جب پاکستان ورلڈ کپ جیتا تھا - فیاض راجہ

پاکستان سے 10 ہزار 875 کلومیٹر دور، کرکٹ کے اس گراؤنڈ میں 87 ہزار 182 تماشائی بیٹھے تھے۔ رات کے سوا دس بجے تھے۔ مہینہ مارچ کا تھا اور دنیا کے اس حصے میں ان دنوں خزاں کا موسم۔ اسٹیڈیم میں چلنے والی ہلکی ہلکی ہوا نے موسم کو خوشگوار بنا دیا تھا۔ میچ کا آخری اوور تھا اور، اوور کی دوسری بال۔ ہاتھ میں گیند تھامے باؤلر نے ممبرز اینڈ سے بھاگنا شروع کیا، رفتار مجتمع کی، امپائر کے پاس سے گزرا، اپنے مخصوص بالنگ ایکشن میں جمپ کی، اور ہاتھ سے گیند کو چھوڑ دیا۔ کریز پر موجود مخالف ٹیم کے گیارھویں کھلاڑی نے کریز سے باہر نکلتے ہوئے ایک زوردار ہٹ لگانے کی کوشش کی۔ گیند ہوا میں اوپر کی جانب گئی۔ مڈ آف پر کھڑے فیلڈر نے اپنی دائیں طرف بھاگنا شروع کیا تو ٹی وی کمنٹیٹر کے منہ سے جو جملے نکلے، وہ مجھے آج 25 برس بعد بھی یاد ہیں۔ ''دیٹس اپ ان دا ایئر، از گوئنگ آؤٹ، دس کڈ بی دا وکٹری، پاکستان ونز دا ورلڈ کپ، ایٹی سیون تھاؤزنڈ پیپل، عمران خان از ویری ایکسائیٹڈ۔''

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ساجدہ، دل کے نہاں خانوں میں، پچپن کی یاد کی صورت، دور کہیں گم ہوچکی تھی، اور لڑکپن اے حمید کی عنبر، ناگ، ماریا، اشتیاق احمد کی انسپکٹر جمشید، انسپکٹر کامران مرزا اور شوکی سیریز کو دوسری محبوبہ جان کر، کسی دل پھینک عاشق کی مانند، ہاکی، کرکٹ اور فٹ بال میں تیسری محبوبہ ڈھونڈنے کی سعی حاصل میں مصروف عمل تھا۔ اسی کی دہائی سے ابھی دل کا بہت کچھ سننا، کہنا اور پھر لکھنا باقی ہے مگر کوئی تو وجہ ہوئی ہوگی کہ آج، وقت کی سوئی نوے کی دہائی کے اوائل برسوں میں جا اٹکی ہے۔

فیاضیاں کی گیارھویں قسط کے لیے ذہن بنا تو سماعتوں میں "دی ورلڈ از کمنگ ڈاؤن " کی خوبصورت اور دلفریب دھن نے رقص کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ 1992ء کے کرکٹ ورلڈ کپ کا تھیم سانگ تھا جس کو سن کر ان دنوں میری عمر کے لڑکے بےاختیار جھومنے لگتے تھے۔

آج سے کوئی 25 برس پہلے 1992ء کے اس کرکٹ ورلڈ کپ میں بہت کچھ پہلی دفعہ ہوا تھا۔ جیسے پہلی دفعہ کسی کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے تھیم سانگ کا اجرا، جیسے پہلی دفعہ کسی کرکٹ ورلڈ کپ میں افریقہ کی کسی ٹیم (جنوبی افریقہ) کی شرکت، جیسے پہلی دفعہ کسی ورلڈ کپ میں ڈے اینڈ نائٹ میچز اور سب سے بڑھ کر پہلی دفعہ کسی کرکٹ ورلڈ کپ میں سفید کرکٹ بال اور ہر ملک کے لیے اپنی الگ الگ رنگ برنگی اور دیدہ زیب کرکٹ یونیفارم۔ غرض 1992ء کا ورلڈ کپ ان دنوں ہمارے لیے ہیری پورٹر کے کسی نئے ناول، ومپی کڈ ڈائری کے کسی نئے ایڈیشن یا پھر آئی فون، پوڈ یا ٹیب کے کسی جدید ترین ماڈل سے بھی آگے کی کوئی چیز تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   دماغ اب عمران خان کا ساتھ کیوں نہیں دیتا - محمد فاروق خان

بینسن اینڈ ہیجز کرکٹ ورلڈکپ 1992ء کے نام سے جانا جانے والا یہ ٹورنامنٹ پہلی اور آخری دفعہ لیگ سٹم کی بنیاد پر کھیلا گیا تھا، یعنی ٹورنامنٹ میں شریک ہر ایک ٹیم ایک دوسرے کے مدمقابل آئی تھی۔ اس ورلڈ کپ میں پہلی دفعہ دنیا کی 9 کرکٹ ٹیموں نے شرکت کی جن میں آسڑیلیا، انگلینڈ، جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ، پاکستان، بھارت، ویسٹ انڈیز، سری لنکا اور زمبابوے کی کرکٹ ٹیمیں شامل تھیں۔ یوں راؤنڈ رابن اسٹیج کے 36 میچز اور پھر دوسیمی فائنل اور ایک فائنل سمیت، ٹورنامنٹ میں کل 39 میچز کھیلے گئے تھے۔

میری سولھویں سالگرہ کے صرف تین دن بعد 22 فروری 1992ء کو شروع ہونے والا یہ کرکٹ ورلڈ کپ 25 مارچ 1992ء کو ختم ہوا تھا۔ میں ان دنوں دسویں جماعت کا طالب علم تھا اور یوں ہمارے میٹرک کے امتحانات اور کرکٹ ورلڈ کپ 1992ء کے میچز، گویا ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر، سلامی دینے کے لیے، دل کے چبوترے کی جانب بڑھتے چلے آئے تھے۔ مجھے آج بھی یاد ہے، میرے امتحانی گتے کی بیک سائیڈ پر، اوپری حصے میں، میڑک کے سالانہ امتحانات کی ڈیٹ شیٹ چسپاں تھی اور نچلی جانب کسی اخبار میں چھپنے والا ورلڈ کپ میچز کے شیڈول کا دیدہ ذیب کیلینڈر جس پر پاکستان کے میچز کو سرخ بیک گراؤنڈ کے ساتھ ہائی لائٹ کیا گیا تھا۔

اسکول لیبارٹیری کے انچارج اخلاق صاحب جانتے تھے کہ میٹرک سائنس کا یہ طالب علم، سائنس کے تینوں مضامین میں سے بیالوجی میں بہتر، فزکس میں قدرے بہتر جبکہ کیمسٹری میں بس گزارے لائق تھا۔ ان دنوں 100 نمبروں کے امتحانی پرچے میں 75 نمبر تھیوری کے جبکہ 25 نمبر پریکٹیکل کے ہوا کرتے تھے۔ میرا کیمسٹری کا تھیوری کا پیپر بہت ہی برا ہوا تھا، جس میں مجھے بمشکل پاس ہونے کی موہوم سی امید تھی۔ کیمسٹری کے مضمون میں 100 میں سے قابل عزت مارکس حاصل کرنے کے لیے میں کیمسٹری کے پریکٹیکل پر پتہ نہیں کیوں تکیہ کیے بیٹھا تھا حالانکہ بالکل تھیوری ہی کے پیپر کی طرح، میری، کیمسٹری کے پریکٹیکل کی تیاری بھی بس ایویں ہی تھی۔

21 مارچ 1992ء کو ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پاکستان نیوزی لینڈ کے مدمقابل تھا۔ کیسمٹری کے پریکٹیکل کا امتحان دینے، اپنے نمبر پر لیبارٹری میں پہنچا تو ذہن میں میچ ہی چل رہا تھا۔ لیبارٹری انچارج اخلاق صاحب کے ساتھ والی سیٹ پر ایک سمارٹ سے نوجوان ممتحن براجمان تھے، پریکٹیکل کے بعد جن کا نام امجد صاحب معلوم ہوا تھا۔ امجد صاحب نے میرے سیٹ پر بیٹھنے کے بعد سب سے پہلے، کیمسٹری کی پریکٹیکل کاپی مانگی جو میں نے انھیں تھماد ی۔ دوستوں کے منت ترلے اور کچھ اپنی محنت سے بنائی کیمسٹری پریکٹیکل کی یہ کاپی امجد صاحب محترم نے اچھی طرح ورق گردانی کرنے کے بعد انتہائی بےدردی سے، بیچوں بیچ کے صفحات ہاتھ میں لیکر درمیان سے پھاڑ ڈالی۔ اس طرح سے کاپی درمیان میں سے پھاڑ ڈالنا ان دنوں پریکٹیکل کا امتحان لینے والے ممتحن حضرات کا ایک خاص ہتھیار ہوا کرتا تھا تاکہ آئندہ برس کوئی اور طالب علم یہی پریکٹیکل کاپی، اپنی بتا کر نہ چیک کراسکے۔ اس وقت میری حالت دیکھنے کے لائق تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   اگر معجزہ ہوجائے؟ شیخ خالد زاہد

اگلے ہی لمحے پریکٹیکل کی کاپی سائیڈ پر رکھتے ہو ئے، امجد صاحب نے ایک حیران کن سوال پوچھا!۔ کرکٹ کھیلتے ہو؟ میں نے گھبراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔ بولے، آج کے میچ میں کس بیٹسمین نے کیا اسکور کیا؟ میں نے ہکلاتے ہوئے سب دہرا دیا۔ پھر بولے۔ ورلڈ کپ کون جیتے گا؟ میں نے پوری قوت مجمتع کی اور مکمل اعتماد سے بولا۔ اس بار ورلڈ کپ پاکستان ہی جیتے گا۔ انھوں نے غور سے میری آنکحوں میں دیکھا اور سر ہلا کر مجھے کمرہ امتحان سے باہر جانے کا اشارہ کرد یا۔ میں ذہن میں کیمسٹری کے پریکٹیکل اور اس میں کامیابی اور ناکامی کے ملے جلے جذبات لے کر باہر آگیا۔

25 مارچ کی شام پاکستان میں موسم بہار کی خوشگوار شام تھی اور یہی کوئی پانچ بجے کا وقت۔ ہزاروں میل دور، میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں، عمران خان کی گیند پر، رمیز راجہ کے، برطانوی بلے باز رچرڈ النگ ورتھ کا کیچ پکڑنے سے پہلے، پاکستان میں کروڑوں لوگ، 18 ویں روزے کی افطاری کی تیاری چھوڑ کر، دم سادھے ٹی وی اسکرینز اور ریڈیو سیٹس پر آنکھیں اور کان لگائے بیٹھے تھے۔ رمیز راجہ کے کیچ کے بعد جب پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان عمران خان نے جیت کی خوشی میں ہاتھ ہوا میں بلند کیے تو ٹینچ بھاٹہ میں ہمارے گھر کے صحن میں لگی وال کلاک پر سوا پانچ بج رہے تھے۔ ابو، امی اور ہم سب بہن بھائی مارے خوشی کے جھوم اٹھے تھے۔ اس دن افطاری اور اس کے بعد ادا کی گئی نماز مغرب کا مزہ ہی کچھ اور تھا۔ عشا کی نماز اور پھر تراویح پڑھنے کے بعد رات گئے تک پاکستان کا ورلڈ کپ جینتنا ہی ہم دوستوں کی گفتگو کا موضوع تھا۔

تین ماہ بعد میٹر ک کے امتحانات کا نتیجہ آیا تو میں گزٹ میں رزلٹ دیکھنے، آخری بس اسٹاپ کے نزدیک ارشد بک اسٹیشنرز پر جا پہنچا تھا۔ جتنی دیر میری رول نمبر سلپ ہاتھ میں پکڑے، دکاندار، گزٹ پر میرا نتیجہ ڈھونڈ رہا تھا میرے دل کی دھڑکنوں کی ترتیب وہی تھی جو 25 مارچ 1992ء کی شام ، میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں عمران خان کے آخری اوور کے وقت تھی۔ اسی اثنا میں دکاندار نے سر اوپر اٹھایا اور بولا۔ آپ فرسٹ ڈویژن میں پاس ہوگئے ہیں۔ میری آنکھوں میں ستارے سے چمک اٹھے۔ ارشد بک اسٹیشنرز کی سائیڈ والی دیوار پر لگی وال کلاک کی سوئیاں سوا پانچ بجا رہی تھیں۔ اور ہاں ! میٹرک امتحانات کی تفصیلی مارکس شیٹ ملی تو کیمسٹری کے پریکٹیکل میں میرے 25 میں سے 21 نمبر آئے تھے۔