ایک برس اور بیتا - جویریہ سعید

کبھی وقت کی اس تیز رفتاری نے شدید خوفزدہ اور اداس کر دیا تھا۔ پھراس خوف نے ڈینائل کی صورت اختیار کر لی اور اس بارے میں سوچنا اور غور کرنا چھوڑدیا۔ عمر کی پونجی کو اس تیزی سے ہاتھ سے جاتا دیکھنا، اپنے پیاروں کا بچھڑنااور اپنی مانوس وابستگیوں سے برسوں کے فاصلے پر خود کو اس طرح پانا کہ سب کچھ بدل جائے اور نہ بدلے تو بوسیدہ ہو جانے کے سبب اپنی دلکشی کھو دے، بہت اذیت ناک تھا۔

نہ جانے ماضی بعید میں اس قدر رومان کیوں ہوتا ہے؟ اور عمر رفتہ کا حساب کتاب کرتے ہیں تو نارسائیاں کیوں یاد رہتی ہیں؟ایسا کیوں ہوا؟ ویسا کیوں ہوا؟ میرے ساتھ کیوں ہوا؟زندگی اوروں کے لیے جیتے کیوں بتائی؟

کبھی اوروں کو دیکھتے ہیں تو بھی جلن بڑھتی ہے۔ وسوسے اور پچھتاوے حملہ کرتے ہیں، اگر یوں نہ کرتے تو عیش کرتے، اگر یوں کر لیتے تو زندگی بہتر ہو جاتی۔ کبھی اوروں سے خفا اور کبھی خدا سے شکوے۔ سارے وجود میں کڑواہٹ گھل جاتی ہے۔

مگر اللہ فرماتے ہیں کہ “انسان دراصل مشقت میں پیدا کیا گیا۔” مشقت جھیلنااور دشوار گزار گھاٹیوں سے گزرنا ہر ایک کو پڑتا ہے۔ جو سونے کا چمچا منہ میں لے کر پیدا ہوئے اور دنیا جن کے قدموں میں ڈھیر کر دی گئی،زندگی ان کے لیے بھی مسرتوں کا گیت نہیں تھی۔ حسین ترین لوگ محبتوں کو ترسے، شاہان عالم کا خون ان کے اپنے خون نے بہایا، طاقتور ترین آمر خوفزدہ راتیں گزارتے بے بسی کی موت مارے گئے، ملین ڈالروں کے محلات میں رہنے والوں نے نشہ کرتے کرتےاپنی جان ہی لے لی۔

اے مرے ہم نشیں!زندگی کے سفر میں درد کے پل صراط سے گزرنا ناگزیر ہے۔ زندگی میں جو بہت کچھ اچھا ہے، ہو سکتا ہے اسی درد کے جھیلنے کے سبب ہو اور زندگی میں بہت کچھ اچھا بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اس وقت سے ڈرنا چاہیے - ایم سرورصدیقی

چمکیلی دھوپ، معصوم بچے، آپ کی بات کو دھیان سے سننے والے کان اور آپ کو پیار سے دیکھنے والی آنکھیں، ٹھنڈا پانی، عافیت کے لمحات، رب کی یاد میں بہائے آنسوؤں کے چند قطرے اور اس کی خاطر جھیلے گئے کچھ مشکل لمحے، رات کی مانوس تنہائی، سبز پودے اور ہوا کے چند جھونکے۔

رہی مشقت تو یہ بلندی کی طرف سفر میں جھیلنی پڑتی ہے۔ بدن کو ڈھیلا چھوڑ کر محنت سے خود کو روک لیں تو ڈھلان سے گرتے جانے پر بھی چوٹ تو لگتی ہے۔

اب ایسا ہے کہ دل کچھ راضی ہو گیاہے۔پیچھے دیکھنے سے گریز کرتے ہیں۔ آنے والے وقت سے آنکھیں چرانے کے بجائے اس کو پوری آنکھیں کھول کر دیکھتے ہیں۔

میرے بچپن کا رومان اگر میرے نانا ابا کے سفید داڑھی والے چہرے سے وابستہ ہے تو میرے ابو کی سفید داڑھی والا چہرہ اب میرے بچوں کا محبوب چہرہ ہے۔جس طرح کچھ اور لوگوں کی بنائی خوبصورت دنیا کے انس نے میرے ماضی کو سجایا تھا ، آج میں نے آنے والی نسلوں کے لیے ایک اچھی سی دنیا بسانے کی کوشش کرنی ہے اور اچھا کام کرنے کے لیے تکلیفیں جھیلنی پڑتی ہیں!

مان لیا ہے کہ ہم کشاں کشاں اپنے رب سے ملاقات کے لیے چلے جارہے ہیں اور جب منزلیں حسین ہوں تو راہیں دشوار ہی ہوتی ہیں۔

Comments

جویریہ سعید

جویریہ سعید

جویریہ سعید کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں. طب اور نفسیات کی تعلیم حاصل کی ہے. ادب، مذہب اور سماجیات دلچسپی کے موضوعات ہیں. لکھنا پڑھنا سیکھنا اور معاشرے کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیتے رہنا ان کے خصوصی مشاغل ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.