بنتے ٹوٹتے سیاسی اتحاد - ار شدعلی خان

جیسے جیسے سال 2018ء کے انتخابات قریب آ رہے ہیں، ملک میں سیاسی درجہ حرارت بلند ہوتا جا رہا ہے۔ جب تک سینیٹ سے نئی حلقہ بندیوں کا بل پاس نہیں ہوا تھا تو ایسا لگ رہا تھا کہ آئندہ انتخابات میں تاخیر ہوسکتی ہے، تاہم وفاقی حکومت کی بروقت کامیاب حکمت عملی اور پیپلزپارٹی کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کے بعد سینیٹ سے یہ بل آسانی سے منظور کر لیا گیا، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں پر کام کا آغاز کر دیا ہے اور اب سال 2018ء کے انتخابات میں تاخیر کی بظاہر کوئی آئینی وجہ نظر نہیں آتی۔ پاکستان میں انہونیاں ہوتی رہتی ہیں اس لیے جب تک انتخابات نہیں ہوتے تب کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

ملک میں سردی کی شدت کے ساتھ ساتھ سیاسی درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور ملکی سطح پر کئی سیاسی اتحاد بنتے ٹوٹتے نظر آ رہے ہیں جن میں سرفہرست مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی دوبارہ بحالی کا اعلان ہے۔ متحدہ مجلس عمل میں اس بار پانچ مذہبی جماعتیں جمعیت علمائے اسلام ف، جماعت اسلامی، اسلامی تحریک، جمعیت اہل حدیث اور متحدہ دینی محاذ شامل ہیں، جبکہ اس بار جمعیت علمائے اسلام سمیع الحق گروپ اس اتحاد کا حصہ نہیں۔گزشتہ دنوں جمعیت علمائے اسلام س کے سربراہ مولانا سمیع الحق اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے درمیان ملاقات کے بعد دونوں جماعتوں کا اتحاد یقینی نظر آتا ہے۔

ایم ایم اے کی بحالی جہاں ایک طرف خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کو کاؤنٹر کرنے کی ایک کوشش ہے تو دوسری جانب پنجاب میں یہ بریلوی مکتبہ فکر یعنی تحریک لبیک یا رسول کو بھی کاؤنٹر کرنے کی کوشش ہوسکتی ہے کیونکہ پنجاب میں اگر مسلم لیگ ن کا ووٹ بینک کوئی متاثر کرسکتا ہے تو خادم حسین رضوی کی تحریک لبیک ہی ہوسکتی ہے۔انتخابات قریب آتے ہی خادم حسین رضوی بھی دیگر چھوٹی مذہبی جماعتوں کو ساتھ ملاکر اتحاد کرسکتے ہیں جن کے انتخابی نتائج حیران کن ہوسکتے ہیں۔ جس طرح کی کارکردگی انہوں نے پنجاب میں این اے 120اور خیبرپختونخوا میں این اے 4 کے ضمنی الیکشن میں دکھائی ہے تو کچھ بعید نہیں کہ عام انتخابات میں ان کی کارکردگی اس سے کہیں زیادہ بہتر ہو۔ تاہم ایم ایم اے کی بحالی اتنی بھی آسان نہیں کہ اعلان کر دیا اور مذہبی جماعتوں کا یہ اتحاد بحال ہوگیا۔ متحدہ مجلس عمل کی فعالیت میں سب سے بڑی رکاوٹ اس اتحاد میں شامل دو بڑی جماعتیں خود ہیں۔ یعنی جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام ف کا جو بعض اُمور پر 180 ڈگری کا اختلاف رکھتی ہیں۔ جماعت اسلامی خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے ساتھ صوبائی حکومت کا حصہ ہے تو جمعیت علماء اسلام ف مرکز میں مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت میں شراکت دار۔ اسی طرح سراج الحق فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کے حق میں ہے یہاں تک کہ گزشتہ دنوں فاٹا انضمام میں تاخیر کے خلاف جماعت اسلامی نے فاٹا سے وفاقی درالحکومت اسلام آباد ایک احتجاجی مارچ بھی کیا جبکہ دوسری جانب مولانا فضل الرحمان فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کے شدید مخالف ہیں۔ وہ چاہتے ہیں فاٹا کو ایک الگ صوبے کی حیثیت دی جائے اور اس کے لیے قبائلی علاقوں میں ریفرینڈم کروایاجائے۔ قبائلی علاقوں میں ریفرینڈم قابل عمل ہے بھی یا نہیں یہ موضوع ایک الگ کالم کا متقاضی ہے۔ سال 2008ء میں ایم ایم اے کے خاتمے کا سبب بھی انہی دونوں جماعتوں کااختلاف بنا تھا جب مشرف کا صدارتی الیکشن روکنے کےلیے پختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے اور بعض دوسرے معاملات پر اختلاف ہو گیا تھا۔ ایم ایم اے کی بحالی اور فعالیت کی صورت میں اتحاد کی سربراہی بھی اختلاف کا ایک سبب بن سکتی ہے جبکہ کامیابی کی صورت میں وزارتوں کی تقسیم کا مرحلہ بھی مشکل ترین مرحلہ ہوگا۔ جماعت اسلامی کے بارے میں یہ ایک پختہ تاثر ہے کہ ہمیشہ اپنے حجم سے زیادہ کا مطالبہ کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مولانا! یہ کہانی چل چکی ہے - عامر ہزاروی

دوسری جانب پنجاب میں مسلم لیگ ن کے لیے سب سے بڑا دردسر عوامی تحریک بنی ہوئی ہے جس کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری آج کل سیاسی مقناطیس بنے ہوئے ہیں۔ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی سمیت ہر چھوٹی بڑی پارٹی کے سربراہ اور رہنما ڈاکٹر طاہر القادری سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور احتجاجی تحریک میں انہیں اپنے تعاون کی یقین دہانی کروا رہے ہیں۔گزشتہ دنوں عمران خان کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں عمران خان کا کہنا تھا کہ جیسا ڈاکٹر طاہر القادری کہیں گے وہ ویسا کریں گے۔ انہوں نے طاہر القادری کے کہنے پر آصف علی زرداری کے ساتھ بیٹھنے کا بھی عندیہ دیا۔ عوامی تحریک کے علاوہ مسلم لیگ ن کے لیے دوسرا بڑا چیلنج پیر حمید الدین سیالوی کی قیادت میں متحد ہونے والی تحریک ہے۔ مسلم لیگ ن کے کئی ایم پی ایز اور ایم این ایز نے پیر سیالوی کے پاس اپنے استعفے جمع کرا رکھے ہیں، جبکہ خادم حسین رضوی کی سربراہی میں تحریک لبیک بھی پنجاب میں مسلم لیگ ن کا ووٹ بینک کو متاثر کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔

سندھ میں اس وقت پیپلزپارٹی کی حکومت ہے تاہم پیپلزپارٹی کی بیڈ گورننس کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، کرپشن عروج پر ہے۔ پیپلزپارٹی نے ہسپتالوں کی حالت بدلنے پر کوئی توجہ دی ہے نہ ہی سکولوں کی حالت میں کوئی بہتری لائی جاسکی ہے۔ اسی طرح پیپلزپارٹی کا ورکر سے بھی وہ رابطہ نہیں رہا جو بانی قائد ذوالفقار علی بھٹو نے بنایا تھا اور جس کو بینظیر بھٹو نے بحال رکھا تھا۔ سمجھ نہیں آتا آصف علی زرداری سمیت پیپلزپارٹی کی دیگر قیادت کو آئندہ انتخابات جیتنے کا اتنا پختہ یقین کیوں ہے، اور کس بنیاد پر پیپلزپارٹی سال 2018ء کے انتخابات جیتنے کا دعوی کر رہی ہے کیونکہ تمام لوگوں کو ہمیشہ کے لیے بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا۔ کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کی ایم کیو ایم پاکستان اور ایم کیو ایم لندن میں تقسیم اور پاک سرزمین پارٹی کے قیام سے مہاجر ووٹ بھی تقسیم ہوگا جس کا فائدہ شہری علاقوں میں تحریک انصاف جبکہ دیہی علاقوں میں پیپلزپارٹی کو ہوسکتا ہے، تاہم اندرون سندھ فنکشنل لیگ کی سربراہی میں قوم پرست جماعتوں کا اتحاد پیپلزپارٹی کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔