سچا پیار نہیں ملا - محمد عمیر

نئے سال کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیغام دیا ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں اربوں ڈالر کی امداد لینے کے باوجود پاکستان نے امریکہ کو سوائے جھوٹ اور دھوکے کے کچھ نہیں دیا ہے۔ امریکی صدر کے اس بیان کے بعد مجھے دو پاکستانی خواتین کے درمیان ہونے والی وہ گفتگو یا دآگئی جس میں 10بچوں کی ماں اپنی ہمسائی سے کہہ رہی ہوتی ہے کہ بہن مجھے توآج تک سچا پیار نہیں ملا۔ امریکی صدرنے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ” امریکہ نے 15 سالوں میں پاکستان کو 33 ارب ڈالر بطور امداد دے کر بےوقوفی کی،پاکستان ہمارے رہنماؤں کو بےوقوف سمجھتے رہا۔ وہ ان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتے رہا، جن کا ہم افغانستان میں ان کی نہ ہونے کے برابر مدد سے تعاقب کر رہے ہیں۔اب ایسا نہیں چلے گا“

دور کے ڈھول سہانے کے مصداق دور کے اس دوست سے دوستی پاکستان کے لیے ہمیشہ نقصان کا باعث ہی رہی ہے۔قیام پاکستان کے بعدروسی کیمپ چھوڑکر امریکہ کیمپ میں شمولیت کا خمیازہ ہم اب تک بھگت رہے ہیں۔امریکہ کہنے کو تو پاکستان کا دوست ملک ہے مگر 65اور 71کی جنگ سمیت کسی بھی موقع پر یہ دوست ہمارے کام نہ آیا بلکہ دشمن ملک کی مدد کرتے نظرآیا،مسئلہ کشمیر سمیت ہر مسئلے پر امریکہ انڈیا کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے،اسٹیج اداکار افتخار ٹھاکر کے بقول یف16بھی امریکہ نے پاکستان کو اس وقت فراہم کیے جب ان کے ”پر ونگے ہوگئے“۔ (پر ٹیڑھے ہوگئے)

روس کی افغانستان میں مداخلت کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو ایک نیا رخ دیا،امریکی مدد سے مجاہدین کو ٹرین کیا گیا اور روس کو شکست دینے کے لیے ان کو افغانستان میں بھیجا گیا،ان مجاہدین کی ٹریننگ کے لیے مالی امداد سمیت اسلحہ بھی امریکہ کی جانب سے فراہم کیا گیا۔امریکہ کی جانب سے پاکستان کو 3.2بلین ڈالر کی امداد فراہم کی گئی۔روس کی شکست کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ایک نئے فیز میں داخل ہوئے،امریکہ کی جانب سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو روکنے کی کوشش کی گئی،دھمکیاں دی گئیں اور جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تو پاکستان پر امریکہ کی جانب سے پابندیاں لگائی گئیں۔ایٹمی دھماکوں کے بعد کارگل جنگ کے باعث پاکستان امریکہ تعلقات سرد مہری کا شکار رہے جبکہ اس دوران امریکہ اور انڈیا کے تعلقات مزید بہتر ہوئے۔سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے متعدد بار کہا کہ ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کو ایٹمی پروگرام شروع کرنے کی سزاد ی گئی ان کا اشارہ امریکہ کی جانب تھا۔

ستمبر2011میں امریکہ میں حملوں کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کا تیسرا فیز آیا،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان امریکہ کا اتحادی بنا۔پاکستان کی جانب سے امریکہ کو ائیر بیسز فراہم کی گئیں،امریکہ کی نشاندہی پر متعدد شہریوں کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا گیا اس کے بدلے امریکہ کی طرف سے پاکستان کو مالی امداد فراہم کی گئی۔قرض کی ادائیگی کی شکل میں پاکستان نے 1ارب ڈالر ادا کرنے تھے جو کہ امریکہ کی جانب سے معاف کیے گئے۔امریکہ کی جانب سے متعدد بار الزام عائد کیا جاتا رہا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں پاکستان کو ان ٹھکانوں کا تباہ کیا جانا چاہیے جبکہ پاکستان کا موقف رہا کہ دہشت گرد بارڈر پار افغانستان سے کارروائی کرتے ہیں پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود نہ ہیں۔2011میں امریکہ نے پاکستان کے علاقہ ایبٹ آباد میں کارروائی کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کو مارا،اس کارروائی سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ایک بار پھر سرد مہری کا شکار رہے پاکستان کی جانب سے امریکی سپلائی کو بند رکھا گیا۔پاکستان کا موقف تھا کہ اتحادی ہونے کے ناطے امریکہ کو پاکستان کی خودمختاری کا خیال رکھنا چاہے تھا۔ بعدازاں سلالہ چیک پوسٹ اور متعدد بار ڈرون حملوں سے دونوں ممالک کے تعلقات کبھی بھی مثالی نہیں رہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات کچھ دو کچھ لو کی بنیاد پر قائم رہے۔چند روز قبل بھی امریکی صدر نے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے پاکستان پر کارروائیاں تیز کرنے کے لیے دباو ڈالا جائے گا۔جبکہ پاکستان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو دہشت گردی کی اس جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہیے ہزاروں پاکستانی اس جنگ میں شہید ہوئے ہیں۔

امریکہ میں ایک 9/11ہوا پاکستان کے ہر صوبے میں آئے روز 9/11جیسے واقعات ہوتے ہیں۔پاکستان امریکہ تعلقات نہ کبھی بردارانہ تھے اور نہ ہی مثالی۔امریکہ کو جب بھی پاکستان کی ضرورت پڑی ہے اس نے پاکستان کو استعمال کیا اور پاکستان کی بدقسمتی یہی رہی کہ ہم ہر دفعہ استعمال ہوئے۔ہم نے چند ڈالرز کی خاطر پرائی جنگ میں اپنے لوگوں کو جھونک دیا۔یہ سلسلہ اب تھم جانا چاہیے،کہیں تو بند باندھا جانا چاہیے،اس خود مختار ملک کے لیڈروں کو اب امریکہ کو ”نو مور“ کہنے کی ضرورت ہے۔جنرل حمید گل صاحب ک بات یاد آرہی ہے کہ ”افغانستان بہانہ ہے پاکستان نشانہ ہے“۔عالمی منظر نامہ بدل رہا ہے، فلطسین کے معاملے پر امریکہ کو اقوام متحدہ میں منہ کی کھانی پڑی ہے۔اب کسی کی ضرورت کا سامان بننے سے بہتر ہے کہ برابری کی سطح پر تعلقات قائم کیے جائیں۔دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ ہماری کبھی بھی نہ تھی،یہ جنگ ہم نے خود پر مسلط کی،ہم نے سو پیاز بھی کھائے اور سو جوتے بھی۔اب ”نو مور!“

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */