ٍٍفیس بک؛ ایک پہلو یہ بھی ہے - پروفیسر سجاد حیدر

نئی صدی کے پہلے عشرے کے ابتدائی سالوں کا ذکر ہے کہ ایک غلغلہ سا بلند ہوا۔ کالج میں کسی طالب علم نے ایک محترم استاد کے بارے کچھ نازیبا کمنٹ کسی جگہ لکھ دیے، تفصیل معلوم کی تو پتہ چلا کہ کسی سوشل ویب سائٹ پہ لکھا گیا ہے، اور بہت سووں نے پڑھ بھی لیا ہے۔ پوچھا اب کیا ہو سکتا ہے تو جواب ملا انکوائری ہوگی۔ اب چونکہ ہم ایک عدد ای میل آئی ڈی کے مالک تھے، جو کسی دوست نے ہمارے استفسار پر ازراہ ترحم بنا کر ہمیں دی تھی، جس کو دو تین بار وزٹ کر کے اور غیر دلچسپ جان کر ہم نے کب کا فراموش کر دیا تھا، لہذا ہمارا کمپیوٹر کا ماہر ہونا اظہر من الشمس تھا تو انکوائری کمیٹی میں ہمارا ہونا اتنا ہی ضروری تھا جتنا کہ کسی دور میں اسحاق ڈار کا ہر کمیٹی کا سربراہ ہونا۔

جب تفشیش شروع کی تو جو نام سامنے آیا، وہ orkut تھا، جسے ہم کئی دن تک arkat بولتے رہے۔ مزید تفشیش کی کہ بھیا دکھاؤ، تو کوئی بھی طالب علم اپنا پروفائل دکھانے پر راضی نہ تھا۔ کہا اچھا ہمارا اکاؤنٹ بنا دو، بتایا گیا کہ اس کے لیے دعوت نامہ درکار ہے تو ایک لڑکی کو بہلا پھسلا کر دعوت نامہ منگوایا اور orkut کی دنیا میں داخل ہوئے۔

یہ ایک نئی دنیا سے ہمارا پہلا تعارف تھا، انکوائری کا تو پتہ نہیں کیا بنا، لیکن ہم کسی کام کے نہ رہے۔ بیگم کی شکایات کے انبار میں ایک اور بھاری بھر کم بوجھ کا اضافہ ہو گیا، اب ہم تھے اور کمپیوٹر کی سکرین۔ رومن اردو میں لکھتے تھے، کئی گروپ جوائن کیے، پاک بھارت دوستی فورم ہماری خصوصی توجہ کے مرکز تھے، اگرچہ وہاں بات کسی بھی موضوع سے شروع ہوتی، آخر میں تان مسئلہ کشمیر پر ٹوٹتی۔ وہیں ہمیں پتہ چلا کہ کشمیر پر جن دلائل کو ہم قاطع برہان سمجھتے ہیں اور جن دلائل کی بنیاد پر کشمیر ہماری شہ رگ ہے، وہ مخالفین کے ایک خندہ استہزا کی مار ہیں۔ بہرحال کچھ عرصہ کے بعد فیس بک سے تعارف ہوا۔ اب لت تو ہمیں لگ چکی تھی، لیکن فیس بک نے کچھ متاثر نہیں کیا، ہماری سرگرمی بھی بس تازہ ترین تصویر لگانا، تب تصویروں میں بھی ہم اپنے آپ کو کسی ہیرو سے کم نہیں سمجھتے تھے۔ اب تو خود شناسی کے ہاتھوں مجبور ہو کر تصویر کشی سے بھی تائب ہو گئے ہیں، یا اقوال مس زریں کے سٹکر چپکانا ہی مطمع نظر ہوتا تھا۔ خدا بھلا کرے عامر خاکوانی صاحب کا جنھوں نے سوچ بچار سے متعارف کروایا، وہاں سے عاصم اللہ بخش کو پک کیا اور دیگر اردودان حضرات سے تعارف ہوا۔ یہ ایک نئے سفر کا آغاز تھا جو ابھی تک جاری و ساری ہے۔

آج جب فیس بک پر گزارے مہ و سال کا حساب کرتا ہوں تو سود کا پلا بھاری نظر آتا ہے اور زیاں کا احساس ویسے بھی نہیں ہوتا کہ ہم احساس زیاں سے پہلے ہی اہنے آپ کو آزاد کروا چکے ہیں۔

فیس بک پر جہاں متنوع المزاج دوستوں سے تعارف ہوا، وہیں معاشرے کے ان طبقات کی سوچ تک بھی رسائی ملی جن سے اپنے علمی و سماجی پس منظر کی وجہ سے ہمیشہ ایک دوری رہی۔ چونکہ سارا تعلیمی دورانیہ سکول، کالج اور یونیورسٹی میں گزرا تھا تو دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کی سوچ، اندازفکر اور طرز زندگی کے بارے مکمل لاعلمی یا بہت کم علم تھا۔ اور سچ پوچھیں تو بہت ہی منفی نکتہ نظر تھا۔ علم تھا تو بس اتنا کہ مذہبی لوگ انتہائی کم علم، تنگ نظر اور بس فرقہ واریت کے رنگ میں رنگے، ہاتھوں میں اسلحہ پکڑے دوسرے مسلک کے لوگوں کو مارنے مرنے پر تلے ہوتے ہیں۔ لیکن اس دنیا میں جہاں چند لوگ ایسے ملے جو ہمارے سابقہ نقطہ نظر کی تائید کرتے تھے، وہاں بے تحاشا ایسے مذہبی دوستوں سے تعارف بھی ہوا جن کی تحریریں پڑھ کر اور بالمشافہ ملاقات کے بعد اپنی پرانی سوچ پر شرمندگی محسوس ہوئی۔ ان دوستوں کی درد مندی، دین سے محبت، منطقی انداز بیان و گفتگو اور خاص طور پر وطن پرستی دیکھ کر اپنی اصلاح کا موقع ملا۔ ہاں ایک اکثریت ایسی بھی ملی جن کے لیے ہر وہ شخص جو ان کے نقطہ نظر سے اختلاف رکھتا ہے، قابل گردن زنی اور واجب القتل ہے۔ لیکن ایسے حضرات کی مذمت بھی ان کے اپنے حلقہ کے لوگ برملا کرتے ہیں۔ اس متوازی ذریعہ تعلیم کے بارے جتا پروپنگنڈہ 11/9 کے بعد ہوا تھا، اس نے ہماری یہ رائے پختہ کر دی تھی کہ بزور طاقت ریاستی مشینری کو استعمال کرتے ہوئے تمام مدارس کو مین سٹریم میں لایا جائے، لیکن جب گہرائی میں جا کر دیکھا تو پتہ چلا کہ یہ ایک غلط خیال اور محض پروپیگنڈہ ہے۔ اگرچہ اصلاح احوال کی بہت زیادہ ضرورت اس نظام کو ہے اور اس تطہیر کا تعلق نصاب تعلیم سے لے کر انتظامی معاملات تک ہونا چاہیے۔ اور اس میں سب سے بڑی ذمہ داری حکومت وقت کی ہے کہ تمام شکوک و شبہات کے ازالے کی خلوص دل اور نیک نیتی سے کوشش کرے۔ مدارس میں پڑھانے والے علماء کے نان نفقہ اور دیگر اخراجات جب تک حکومتی ذمہ داری نہیں بنیں گے تب تک حکومت اس نظام میں من چاہی تبدیلیاں کرنے کی مجاز نہیں۔ اور تبدیلی کا عمل بھی بیوروکریسی کے بابوؤں کے بجائے صاحب فکر علماء کے ہاتھوں سر انجام پائے گا تو مفید نتائج کی امید کی جا سکتی ہے۔

فیس بک پر سرگرم عمل ہونے کے بعد روایتی سکول، کالجز اور یونیورسٹی کی تعلیم کے نتائج نے موجودہ نظام سے مایوسی میں اضافہ کیا۔ اس نظام کا حصہ ہونے کی بنا پر اس ضمن میں تحفظات تو پہلے ہی تھے۔ لیکن مشاہدہ بہرحال محدود تھا۔ لیکن سوشل میڈیا پر نئی نسل کی سرگرمیاں اور ذہنی سطح جانچنے کا زیادہ موقع ملا تو یہ سوچ اور بھی پختہ ہوئی کہ جتنا مدارس کا نضام تعلیم فرسودہ ہے اتنا ہی روایتی طریقہ تعلیم۔ نہ تو بصاب تعلیم اور نہ ہی طریقہ تعلیم اس قابل ہے کہ جوہر قابل کی فکری پرورش کر سکے، بس دولے شاہ کے چوہے پیدا کیے جا رہے ہیں جو زیادہ سے زیادہ کنزیومر بن سکتے ہیں یا یوزر۔ اس نظام سے تخلیقی ذہن رکھنے والے ماہرین پیدا ہونے کی امید رکھنا اتنا ہی عبث ہے جتنا کہ دینی مدارس کے نظام سے مجتہد پیدا ہونے کی امید رکھنا۔

فیس بک کے ایک اور پہلو کی طرف بھی اشارہ کرنا مقصود ہے کہ آزاد خیال طبقات اور مذہبی خیال رکھنے والے حلقے ایک دوسرے کی فکر سے بالکل ناآشنا ہیں۔ غلط فہمیوں کے انبار ہیں جن کے بوجھ تلے دونوں حلقے دبے ہوئے ہیں۔ مذہبی حلقوں کے نزدیک ہر وہ شخص جو مغربی تعلیم یافتہ ہے مغربی لباس پہنتا ہے یا مذہبیت کی مخالفت کرتا ہے، وہ دہریہ، لبرل، سیکولر، سوشلسٹ، کیمونسٹ، مغرب پرست (ان کے نزدیک یہ تمام اصطلاحات ایک ہی مفہوم کی حامل ہیں)، شرابی، زانی اور ہوس پرست ہے، اس کا کوئی دین ہے نہ ایمان، وہ مرنے کے بعد یقینی طور پر جہنم کا ایندھن بنے گا۔ دوسری طرف سیکولرازم پر یقین رکھنے والے حضرات کے نزدیک پاکستان کی تمام تر ترقی معکوس کے ذمہ دار مذہبی لوگ ہیں۔ دہشت گردی، انتہاپسندی، فرقہ واریت کی جڑیں صرف اور صرف مسجد و مدارس میں ڈھونڈنی چاہییں۔ لیکن یہ دونوں باتیں کلی طور پر درست نہیں ہیں، نہ تو ہر روایتی تعلیم یافتہ انسان تمام شرعی عیوب کا حامل ہے اور نہ ہر داڑھی والا دہشت گرد۔ رہی بات فرقہ واریت اور دہشت گردی کی تو اس کی جڑیں بھی اپنے معاشی اور معاشرتی ڈھانچے میں ڈھونڈیے، اپنے ریاستی اداروں کی ایڈ ہاک پالیسیوں کو کھنگالیے، جو کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اس کے مقابلے میں ایک نیا مسئلہ کھڑا کر دیتے ہیں۔

یاد رکھیے نہ تو کالجز اور یونیورسٹیاں فحاشی کا اڈہ ہیں اور نہ مدارس دہشت گردی کے مراکز۔ چند مفاد پرستوں کی ناعاقبت اندیشیوں کو سامنے رکھ کر سب کو مطعون کرنا بذات خود ایک بہت بڑی نامعقولیت ہے۔

Comments

پروفیسر سجاد حیدر

پروفیسر سجاد حیدر

پروفیسر سجاد حیدر پیشہ تدریس سے وابستہ ہیں. اپنےاپ کو لیفٹ کے نظریات سے زیادہ قریب پاتے ہیں. اپنے لوگوں کے درد کو محسوس کرتے ہیں. ایمان کی حد تک یقین کامل کہ ان تمام دکهوں کا مداوا، تمام مسائل کا حل بامقصد علم کے حصول میں مضمر ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.