل اور iPad کے بغیر بھی دوسری آنٹیوں کے بچوں کے ساتھ مل کر بیٹھ کر ہم نام، چیز جگہ کھیلا کرتے۔ اس پوری داستان کو سنتے ہوئے ہمارے ان محترم کے چہرے پر جو مزاحیہ تاثرات تھے، اس سے صاف ظاہر تھا احترام میں ہاتھ باندھے تو کھڑے ہیں لیکن اس ۱۹۹۰ء کی کہانی پر انہیں یقین نہیں آرہا۔

بہرحال، تذکرہ تھا مستقبل قریب میں آنے والی تعطیلات کا جن کے تصور سے ہماری کئی دوستیں اس قدر خوفزدہ تھیں کہ ان کو panic attack پہلے ہی شروع ہو چکے تھے۔

"تمہیں نہیں پتا اگر ہم holidays پر بچوں کو کہیں نہ لے کر جائیں تو دماغ کھا جاتے ہیں۔ اب سوچو! پورا یورپ تو گھما دیا، اب اس سخت سردی میں اس دفعہ کہاں لے کر جائیں؟"

"اُف! میں تو سوچ رہی ہوں بچوں کو ایک دن سینیما لے جاؤں، ایک دن winter wonderland ، کچھ شاپنگ کرا دوں اور باقی دن تو میں کھلی چھٹی دوں گی، جتنا چاہے games کھیلیں اور ٹی وی دیکھیں۔"

یہ اور ایسے ہی متنوع خیالات تھے ہمارے حلقہ احباب میں، اور ہم بھی سوچ میں گم تھے کہ کیا کیا جائے؟ کچھ دن تو بڑے آئیڈیل پلان سوچے اور ایک دن جوش میں آکر اعلان بھی کر دیا کہ ان چھٹیوں کا دلچسپ پلان آپ سب کو عنقریب ملنے والا ہے لیکن اتفاق یہ ہوا کہ وہ پلان دماغ میں ہی رہ گیا اور کچھ اچانک مصروفیات میں اس کو عملی جامہ نہ پہنایا جا سکا جو ہم ہر چھٹیوں میں پہلے کرنے کے عادی تھے کہ پلان بنا کر ہر ایک کو پرنٹ آؤٹ دے دیا جاتا۔

اب یہ حال تھا کہ ایک دن بعد چھٹیوں کا آغاز تھا اور ہم ایک بے چینی اور بے کلی کاشکار کہ بچے کہیں مایوس ہی نہ ہو جائیں کہ اس دفعہ اماں اپنی مصروفیت میں ہمارے لیے کچھ نہ کرسکیں۔ بچوں کے اسکول سے واپس آنے سے پہلے کچھ بڑے پیارے سے خیال ہمارے دماغ میں آئے جو دل کو بھی بھائے اور جنہوں نے اس سال کی یہ سردی بھری چھٹیاں ہماری بھی کچھ بامقصد گزروا دیں اور آج چھٹیوں کے آخری دن کی آخری رات میں جب ہم بچوں کے سونے کے بعد اُن کے ماتھے چومتے ہوئے باہر نکلے تو ایک اداسی سی تھی کہ اتنا اچھا وقت جو ان ننھے ذہنوں اور جوش و جذبے سے بھرے مستقبل کے معماروں ساتھ ہم نے گزارا وہ آج اختتام کو پہنچا۔

کچھ تجاویز جو اس دفعہ ہم نے آزمائیں اور شاید کسی اور کے کام آجائیں:

۱۔بچوں کے ساتھ مل کر قرآن کا کوئی بھی حصہ پوری فیملی مل کر حفظ کرنے کی کوشش کرے اور کوئی مقابلہ ہو سب کے درمیان کہ ان چھٹیوں میں جو سب سے پہلے یاد کرے گا اس کے لیے کوئی reward ہو۔ یاد کرنے کے مرحلے کو دلچسپ بنائیں اور سب باجماعت بیٹھ کر یاد کریں۔ سورت البقرہ کا پہلا اور آخری رکو ع، سورت آل عمران کا آخری رکوع، سورت الواقعہ، سورت الرّحمٰن یا قرآن کا کوئی بھی حصہ ہو سکتا ہے۔

۲۔ٹیکنالوجی کے دور میں ہمارے بچے رشتوں، تعلقات اور جذبوں سے دور جاتے جا رہے ہیں تو اپنے گھر میں اچھے دوستوں کی دعوتوں کا خصوصی اہتمام چھٹیوں میں کریں اور ان دعوتوں کے درمیان کھانا serve کرنے، مہمانوں کا خیال رکھنے کی ذمہ داریاں بچوں میں بانٹیں، اس سے ان میں احساس ذمہ داری بھی بڑھے گا اور دوسروں کے خیال رکھنے اور روایات سے آشنا ہوں گے۔

۳۔بچوں کو قریبی لائبریری لے جا کر جتنی کتابیں وہ لیناچاہیں لے کر دیں اور کوشش کریں کہ چھٹیوں میں ان کو دلچسپ مہماتی اور اچھوتی کہانیوں کا انتخاب کرنے میں مدد دیں۔

۴۔بہت سنہری موقع ہے کچھ چیزوں میں انہیں independent کرنے کا، جو ہنر آپ انہیں سکھانا چاہتے ہیں جیسا اپنا کمرہ صبح صاف کرنا، ہلکے پھلکے کھانا بنانا، کپڑے استری کرنا، لانڈری کرنا، الماریاں صاف کرنا ان سب کے لیے روزانہ کے حساب سے چھوٹے چھوٹے ٹریننگ سیشن رکھ لیں اور چھٹیوں کے اختتام پر ان کو بھی ایک achievement کی خوشی ہوگی۔

۵۔فیملی ڈاکیومینٹری ٹائم کرنا یا کوئی فیملی مووی ٹائم اور اس کو بہت بھرپور خوشگوار بنانے کی پوری کوشش کرنا۔

اصل مقصد یہ ہے کہ بچوں کو اس چیز کا عادی بنانے کی بھی کوشش کرنا کہ کہ کبھی دستیاب چیزوں اور آسان طریقوں سے خود کو بہلایا جا سکتا ہے اور ہمیشہ کچھ انوکھا ہونا ضروری نہیں۔ پھر اس دور میں جب holidays منانے کے لیے بیرون شہر یا بیرون ملک جانے کا فیشن اپنے عروج پر ہے خود کو اور اپنے بچوں کو اس طریقے سے مانوس کرنے کی بھی کوشش کرنا کہ کہ کبھی ہم اپنے گھر کی چھوٹی سی جنت میں بھی holidays منائیں گے اور ایک دوسرے سے قریب آنے کی کوشش کریں گے۔

Comments

ایمن طارق

ایمن طارق

ایمن طارق جامعہ کراچی سے ماس کمیونی کیشنز میں ماسٹرز ہیں اور آجکل انگلینڈ میں مقیم ہیں جہاں وہ ایک اردو ٹیلی وژن چینل پر مختلف سماجی موضوعات پر مبنی ٹاک شو کی میزبانی کرتی ہیں۔ آپ اپنی شاعری ، تحریر و تقریر کے ذریعے لوگوں کے ذہن اور دل میں تبدیلی کی خواہش مند ہیں۔ برطانوی مسلم کمیونٹی کے ساتھ مل کر فلاحی اور دعوتی کاموں کے ذریعے سوسائٹی میں اسلام کا مثبت تصور اجاگر کرنا چاہتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.