تبصرہ کتب: جب شکست فتح میں بدل گئی - سہیل بشیر کار

مسلم دنیا چہار طرف بھنور میں قید نظر آرہی ہے۔نکلنے کا کوئی راستہ نظر ہی نہیں آتا۔ہر طرف مایوسی ہی مایوسی۔ کہیں سیاسی قوت کا رونا تو کہیں اقتصادی زبوں حالی کا ماتم۔ بات تو ہے نااُمیدی کی، پر نااُمیدی کو دین میں کفر کہا گیا۔جہاں نااُمیدی کفر کے مانند ہو، وہاں لازم ہے امید کی کرن بھی موجودہوگی۔ کون نہیں جانتا اس دین کا ترجمان تو قرآن پاک ہے اور محمد ﷺ کی ذات بابرکت۔ یاس و نااُمیدی کی اس فضامیں، کوئی اُمید کی شمع روشن کرے تو اُمت پر احسان سے کم نہیں۔ پروفیسرخورشید احمد (پاکستان)عالم اسلام کے ممتاز دانشور ہیں۔ درجنوں کتابوں کے مصنف، فکر ی رہنما اور مسلح اُمت بھی ہیں۔ ’’جب شکست فتح میں بدل گئی‘‘ نامی کتابچہ میں انہوں نے سورہ فتح کی چند آیات کے تناظر میں صلح حدیبیہ کا ایک تاثراتی مطالعہ پیش کیا ہے۔ صلح حدیبیہ کے تناظر میں عالم اسلام کے ایک طبقہ نے اُمت کو مَصلحت اور بزدلی سکھائی۔ وہیں دوسری طرف پروفیسرخورشید صاحب اُمت کو مایوسی سے نکالنے کی راہ بتاتے ہیں۔ کچھ فرارکی راہ دکھاتے ہیں اور پروفیسرصاحب جیسے صاحب حُرعزیمت کی راہ دکھاتے ہیں۔

نفس مضمون سے پہلے تمہیدی گفتگومیں پروفیسر خورشید صاحب اُمید اور نااُمید جیسے فطری احساسات پر مدلل بات کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں ’’انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ایک نہیں ہزاروں مواقع ایسے آتے ہیں جب بظاہر اُمیدوں کے چراغ گُل ہوتے نظر آتے ہیں۔اور اضطراب ومایوسی انسان کو لپیٹ میں لیتی ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ دنیا نام ہی اُمیدوں کے ٹوٹنے اور توقعات کے پامال ہونے کا ہے‘‘(ص۔۳) لیکن دنیا کا چلن ایسا کہ کسی نہ کسی کے ساتھ اُمید اور توقعات وابستہ کرنے پر انسان اپنے آپ کو مجبور کرتا ہے۔ لکھتے ہیں ’’ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسانی معاشرے میں امیدوں کا گویا ایک قانون ثقل جاری و ساری ہے۔ یہ بھی ایک عجب حقیقت ہے کہ نا اُمیدی کی انہی بادلوں میں سے پھر توقعات کے نئے آفتاب و مہتاب رونما ہوتے ہیں‘‘ (ص۔۴)پروفیسر خورشید صاحب کسی واقع کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور ایسی چیز کا پتہ دیتے ہیں جس سے توقعات کے بہت سے گروندے ٹوٹ جانے کا اندیشہ تھا۔ گہرا اور سخت زخم دینے والی چیز، تاہم قرآن پاک میں اُمید کی کرن پروفیسر صاحب دیکھ پاتے ہیں۔ لکھتے ہیں۔ ’’یہ واقعہ بھی ایک ایسے ہی دن کا ہے! صبح ہی جو پہلی خبر مجھ کو ملی وہ توقعات کے بہت سے گھر وندوں کو توڑ دینے والی تھی، ذہنی کشمکش تو شروع ہی سے تھی۔ کبھی دل توقعات وابستہ کرتا اور امیدوں کے چراغ روشن کرتا تھا اور کبھی ان پر شک کے پردے ڈالتا تھا۔ اسی پیچ و تاب میں ذہن ناامیدی کی طرف جھک گیا، لیکن پھر ایک خیال اُبھرا ؂

وہ اور پاس خاطر اہل وفا کرے

امید تو نہیں ہے، مگر ہاں، خدا کرے

اس ’ہاں خدا کرے‘ نے پھر تو قعات کے رشتے استوار کرلیے اور میں اسی چنیں اور چناں میں تھا کہ وہ اطلاع مل گئی جس کا خطرہ تھا لیکن جسے ماننے کے لیے دل تیار نہ ہورہا تھا۔ ذہن کو ایک جھٹکا سالگا۔ جھوٹی اُمیدوں اور مصنوعی توقعات کا طلسم بھی بڑا حسین اور طرح دار ہوتا ہے مگر جب وہ طلسم ٹوٹتا ہے تو اس کے جلو میں تاریکیوں کا ایک سیلا ب بلا خیز اُمڈ چلا آتا ہے۔ میں بھی ایک لمحے کے لیے سکتے میں آگیا ؂

جن پہ تکیہ تھا، وہی پتے ہو ا دینے لگے

پھر وہ چوٹ اور بھی سخت ہوتی ہے، جب ایسا سلوک ایک حق دار کے ساتھ کیا جائے، جب چرکے پر چرکے اس مظلوم کو لگیں، جو حق و انصاف پر ہو اور جس کے حقوق پامال ہورہے ہوں۔ جب ایسا مستحق محروم کیا جاتا ہے تو اس کا زخم بڑا گہرا ہوتا ہے!

جو زخم مجھے لگا تھا وہ بھی بڑا سخت تھا! لیکن یہی وہ مقام ہے جہاں سے خدا پر یقین رکھنے والے اور رب کے دامن کو چھوڑ دینے والے ایک ہی جیسے حالات کا شکار ہوکر بھی وہ مختلف راہیں اختیار کرتے ہیں۔ ہجوم غم اور یورش اضطراب میں میرا دل چوٹ کھانے کے باوجود مایوس اور بغاوت کا شکار نہ ہوا بلکہ لوحِ حافظہ پر یہ ارشاد ربانی ابھرنا شروع ہوا:

’’عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بھلی لگے اور وہ تمہارے لیے مضر ہو اور ان باتوں کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، تم نہیں جانتے‘‘۔ (البقرہ ۲۱۶) اور ’’پس، عجب نہیں کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت سی بھلائی پیدا کرے۔‘‘ (النساء ۴:۱۹)

میں ان آیات کو پڑھتا رہا۔ ایسا معلوم ہورہاتھا جیسے یہ ابھی نازل ہوئی ہیں، جیسے میں نے آج ہی ان کو پایا ہے۔ زبان ان الفاظ کو خاموشی کے ساتھ ادا کرتی رہی، دل ان کو جذب کرتا رہا، ناامیدیوں کے بادل چھٹتے رہے، توقعات کے ٹوٹنے سے جو زخم لگے تھے وہ مندمل ہونے لگے، ایسا محسوس ہو اکہ اس پر اکسیر صفت پھاہا رکھ دیا گیا، جس نے زخم میں فوراً ٹھنڈک ہی نہیں ڈال دی بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ بھر نے بھی لگے۔‘‘ (ص۔۶۔۵)

عالم دین کے مطالعہ سے نہ صرف معلومات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ ایسے گوشوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہوتی ہے کہ عام انسان سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ قرآن کریم کی مختصرآیات میں کس قدر وسعت اورجامعیت ہے۔ تحریر اس قدر خوبصورت ہے کہ انسان کچھ ہی لمحوں میں دور نبویﷺ میں پہنچ جاتا ہے۔پروفیسر صاحب لکھتے ہیں:

’’خیالات کا یہ سلسلہ نہ معلوم کب تک جاری رہا، زمانی اعتبار سے خواہ اس میں چند منٹ ہی صرف ہوئے ہوں، لیکن معلوم ہوتا تھا جیسے طائر خیال، زمان و مکان (time and Space) کی وسعتوں کو کھنگال کر واپس آیا تھا، میری پریشانی اب بڑی حد تک دور ہوگئی تھی۔ عزم وہمت کا ایک چشمہ سا اُبلنے لگا تھا، تاریکیاں چھٹ رہی تھیں اور روشنی پھیل رہی تھی۔ میں نے کتاب اللہ کو اٹھایا، اسے چوما اور غیر ارادی طور پر جو سورہ مطالعے کے لیے میرے سامنے کھلی، وہ سورہ الفتح تھی۔ (اے محمدﷺ!) ہم نے تم کو فتح دی، فتح بھی صریح اور صاف تاکہ خدا تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے اور تم پر اپنی نعمت پوری کردے اور تمہیں سیدھے راستے پر چلائے اور خدا تمہاری زبردست مدد کرے۔‘‘(ص۔۷)

کتاب میں پروفیسر صاحب وہ منظر کشی کرتے ہیں جب حضور ﷺ اور ان کے اصحاب کو اپنے عزیزوطن سے نکلے ہوئے ۶سال ہوئے تھے۔ اس کعبہ کی زیارت کے لیے آنکھیں ترس رہی تھی۔ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم نے ساری انسانیت کے لیے مسجود بنایا تھا۔ لکھتے ہیں ’’ یہی وہ کعبہ تھا جہاں حضور ﷺ نے شب و روز عبادات الٰہی میں گزارے، جہاں معبود حقیقی کا کلمہ بلند کرنے پر آپ کو طرح طرح کا نشانا بنایا گیا۔ جس کے سایہ میں صحابہ نے دعوت اسلامی کے اولین ماہ وسال گزارے۔ جہاں سورہ الرحمٰن کی تلاوت کرکے عبداللہ بن مسعود نے مار کھائی۔ جہاں ابوذر غفاری اعلان حق کرکے پٹے، جہاں عمر فاروق نے باجماعت نما ز ادا کراکے اسلام کی حقانیت کا اعلان کیا۔ ‘‘ (ص۔۸۔۷) اسی کعبہ کو دیکھنے کی خلش تھی، ایک چبھن تھی اور ایک یاس تھی کہ رفیق جان بن گئی تھی۔ بس اللہ نے اپنے نبی کو ایک سچا خواب دکھایا۔ خواب کیا تھا مانو اُمید کی کرن تھی۔یہی مکہ تھا جسے دیکھنے کی اُمید پیدا ہوگئی۔بس سفر کی تیاریاں زور و شور سے شروع ہوگئی۔ صحابہ کعبہ کی طرف نکلتے ہیں۔خبر پہنچتے ہی باطل کے ایوانوں میں ہل چل مچ جاتی ہے۔ اوچھے ہتھکنڈوں کااستعمال کرتے ہیں پر نبی ﷺ کے فداکاروں کے عزم کو کمزور نہیں کرپاتے۔

اسی دوران حضرت عثمان غنی کی شہادت کی خبر موصول ہوئی تو صحابہ نے ایک درخت کے نیچے بیعت کی جس کا نقشہ قرآن پاک یوں کھینچتا ہے:

(اے نبی ﷺ، جو لوگ تم سے بیعت کررہے تھے وہ دراصل اللہ سے بیعت کررہے تھے۔ ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا۔ (الفتح ۴۸۔۱۰)

اُدھر قریش میں ایسے بھی لوگ تھے جو صلح کرانے کے لیے آواز بلندکررہے تھے انہیں کوششوں کے نتیجے میں ایک سمجھوتا طے پایا کہ مسلمانوں کو اس سال نہیں بلکہ اگلے سال کعبہ کی زیارت کرنی ہوگی۔ معاہدہ میں ایسی شرطیں بھی کفار کی طرف سے لگائی گئی کہ محسوس ہونے لگا مسلمان بہت زیادہ Compromise کررہے ہیں۔ کسی کو کہنے کی ہمت نہ ہوئی باالاخر ٓخر سیدنا حضرت عمر ہمت کرتے ہیں۔ پروفیسر صاحب اس واقعہ کی منظر کشی کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں:

’’بالآخر حضرت عمر کو ضبط کا یارانہ رہا اور وہ بے چین ہوکر حضرت ابوبکر صدیق کے پاس گئے اور بوجھل دل سے کہاـ:’’کیا حضور ﷺ اللہ کے رسول نہیں ہیں؟ کیا ہم مسلمان نہیں ہیں؟ کیا یہ لوگ مشرک نہیں ہیں؟ پھر آخر ہم اپنے دین کے معاملے میں یہ ذلّت کیوں اختیار کریں؟‘‘۔

ابو بکر صدیق نے جواب دیا: ’’ اے عمر، وہ اللہ کے رسول ﷺہیں، اور اللہ ان کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔‘‘ لیکن کائنات کے مالک کو وہ کچھ معلوم ہے جس کا انسان کو وہم و گمان ہی نہیں، رب العزت فرماتے ہیں:

’اہل ایمان کو جو پستی نظر آتی ہے۔ وہ پستی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی مقصود ہوتا ہے۔ ‘اسی سورہ الفتح میں رب فرماتے ہیں۔ ’’اے نبی ﷺ، ہم نے تم کو کھلی فتح عطا کردی۔ یعنی وہ صلح جس کو شکست سمجھا جارہا تھا، اللہ کے نزدیک وہ فتح عظیم تھی۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد حضورﷺ نے مسلمانوں کو جمع کیا اور فرمایا:’’آج مجھ پر وہ چیز نازل ہوئی ہے، جو میرے لیے دنیا ومافیہا سے زیادہ قیمتی ہے‘‘۔ پھر یہ سورہ تلاوت فرمائی اور خاص طور پر حضرت عمر کو بلاکر سنایا، کیونکہ وہ سب سے زیادہ رنجیدہ تھے۔

اور جب حضرت عمر نے یہ آیت سن کر حضور ﷺ سے پوچھا:’’یا رسول اللہ ﷺ! کیا یہی فتح ہے‘‘ ( الفتح: ۴۸)

آپ ﷺ نے فرمایا ـ: ’ہاں‘۔ (ابن جریر)

ایک اور صحابیؓ حاضر ہوئے اور انہوں نے بھی یہی سوال کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’قسم ہے اس ذات کی، جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے، یقینا یہ فتح ہے‘‘۔(مسند احمد، ابوداود)

یہی ارشاد تھا جس نے مضطرب دل کومطمئن کردیا۔ ایمان اور ہے ہی کیا؟ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بات پر یقین و اطمینان۔ اس کی تائید و تصدیق۔ اور اس کے وعدے پر اعتماد اور بھروسا!

’’اللہ کا وعدہ سچا ہے، مگر اکثر انسان جانتے نہیں ہیں‘‘۔ (یونس ۱۰:۵۵)۔ (ص۔۲۹)

اور تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہی معاہدہ بالآخر فتح کی بنیاد بن گیا۔ اور صرف کچھ ہی عرصہ بعد مسلمان اسی معاہدہ کی وجہ سے مکہ میں بحیثیت فاتح داخل ہوتے ہیں۔ کتاب میں مصنف نے خوبصورت انداز میں اس سوچ پر چوٹ کی ہے جس کے نزدیک دین صرف چند عبادات اور مراسم کا نام ہے،لکھتے ہیں:

’’اسلام میں دین و سیاست کس طرح ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔ طواف کے وقت بھی مسلمانوں کے دبدبے کو قائم کرنے کا خیال۔ معروف اصطلاح میں سیاست، لیکن اس مقدس مقام پر بھی اس کا لحاظ! قربانی کے اونٹ لائے گئے تو ان میں ابو جہل کا اونٹ بھی تھا، تاکہ مسلمانوں کی قوت معلوم ہو اور مشرکین کو کڑھن ہو۔ کیا اسے بھی سیاست کہہیں گے؟۔ افسوس! اسلام کا جو امتیازتھا، اب اس پر کچھ کُورذہنوں کو وحشت و شرمندگی ہونے لگی۔ نبی برحق ﷺ نے تو دین اور سیاست کو ایک وحدت میں اس طرح سمودیاتھا کہ ان میں کوئی فرق باقی نہ رہا تھا، وہ ایک ہی حقیقت کے دو پہلو بن گئے تھے اور حیرت اس بات پرکہ ’کم کوشوں‘ نے اس حقیقت کو گم کردیا۔‘‘(ص۔۳۱)

کتاب اگر چہ مختصر ہے لیکن پروفیسر صاحب نے سمندر کو کوزے میں بند کیا ہے۔ اس کتابچہ میں مصنف نے اُمت مسلمہ کو مشکلات و مصائب سے نکلنے کی راہ بتائی ہے۔ ساتھ ہی صبر کی اہمیت بتائی ہے۔ دوران معاہدہ حضرت جندل بے کسی کی حالت میں آتے ہیں۔ ابھی صلح نامے پر آخری دستخط نہ ہوئے تھے، وہ مسلمان ہوچکے تھے۔ سہیل ان پر سخت مظالم کررہا تھا۔ اس وقت بھی ہاتھ اور پاؤں میں زنجیریں تھیں اور انہوں نے مسلمانوں کے سارے مجمع کے سامنے اپنے زخم اور دھنکی ہوئی کمر دکھائی۔ یہ منظر دیکھ کر سب کے دل دہل گئے، خون جوش میں آگیا۔ حضور ﷺ نے ابو جندل کو معاہدے سے مستثنیٰ کرانے کی بہترین کوشش کی، لیکن سہیل بن عمرو اڑ گیا۔ بالآخر آپ ﷺ نے معاہدے کی پابندی کی اور فرمایا:

’’ابوجندل، چند روز اور صبر کرو، اجر کی امید رکھو، عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے اور دوسرے مظلوموں کے لیے کشادگی پیدا کرے گا۔ میں مجبور ہوں کہ میں نے عہد کرلیاہے اور عہد کے خلاف نہیں کرسکتا‘‘۔ اور حضرت ابو جندل کو پابہ زنجیر واپس جانا پڑا۔ یہ آزمائش مسلمانوں کے لیے بہت کڑی تھی۔ ذلت گوارا کریں اورپھراپنے بھائیوں کو آنکھوں دیکھے ظالموں کے ہاتھ میں دے دیں۔ـ‘‘(ص۔۲۳)

اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ مسلمان ایفاءِ عہدکاپابند ہوتا ہے۔ زندہ قوموں اور اللہ کی نصرت حاصل کرنے کے لیے ایسا کردار ہونا لازمی ہے۔

کتاب میں بہت سے نکات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مثلاً جب حضرت علی مسلمانوں کے نمائندہ کے طور پر معاہدہ لکھ رہے تھے تو حضور ﷺ کو رسول اللہ لکھنے پر قریش کا نمائندہ اعتراض کرتا ہے۔ حضرت علی کو حضورﷺ حکم دیتے ہیں کہ اس کو حزف کریں لیکن حضرت علی ایسا نہیں کرتے۔ اس کی وجہ پروفیسر صاحب لکھتے ہیں ـ:

’’حضور ﷺ نے حضرت علی سے کہا کہ رسول اللہ کے الفاظ مٹادو۔ لیکن حضرت علی کے ہاتھوں کی جنبش رُک گئی۔ حضور ﷺ نے حکم دیا، مگر علی تعمیل نہیں کرپاتے۔ آہ! محبت میں ایک ایسا مقام بھی آتا ہے کہ محبوب کی عزت اور مقام نبوت کی عظمت و عقیدت کا وہ نازک مقام ہے کہ جہاں اطاعت بھی محبت کے آگے سپر ڈال دیتی ہے۔ علی کے ہاتھ ان الفاظ کو، جن کے لیے ساری دینا کو چھوڑا تھا، کیسے مٹاسکتے تھے‘‘؟(ص۔۲۱)

اسی طرح مصنف سمجھاتے ہیں کہ اُمّت کا مطمح نظر کیا ہونا چاہیے۔ اُمت کے نزدیک کامیابی اور ناکامی کا تصور کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

’’محبوب کی رضا طلبی کی خواہش اور اس کی خوشی پر فخر و نازہی کی کیفیت میں حضرت براء نے محبت میں ڈوبے ہوئے تاریخی الفاظ کہے تھے جو بخاری میں مرقوم ہیں۔ ’’تم فتح مکہ کو فتح سمجھتے ہو اور ہم بیعت رضوان کو (اصل فتح) سمجھتے ہیں‘‘۔(ص۔۲۱)

اسی طرح جہاں مسلمان صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن صبرانہیں بزدل نہیں بناتاجب حضرت عثمان غنی کی شہادت کی خبر ملتی ہے تو بیعت رضوان کے تحت مر مٹنے کیلے جمع ہوجاتے ہیں۔ پروفیسر صاحب لکھتے ہیں:

’’دعوت اسلامی کی خصوصیت ہے کہ آزمائش کے وقت اس کے پیروکاروں کے جذبہ عمل اور شوقِ قربانی میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے، فداکاری کی ایک لہرصرف افراد کے سراپے ہی میں نہیں، بلکہ ان کی اجتماعیت تک میں دوڑ جاتی ہے، حق کے لیے جان کی بازی لگادینے کا ولولہ ہر فرد میں پیدا ہوجاتا ہے۔ اور یہ وہ ادا ہے جو حق تعالیٰ کو بے حد پسند ہے۔ اس نے ایسے لوگوں کے لیے اپنی رضا مندی اور جنت لکھ دی ہے ‘‘ (ص۔۱۸)

یہ کتابچہ پہلے مضمون کی صورت میں’ عالمی ترجمان القرآن لاہور‘میں شائع ہوا۔ مضمون کی اہمیت کے پیش نظر’ القلم پبلکیشنز، بارہمولہ کشمیر‘ نے اس کو خوبصورت طباعت میں کتابچہ کی صورت میں چھاپا ہے۔ یہ کتاب جہاں اُمت مسلمہ کو مایوسی سے نکلنے میں مدد گار ثابت ہوگی وہیں عروج کاراستہ بھی بتاتی ہے۔

Comments

سہیل بشیر کار

سہیل بشیر کار

سہیل بشیر کار بارہ مولہ جموں و کشمیر سے ہیں، ایگریکلچر میں پوسٹ گریجویشن کی ہے، دور طالب علمی سے علم اور سماج کی خدمت میں دلچسپی ہے۔ پبلشنگ ہاؤس چلاتے ہیں جس سے دو درجن سے زائد کتابیں شائع ہوئی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.