ڈر - خرم علی راؤ

ڈر سے مت ڈریں، ڈر تو آپ کا دوست، آپ کا رہبر، آپ کا ساتھی ہے۔ خوف اور ڈر بہت سے فائدوں کا حامل ہوتا ہے اور آپ کو بہت سے نقصانات اور برائیوں سے بچاتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس کی بہت سی اقسام بھی ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ دنیا کے بڑے دماغ مذہبی اور غیر مذہبی نقطۂ نظر سے ڈر کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔

پہلے خوف کی اقسام دیکھتے ہیں۔ ڈر یا خوف کئی قسم کا ہوتا ہے، مثلاً اللہ تعالی کا خوف، یہ جسے حاصل ہوجائے سمجھیں کہ وہ دنیا اور عقبیٰ دونوں میں کامیاب ہوتا ہے۔ ایک حدیثِ قدسی کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ، اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے کہ میں دو خوف ایک جگہ جمع نہیں کرتا جو دنیا میں مجھ سے ڈرے گا میں آخرت میں اسے نہیں ڈراؤں گا اور جو دنیا میں مجھ سے نہیں ڈرے گا اسے آخرت میں ڈراؤں گا، تو خوفِ خدا تو دراصل ایک نعمتِ عظمیٰ سے کم نہیں۔ موت کا خوف، ناکامی کا خوف، انہونی کا خوف، مختلف قسم کے نفسیاتی خوف جیسے ہائیڈرو فوبیا(اس کے مریض کو پانی سے ڈر لگتا ہے)، بلندی کا خوف، اندھیرے کا ڈر وغیرہ نفسیاتی خوفوں کی چند اقسام ہیں،اس کے علاوہ، مستقبل کا خوف، اب کیا ہوگا، اب کیا بنے گا وغیرہ وغیرہ، جنوں، بھوتوں، چڑیلوں اور بد روحوں کا خوف۔

اب اگر ہم مذہبی نقطۂ نظر سے دیکھیں تو ہر قسم کے خوف و ڈر کا تیر بہدف علاج مل جاتا ہے۔ وہ کیا ہے؟ ، وہ اللہ تعالی کی ذات عالی اور صفات عالیہ کا یقین کرنا کہ جو بھی حالات و واقعات ہوں، کامیابی،ناکامی، عزت ذلت، زندگی موت سب اللہ کے ہاتھ میں اور اس کی مرضی کے تابع ہے، چنانچہ مذہبی اور دینی سوچ رکھنے والوں کو بہرحال مختلف سوچ رکھنے والوں پر یہ ایڈوانٹج، یہ برتری، یہ سہولت تو حاصل ہے ہی کہ ان کا یقین و ایمانِ خدا وندی انہیں ہر قسم کے ڈر اور خوف سے امن دے دیتا ہے۔ متعدد احادیثِ مبارکہ اور بزرگانِ دین کے اقوال اس پر شاہد ہیں کہ خوفِ خدا اور عشقِ رسول جسے مل گیا اسے سب مل گیا۔

اب آئیے غیر مذہبی یا سیکولر سوچ رکھنے والے انسانوں کی جانب، ان کے لیے نفسیاتی اور ذہنی علوم کے ماہرین نے بہت سی ترکیبیں اور علاج لکھے ہیں، کچھ خوف تو ایسے ہیں کہ وہ باقاعدہ ذہنی امراض میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے علاج کے لیے طویل نفسیاتی سیشنز کیے جاتے ہیں اور باقاعدہ دواؤں پر رکھا جاتا ہے اور کچھ ایسے خوف بھی ہیں جو صرف وہم و گمان کے درجے میں ہوتے ہیں اور لایعنی اور مضحکہ خیز وجوہات پر مشتمل ہوتے ہیں جن میں سے مستقبل کا، اندھیرے کا،کچھ ہونے والا ہے قسم کا خوف، جنوں، بھوتوں، چڑیلوں اور بد روحوں کا خوف نمایاں ہیں۔

ایسے مریضوں کے لیے نفسیات کی دنیا کا بڑا نام جسے سگمنڈ فرائڈ کے بعد سب سے بڑا ماہر نفسیات سمجھا جاتا ہے، یونگ کہتا ہے کہ اس قسم کے ڈراووں سے بچنے اور ان پرحاوی ہونے کا بہترین نسخہ یہ ہے کہ جو وجہ ڈر ہو اس میں اور زیادہ گھس جاؤ،ڈر غائب ہو جائے گا، مثلاً اگر اندھیرے کا خوف ہے تو دل کڑا کرکے ایک دفعہ اندھیری جگہ میں چلے جاؤ، کچھ دیر رہو اور پھر دیکھو گے کہ اندھیرے کا ڈر نکل جائے گا۔ یہ بالکل علاجِ بالمثل کی طرح ہے۔ اسی طرح یونگ خود ترغیبی(آٹو سجیشن) کو بھی ایک کامیاب علاج کہتا ہے، یعنی جس چیز سے ڈر لگتا ہواس کے بارے میں خود کو بار بار آہستہ آواز میں کہیں کہ میں اس سے نہیں ڈرتا، میں اس سے نہیں ڈرتا۔

اسی طرح علم نفسیات میں ہپناٹزم بھی شعوری اورلاشعوری ڈراووں اور خوفوں کے علاج میں بہت مفید ثابت ہوتا ہے، مگر اس کے لیے ماہر ہپناٹسٹ کا ہونا ضروری ہے، وہ آپ کو تنویمی نوم ( ہپناٹک سلیپ) میں لے جا کر آپ کے لاشعور سے مطلوبہ خوف کھرچ دیتا ہے۔ تحلیلِ نفسی بھی کامیاب طریقہ ء علاج ہے مگر ذرا دیر طلب ہے۔ مگر سب سے بہتر مجھے ذاتی طور پر وہی طریقہ لگتا ہے کہ جس چیز سے ڈر لگے اسے اور زیادہ اختیار کرو اور زیادہ اس میں گھسو اور اپنا ڈر ہمیشہ کے لیے نکا ل دو۔

ٹیگز