ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان - عظیم الرحمٰن عثمانی

پاکستان کی اسٹریٹجک لوکیشن ایسی ہے کہ دنیا میں طاقت کے توازن کو قابو میں کرنے کے لیے اسے ساتھ لے کر چلنا لازمی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ، انگلینڈ وغیرہ کے اخبارات میں پاکستان کا ذکر اچھے برے انداز سے کسی نہ کسی بہانے ہوتا ہی رہتا ہے، حالانکہ بہت سے ممالک دنیا کے منظر نامے میں ایسے گمنام ہیں کہ وہاں ہوئے بڑے واقعات بھی ان اخبارات میں اپنی جگہ نہیں بنا پاتے۔ پاکستان کا جغرافیہ ایسا ہے کہ اگر کسی وقت تجارتی راستہ محفوظ ہو جائے تو وہ ترقی جسے حاصل کرنے میں دوسرے ممالک کو پچاس پچپن سال لگے ہیں، وہی ترقی یہ پانچ سے دس سال میں حاصل کرسکتا ہے۔ پاکستان کی سرزمین لوہے، کوئلے، نمک سمیت معدنیات و دیگر وسائل سے بھی بھرپور ہے اور امکان ہے کہ اگر صحیح طور پر کھدائی یا تحقیق کی جائے تو توقع سے کہیں زیادہ خزائن برآمد ہوں گے۔ اسی طرح دنیا واقف ہے کہ پاکستان ایک نہایت مضبوط فوج اور صف اول کی انٹیلی جینس ایجنسی کا مالک ہے۔ میزائل ٹیکنالوجی، ٹینک، آبدوز، جہاز سمیت ہر دفاعی ساز و سامان نہ صرف خود بنارہا ہے بلکہ دیگر ممالک کو بیچ بھی رہا ہے۔

یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ امریکہ کو جن دو ممالک سے حقیقی معنوں میں سب سے زیادہ خطرہ رہتا ہے ، وہ ہیں روس اور چین۔ لطف کی بات یہ ہے کہ پاکستان نے روس اور چین دونوں کے ساتھ مل کر اپنا کیمپ امریکہ سے الگ کرلیا ہے۔ سی پیک اسی کا حصہ ہے۔ افغانستان میں روس اپنی شکست کا ذمہ دار بجا طور پر پاکستان کو مانتا آیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس نے پاکستان سے اپنی فوجی ہزیمت کے بعد کبھی مثبت تعلقات نہیں رکھے۔ یہ پہلی بار ہے کہ روس نے ماضی بھلا کر پاکستان سے ہاتھ ملا لیا ہے، اس کا ایک اور بڑا ثبوت حال ہی میں کی جانے والی روسی اور پاکستانی فوج کی پاکستان کی سرزمین پر مشترکہ مشقیں ہیں۔ روس کے اس اقدام نے بھارت کا جس درجے میں دل توڑا ہے، اس کا اندازہ انڈین چینلز کے تجزیاتی پروگرامز دیکھ کر ہی کیا جاسکتا ہے۔ زرداری کے دور حکومت میں امریکہ اور بھارت گوادر پروجیکٹ کو التواع میں ڈالنے میں کامیاب ہوگئے تھے مگر پچھلے سالوں میں پاکستان آرمی نے براہ راست چین کو گوادر کی تعمیر اور تعمیر کی یقین دہانی کرائی ہے۔ جس کے بعد اب اس پروجیکٹ کو سیاسی دباؤ سے روکنا ممکن نہیں رہا ہے۔ پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبہ ابھی بھی التواء کا شکار ہے مگر اب ایران کی جانب سے اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے اشارے دوبارہ مل رہے ہیں۔

اگر یہ منصوبہ بنا تو چین اور ایران کو جو فائدہ ہونا ہے وہ تو ہونا ہی ہے مگر پاکستان کی بھی انرجی کی تمام ضروریات مکمل ہوسکیں گی۔ گوادر پورٹ کو چلانے کے لیے جب آغاز میں مختلف ممالک نے ٹینڈرز پیش کیے تھے تو پاکستان نے دبئی پورٹ ورلڈ کو قبول کیا تھا مگر بھارت نے دباؤ ڈال کر اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا تھا۔ اب چین نے اپنی ہی 'چائنیز اوور سیز پورٹ اتھارٹی' کو گوادر کی ذمہ داری سونپ دی ہے جسے 46 بلین ڈالرز کی خطیر رقم سے کھڑا کیاجارہا ہے۔ لہٰذا بھارت یا امریکہ اب اسے روکنے سے قاصر ہیں۔ گوادر پاکستان کی گہرے گرم پانی کی پہلی پورٹ ہوگا جو دنیا میں گنتی کے چند ممالک کو حاصل ہے اور جسے چین کو 2009 تک ٹھیکے پر سونپ دیا گیا ہے، اس کے بعد یہ پاکستان نیول بیس میں تبدیل کردینے کا امکان ہے۔ دھیان رہے کہ کراچی پورٹ گہرے پانی کی پورٹ نہیں ہے۔ گہرے پانی کی پورٹ میں جہاز کو پانی میں کھڑے رہتے ہوئے آف لوڈ کیا جاسکتا ہے، جس سے وقت و سرمایہ دونوں محفوظ ہوتے ہیں۔ گوادر کے ذریعے کیا کچھ کیا جا سکتا ہے؟ اس کے بارے میں عالمی سطح پر بہت سی قیاس آرائیاں موجود ہیں۔ مگر جو بات حتمی ہے وہ یہ کہ چین سمیت کئی دیوقامت تجارتی حجم والے ممالک گوادر کو تیل سمیت دیگر اشیاء کے لیے تجارتی روٹ کے طور پر استعمال کریں گے جس سے پاکستان کو کروڑوں ڈالرز کی مستقل کمائی حاصل ہوگی، لاکھوں نوکریاں اور کاروباری سرگرمیاں پیدا ہونگی۔ یہ خدشہ اپنی جانب موجود ہے کہ کل گوادر چین کو گروی ہی نہ رکھنا پڑ جائے۔ دانشور یا ذہن ساز افراد زیادہ سے زیادہ توجہ دلاسکتے ہیں مگر اس ضمن میں ہمیں اپنی فوجی و سیاسی قیادت کی فراست پر بھروسہ رکھنا ہوگا۔

اب چونکہ امریکہ اور بھارت یہ جان چکے ہیں کہ اس سی پیک کو روکنا ممکن نہیں ہے لہٰذا اب ان کا لائحہ عمل یہ ہے کہ پاکستان کے حالات جو پہلے ہی خستہ ہیں، انہیں آخری حد تک خراب کردیا جائے۔ بھارت اب اپنے آقا امریکہ کے آشیرباد سے پانچ طریقوں سے پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

پہلا طریقہ یہ کہ پاکستان کو اس کی ہندوستانی سرحد پر حالت جنگ یعنی ریڈ الرٹ میں کسی نہ کسی بہانے سے رکھا جائے تاکہ فوج کی توانائی ملک کے اندر دیگر سرگرمیوں میں اچھی طرح استعمال نہ ہوسکیں۔ دوسرا طریقہ بھارت کا وہ خواب ہے کہ امریکہ کی طرح وہ بھی پاکستان میں سرجیکل اسٹرائیکس کرسکیں، اس طریقے کو عملی جامہ پہنانے کی ہمت تو یہ نہ کرسکے ، البتہ اسی سرجیکل حملے کا ایک جھوٹا ڈرامہ رچا کر بھارت پوری دنیا میں لطیفہ بن گیا۔ تیسرا طریقہ امداد اور انٹیلی جینس کے ذریعے پاکستان مخالف جماعتوں کو ملک کے اندر مدد پہنچانا ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی سمیت دیگر تنظیموں کو اس وقت بھارت کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے اور ان کے لیڈر بھارت میں بیٹھ کر بھی آپریٹ کررہے ہیں۔ امریکی سی آئی اے کا ریمنڈ ڈیوس ہو یا بلوچستان میں انڈین راء کا پکڑا جانے والا کلبھوشن یادو، سب کا مشن پاکستان کی 'پراکسی وار' کے ذریعے تباہی ہے۔

چوتھا طریقہ افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی کا فروغ ہے۔ بھارت اس وقت افغانستان میں جتنا مضبوط ہے، اس کا آدھا مضبوط بھی وہ تاریخی طور پر کبھی نہیں رہا۔ پھر پاکستان نے اپنی حماقتوں کے سبب بھی اپنے افغان بھائیوں کو اپنا دشمن بنالیا ہے۔ حامد کرزئی جیسے سکہ بند امریکی چمچے اس وقت طاقت میں ہیں جو پاکستان کے قبائلی علاقوں کی نفسیات سے بھی خوب واقف ہیں لہٰذا پاکستان کو مسلسل اس محاذ پر ہزیمت کا سامنا ہے۔ پاکستان کی جانب سے حال ہی میں افغان بارڈر کو سیل کرنا اسی کے تدارک کی پاکستانی کوشش ہے۔ پانچواں طریقہ جو اپنایا گیا ہے اسے 'فورتھ جنریشن وار' کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، جس میں دفاعی اداروں اور عوام کے مابین نفرت و دوری پیدا کی جاتی ہے۔ اس کے لیے سوشل میڈیا سمیت حقوق نسواں یا انسانی اداروں کی آڑ لے کر امریکہ اور بھارت ان افراد کو فنڈ کررہا ہے جو عوام میں نفرت، غصہ اور مایوسی کو ہوا دے سکیں۔ افسوس یہ بھی ہے کہ بناء معاوضہ لیے بھی ایسے لوگ بکثرت دستیاب ہیں جو پاکستان کے خلاف دن رات زہر افشانی کرنے کو اپنا مشن بنائے ہوئے ہیں۔ ایک امکان یہ بھی ہے کہ ابھی حالیہ طور پر جن سوشل میڈیا پر متحرک افراد کو گرفتار یا غائب کیا گیا ہے ان کا شمار اسی فورتھ جنریشن وار کے متعلقین میں ہو۔ گو یہ فقط ایک امکان ہے۔

اس کے علاوہ بھی مذہبی منافرت کے فروغ اور ثقافتی یلغار سمیت کئی ایسے زاویئے ہیں جن پر دشمن پوری تندہی سے کام کر رہا ہے۔ گویا اس وقت پاکستان کو جتنے محاذوں کا سامنا ہے اس کا تصور بھی دیگر ممالک نہیں کرپاتے۔ یقینی طور پر ابتداء میں ہم نے وہ اقدام نہیں کیے جو کرنے تھے اور جس سے دشمن کو اپنے پاؤں کسی حد تک جمانے کا موقع حاصل ہوا مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ اب ہم کھل کر لڑرہے ہیں۔ قوم اب دشمن کو پہچان پارہی ہے۔ وزیرستان سے لے کر کراچی تک کیے گئے آپریشن اگر مکمل نہیں تو بڑی حد تک دشمن کو کمزور کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ کسی بم دھماکے سے یہ نتیجہ نکالنا کہ آپریشن ناکام رہے، ایک نہایت غلط اپروچ ہے۔ یہ ایک طویل جنگ ہے جو ہم بہت سے محاذوں پر ایک ساتھ لڑ رہے ہیں لیکن کامیابی ان شاء اللہ پاکستان کی قسمت ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ ٹویٹ اور اس ٹویٹ پر انڈین میڈیا کا واویلا یہ ثابت کررہا ہے کہ روس، چین اور پاکستان کا اتحادی بلاک امریکہ اور بھارت دونوں کے سر پر واقعی بلاک بن کر گرا ہے۔

Comments

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمن عثمانی

کے خیال میں وہ عالم ہیں نہ فاضل اور نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار. زبان اردو میں اگر کوئی لفظ ان کا تعارف فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے مرکب لفظ ’طالب علم‘. خود کو کتاب اللہ قرآن کا اور دین اللہ اسلام کا معمولی طالب علم سمجھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */