گڈ بائے امریکہ کہنے کا وقت - آصف خورشید رانا

نسل پرستی اور تارکین وطن کے خلاف نفرت انگیز مہم کی بنیاد پر انتخابات جیتنے والے صدر ٹرمپ سے اگر دنیا میں کوئی خیر کی توقع رکھتا ہے تو ہونے والے نقصان کا وہ خود ذمہ دار ہے۔یہ دنیا کی بدقسمتی کہہ لیں کہ امریکہ جیسے ملک پر غیر اخلاقی لب و لہجہ رکھنے والے منہ پھٹ سیاستدان کی حکمرانی ہے۔

ایسے موقع پر جب دنیا کے سب سے بڑے فورم اقوام متحدہ پر امریکہ کی امداد کی بندش کی دھمکی کے باوجود صرف اسرائیل یا ان ممالک کے علاوہ جن کے نام بھی لوگ نہیں جانتے، کوئی ساتھ نہیں کھڑاہوا۔یہی نہیں بلکہ اس وقت امریکہ کی صدارت بھی اس شخص کے ہاتھ میں ہے جس سے دنیا کے رہنما ہاتھ ملانے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ صدرشمالی کوریا کے صدر کم جونگ کا امریکہ کو مخاطب کرکے یہ کہنا ’’امریکہ کبھی بھی جنگ کا آغاز نہیں کر سکتا کیونکہ جوہری ہتھیار چلانے کا بٹن ہر وقت ان کی میز پر موجود ہوتا ہے‘‘دنیا کا منظر نامہ واضح کر رہا ہے۔ دوسری طرف امریکی صدر بھی اسی لب و لہجے میں ٹوئٹر پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’ایک جوہری بٹن میرے پاس بھی ہے لیکن میرے والا ان سے بڑا اورطاقتور ہے جو کام بھی کرتا ہے‘‘۔ ان دونوں بیانات کو پڑھ کردنیا امریکی عوام کے ساتھ صرف ہمدردی کے جذبات کا اظہار ہی کر سکتی ہے۔

عالمی منظر نامے پر روس پھر سے ایک نئی طاقت سے ابھر رہا ہے جبکہ دوسری طرف چین دنیا کو معاشی حصار میں لے رہا ہے۔ دنیامیں دوسری سرد جنگ کا آغاز نہ صرف ہو چکا ہے بلکہ یہ پورے جوبن پر ہے لیکن اس جنگ میں ایک طرف افغانستان اور شام میں شکست خوردہ امریکہ ہے تو دوسری طرف روس ہے جس کے سینے پر جارجیا، کریمیا اور شام میں کامیابی کے تمغے سجے ہوئے ہیں۔ امریکہ سمیت دنیا کو یہ جان لینا چاہیے کہ دوسری سرد جنگ کے نتائج پہلی جنگ سے زیادہ خوفناک ہو سکتے ہیں کیونکہ سفارتی اور معاشی محاذ پر امریکہ روس کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ اس لیے اگر عالمی بساط پر امریکہ اپنا کوئی کردارمستقبل میں دیکھنا چاہتا ہے تو اسے اپنے صدر کو ٹوئٹر کی ٹویٹ کے ساتھ کھیلنا بند کرنا ہو گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جہاں تک پاکستان کو امداد بند کردینے کی دھمکی کا تعلق ہے تو یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ امریکہ کی یہ دھمکی عملی طور پر اتنی کارگر نہیں رہی۔17 برس بہت زیادہ ہو تے ہیں ان سالوں میں بچے جوان ہو جاتے ہیں اور جوانوں کے بال سفید ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ امریکہ بھی گزشتہ 17 سالوں سے افغانستان میں جنگ جیتنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اسے مسلسل شکست کا سامنا ہے۔ یہی نہیں افغانستان میں اس کی شکست کے باعث اسے دیگر محاذوں پر بھی رسوائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دنیا میں اس کی پہچان ایک شکست خوردہ ریاست کی ہو چکی ہے۔ اس جنگ میں پاکستان کی جغرافیائی حیثیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے دھمکی آمیز انداز میں ساتھ ملا کر ’’ فرنٹ لائن اسٹیٹ ‘‘ کا درجہ دیا گیالیکن امریکہ یہ بات بھول چکا تھا کہ افغانستان پہلے بھی دو سپر پاورز کا قبرستان بن چکا تھا ان زمینی حقائق کو سامنے رکھے بغیر محض طاقت اسلحے اور جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر اس خطے کو فتح کرنے کے خواب کو پورا کرنے کے لیے امریکہ نے 970 ارب ڈالرز سے زائد پھونکنے کے ساتھ ساتھ ہزاروں فوجیوں کو بھی گنوا دیا۔ یہی وجہ تھی کہ امریکی شہروں میں متاثرہ فوجیوں کے خاندان احتجاجی مظاہرے کرتے نظر آئے۔ معاشی نقصانات کو دیکھتے ہوئے سابق صدر براک اوباما نے افغانستان سے امریکی فوج کے بتدریج انخلا کا منصوبہ پیش کیا تھا۔ تاہم یہ بات پنٹاگون کے لیے قابل قبول نہ تھی چنانچہ اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے ہیلری کلنٹن کی بجائے ٹرمپ کو منتخب کروایا گیا۔ امریکی صدر کو پنٹاگون اور سی آئی اے کی جانب سے بریفنگز دی گئیں جس کے مطابق افغانستان میں روس اور چین کے بڑھتے ہوئے اثرات کو روکنے کے لیے امریکی افواج کی موجودگی انتہائی ضروری قرار دی گئی۔ یہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا اور ایشیا پیسفک میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے بھارت کے ساتھ تعلقات اور پاکستان پر دباؤ کی پالیسی کے لیے بھی صدر ٹرمپ کو خصوصی طور پر تیار کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی نئے سال کی صبح پاکستان کے حوالے سے پہلی ٹویٹ پنٹاگون اور سی آئی اے میں موجود بھارت کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے افراد کی بریفنگز کا نتیجہ ہے۔ لیکن شاید امریکہ یہ بات بھول گیا کہ دنیا کو امداد روکنے کی دھمکی اب کارگر نہیں رہی جس کا عملی نمونہ وہ اقوام متحدہ میں یروشلم کے حوالے سے پیش ہونے والی قرارد میں دیکھ چکا ہے۔

پاکستان اورامریکہ کے تعلقات کا آغاز اکتوبر 1947میں ہوا جب ہم نے ماسکو کو چھوڑ کر واشنگٹن کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے امریکہ و روس کی دعوت کے موقع پر ماسکو کی بجائے واشنگٹن کے دورہ کو ترجیح دے کردونوں ملکوں کے تعلقات کو عملی جامہ پہنایا۔ اسی دوران امریکہ و روس کے درمیان سرد جنگ کی وجہ سے امریکہ نے پاکستان کے ساتھ کئی دفاعی معاہدے کیے جن کے تحت 1953ء سے 1961ء تک پاکستان کو 508ملین ڈالر کی فوجی امداد دی گئی۔ امریکہ کے زیر اثر دو دفاع تنظیموں ساؤتھ ایسٹ ایشیاء ٹریٹی آرگنائزیشن اور سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن میں شمولیت کے باعث امریکی امداد میں پاکستان کو مزید دوبلین ڈالر ملے۔

امریکہ کے ساتھ تعلقات کا واحد مقصد بھارت کے طرف سے ممکنہ خطرات کا تحفظ تھا لیکن امریکہ نے پاک بھارت جنگ 1965ء اور1971ء میں دونوں مواقع پرپاکستان کی امداد معطل رکھی۔ 70ء کی دہائی میں امریکہ نے پھر سے امداد کا آغاز کیا تو1979ء میں یورینیم افزدہ کرنے کے الزام میں پھر اسے معطل کر دیا۔ اسی دوران روس کی افغانستان آمد پر امریکہ کو ایک دفعہ پھر پاکستان کی ضرورت محسوس ہوئی تو پھر سے امداد کی پیشکش کی اور پاکستان کے ذریعے روس کو افغانستان سے نکالنے میں کامیاب ہو گیا۔سرد جنگ کا اختتام سوویت یونین کے تحلیل ہونے پر ہوا جس کے سہرا پاکستان کے فوجی قیادت کے سر جاتا ہے جنہوں نے اس موقع پرروس کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے اس جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کیا۔ اس لیے یہ بھی کہا جا سکتا ہے اگر پاکستان اس موقع پر ساتھ نہ دیتا تو امریکہ کبھی بھی سپر پاور نہ بن سکتا۔ تاہم اس موقع پر بھی امریکہ نے ایک دفعہ پھر اپنا کام پورا ہونے پر آنکھیں دکھانا شروع کردیں اور پریسلر ترمیم کے تحت امداد روک دی۔

بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے باعث امریکہ نے پھر سے بحال کی گئی امداد پر پابندی عائد کی اورنائن الیون کے بعد پھر سے پاکستان کو دھمکی کے زور پر اپنا اتحادی بنا لیا۔کیری لوگر بل کے ذریعے پاکستان کو مخصوص شرائط کے ساتھ غیر فوجی امداد دی گئی۔2002ء سے 2010ء تک پاکستان نے فوجی و اقتصادی مدد میں تقریباً18بلین ڈالر وصول کیے جبکہ مزید تین بلین ڈالر زکی مدد کا وعدہ کیا۔ 2011میں اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن، ریمنڈ ڈیوس کیس اور سلالہ چیک پوسٹ پر حملوں کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پھر سے کشیدہ ہو گئے اسی دوران کانگریس نے پاکستان کی امداد سے 33ملین ڈالر زکاٹ لیے گئے۔اپریل 2016ء میں 170ملین ڈالرز سے زائد مالیت کے 9اے ایچ ون زیڈ وائپر جنگی ہیلی کاپٹرز فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ اگست 2016ء میں ہی امریکہ نے 30کروڑ ڈالرز کی دفاعی امداد روک لی۔

اب اگر کولیشن سپورٹ فنڈز کا ذکر کیا جائے تو گزشتہ 17 سالوں میں پاکستان کو 15ارب ڈالرز کی ادائیگی کی گئیجبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کے بعد سے اب تک پاکستان کو 120ارب ڈالرز سے زائد کا مالی نقصان ہو چکا ہے۔اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کی وجہ سے 70ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی جا چکی ہے۔ یہی نہیں اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کی پاداش میں جس انتہا پسندی کا ملک کو سامناہے وہ الگ ہے جس کے اثرات ختم کرنے میں ایک عرصہ ابھی مزید لگ سکتا ہے۔ لیکن 16 سال گزرنے کے باوجود اب تک امریکہ کے دفاعی ادارے اور تجزیہ نگار یہ نہیں سمجھ سکے کہ جس جنگ کو وہ دنیا کے 47سے زائد اتحادیوں کے ساتھ مل کر نہیں جیت سکے وہ جنگ پاکستان کیسے جتوا سکتا ہے۔ افغانستان جنگ میں شکست کا سارا غصہ امریکہ پاکستان پر نکالنا چاہتا ہے۔ تاہم ایسے وقت میں امریکہ کی جانب سے امداد روکنے اور تعلقات کشیدہ کرنے میں بھی پاکستان کے لیے خیر کا دروازہ کھل سکتا ہے۔ دنیا کے حالات تبدیل ہو رہے ہیں پاکستان کے لیے اگرچہ امریکی بلاک سے مکمل طور پر نکلنا فوری طور پر شاید ممکن نہ ہو تاہم پاکستان کو اب اس ڈوبتی کشتی کا مسافر بننے سے صاف انکار کر دینا چاہیے۔

پاکستان کے معاشی و دفاعی مفادات علاقائی طاقتوں چین اور روس کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جن میں سعودی عرب، ترکی، ایران اور وسط ایشیا کی ریاستیں سرفہرست ہیں۔ پاکستان کو امریکہ کے اس رویے کے بدلے میں فوری طور پر اپنے ان اڈوں کو خالی کروانے کا فیصلہ کر لینا چاہیے جو امریکہ کے زیر استعمال ہیں اسی طرح امداد کی بجائے پاکستان فضا اور نیٹو سپلائی کے لیے سڑکیں استعمال کرنے کی راہداری کا بل فوری طور پر امریکہ کے ہاتھ تھما دینا چاہیے۔ روس سے فاصلہ بڑھا کر ہم نے کافی نقصان اٹھا لیے جس کا فائدہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت نے خوب اٹھایا، یہ اس غلطی کی تلافی کرنے کا وقت ہے پاک چین اقتصادی راہداری اور ون بیلٹ روڈ کے منصوبوں کے ذریعے ہم چین اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات مستحکم کر سکتے ہیں۔ قیادت فیصلہ کرے ’’گڈ بائے امریکہ ‘‘ کہہ کر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا موزوں وقت اس سے زیادہ کوئی نہیں ہو سکتا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */