عورت - فائزہ بانو

عورت عربی لفظ عورة سے نکلا ہے، جس کا مطلب پردہ ہوتا ہے یعنی چھپی ہوئی چیز۔ اللہ پاک نے ہر قیمتی چیز کو پردے میں رکھا، اللہ پاک خود بھی پردے میں ہیں۔ جس چیز کو رب نے جیسے بنایا بلاشبہ اس کی خوبصورتی بھی اسی میں ہے۔ لہٰذا اللہ نے عورت کو بھی باپردہ بنایا اس کی خوبصورتی بھی پردے میں ہے۔

بچپن انسانی زندگی کا ایسا حصہ ہے جس میں انسان نہایت باریک بینی سے سیکھتا ہے اور ذہن کو پختہ کرنے کی عمر یہی ہوتی ہے۔ اس میں جس سکھایا جائے گا، وہی کل انسان کے اندر نظر آئے گا۔ لیکن ہم کہتے ہیں “ابھی تو بچی ہے، عیش کرلے۔” لیکن کیا ہم اس کے اندر سے اس چیز کو نہیں ختم کررہے جس کو "حیا" کہتے ہیں؟ جو قدرتی طور پر ایک عورت کو ودیعت کی جاتی ہے، رب کی طرف سے تحفہ کے طور پر؟

آج ہم اپنی نوعمر لڑکیوں کو ایسے لباس کی عادت ڈال رہے ہیں جو اغیار کا شاخسانہ ہیں۔ کل کو کیسے یکدم اسے حجاب پر لائیں گے؟ آج اسے پتہ ہوگا کہ سر کو ڈھانپنا ہے تو یہ عادت آگے بھی چلے گی۔ ٹائٹس یا see through لباس تو مردوں کو بھی منع ہے۔ چہ جائیکہ عورت استعال کرے

معاشرے کی بُرائی کا رونا ہر کوئی روتا نظر آتا ہے لیکن جب ہم خیال نہیں کریں گے، اس کی بنیاد نہیں دیکھیں گے کہ مسئلہ کہاں سے شروع ہوا تو اس کا سد باب کیوں کر ممکن ہو پائے گا؟

عام الفاظ میں یہی کہنا ہے کہ تربیت بچپن سے شروع ہوتی ہے۔ جس چیز کا بچوں کوآج عادی بنائیں گے۔ اُن کا ذہن وہی قبول کرے گا اور کل ان کی شخصیت میں وہی کچھ نظر آئے گا۔ آج جو بچی ہے، کل اسے ماں بننا ہے، ایک خاندان کی تربیت کرنی ہے اس لیے درست وقت پر درست بنیاد ڈالیں۔